زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

وزیراعظم جناب نریندر مودی کل گجرات کے بناسکانٹھا میں ’پی ایم-کسان‘ کی 24ویں قسط جاری کریں گے


مرکزی وزیر زراعت جناب شیوراج سنگھ چوہان مدھیہ پردیش کے رائسین میں منعقدہ تقریب میں شرکت کریں گے

ڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر‘(براہ راست فائدہ منتقلی) کے ذریعے 9.34 کروڑ سے زائد کسانوں کو 18,690 کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم منتقل کی جائے گی

زرعی ذخیرہ اندوزی، پروسیسنگ اور متعلقہ بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے ’ایگریکلچر انفراسٹرکچر فنڈ‘ (زرعی بنیادی ڈھانچہ فنڈ) کے تحت تیار کردہ 521 یونٹس قوم کے نام وقف کیے جائیں گے۔

اعلیٰ قدر والی باغبانی فصلوں کو فروغ دینے اور کسانوں کی آمدنی بڑھانے کے امکانات کو بہتر بنانے کے لیے 12 ہارٹیکلچر کلسٹرز (باغبانی کے مراکز) کا افتتاح کیا جائے گا۔

یہ اقدامات ’وکست بھارت‘کے وژن کے مطابق ایک خوشحال، مستحکم اور خود انحصار زرعی شعبہ تشکیل دینے کی حکومتی کوششوں کو مزید آگے بڑھائیں گے۔

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 29 OCT 2026 6:46PM by PIB Delhi

وزیراعظم جناب نریندر مودی کل یعنی 30 اکتوبر 2026کوگجرات کے بناسکانٹھا میں ’پردھان منتری کسان سمان ندھی‘ (پی ایم کسان) کی 24ویں قسط جاری کریں گے۔ اس قسط کے تحت ملک بھر کے 9.34 کروڑ سے زائد کسانوں کے بینک کھاتوں میں 18,690 کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم براہ راست منتقل کی جائے گی، جو کسانوں کی فلاح و بہبود اور معاشی بااختیاری کے تئیں حکومت کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔

وزیراعظم ’ایگریکلچر انفراسٹرکچر فنڈ‘ کے تحت قائم کردہ 521 یونٹس کو بھی قوم کے نام وقف کریں گے، جن کا مقصد زرعی ذخیرہ اندوزی، پروسیسنگ اور متعلقہ بنیادی ڈھانچے کو مستحکم کرنا ہے۔ اس کے علاوہ، وہ 12 ہارٹیکلچر کلسٹرز کا افتتاح بھی کریں گے تاکہ اعلیٰ قدر والی باغبانی فصلوں کو فروغ دیا جا سکے اور کسانوں کی آمدنی میں اضافے کے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔

مرکزی وزیر برائے زراعت و بہبودِ کسان، جناب شیوراج سنگھ چوہان مدھیہ پردیش کے رائسین میں ’پی ایم-کسان‘ کی 24ویں قسط جاری کرنے کی تقریب میں شرکت کریں گے۔ توقع ہے کہ اس تقریب میں خطے کے کسانوں کی بڑی تعداد شرکت کرے گی۔ یہ تقریب ’پی ایم-کسان‘ اور محکمہ زراعت کے دیگر اہم اقدامات کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کرے گی، اور ساتھ ہی کسانوں کی فلاح و بہبود، خوشحالی اور بااختیاری کے لیے حکومت کے مسلسل عزم کو بھی دہرائے گی۔پی ایم کسان کی پہلی 23 قسطوں کے ذریعے، اہل کسانوں کو پہلے ہی 4.47 لاکھ کروڑ سے زیادہ کی رقم تقسیم کی جا چکی ہے۔ یہ اسکیم اہل کسان خاندانوں کو براہ راست فائدہ کی منتقلی کے ذریعے آمدنی میں مدد فراہم کرتی ہے، ان کی زرعی اور گھریلو اخراجات کو پورا کرنے میں مدد کرتی ہے اور ان کی روزی روٹی کی حفاظت میں مدد کرتی ہے۔

زراعت بھارت کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، جو کروڑوں کسانوں کی روزی روٹی کو سہارا دیتی ہے اور خوراک اور غذائی تحفظ کو یقینی بناتی ہے۔ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی دور اندیش قیادت میں حکومت نے گزشتہ 12 سالوں میں کسانوں کی آمدنی کو بہتر بنانے، جدید زرعی طریقوں کو فروغ دینے کے مقصد اور زراعت کے شعبے میں خود انحصاری کے وژن کے حصول کے لیے کئی اہم اقدامات کیے ہیں۔

