پوسٹ کرنے کی تاریخ:
04 NOV 2026 4:08PM by PIB Delhi
ترواننت پورم میں آج پارلیمنٹ اور ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی قانون ساز اسمبلیوں کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹیوں کے چیئرپرسنوں کی دو روزہ کانفرنس کے اختتام پر خطاب کرتے ہوئے لوک سبھا کے اسپیکر جناب اوم برلا نے قانون ساز کمیٹیوں کے کام کاج میں ٹیکنالوجی کے وسیع تر انضمام پر زور دیا۔ انہوں نے پارلیمنٹ کی کمیٹیوں کو دستیاب پلیٹ فارم کی طرز پر ریاستی قانون ساز اسمبلیوں کے لیے ایک مشترکہ ڈیجیٹل آڈٹ مانیٹرنگ پلیٹ فارم قائم کرنے کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کا پلیٹ فارم آڈٹ سے متعلق مشاہدات کی منظم نگرانی، ان پر کارروائی کے طریقۂ کار کو مستحکم بنانے اور آڈٹ رپورٹوں کی بروقت جانچ اور ان کے تصفیےکو یقینی بنانے میں معاون ہوگا۔
اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ٹیکنالوجی کو ادارہ جاتی تبدیلی کا ذریعہ بننا چاہیے، انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل اختراعات کو اپنانے سے قانون ساز نگرانی کی کارکردگی، شفافیت اور موثریت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ تاہم، ٹیکنالوجی پر حد سے زیادہ انحصار کے خلاف متنبہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تکنیکی ترقی کی بنیاد ہمیشہ انسانی اقدار، دانش مندی اور حساسیت پر قائم رہنی چاہیے۔ ٹیکنالوجی کو ادارہ جاتی جواب دہی مضبوط بنانے اور فیصلہ سازی کے معیار کو بہتر بنانے میں معاون ہونا چاہیے، لیکن یہ انسانی فیصلے اور صواب دیدکا متبادل ہرگز نہیں بن سکتی۔ انہوں نے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے تیار اور حاصل کیے جانے والے اعداد و شمار کی درستگی، صداقت اور غیر جانب داری برقرار رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ ٹیکنالوجی پر مبنی حکمرانی کی ساکھ کا انحصار بالآخر اس معلومات کی قابل اعتماد حیثیت پر ہوتا ہے، جس کی بنیاد پر فیصلے کیے جاتے ہیں۔
کانفرنس کے دوران لوک سبھا کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین جناب کے۔ سی۔ وینوگوپال کی جانب سے پیش کردہ تجاویز کا حوالہ دیتے ہوئے لوک سبھا اسپیکر نے پارلیمنٹ اور ریاستی قانون ساز اسمبلیوں کی کمیٹیوں پر زور دیا کہ وہ آڈٹ رپورٹوں کی مسلسل جانچ اور انہیں بروقت ازالے سے متعلق مشترکہ چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے باہمی اشتراک سے آڈٹ اور جائزے کا ایک جامع نظام وضع کریں۔ انہوں نے کہا کہ ایک مربوط ادارہ جاتی نظام سے باہمی ہم آہنگی کو فروغ ملے گا، تجربات کے تبادلے میں سہولت ہوگی اور ملک بھر میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹیوں کی اجتماعی صلاحیت مستحکم ہوگی۔
عوامی اخراجات میں جواب دہی یقینی بنانے کے لیے پبلک اکاؤنٹس کمیٹیوں(پی اے سی) کے ناگزیر کردار کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگرچہ کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی) آزادانہ اور غیر جانب دارانہ آڈٹ انجام دیتے ہیں، تاہم آڈٹ کے نتائج کا جائزہ لینے، حقائق کی تفصیلی جانچ کرنے اور اپنی سفارشات پر مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنانے کی اہم ذمہ داری پبلک اکاؤنٹس کمیٹیوں پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ آڈٹ سے متعلق مشاہدات محض رپورٹوں اور ریکارڈ تک محدود نہیں رہنے چاہئیں، بلکہ انہیں مناسب اصلاحی اقدامات اور انتظامی امور میں ٹھوس بہتری کی صورت میں سامنے آنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کو ان کمیٹیوں کی سفارشات کو مناسب اہمیت دینی چاہیے اور ان پر بروقت عمل درآمد یقینی بنانا چاہیے۔
