صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر مملکت پرتاپ راؤ جادھو نے تمباکو سے  چھٹکارے کی نوجوانوں کی مہم 4.0 کا آغاز کیا اور نوجوانوں سے تمباکو اور نشے کے خلاف ملک گیر تحریک میں قائدانہ کردار ادا کرنے کی اپیل کی


صحت مند، مضبوط اور ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر کے لیے نوجوانوں کو تمباکو اور نشے سے بچانا ناگزیر ہے: پرتاپراؤ جادھو

مرکزی وزیر نے ’تمباکو کی ممانعت ‘کا عہد دلایا، نوجوانوں سے تمباکو سے پاک بھارت کاسفیر بننے کی اپیل کی

مہم کے گزشتہ تین مراحل کے تحت 5.8 لاکھ سے زائد تعلیمی اداروں اور 73,000 گاؤں کو تمباکو سے پاک قرار دیا گیا

تمباکو کی روک تھام، متعلقہ قوانین کے نفاذ کو مضبوط بنانے اور تمباکو نوشی ترک کرنے کی حوصلہ افزائی کے لیے 60 روزہ ملک گیر مہم

تمباکو سے چھٹکارے کی نوجوانوں کی مہم 4.0 میں یونیورسٹیوں اور کالجوں کا مرکزی کردار، تمباکو سے پاک کیمپس اور نوجوانوں کی قیادت میں بیداری پیدا کرنے پر خصوصی توجہ

ملک بھر میں تمباکو پر قابو پانے کی کوششوں کو آگے بڑھانے کے لیے چھ نکاتی حکمت عملی اور حکومت کے تمام شعبوں پر مشتمل مشترکہ لائحۂ عمل

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 28 OCT 2026 2:29PM by PIB Delhi

آیوش کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج)اور صحت و خاندانی بہبود کے مرکزی وزیر مملکت، جناب پرتاپ راؤ جادھو نے آج نئی دہلی کے اٹل بہاری واجپئی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (اے بی وی آئی ایم ایس)اور ڈاکٹر رام منوہر لوہیا(آر ایم ایل) اسپتال میں تمباکو سے چھٹکارے کی نوجوانوں کی مہم (ٹی ایف وائی سی 4.0) کے چوتھے ایڈیشن کا آغاز کیا۔ اس موقع پر انہوں نے نوجوانوں کو تمباکو کے استعمال اور نکوٹین کی لت سے نجات دلانے کے لیے ملک گیر عوامی تحریک شروع کرنے کی اپیل کی۔

وزارت صحت و خاندانی بہبود کی جانب سے چلائی جا نے والی یہ 60 روزہ ملک گیر مہم نوجوانوں کو ابتدا سے ہی تمباکو کے استعمال سے باز رکھنے، تمباکو نوشی ترک کرنے کی حوصلہ افزائی کرنے، تمباکو پر قابو پانے سے متعلق قوانین کے نفاذ کو مضبوط بنانے اور ملک بھر میں تمباکو سے پاک ماحول کو فروغ دینے کے لیے شروع کی گئی ہے۔ مہم کے گزشتہ تین مراحل کی کامیابیوں کے سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے، جن کے دوران 5.8 لاکھ سے زائد تعلیمی اداروں اور 73,000 سے زیادہ گاؤں کو تمباکو سے پاک قرار دیا گیا، اس کے چوتھے ایڈیشن میں اس پہل کو نمایاں طور پر وسعت دی گئی ہے، جس میں اس سال کی مہم کے تحت یونیورسٹیوں اور کالجوں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

جناب پرتاپ راؤ جادھو نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے  ملک کے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ تمباکو اور دیگر نشہ آور اشیا کو پختہ عزم کے ساتھ مسترد کریں اور صحت مند، بامقصد اور نشے سے پاک طرز زندگی اپنائیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نوجوانوں کی صحت اور فلاح و بہبود، ہندوستان کو ایک ترقی یافتہ ملک بنانے کے عزائم کی تکمیل کے لیے کلیدی اہمیت رکھتی ہے۔

وزیر موصوف نے ملک کی تعمیر میں نوجوانوں کے کلیدی کردار کو اجاگر کرتے ہوئےکہا کہ ہندوستان کے نوجوان ملک کی سب سے بڑی طاقت ہیں اور ان کی توانائی، صلاحیت، تخلیقی صلاحیتوں اور عزم سے ملک کا مستقبل تشکیل پائے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نوجوان نسل کو تمباکو اور نشے کی لت سے محفوظ رکھنا نہ صرف صحتِ عامہ کے نقطۂ نظر سے ناگزیر ہے بلکہ یہ ایک قومی ذمہ داری بھی ہے۔

