مواصلات اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
03 NOV 2026 12:37PM by PIB Delhi
بھارتی ٹیلی مواصلات ریگولیٹری اتھارٹی (ٹرائی) نے آج ’’ٹیلی مواصلاتی باہمی رابطے (تیسری ترمیم) ضوابط، 2026‘‘ جاری کیے۔ یہ ضوابط یکم جنوری 2027 سے نافذ العمل ہوں گے۔
ٹیلی مواصلات کے شعبے میں باہمی رابطے سے مراد ،وہ تکنیکی، عملیاتی اور تجارتی انتظامات ہیں، جن کے ذریعے دو یا دو سے زیادہ ٹیلی مواصلاتی نیٹ ورکس کو آپس میں جوڑا جاتا ہے۔ اس سے ان نیٹ ورکس کے درمیان ٹیلی مواصلاتی رابطے کا تبادلہ ممکن ہوتا ہے اور مختلف خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں کے صارفین ایک دوسرے سے بلا رکاوٹ رابطہ کر سکتے ہیں۔ ٹرائی ایکٹ 1997 کی دفعہ 11(1)(b) کے تحت ٹرائی کو دیگر امور کے علاوہ خدمات فراہم کرنے والوں کے درمیان باہمی رابطے کی شرائط و ضوابط مقرر کرنے اور مختلف خدمات فراہم کرنے والوں کے درمیان تکنیکی مطابقت اور مؤثر باہمی رابطے کو یقینی بنانے کا اختیار حاصل ہے۔
باہمی رابطے کے معاملات کو منضبط کرنے والے موجودہ ضابطہ جاتی نظام کو متعلقہ، شفاف اور خدمات فراہم کرنے والوں کے درمیان مؤثر باہمی رابطے کے لیے سازگﷻار بنائے رکھنے کے مقصد سے ،ٹرائی نے 3 اپریل 2025 کو ’’باہمی رابطے کے معاملات سے متعلق ٹرائی کے موجودہ ضوابط کے جائزے‘‘ پر ایک پیشگی مشاورتی مقالے کے ذریعے ضابطہ جاتی نظام کے جائزے کا عمل شروع کیا تھا۔ اس پیشگی مشاورتی مقالے کے ذریعے دیگر امور کے علاوہ ٹیلی مواصلاتی باہمی رابطے کے ضوابط، 2018 کا جائزہ لینﷻے کے لیے متعلقہ فریقوں سے آرا طلب کی گئیں۔
بعد میں ، ’’باہمی رابطے کے معاملات سے متعلق ٹرائی کے موجودہ ضوابط کے جائزے‘‘ پر ایک مشاورتی مقالہ 10 نومبر 2025 کو جاری کیا گیا۔ اس میں پس منظر سے متعلق معلومات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ پیشگی مشاورت کے عمل کے دوران موصول ہونے والی متعلقہ فریقوں کی آرا کو بھی مدنظر رکھا گیا۔ اس مشاورتی مقالے کے ذریعے دیگر امور کے علاوہ ٹیلی مواصلاتی باہمی رابطے کے ضوابط، 2018 کا جائزہ لینے کے لیے متعلقہ فریقوں سے تجاویز طلب کی گئیں۔ تاریخ میں توسیع کے بعد تحریری آرا اور ان پر جوابی آرا پیش کرنے کی آخری تاریخ بالترتیب 15 دسمبر 2025 اور 29 دسمبر 2025 مقرر کی گئی تھیں۔
مشاورتی مقالے میں اٹھائے گئے امور کے جواب میں 17 متعلقہ فریقوں نے اپنی آرا پیش کیں، جب کہ 9 فریقوں نے ان آرا پر جوابی آرا جمع کرائیں۔ مشاورت کے عمل کے ایک حصے کے طور پر 28 جنوری 2026 کو مشاورتی مقالے پر کھلی بحث (اوپن ہاؤس ڈسکشن) کا انعقاد بھی کیا گیا۔ مشاورتی عمل کے دوران متعلقہ فریقوں سے موصول ہونے والی آرا اور ان کے تجزیے کی بنیاد پر ٹرائی نے ٹیلی مواصلاتی باہمی رابطے (تیسری ترمیم) ضوابط، 2026 کو حتمی شکل دی ہے۔
ترمیمی ضوابط کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