کلیدی اقدامات میں پردھان منتری کسان سمان ندھی ، پردھان منتری فصل بیمہ یوجنا، کسان کریڈٹ کارڈ، کم از کم امدادی قیمت ، ہر بوند مزیدفصل شامل ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد مالی امداد فراہم کرنا، خطرات سے تحفظ کو مضبوط بنانا، زرعی قرضوں تک رسائی کو بہتر بنانا اور کسانوں کو مکمل طور پر بااختیار بنانے کے لیے ٹیکنالوجی پر مبنی زرعی حکمرانی کو فروغ دینا ہے۔

حکومت خوردنی تیل پر قومی مشن اور دالوں میں اتمنیربھارت کے مشن جیسے اقدامات کے ذریعے زراعت میں خود انحصاری کو بھی آگے بڑھا رہی ہے۔ اس کے علاوہ، قدرتی کاشتکاری کا قومی مشن ملک بھر میں کلسٹرز کی ترقی کے ذریعے کسانوں کو پائیدار زرعی طریقوں کو اپنانے کی ترغیب دے رہا ہے۔

کسانوں کے منافع کو بہتر بنانے کے لیے فصل کے بعد کے انتظام اور زرعی بنیادی ڈھانچے کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے، ایگریکلچر انفراسٹرکچر فنڈ گوداموں، کولڈ اسٹوریج کی سہولیات، بنیادی پروسیسنگ مراکز اور دیگر ضروری زرعی بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کو فروغ دیتا ہے۔اے آئی ایف کے تحت، 2.28 لاکھ سے زیادہ پروجیکٹوں میں تقریباً1.75 لاکھ کروڑ کی سرمایہ کاری کی گئی ہے، جو ملک بھر میں اہم زرعی بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں معاون ہے۔ ان سرمایہ کاری سے اسٹوریج اور پروسیسنگ کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے، فصل کے بعد ہونے والے نقصانات کو کم کرنے، مارکیٹ تک رسائی کو بہتر بنانے اور کسانوں کو اپنی پیداوار کے لیے بہتر منافع حاصل کرنے کے قابل بنانے کی توقع ہے۔

حکومت آمدنی کے مواقع بڑھانے اور کاشتکاری کو زیادہ منافع بخش بنانے کے لیے، اعلیٰ قدر والی زرعی سرگرمیوں—خاص طور پر باغبانی کی جانب تنوع کو فروغ دے رہی ہے۔ باغبانی کے کلسٹرز کی تشکیل، باغبانی کی ویلیو چین کو مضبوط بنانے اور اعلیٰ قدر والی فصلوں کی پیداوار اور مارکیٹنگ کی حوصلہ افزائی کی سمت میں ایک اہم قدم ہے۔

یہ اقدامات کسانوں کو مالی معاونت فراہم کرنے، زرعی بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے، فصلوں کے تنوع کو فروغ دینے، اور ’وکست بھارت‘ کے وژن کے مطابق ایک خوشحال، لچکدار اور خود انحصار زرعی شعبہ تعمیر کرنے کی حکومتی کوششوں کو مزید آگے بڑھائیں گے۔

***

 

(ش ح۔اص)

UR No 6924

 

Ministry of Agriculture & Farmers Welfare

 

Prime Minister Shri Narendra Modi to Release 24th Instalment of PM-KISAN tomorrow at Banaskantha, Gujarat

 

Union Agriculture Minister Shri Shivraj Singh Chouhan to participate in the programme to mark the release at Raisen, Madhya Pradesh

 

Over 9.34 crore farmers to receive more than ₹18,690 crore through Direct Benefit Transfer

 

Dedication of 521 units developed under Agriculture Infrastructure Fund to the nation to strengthen agricultural storage, processing and related infrastructure

 

Inaugaration of 12 Horticulture Clusters to promote high-value horticultural crops and enhance the income potential of farmers

 

The initiatives will further the Government’s efforts to build a prosperous, resilient and self-reliant agricultural sector in line with the vision of Viksit Bharat

 

(Release ID: 2330171)

 


(ریلیز آئی ڈی: 2330249) وزیٹر کاؤنٹر : 7