پوسٹ کرنے کی تاریخ:
03 NOV 2026 3:51PM by PIB Delhi
لوک سبھا کے اسپیکر جناب اوم برلا نے آج پارلیمنٹ اور ریاستی قانون ساز اسمبلیوں کی سرکاری اکاؤنٹس کمیٹیوں (پی اے سی) پر زور دیا کہ وہ سرکاری خزانے کے محافظ کی حیثیت سے اپنے کردار کو مزید مضبوط بنائیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سرکاری خزانے سے خرچ ہونے والے ایک ایک روپے کا باقاعدہ حساب رکھا جانا چاہیے اور اسے پوری طرح اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے جس کے لیے اس کی منظوری دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شفافیت اور جوابدہی جمہوریت کے بنیادی ستون ہیں اور عوامی اخراجات کی کامیابی کا اصل پیمانہ یہ ہونا چاہیے کہ ان سے عام شہریوں کی زندگیوں میں کس حد تک مثبت تبدیلی آئی ہے۔
ترواننت پورم میں پارلیمنٹ اور ریاستی قانون ساز اسمبلیوں کی سرکاری اکاؤنٹس کمیٹیوں کے صدور کی کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے جناب برلا نے کہا کہ سرکاری اکاؤنٹس کمیٹی پارلیمانی جمہوریت کا ایک اہم ادارہ ہے، جسے عوامی اخراجات کا جائزہ لینے، مالیاتی نظم و ضبط یقینی بنانے اور انتظامیہ کو جوابدہ ٹھہرانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کمیٹیوں کی ذمہ داری محض حسابات اور آڈٹ کے نتائج کی جانچ تک محدود نہیں ہے، بلکہ انہیں یہ بھی جائزہ لینا چاہیے کہ آیا عوامی فنڈز سے وہ مقاصد حاصل ہوئے ہیں اور وہ نتائج برآمد ہوئے ہیں جن کے لیے یہ رقم مختص کی گئی تھی۔
آڈٹ کے ایسے اعتراضات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جو 10، 15 یا یہاں تک کہ 20 برسوں سے حل طلب ہیں، جناب برلا نے کہا کہ اس طرح طویل عرصے تک معاملات کا زیرِ التوا رہنا نظام کی مؤثریت پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔ انہوں نے ایک ٹھوس، منظم اور مقررہ وقت پر مبنی لائحۂ عمل تیار کرنے پر زور دیا، تاکہ آڈٹ اعتراضات اور ان سے متعلق کارروائی کو غیر ضروری تاخیر کے بغیر مکمل کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ جوابدہی محض کاغذوں تک محدود نہ رہے بلکہ اس کے نتیجے میں بروقت اصلاحی اقدامات بھی یقینی بنیں، اس کے لیے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو نگرانی، جائزے اور مسلسل عمل درآمد نظام کو مضبوط بنانے کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔
سرکاری اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین کے طور پر اپوزیشن کے کسی رکن کو مقرر کرنے کی منفرد جمہوری روایت کو اجاگر کرتے ہوئے جناب برلا نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ہندوستان کی پارلیمانی جمہوریت کی پختگی، شمولیت اور مضبوطی کی عکاسی کرتا ہے۔ کمیٹی میں تمام سیاسی جماعتوں کی نمائندگی اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ عوامی اخراجات کے جائزے کے دوران مختلف نقطہ ہائے نظر سامنے آئیں۔ انہوں نے اس انتظام کو اس بات کی ایک روشن مثال قرار دیا کہ جمہوری ادارے مشترکہ قومی مقصد کے حصول کے لیے سیاسی مفادات سے بالاتر ہوکر کس طرح کام کر سکتے ہیں۔