1۔ لائسنس یافتہ سروس ایریا (ایل ایس اے) کی سطح پر باہمی رابطہ: اس ترمیم کے تحت باہمی رابطے کی سہولت فراہم کرنے والے اور اس کے خواہش مند فریق باہمی اتفاقِ رائے سے ان مقامات کا تعین کر سکیں گے جہاں ٹیلی مواصلاتی رابطے کی منتقلی یا وصولی عمل میں آئے گی۔ اس کے ذریعے باہمی رابطے کے موجودہ ضابطہ جاتی نظام کو جدید بنایا گیا ہے، تاکہ اسے نیٹ ورک کے موجودہ ڈھانچوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے اور باہمی رابطے کے موجودہ نظام کو طویل فاصلے کے چارجنگ ایریا (ایل ڈی سی اے) اور مختصر فاصلے کے چارجنگ ایریا (ایس ڈی سی اے) کی سطح سے لائسنس یافتہ سروس ایریا (ایل ایس اے) کی سطح پر منتقل کیا جا سکے۔ رابطے کی منتقلی کے مقامات (پی او آئی) کو ایل ایس اے کی سطح پر منتقل کرنے سے، راستوں کے تعین کا عمل آسان ہوگا اور نمبرنگ کے محدود وسائل کے زیادہ مؤثر انتظام میں بھی مدد ملے گی۔ اس کے علاوہ، اس سے رابطے میں تاخیر کم ہونے اور خدمات کے قابلِ اعتماد ہونے جیسے فوائد بھی حاصل ہوں گے۔
2۔ ایس ڈی سی اے/ایل ڈی سی اے کی سطح پر موجود رابطے کی منتقلی کے مقامات (پی او آئی) سے ٹریفک کی منتقلی: ایل ڈی سی اے/ایس ڈی سی اے کی سطح پر موجود رابطے کی منتقلی کے مقامات (پی او آئی) پر جاری رابطوں کو استعمال کے منٹس (ایم او یوز) کے لحاظ سے مرحلہ وار طریقے سے تین سال کے اندر ایل ایس اے کی سطح کے پی او آئی پر منتقل کیا جائے گا۔ اس کے بعد تمام ٹیلی مواصلاتی رابطوں کی منتقلی یا وصولی ایل ایس اے یا سروس ایریا کی سطح کے پی او آئی پر ہی عمل میں آئے گی۔
3۔ آئی پی پر مبنی باہمی رابطے کی جانب منتقلی: ترمیمی ضوابط میں خدمات فراہم کرنے والوں کے لیے آئی پی پر مبنی باہمی رابطے کا نظام قائم کرنے کی گنجائش فراہم کی گئی ہے۔ ان ضوابط کے نافذ ہونے کے بعد قائم کیے جانے والے تمام نئے باہمی رابطے آئی پی پر مبنی ہوں گے۔ ای ون/ٹی ڈی ایم پر مبنی باہمی رابطے کے موجودہ نظام کے تحت کام کرنے والے تمام پی او آئی کو مرحلہ وار طریقے سے تین سال کے اندر آئی پی پر مبنی باہمی رابطے کے نظام میں منتقل کیا جائے گا۔ آئی پی پر مبنی باہمی رابطے کی جانب منتقلی سے بینڈوِڈتھ کا زیادہ مؤثر استعمال، کال کے معیار میں بہتری اور رابطے کی شروعات سے اختتام تک کارکردگی بہتر ہوگی۔
4۔ آئی پی پر مبنی باہمی رابطے کے لیے صلاحیت میں اضافے کا نظام: آئی پی پر مبنی باہمی رابطے کے معاملے میں کسی پی او آئی پر کالز کو سنبھالنے کی زیادہ سے زیادہ صلاحیت کا تعین بیک وقت سیشنز کو سنبھالنے کی اہلیت اور لنک کی بینڈوِڈتھ کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا، تاکہ ٹرائی کے متعلقہ ضوابط کے مطابق خدمات کے مطلوبہ معیار کو برقرار رکھا جا سکے۔
5-رابطے کی منتقلی کے مقامات (پی او آئیز) سے دست برداری کا طریقۂ کار: پی او آئی سے دست برداری کے لیے ایک مخصوص ضابطہ جاتی نظام متعارف کرایا گیا ہے۔ اس سے قبل ضوابط میں صرف پی او آئی کو ’منقطع‘ کرنے کی گنجائش موجود تھی، جس کا مقصد اس مقام پر ٹیلی مواصلاتی رابطوں کے تبادلے کو روکنا تھا۔ یہ اقدام غیر معمولی حالات میں، خدمات فراہم کرنے والے دونوں اداروں کے درمیان اختلافات پیدا ہونے اور اس کی وجہ دوسرے ادارے کو قرار دیے جانے پر ایک ادارے کی جانب سے اٹھایا جاتا ہے۔ اس کے برعکس، دست برداری کا طریقۂ کار کسی خدمات فراہم کرنے والے ادارے کی اپنی عملیاتی ضروریات کے تحت رضاکارانہ طور پر پی او آئی کو ترک کرنے کے لیے وضع کیا گیا ہے۔ اس کی وجوہات میں رابطوں کی تعداد میں کمی، کسی علاقے سے خدمات کی واپسی یا رابطوں کے راستوں میں تبدیلی شامل ہو سکتی ہیں۔ اس اقدام سے مالیاتی کارکردگی بہتر بنانے میں مدد حاصل ہو گی۔