پارلیمنٹ اور ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی قانون ساز اسمبلیوں کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹیوں (پی اے سی) کے چیئرپرسن کی کانفرنس میں منظور کی گئی کیرلم قرارداد کو آنے والے برسوں میں ان اہم پارلیمانی اور قانون ساز اداروں کے کام کاج کو مستحکم بنانے کے لیے ایک اہم رہنما فریم ورک اور مستقبل کا لائحۂ عمل قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کانفرنس میں ہونے والی جامع بحث و مباحثے، اجتماعی دانش مندی اور اس سے سامنے آنے والی سفارشات کو عملی اقدامات کی شکل دی جانی چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس کا حتمی مقصد مالیاتی نظم و ضبط کو مستحکم کرنا، ادارہ جاتی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا اور مرکزی و ریاستی دونوں سطحوں پر حکمرانی کو مزید شفاف، جواب دہ اور نتائج پر مبنی بنانا ہونا چاہیے۔ اس اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہ ان سفارشات کی جھلک قانون ساز اسمبلیوں اور انتظامیہ، دونوں کے کام کاج میں نظر آئے گی، انہوں نے کہا کہ قرارداد پر مؤثر عمل درآمد سے جمہوری ادارے مزید مستحکم ہوں گے، عوامی اعتماد مضبوط ہوگا اور پارلیمانی و قانون ساز نگرانی کا معیار بہتر ہوگا۔
لوک سبھا اسپیکر نے کہا کہ تعلیم، صحت کی دیکھ بھال، بنیادی ڈھانچے، سماجی بہبود اور دیہی ترقی جیسے اہم شعبوں میں عوامی سرمایہ کاری کے بڑھتے ہوئے حجم کے پیش نظر سرکاری فنڈز کے محتاط اور بامقصد استعمال کو یقینی بنانے کی ذمہ داری مزید اہم ہوگئی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ عوامی رقم کا ایک ایک ایک روپیہ مناسب طور پر حسابات میں درج ہونا چاہیے اور اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے جس کے لیے اسے مختص کیا گیا ہو۔
انہوں نے کہا کہ اس لیے قانون ساز نگرانی کا دائرہ اخراجات کے جائزے تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ یہ بھی جانچنا چاہیے کہ آیا سرکاری فنڈز سے مطلوبہ فوائد حاصل ہو رہے ہیں اور شہریوں کی زندگیوں میں قابل قدر بہتری آ رہی ہے یا نہیں۔ انہوں نے مزید زور دیا کہ سرکاری پروگراموں اور اسکیموں کے جائزے میں ان کے تسلسل، معیار، بروقت نفاذ اور حقیقی نتائج کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔ چاہے معاملہ پائیدار بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کا ہو، مقررہ مدت میں منصوبوں کی تکمیل کا ہو یا اہل مستفیدین تک فلاحی فوائد کی بروقت فراہمی کا، عوامی خدمات کی فراہمی کے ہر پہلو کی منظم جانچ اور جائزہ لیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ محکمہ جاتی متعلقہ قائمہ کمیٹیاں بھی اس سلسلے میں اہم جائزے لیتی ہیں، تاہم عوامی اخراجات میں مالیاتی شفافیت، ضابطوں کی پابندی اور جواب دہی یقینی بنانے کی خصوصی طور پر اہم ذمہ داری پبلک اکاؤنٹس کمیٹی پر عائد ہوتی ہے۔
ادارہ جاتی صلاحیتوں کو مستحکم بنانے کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے جناب برلا نے کہا کہ تیز رفتار تکنیکی تبدیلی کے اس دور میں سی اے جی اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹیوں سے وابستہ افسران اور ملازمین کی مسلسل صلاحیت سازی اور پیشہ ورانہ ترقی ناگزیر ہے۔ پارلیمنٹ اور ریاستی قانون ساز اسمبلیوں کے ارکان کو بھی ضروری علم اور ہنر سے آراستہ کیا جانا چاہیے، تاکہ وہ اپنی نگرانی کی ذمہ داریوں کی انجام دہی میں ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کو سمجھ سکیں اور مؤثر طریقے سے استعمال کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ باقاعدہ تربیت، نئے وسائل سے واقفیت اور پیشہ ورانہ مہارت کے تبادلے سے جانچ، نگرانی اور جائزے کے معیار میں نمایاں بہتری آئے گی۔