لوک سبھا کے اسپیکر نے کہا کہ ارکان کا تعلق مختلف سیاسی پارٹیوں سے ہوسکتا ہے، ان کے نظریات الگ الگ ہوسکتے ہیں اور پالیسیوں و حکمرانی کے معاملات پر ان کے خیالات بھی مختلف ہوسکتے ہیں، تاہم عوامی پیسے کے تحفظ کے معاملے میں ان سب کی ذمہ داری مشترکہ ہے۔ سرکاری اکاؤنٹس کمیٹی کو بات چیت، تعاون، اتفاقِ رائے اور اجتماعی ذمہ داری کے اصولوں کے تحت کام کرنا چاہیے۔ اس کا مقصد کسی فرد یا حکومت پر تنقید کرنا نہیں، بلکہ یہ یقینی بنانا ہے کہ عوامی فنڈز کا نہ تو غلط استعمال ہو اور نہ ہی انہیں ضائع کیا جائے، بے ضابطگیوں اور رقوم کی خرد برد کو روکا جائے اور انتظامیہ عوام کے تئیں جوابدہ رہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ شہریوں کا اعتماد جمہوری حکمرانی کی بنیاد ہے۔ سرکاری خزانے کا ہر روپیہ عوام کی امنگوں اور ان کی محنت کا ثمرہ ہے، اس لیے اسے مالیاتی دیانت داری کے اعلیٰ ترین معیار کے مطابق خرچ کیا جانا چاہیے۔
لوک سبھا اسپیکر نے اس بات پر زور دیا کہ عوامی اخراجات کا جائزہ صرف اعداد و شمار، مختص کردہ رقوم اور ان کے استعمال کے سرٹیفکیٹ تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے معاملے میں کمیٹیوں کو جہاں مناسب ہو، منصوبے کے مقامات کا دورہ کرنا چاہیے اور وہاں ہونے والے کام کے معیار، اس کی بروقت تکمیل اور مقررہ معیارات کی پابندی کا جائزہ لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح براہِ راست جائزہ لینے سے یہ معلوم کرنے میں مدد ملے گی کہ آیا خرچ کی گئی رقم سے مطلوبہ بنیادی ڈھانچہ وجود میں آیا ہے اور عوامی وسائل کا مؤثر استعمال ہوا ہے یا نہیں۔ اسی طرح سماجی بہبود کی اسکیموں کے معاملے میں بھی صرف خرچ کی گئی رقم کا جائزہ لینے کے بجائے اس کے حقیقی اثرات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی اخراجات کا حتمی مقصد سماج کی بھلائی اور عوامی فلاح و بہبود ہونا چاہیے۔
بھارت کے کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی) کے اہم کردار کا ذکر کرتے ہوئے جناب برلا نے کہا کہ سی اے جی کی آڈٹ رپورٹوں کے نتائج کا جائزہ، کارروائی سے متعلق رپورٹوں کی جانچ اور سفارشات پر عمل درآمد کی مسلسل نگرانی سرکاری اکاؤنٹس کمیٹی کے کام کا لازمی حصہ ہیں۔ تاہم، اس پوری مشق کا وسیع تر مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ سرکاری خزانے کا استعمال شفاف، مؤثر اور ان مقاصد کے عین مطابق ہو جن کے لیے اس کی منظوری دی گئی ہے۔ جہاں نظام میں بہتری کی ضرورت ہو، وہاں کمیٹیوں کو مناسب رہنمائی فراہم کرنی چاہیے اور اصلاحی اقدامات کی سفارش کرنی چاہیے۔ انہوں نے پارلیمنٹ اور ریاستی قانون ساز اسمبلیوں کی سرکاری اکاؤنٹس کمیٹیوں پر زور دیا کہ وہ اس کانفرنس کو تجربات، خیالات، اختراعات اور بہترین طور طریقوں کے تبادلے کا ایک مؤثر پلیٹ فارم بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ جن ریاستوں نے زیادہ شفافیت، مضبوط مالیاتی نگرانی اور مؤثر جائزے کے حوالے سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، ان کے طور طریقوں کو دوسری ریاستوں کے ساتھ بھی مشترک کیا جانا چاہیے تاکہ وہ ان سے سیکھ سکیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جوابدہی کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے ریاستوں کے درمیان صحت مند مسابقت سے ملک بھر میں بہتر حکمرانی کو فروغ ملے گا۔
