پوسٹ کرنے کی تاریخ:
30 OCT 2026 3:02PM by PIB Delhi
ہندوستان کے نائب صدر جمہوریہ جناب سی پی رادھا کرشنن نے آج تمل ناڈو کے ڈنڈیگل میں گاندھی گرام دیہی ادارے (ڈیمڈ ٹو بی یونیورسٹی) کی گولڈن جوبلی تقریبات اور 39ویں جلسۂ تقسیمِ اسناد میں شرکت کی۔ انہوں نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ کو طلائی تمغے عطا کیے اور تمام فارغ التحصیل طلبہ کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے ان کے روشن مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
نائب صدر جمہوریہ جناب سی پی رادھا کرشنن نے آج تمل ناڈو کے ڈنڈیگل میں گاندھی گرام دیہی ادارے (ڈیمڈ ٹو بی یونیورسٹی) کی گولڈن جوبلی تقریبات اور 39ویں جلسۂ تقسیمِ اسناد میں شرکت کی اور نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ کو طلائی تمغے عطا کیے۔ اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ وکست بھارت 2047 کا آغاز ترقی یافتہ دیہات سے ہوتا ہے، انہوں نے گزشتہ بارہ برسوں کے دوران دیہی بنیادی ڈھانچے اور بنیادی سہولیات کے شعبے میں ہونے والی انقلابی پیش رفت کو اجاگر کیا اور ہر دیہی شہری کے لیے زیادہ مواقع اور باوقار زندگی کو یقینی بنانے پر زور دیا۔ اس موقع پر تمل ناڈو کے گورنر جناب راجندر وشوناتھ آرلیکر، چانسلر ڈاکٹر کے ایم انّاملائی، وائس چانسلر ڈاکٹر این پنچاناتھم اور دیگر معزز شخصیات موجود تھیں۔
— نائب صدر جمہوریہ ہند (@VPIndia)، 30 اکتوبر 2026
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے اس بات پر زور دیا کہ وکست بھارت2047 کے تصور کو صرف دیہات کی ہمہ جہت ترقی کے ذریعے ہی شرمندۂ تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی اصل طاقت اس کے دیہات میں مضمر ہے اور دیہی ترقی قومی ترقی کا ایک بنیادی ستون برقرار رہنی چاہیے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مقصد ضروری نہیں کہ ہر گاؤں کو قصبے میں تبدیل کیا جائے، بلکہ اس بات کو یقینی بنانا ہونا چاہیے کہ دیہی شہریوں کو معیاری بنیادی ڈھانچے، ضروری عوامی خدمات، روزگار کے مواقع اور شہری علاقوں میں دستیاب سہولیات کے مساوی باوقار معیار زندگی تک رسائی حاصل ہو۔
مہاتما گاندھی کی وراثت کا ذکر کرتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ گاندھی گرام کی تاریخ گاندھیائی فلسفے سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ڈاکٹر جی رام چندرن اور ڈاکٹر ٹی ایس سوندرم رام چندرن نے مہاتما گاندھی کے نظریات سے متاثر ہوکر دیہی تعلیم، ترقی اور سماجی تبدیلی کو فروغ دینے کے مقصد سے اس ادارے کی بنیاد رکھی تھی۔
سچائی اور عدم تشدد کی پائیدار طاقت کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مہاتما گاندھی نے انہی اصولوں کے ذریعے برطانوی سلطنت کی طاقت کو چیلنج کیا اور ہندوستان کو آزادی دلائی۔ انہوں نے کہا کہ گاندھیائی اقدار آج بھی معاشرے اور ملک کی رہنمائی کرتی ہیں۔
وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں گزشتہ بارہ برسوں کے دوران ہندوستان کے ترقیاتی سفر کا ذکر کرتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے دیہی مکانات، پینے کے پانی، بجلی، سڑکوں، صفائی ستھرائی، زراعت اور ڈیجیٹل رابطے کے شعبوں میں ہونے والی نمایاں پیش رفت کو اجاگر کیا۔
انہوں نے بتایا کہ 2014 سے 2023 کے درمیان تقریباً 25 کروڑ افراد کثیر جہتی غربت سے باہر نکلے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف ترقیاتی اور فلاحی اقدامات نے لاکھوں لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
رابطے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دیہات کو بہتر سڑکوں اور ٹرانسپورٹ کے بنیادی ڈھانچے کے ذریعے قصبوں اور شہروں سے جوڑا جانا چاہیے، تاکہ تعلیم، صحت، بازاروں اور روزگار کے مواقع دیہی آبادی تک پہنچ سکیں۔
انہوں نے صفائی ستھرائی کے بارے میں زیادہ بیداری پیدا کرنے میں سوچھ بھارت مشن کے اثرات کو بھی اجاگر کیا۔ عوامی مقامات کی صفائی میں بہتری کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صفائی محض حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر شہری کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔
یہ کہتے ہوئے کہ کسانوں کی فلاح و بہبود کا ملک کی غذائی سلامتی سے براہ راست تعلق ہے، انہوں نے کسان برادری کی مدد کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے پی ایم کسان اسکیم کا حوالہ دیا، جس کے تحت اہل کسان خاندانوں کو سالانہ 6,000 روپے کی مالی امداد تین قسطوں میں براہ راست ان کے بینک کھاتوں میں فراہم کی جاتی ہے۔
نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ مصنوعی ذہانت، آٹومیشن اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز تیزی سے دنیا کو تبدیل کر رہی ہیں اور روزگار کی نوعیت میں تبدیلی لا رہی ہیں۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ تخلیقی صلاحیتوں، مسائل حل کرنے کی قابلیت اور کاروباری نقطۂ نظر کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجیز میں مہارت حاصل کریں۔
انہوں نے طلبہ کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ محض روزگار تلاش کرنے والے بننے کے بجائے روزگار فراہم کرنے والے بنیں۔ مہاتما گاندھی کے سودیشی فلسفے کی عصری اہمیت کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کی مینوفیکچرنگ، مقامی ٹیکنالوجیز، مقامی صنعتوں اور نوجوان ہندوستانیوں کی اختراعات کو فروغ دینا سودیشی کے جدید تصور کی عکاسی کرتا ہے۔
نائب صدر جمہوریہ نے فارغ التحصیل طلبہ سے اپیل کی کہ وہ اپنی تعلیم اور مہارتوں کا استعمال محض ذاتی ترقی کے لیے نہیں بلکہ معاشرے کی فلاح و بہبود کے لیے بھی کریں۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ سادگی، خود انحصاری، سماجی ذمہ داری اور خدمت کے گاندھیائی اصولوں کو اپنی زندگی کا رہنما اصول بنائیں۔
انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ منشیات اور نشہ آور اشیا کے استعمال سے دور رہیں اور اپنے دوستوں، اہل خانہ اور برادریوں میں بیداری پیدا کرکے منشیات سے پاک معاشرے کے سفیر بنیں۔