جناب پرتاپ راؤ جادھو نے  اس بات پرزور دیتے ہوئے کہا کہ صحت مند، مضبوط اور ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر کے لیے اپنے نوجوانوں کو تمباکو اور نشے کی لت سے محفوظ رکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے تعلیمی اداروں، خاندانوں، برادریوں اور سرکاری اداروں سے اپیل کی کہ وہ  ساتھ مل کر ایسا ماحول تشکیل دیں جس میں نوجوان نشے کی لت کے بوجھ سے آزاد ہو کر اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کر سکیں۔

وزیر موصوف نے صحت پر مرتب ہونے والے تمباکو کے سنگین اثرات کی جانب توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ تمباکو کے دھوئیں میں 7,000 سے زائد کیمیائی مادے پائے جاتے ہیں، جن میں متعدد زہریلے اور سرطان پیدا کرنے والے مادے شامل ہیں، جو جسم کے مختلف اعضا کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ تمباکو کا استعمال نہ صرف استعمال کرنے والوں کی صحت کو خطرے میں ڈالتا ہے بلکہ اہلِ خانہ، بچوں اور دیگر افراد کو بھی بالواسطہ تمباکو نوشی کے مضر اثرات کی زد میں لاتا ہے۔

جناب پرتاپ راؤ جادھو نے نکوٹین کے استعمال، بالخصوص نوعمری کے دوران اس کے استعمال پر خصوصی تشویش کا اظہار کرتے ہوئےکہا کہ کم عمری میں نکوٹین کے اثرات دماغ کی نشوونما، توجہ مرکوز کرنے، یادداشت اور سیکھنے کی صلاحیتوں کو بری طرح متاثر کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کم عمری میں تمباکو کے استعمال کی روک تھام کی ضرورت پر زور دیا، کیونکہ اس عمر میں نوجوانوں میں نکوٹین پر انحصار پیدا ہونے کا خطرہ خاص طور پر زیادہ ہوتا ہے۔

جناب   پرتاپ راؤجادھو نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی دور اندیش قیادت اور مرکزی وزیر صحت جناب جگت پرکاش نڈا کی رہنمائی میں حکومتِ ہند شہریوں، بالخصوص بچوں اور نوعمروں کو تمباکو کے مضر اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے اپنی کوششوں کو مسلسل مضبوط بنا رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وزارت صحت و خاندانی بہبود 2023 سے ہر سال 60 روزہ تمباکو سے چھٹکارے کی مہم چلا رہی ہے، جس میں تمباکو کے استعمال کی روک تھام، تمباکو نوشی ترک کرنے کی حوصلہ افزائی، قوانین کے مؤثر نفاذ اور عوامی شراکت داری پر توجہ دی جاتی ہے۔ ان کے مطابق، یہ مہم بتدریج ملک گیر پہل کی شکل اختیار کر چکی ہے، جس میں طلبہ، اساتذہ، تعلیمی ادارے، قانون نافذ کرنے والے ادارے، صحت کے شعبے سے وابستہ پیشہ ور افراد اور برادریاں مل کر حصہ لے رہے ہیں۔

مہم کے گزشتہ تین مراحل کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے، وزیر موصوف نے نمایاں کیا کہ 5.8 لاکھ سے زائد تعلیمی اداروں اور 73,000 سے زیادہ گاؤں کو تمباکو سے پاک قرار دیا جا چکا ہے۔ یہ کامیابی اس پہل کے بڑھتے ہوئے دائرۂ اثر اور مختلف ریاستوں و مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں متعلقہ فریقوں کے بڑھتے ہوئے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں اور برادریوں کے  تعاون  سےحکومت کی مسلسل کوششوں نے تمباکو کے خطرات کے بارے میں بیداری بڑھانے اور ملک میں تمباکو پر قابو پانے کی تحریک کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ گلوبل ایڈلٹ ٹوبیکو سروے اور گلوبل یوتھ ٹوبیکو سروے سمیت قومی سروے کے نتائج کے حوالے سے انہوں نے بالخصوص 13 سے 15 سال کی عمر کے نوعمروں میں تمباکو کے استعمال کی روک تھام کے لیے مسلسل کوششیں جاری رکھنے کی اہمیت اجاگر کی ۔

وزیر موصوف نے اس بات پر زور دیا کہ اس مہم کو سرکاری پروگرام کی حدود سے آگے بڑھ کر ایسی عوامی تحریک کی شکل اختیار کرنی چاہیے جس کی بنیاد نوجوانوں کی سرگرم شرکت اور قیادت ہو۔

مورخہ30 اگست 2026 کو اپنے ’من کی بات‘ خطاب کے دوران وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے نشے سے نجات کے پیغام کا ذکر کرتے ہوئے، جناب  پرتاپ راؤ جادھو نے کہا کہ وزیر اعظم نے شہریوں سے اپیل کی تھی کہ وہ اجتماعی طور پر  ہندوستان کے نوجوانوں کو نشے کی لت سے دور رکھنے اور انہیں صحت مند و نشے سے پاک زندگی گزارنے کے قابل بنانے کے لیے کام کریں۔

انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اس پیغام کو آگے بڑھائیں اور اپنے اسکولوں، کالجوں، خاندانوں اور برادریوں میں تبدیلی کے محرک بنیں۔

جناب  پرتاپ راؤجادھو نے تمام متعلقہ فریقوں سے اپیل کی کہ وہ ’تمباکو کی ممانعت‘ کا پیغام ملک کے کونے کونے تک پہنچائیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ تمباکو کے استعمال کی روک تھام ایک مشترکہ سماجی عہد بن جائے۔

وزیر موصوف نے اپنی تقریر کے اختتام پر تمام شرکاء کو ’تمباکو کی ممانعت‘ کا عہد دلایا اور تمباکو سے دور رہنے، دوسروں کو تمباکو کا استعمال ترک کرنے کی ترغیب دینے اور ایک صحت مند، تمباکو سے پاک معاشرے کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرنے کے اجتماعی عزم کا اعادہ کیا۔

تین مراحل میں مہم کا بڑھتا ہوا دائرۂ  اثر: 5.8 لاکھ سے زائد تعلیمی اداروں اور 73,000 گاؤں کو تمباکو سے پاک قرار دیا گیا

ٹی ایف وائی سی 4.0 کا آغاز ملک گیر سطح پر چلائی والی مسلسل تین سابقہ مہمات کی کامیابیوں پر مبنی ہے۔ ان مہمات کے ذریعے تمباکو کے استعمال کی روک تھام سے متعلق سرگرمیوں کو بتدریج وسعت دی گئی، قوانین کے نفاذ کو مضبوط بنایا گیا اور ملک بھر کے تعلیمی اداروں اور برادریوں کو متحرک کیا گیا۔

تمباکو سے پاک نوجوانوں کی مہم کا پہلا ایڈیشن 31 مئی 2023 کو عالمی یومِ انسدادِ تمباکو نوشی کے موقع پر شروع کیا گیا، جس سے نوجوانوں میں تمباکو کے استعمال کی روک تھام پر مرکوز قومی کوشش کی بنیاد پڑی۔ اس مہم کے دوران 1,42,184 سے زائد تعلیمی اداروں اور 12,000 گاؤں کو تمباکو سے پاک قرار دیا گیا۔ تمباکو پر قابو پانے سے متعلق قوانین کے تحت تنفیذی کارروائیوں کے نتیجے میں ایک کروڑ روپے سے زائد کے جرمانے عائد کیے گئے، جو بیداری پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ ضابطوں کی پابندی کو یقینی بنانے پر بھی تاکید کی عکاسی کرتا ہے۔

دوسرا ایڈیشن ستمبر 2024 میں شروع کیا گیا، جس کے دوران بیداری کی سرگرمیوں میں تیزی لانے، تنفیذی کارروائیوں کو وسعت دینے اور عوامی شراکت کے ذریعے اس پہل کا دائرۂ نمایاں طور پر بڑھایا گیا۔ اس مرحلے میں 1,67,762 تعلیمی اداروں اور 27,534 گاؤں کو تمباکو سے پاک ہونے کا درجہ ملا، جبکہ قوانین کے مؤثر نفاذ کے واسطے مضبوط اقدامات کے نتیجے میں 1.1 کروڑ روپے سے زائد کے جرمانے عائد کیے گئے۔

اس پیش رفت کے سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے، اکتوبر 2025 میں شروع ہونے والی ٹی ایف وائی سی 3.0 نے مہم کی کامیابیوں کو مزید مستحکم کیا۔ اس مہم کے نفاذ کے دوران 2,57,807 تعلیمی اداروں اور 33,850 گاؤں کو تمباکو سے پاک قرار دیا گیا۔

تیسرے ایڈیشن میں قوانین کے نفاذ اور صلاحیت سازی کے شعبوں میں بھی نمایاں پیش رفت درج کی گئی۔ اس دوران تنفیذی کارروائیوں کی 58,000 سے زائد مہمات انجام دی گئیں، جن کے نتیجے میں سگریٹ اور دیگر تمباکو مصنوعات ایکٹ (سی او ٹی پی اے)،2003 کی دفعہ 4 کے تحت 1,45,477 چالان جاری کیے گئے۔ یہ دفعہ عوامی مقامات پر تمباکو نوشی پر پابندی عائد کرتی ہے۔ اس کے علاوہ، تمباکو پر قابو پانے سے متعلق اقدامات کے مؤثر نفاذ اور تمباکو کا استعمال ترک کرنے میں معاونت کو مضبوط بنانے کے واسطے 60,000 سے زائد تنفیذی اہلکاروں اور تمباکو نوشی ترک کرنے کے مشیروں کو تربیت دی گئی۔