مستقبل پر مرکوز نقطہ نظر کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے لوک سبھا اسپیکر نے کہا کہ بدلتے ہوئے حالات کے پیش نظر کمیٹیوں کو جانچ پڑتال اور نگرانی کے اپنے طریقۂ کار کو مسلسل مضبوط بنانا ہوگا۔ ٹیکنالوجی، اعداد و شمار کے تجزیے اور مصنوعی ذہانت سے اخراجات کے بڑے اعداد و شمار کا تجزیہ کرنے، ابھرتے ہوئے رجحانات کی نشاندہی کرنے، ممکنہ مالی بے ضابطگیوں کا پتہ لگانے اور آڈٹ اعتراضات کی نگرانی کو بہتر بنانے میں اہم مدد مل سکتی ہے۔ انہوں نے حکمرانی میں شہریوں کی شمولیت کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ عوامی وسائل کے استعمال میں زیادہ شفافیت سے جمہوری اداروں پر عوام کا اعتماد مضبوط ہوتا ہے۔ ایسا نظام ضروری ہے جس میں عوامی اخراجات کی باریک بینی سے نگرانی ہو، حسابات کی مکمل جانچ پڑتال کی جائے اور بروقت اصلاحی اقدامات کیے جائیں، تاکہ سرکاری وسائل عوام کی مؤثر خدمت کے لیے استعمال ہوسکیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت کے ساتھ سرکاری اکاؤنٹس کمیٹی کے دائرۂ کار اور ذمہ داریوں میں وسعت آئی ہے۔ آڈٹ رپورٹوں اور عوامی حسابات کی جانچ کے علاوہ، کمیٹی نے عوامی اخراجات، سرکاری محکموں کے کام کاج، انتظامی اصلاحات اور پروگراموں کی جانچ کے حوالے سے اپنی سفارشات کے ذریعے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔
سرکاری اکاؤنٹس کمیٹی کی حالیہ صد سالہ تقریبات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کمیٹی کے بنیادی اصول کومستقبل کی ترجیحات کی رہنمائی کرتے رہنا چاہئے اور اس موقع پر کیے گئے عہد کو اس کے کام کاج میں ٹھوس بہتری کی صورت میں ڈھالا جانا چاہیے۔جناب برلا نے مزید اس بات پر زور دیا کہ مرکز اور ریاستوں کی شراکت داری نیز عوامی و نجی شراکت داری کے تحت نافذ کی جانے والی اسکیموں کے مالیاتی معاملات کی مؤثر جانچ پڑتال، متعلقہ کمیٹیوں کے دائرۂ اختیار کے اندر رہتے ہوئے کی جانی چاہیے۔
اسپیکر موصوف نے اعتماد ظاہر کیا کہ اس کانفرنس میں ہونے والے تبادلۂ خیال سے مالیاتی نظم و ضبط، شفافیت اور جوابدہی کو مضبوط بنانے کے لیے سودمند سفارشات اور ٹھوس نتائج سامنے آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کانفرنس میں منظور کی جانے والی قراردادوں کو نگرانی، آڈٹ سے متعلق کارروائی اور عوامی اخراجات کے معیار میں بہتری کے لیے رہنمائی فراہم کرنی چاہیے۔ اس کا مشترکہ مقصد یہ یقینی بنانا ہونا چاہیے کہ سرکاری خزانے کا ایک ایک روپیہ ذمہ داری کے ساتھ اور اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جائے جس کے لیے اسے مختص کیا گیا ہے۔
افتتاحی اجلاس سے کیرالہ کے وزیر اعلیٰ جناب وی ڈی ستھیسن، راجیہ سبھا کے ڈپٹی چیئرمین جناب ہری ونش، لوک سبھا کی سرکاری اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین جناب کے سی وینوگوپال، کیرالہ قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر جناب تھروونچور رادھا کرشنن اور کیرالہ قانون ساز اسمبلی کی سرکاری اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین جناب کے این بالگوپال نے خطاب کیا اور اجلاس کی رونق بڑھائی۔ اس اجلاس میں ریاستی قانون ساز اسمبلیوں کی سرکاری اکاؤنٹس کمیٹیوں کے صدور اور ارکان کے علاوہ دیگر ممتاز شخصیات نے بھی شرکت کی۔
اس موقع پر سرکاری اکاؤنٹس کمیٹی کانفرنس کی یادگاری کتاب 2026 کا بھی اجراء عمل میں آیا۔