ڈیمڈ ٹو بی یونیورسٹی کے طور پر اپنے پچاس سالہ سفر کی تکمیل پر گاندھی گرام دیہی ادارے کو مبارک باد دیتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ یہ ادارہ پائیدار دیہی ترقی، جامع ترقی اور اختراعی تحقیق کے ایک ممتاز مرکز کے طور پر مسلسل ابھرتا رہے گا۔
اس موقع پر نائب صدر جمہوریہ نے اپنے اپنے شعبوں میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں تین ممتاز شخصیات کو اعزازی ڈاکٹریٹ (آنوریس کاؤزا) کی ڈگریاں عطا کیں۔ ان شخصیات میں معروف روحانی رہنما اور تمل اسکالر تَوَتھِرُو کُنڈراکُڈی پونمبالا اڈیگلار، اسرو کے سابق سینئر ایرو اسپیس سائنس داں جناب ایس نمبی نارائنن اور ممتاز ماہرِ تعلیم پروفیسر ایس ایس ایم سندرم شامل ہیں۔
گاندھی گرام دیہی ادارے (ڈیمڈ ٹو بی یونیورسٹی)، ڈنڈیگل کے 39ویں جلسۂ تقسیم اسناد کے موقع پر نائب صدر جمہوریہ جناب سی پی رادھا کرشنن نے تین ممتاز شخصیات کو ان کی گراں قدر خدمات کے اعتراف میں اعزازی ڈاکٹریٹ (آنوریس کاؤزا) کی ڈگریاں عطا کیں۔ ان شخصیات میں معروف روحانی رہنما اور تمل اسکالر تَوَتھِرُو کُنڈراکُڈی پونمبالا اڈیگلار، اسرو کے سابق سینئر ایرو اسپیس سائنس داں جناب ایس نمبی نارائنن اور ممتاز ماہرِ تعلیم پروفیسر ایس ایس ایم سندرم شامل ہیں۔ انہیں روحانیت، تمل ادب و علم، سائنس اور تعلیم کے شعبوں میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں یہ اعزاز عطا کیا گیا۔
— نائب صدر جمہوریہ ہند (@VPIndia)، 30 اکتوبر 2026
ادارے کی تعلیمی اور بنیادی ڈھانچے کی سہولیات کو مزید مستحکم کرنے کی کوششوں کے تحت نائب صدر جمہوریہ نے دو نئی عمارتوں، امتحانی و سیمینار ہالز اور پشپ کنج ورثہ عمارت کا افتتاح کیا۔
گاندھی گرام دیہی ادارے کی گولڈن جوبلی تقریبات کے دوران نائب صدر جمہوریہ جناب سی پی رادھا کرشنن نے دو نئی عمارتوں کا افتتاح کیا اور تین نئے منصوبوں کے سنگ بنیاد رکھے، جن میں 30 کلاس رومز پر مشتمل ایک تعلیمی کمپلیکس بھی شامل ہے۔ انہوں نے ’’ہندوستان کی عمر رسیدہ آبادی کی شمولیت‘‘کے عنوان سے کتاب کا اجرا بھی کیا اور ادارے کے سفر میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھنے والی گولڈن جوبلی کی یادگاری ڈاک ٹکٹ اور ڈاک کور کی رونمائی بھی کی۔
— نائب صدر جمہوریہ ہند (@VPIndia)، 30 اکتوبر 2026
انہوں نے ڈیجیٹل طریقے سے تین منصوبوں کے سنگ بنیاد بھی رکھے، جن میں 22 کے وی کا پاور ہاؤس اور کنٹرول روم، اسکول آف ایجوکیشن کے لیے ایک تعلیمی عمارت اور 30 کلاس رومز پر مشتمل ایک تعلیمی عمارتوں کا کمپلیکس شامل ہیں۔
نائب صدر جمہوریہ نے ’’ہندوستان کی عمر رسیدہ آبادی کی شمولیت‘‘ کے عنوان سے کتاب کا اجرا کیا۔ انہوں نے ادارے کے سفر میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت سے گولڈن جوبلی کی یادگاری ڈاک ٹکٹ اور ڈاک کور کی رونمائی بھی کی۔
اس موقع پر تمل ناڈو کے گورنر جناب راجندر وشوناتھ آرلیکر، چانسلر ڈاکٹر کے ایم انّاملائی، وائس چانسلر ڈاکٹر این پنچاناتھم، رجسٹرار ڈاکٹر کے مریموتھو، اساتذہ، محققین، طلبہ، والدین اور دیگر معزز شخصیات موجود تھیں۔
****
(ش ح ۔ش ت۔ ش ب ن)
U. No.6951