لوک سبھا اسپیکر نے پارلیمنٹ اور ریاستی قانون ساز اسمبلیوں کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹیوں کے درمیان باقاعدہ اجلاسوں، کانفرنسوں اور تجربات کے تبادلے کو ادارہ جاتی شکل دینے کی بھی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ مختلف ریاستوں کی جانب سے اختیار کیے گئے کامیاب طریقوں، اختراعی حکمتِ عملیوں اور تکنیکی حل کے تبادلے سے سیکھنے کے قیمتی مواقع فراہم ہوں گے اور ملک بھر کی کمیٹیاں مؤثر ماڈل اپنا سکیں گی اور انہیں دوسری جگہوں پر بھی نافذ کر سکیں گی۔ کانفرنس میں 27 ریاستوں کے نمائندوں کی شرکت اور اپنے تجربات و نقطۂ نظر کے ذریعے مباحثے کو نتیجہ خیز بنانے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قانون ساز اداروں کو مزید مضبوط اور مؤثر بنانے کے لیے اس طرح کی اجتماعی شرکت ناگزیر ہے۔
جناب برلا نے کہا کہ اس کانفرنس کی حقیقی اہمیت اسی وقت سامنے آئے گی جب اس کے مباحثوں اور کیرلم قرارداد کو مسلسل ادارہ جاتی اقدامات کی شکل دی جائے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ جدید ٹیکنالوجی، باخبر جانچ اور مؤثر پیروی کے نظام سے تقویت یافتہ مضبوط پبلک اکاؤنٹس کمیٹیاں اس بات کو یقینی بنانے میں نمایاں کردار ادا کریں گی کہ عوامی وسائل کا استعمال احتیاط، دیانت داری اور واضح عوامی مقصد کے ساتھ کیا جائے۔
عوامی رقم کے مؤثر احتساب کو یقینی بنانے کے لیے پبلک اکاؤنٹس کمیٹیوں کو بدلتے وقت کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کرنا ہوگا: جناب کے۔ سی۔ وینوگوپال
پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین نے اس بات پر زور دیا کہ عوامی رقم کے استعمال کے ذرائع روز بروز پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں، اس لیے جواب دہی کو یقینی بنانے کے لیے پبلک اکاؤنٹس کمیٹیوں کو بدلتے وقت کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹیاں قانون ساز اسمبلیوں کے سامنے پیش کردہ آڈٹ نتائج کو بامعنی جواب دہی میں تبدیل کرتی ہیں۔ اس ضمن میں انہوں نے سرکاری اسکیموں کا بروقت آڈٹ کرنے اور آڈٹ رپورٹوں کو جلد از جلد ایوانوں میں پیش کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے وزارتوں اور محکموں کی جانب سے جوابات میں تاخیر، نامکمل جوابات یا جواب نہ دیے جانے پر تشویش کا اظہار کیا اور انتظامیہ سے اپیل کی کہ وہ فوری طور پر مکمل جوابات فراہم کرے۔
اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹیوں کا کام عوام تک پہنچنا چاہیے، انہوں نے جواب دہی کو مستحکم بنانے کے لیے تجویز پیش کی کہ پارلیمنٹ اور ہر ریاستی قانون سا ز اسمبلی میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی کم از کم ایک رپورٹ پر بحث کی جائے۔ انہوں نے مرکزی سرپرستی والی اسکیموں کی جانچ کے سلسلے میں مرکز اور ریاستوں کے درمیان بہتر تال میل کی ضرورت پر بھی زور دیا اور تجویز پیش کی کہ ان اسکیموں پر غور و خوض کے لیے مرکزی اور ریاستی پبلک اکاؤنٹس کمیٹیوں کا سال میں کم از کم ایک اجلاس منعقد کیا جائے۔ ماہر عملے، تربیت اور صلاحیت سازی کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے آڈٹ کے پیراگراف اور ان پر کی گئی کارروائی کی نگرانی کے لیے ڈیش بورڈ سمیت ٹیکنالوجی کے زیادہ سے زیادہ استعمال کی وکالت کی۔
کیرلم قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر، کیرلم قانون ساز اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر اور کیرلم کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرپرسن بھی اس موقع پر موجود تھے۔
دو روزہ کانفرنس میں ’’آڈٹ، جواب دہی اور اچھی حکمرانی – پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا بدلتا ہوا کردار‘‘ کے موضوع پر تفصیلی اور تعمیری تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مالیاتی نگرانی کو مستحکم بنانے، آڈٹ سے متعلق کارروائی کی پیروی کے نظام کو بہتر بنانے، تکنیکی اختراعات کو اپنانے اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹیوں کی ادارہ جاتی کارکردگی کو مزید مؤثر بنانے پر خصوصی توجہ دی گئی۔
********
(ش ح ۔م ش ۔ص ج )
U. No.7210