مالیاتی جانچ پڑتال نتائج پر مبنی ہونی چاہیے تاکہ جوابدہی یقینی بنائی جا سکے: بھارتی پارلیمنٹ کی سرکاری اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین؛ بروقت آڈٹ اور عوامی فلاح و بہبود کے پروگراموں کی متوازن جانچ پر زور
خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے بھارتی پارلیمنٹ کی سرکاری اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کے چیئرمین جناب کے سی وینوگوپال نے اس بات پر زور دیا کہ عوامی اخراجات کو ٹھوس نتائج، خدمات کی بہتر فراہمی اور شہریوں کے لیے حقیقی فوائد میں تبدیل کرنے کو یقینی بنانے کے لیے قانون ساز اداروں کی مالیاتی جانچ پڑتال کے نظام کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جوابدہی محض اخراجات کی جانچ تک محدود نہیں رہنی چاہیے، بلکہ پارلیمانی نگرانی کے لیے زیادہ نتائج پر مبنی نقطۂ نظر اپنانا چاہیے، تاکہ سرکاری خزانے کا ہر روپیہ سوچ سمجھ کر خرچ ہو اور اس سے وہی مقصد حاصل ہو جس کے لیے اسے مختص کیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ تجویز بھی پیش کی کہ پارلیمنٹ کے ہر اجلاس کے دوران سرکاری اکاؤنٹس کمیٹی کی کم از کم ایک رپورٹ اور اس پر حکومت کی جانب سے کی گئی کارروائی پر بحث ہونی چاہیے۔ انہوں نے بروقت آڈٹ، مختلف شعبوں کی متوازن کوریج اور اہم فلاحی اسکیموں نیز بڑے بنیادی ڈھانچے کے پروجیکٹوں کی زیادہ باریک بینی سے جانچ کی اہمیت پر بھی زور دیا، تاکہ عوامی وسائل وسیع تر مفادِ عامہ کے لیے استعمال ہوں۔
ترواننت پورم، کیرالہ میں منعقد ہونے والی پارلیمنٹ آف انڈیا اور ریاستی و مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی قانون ساز اسمبلیوں کی سرکاری اکاؤنٹس کمیٹیوں کے صدور کی دو روزہ کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کیا۔ مجھے خوشی ہے کہ ثقافتی اور قدرتی حسن سے مالا مال ریاست کیرالہ کی اس سرزمین پر، جہاں جمہوری روایات ہمیشہ سے مستحکم رہی ہیں، پارلیمنٹ اور ریاستی قانون ساز اسمبلیوں کی سرکاری اکاؤنٹس کمیٹیوں کے نمائندے ایک ساتھ بیٹھ کر ’’آڈٹ، جوابدہی اور بہتر حکمرانی: سرکاری اکاؤنٹس کمیٹی کا بدلتا ہوا کردار‘‘ کے موضوع پر تبادلۂ خیال کر رہے ہیں۔
ہندوستان کے جمہوری نظام میں سرکاری اکاؤنٹس کمیٹی کی تاریخی اہمیت رہی ہے۔ آزادی سے پہلے بھی یہ کمیٹی موجود تھی اور آزادی کے بعد بھی ہم نے ایک اہم پارلیمانی روایت قائم کی، جس کے تحت حزبِ اختلاف کے کسی سینئر رکن کو اس کمیٹی کا چیئرمین مقرر کیا جاتا ہے۔ اس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ سرکاری خزانے کے استعمال کی غیر جانب دارانہ اور مؤثر نگرانی ہو۔ یہ ہمارے جمہوری نظام کی ایک بڑی طاقت ہے، جس میں تمام سیاسی پارٹیوں کے نمائندے مل کر کام کرتے ہیں۔
پارلیمنٹ اور ریاستی قانون ساز اسمبلیاں قانون سازی کرتی ہیں اور بجٹ منظور کرتی ہیں۔ بجٹ کے ذریعے یہ یقینی بنایا جاتا ہے کہ عوام کا پیسہ بنیادی ڈھانچے کی ترقی، سماجی بہبود کی اسکیموں اور عوامی فلاح و بہبود کے مختلف کاموں پر خرچ ہو۔ اس رقم کا مقررہ مقاصد کے مطابق استعمال یقینی بنانے میں سرکاری اکاؤنٹس کمیٹی کا اہم کردار ہوتا ہے۔ میرا ماننا ہے کہ سماجی بہبود کی اسکیموں میں صرف بجٹ مختص کرنا اور رقم خرچ کرنا ہی کافی نہیں ہے، بلکہ اس رقم کے استعمال کے بعد معاشرے پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوئے، اس کا جائزہ لینا بھی سرکاری اکاؤنٹس کمیٹی کی ذمہ داری ہے۔ اس سمت میں یہ کمیٹی سیاسی جماعتوں سے بالاتر ہوکر پارلیمانی غیر جانب داری کے ساتھ کام کرتی ہے، کیونکہ سرکاری اکاؤنٹس کمیٹی کے کام میں سب کا مشترکہ مقصد ایک ہی ہوتا ہے، یعنی حکمرانی میں جوابدہی یقینی بنانا اور انتظامیہ میں شفافیت لانا۔