6۔ بینک گارنٹی سے متعلق دفعات کو معقول بنانا: بینک گارنٹی کا موجودہ نظام برقرار رکھا گیا ہے، تاہم دوبارہ جائزے کی بنیاد پر جمع کرائی جانے والی بینک گارنٹی کیِ اعتبار کی مدت اور اس کے دوبارہ جائزے کے درمیانی وقفے کو چھ ماہ سے بڑھا کر بارہ ماہ کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، پی او آئی، بشمول آئی پی پر مبنی باہمی رابطے، کے لیے بینک گارنٹی کی زیادہ سے زیادہ حد، مقرر کرنے کا نظرثانی شدہ طریقۂ کار بھی متعارف کرایا گیا ہے۔
7۔ باہمی رابطے سے متعلق واجبات کی ادائیگی میں تاخیر پر سود: باہمی رابطے کے واجبات یا باہمی رابطے کے استعمال کے واجبات کی ادائیگی میں تاخیر سے نمٹنے کے لیے ایک مخصوص شق متعارف کرائی گئی ہے۔ سود کی شرح خدمات فراہم کرنے والے ادارے باہمی اتفاقِ رائے سے طے کریں گے، تاہم یہ شرح اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی ایک سالہ ’مارجنل کاسٹ آف فنڈز بیسڈ لینڈنگ ریٹ‘ (ایم سی ایل آر) سے دو فیصد زیادہ کی حد سے تجاوز نہیں کرے گی۔
8۔ رپورٹنگ سے متعلق تقاضے: ترمیمی ضوابط میں رابطوں کو ایل ڈی سی اے/ایس ڈی سی اے کی سطح کے پی او آئی سے ایل ایس اے کی سطح کے پی او آئی پر منتقل کرنے اور ای ون/ٹی ڈی ایم پر مبنی باہمی رابطے کو آئی پی پر مبنی نظام میں منتقل کرنے کے عمل کی نگرانی کے لیے رپورٹنگ سے متعلق تقاضے مقرر کیے گئے ہیں۔
5۔ مالی جرمانوں کا درجہ وار نظام: ضوابط پر مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے ان کی خلاف ورزی کی صورت میں درجہ وار مالی جرمانوں کا نظام مقرر کیا گیا ہے۔ اس نظرثانی سے ضابطہ جاتی نظام کا نفاذ زیادہ مؤثر اور متناسب ہوگا، نیز جرمانوں کا تعین ان ضوابط کے تحت آنے والی خلاف ورزیوں کی نوعیت اور سنگینی کے مطابق کیا جا سکے گا۔
تاخیر سے ادائیگی پر سود، رپورٹنگ کے تقاضوں اور مالی جرمانوں سے متعلق دفعات ضوابط پر مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہوں گی۔ ترمیمی ضوابط کے ذریعے ضابطہ جاتی دفعات کو تکنیکی ترقی اور اس شعبے میں ہونے والی تبدیلیوں سے ہم آہنگ کیا گیا ہے۔ توقع ہے کہ ان سے باہمی رابطے کے نظام کو مستحکم بنانے اور ٹیلی مواصلاتی نیٹ ورکس کے درمیان بلا رکاوٹ رابطے کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔ اس ضابطہ جاتی نظام کا مقصد خدمات فراہم کرنے والے اداروں کو ضابطوں کے حوالے سے زیادہ یقین اور وضاحت فراہم کرنا ہے، جبکہ مؤثر باہمی رابطے، شفافیت، عدم امتیاز اور منصفانہ مسابقت کے اصولوں کو بھی برقرار رکھا جائے گا۔
’’ٹیلی مواصلاتی باہمی رابطے (تیسری ترمیم) ضوابط، 2026‘‘ کا مکمل متن، وضاحتی یادداشت کے ساتھ، ٹرائی کی ویب سائٹ www.trai.gov.in پر دستیاب ہے۔
کسی بھی وضاحت یا معلومات کے لیے ٹرائی کے مشیر (نیٹ ورکس، اسپیکٹرم اور لائسنسنگ-1) جناب سمیر گپتا سے ای میل پتے adv-nsl1@trai.gov.in یا ٹیلی فون نمبر 91-11-20907752 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
***
ش ح۔ ش م ۔رض
:7140:U-No