اس کانفرنس میں ملک کی مختلف ریاستوں سے شریک ہونے والے سرکاری اکاؤنٹس کمیٹیوں کے چیئرمین اور ارکان سے اپیل کی کہ بدلتے ہوئے حالات میں کمیٹی کے کام کاج کو مؤثر بنانے کے لیے ہمیں بہتر ٹیکنالوجی کا استعمال کرنا ہوگا۔ اعداد و شمار کے تجزیے اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے ہم اعداد و شمار کا بہتر تجزیہ کرسکتے ہیں، اخراجات کے رجحانات کو سمجھ سکتے ہیں، ممکنہ خطرات کی نشاندہی کرسکتے ہیں اور مالی بے ضابطگیوں پر مؤثر طریقے سے روک لگا سکتے ہیں۔ تاہم ٹیکنالوجی کے ساتھ جوابدہی اور انسانی حساسیت کا امتزاج بھی ضروری ہے، تاکہ سرکاری پیسے کا استعمال صرف اسکیموں تک محدود نہ رہے بلکہ معاشرے کی فلاح و بہبود اور عام شہریوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لانے میں بھی معاون ثابت ہو۔
مجھے امید ہے کہ اس دو روزہ کانفرنس میں پارلیمنٹ اور ریاستی قانون ساز اسمبلیوں کی سرکاری اکاؤنٹس کمیٹیاں اپنے تجربات، خیالات اور نقطہ ہائے نظر کا تبادلہ کریں گی، ایک دوسرے کے بہترین طور طریقوں سے سیکھیں گی اور مفید تجاویز سامنے آئیں گی، جن سے ہم اپنی سرکاری اکاؤنٹس کمیٹیوں کو مزید مضبوط اور مؤثر بنانے کی سمت آگے بڑھ سکیں گے۔
بھارت کی پارلیمنٹ اور ریاستوں و مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کی قانون ساز اسمبلیوں کی سرکاری اکاؤنٹس کمیٹیوں کے چیئرمین کی کانفرنس میں شرکت کے لیے کیرالہ اسمبلی کی عمارت پہنچنے پر ریاست کے وزیر اعلیٰ جناب وی ڈی ستیسن، اسمبلی کے معزز اسپیکر جناب تھرووانچور رادھا کرشنن، پارلیمنٹ کی سرکاری اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کے چیئرمین جناب کے سی وینوگوپال، کیرالہ کی سرکاری اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کے چیئرمین جناب کے این بال گوپال اور دیگر معزز شخصیات کی جانب سے کیے گئے استقبال سے میں بے حد متاثر ہوں۔
آج سے کیرالہ کے ترواننت پورم میں منعقد ہونے والی بھارت کی پارلیمنٹ اور ریاستوں و مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کی قانون ساز اسمبلیوں کی سرکاری اکاؤنٹس کمیٹیوں کے چیئرمین کی کانفرنس میں شرکت کروں گا۔ سرکاری اکاؤنٹس کمیٹیوں کی اس دو روزہ قومی کانفرنس میں پارلیمنٹ اور ریاستوں و مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کی قانون ساز اسمبلیوں کی سرکاری اکاؤنٹس کمیٹیوں کے چیئرمین اور ارکان شرکت کریں گے۔ ’’آڈٹ، جوابدہی اور اچھی حکمرانی: سرکاری اکاؤنٹس کمیٹی کا بدلتا ہوا کردار‘‘ کے موضوع پر مرکوز اس کانفرنس میں سرکاری اخراجات میں شفافیت، مالیاتی جوابدہی اور قانون ساز اداروں کی نگرانی کو مزید مؤثر بنانے کے مختلف پہلوؤں پر تبادلۂ خیال ہوگا۔ مجھے امید ہے کہ جمہوری اداروں میں جوابدہی کو مستحکم کرنے اور اچھی حکمرانی کے مقاصد کو آگے بڑھانے کی سمت میں یہ کانفرنس ایک اہم موقع ثابت ہوگی۔ترواننت پورم، کیرالہ3سے 4 نومبر 2026براہِ راست نشریات کا لنک: https://t.co/aea47ezkOy
****
ش ح۔ م ع۔ خ م
U.NO.7152