مجموعی طور پر، مہم کے پہلے تین مراحل کے دوران 5.8 لاکھ سے زائد تعلیمی اداروں اور 73,000 سے زیادہ گاؤں کو تمباکو سے پاک قرار دیا گیا۔ یہ کامیابی ملک گیر سطح پر عوام کو متحرک کرنے کی وسیع کوششوں اور اداروں، مقامی انتظامیہ اور برادریوں کی جانب سے تمباکو پر قابو پانے کے اقدامات کو بڑھتی ہوئی ذمہ داری کے ساتھ اپنانے کی عکاسی کرتی ہے۔

ٹی ایف وائی سی 4.0 میں تمباکو کے استعمال کی روک تھام میں یونیورسٹیوں اور کالجوں کی مرکزی حیثیت

تمباکو سے چھٹکارے کی نوجوانوں کی مہم 4.0 کی ایک اہم خصوصیت اعلیٰ تعلیمی اداروں (ایچ ای آئی)پر خصوصی توجہ دینا ہے۔ اس کے تحت یونیورسٹیوں اور کالجوں کو ترغیب دی جا رہی ہے کہ وہ تمباکو کے استعمال کی روک تھام اور صحت مند طرزِ زندگی کو فروغ دینے میں زیادہ فعال کردار ادا کریں۔

اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے کہ نوعمری اور جوانی کے ابتدائی سال تمباکو کے استعمال کی ابتدا اور طویل مدتی صحت کی عادات کی تشکیل کے لحاظ سے نہایت اہم ہوتے ہیں، اس مہم کا مقصد زندگی کے اس مرحلے میں نوجوانوں کو مشغول کرنا ہے، جب مسلسل بیداری اور ہم عمر افراد کے مثبت اثرات دیرپا تبدیلی لانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

اعلیٰ تعلیمی اداروں پر توجہ مرکوز کرکے، ٹی ایف وائی سی 4.0 کا مقصد تمباکو سے پاک کیمپس کے ماحول کو مضبوط بنانا، تمباکو اور نکوٹین کے مضر اثرات کے بارے میں بیداری پیدا کرنا، طلبہ کو صحت سے متعلق باخبر فیصلے کرنے کی ترغیب دینا اور تعلیمی اداروں کو تمباکو کے استعمال کی روک تھام کے لیے فعال شراکت دار بنانا ہے۔

یونیورسٹیوں اور کالجوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی کہ وہ بیداری پیدا کرنے کی سرگرمیاں انجام دیں، تعلیمی اداروں کو تمباکو سے پاک رکھنے سے متعلق رہنما ہدایات کی پابندی کو مضبوط بنائیں، طلبہ کے مابین باہمی آگاہی اور تبادلے کو فروغ دیں اور تمباکو کے استعمال کی روک تھام کی کوششوں میں طلبہ اور تدریسی عملے کو فعال طور پر مشغول کریں۔

اس پہل کا مقصد تعلیمی کیمپس کو تمباکو کے استعمال کی روک تھام اور نوجوانوں کی قیادت میں عملی اقدامات کے مراکز میں تبدیل کرنا ہے، تاکہ طلبہ نہ صرف اپنے اداروں بلکہ اپنے خاندانوں اور برادریوں میں بھی صحت مند طرزِ زندگی کے فروغ کے علم بردار بن سکیں۔

اعلیٰ تعلیمی اداروں پر خصوصی توجہ دے کر اس مہم کو ایک نئی جہت دی گئی ہے، جس سے قومی سطح پر تمباکو پر قابو پانے کی کوششوں میں بطور شریک، اثرانداز ہونے والے افراد اور قائدین نوجوانوں کے کردار کو مزید تقویت ملے گی۔

ملک بھر میں ٹی ایف وائی سی 4.0 کو آگے بڑھانے کی چھ اہم حکمتِ عملیاں

مہم کے مقاصد کو مربوط اقدامات میں تبدیل کرنے کے واسطے، ٹی ایف وائی سی 4.0 کو چھ اہم حکمتِ عملیوں کے ذریعے نافذ کیا جائے گا، جن میں بیداری پیدا کرنے، اداروں کو مشغول کرنے، برادریوں کو متحرک کرنے، قوانین کے نفاذ اور ڈیجیٹل ذرائع سے رابطے کو شامل کیا گیا ہے۔

مہم میں  مندرجہ ذیل امور پر توجہ مرکوز کی جائے گی:

  1. عوامی بیداری کے اقدامات میں تیزی: تمباکو اور نکوٹین کی لت کے مضر اثرات کے بارے میں بالخصوص بچوں، نوعمروں اور نوجوانوں میں بیداری اور طرز عمل میں تبدیلی سے متعلق ابلاغ کو مضبوط بنانا،  جبکہ تمباکو استعمال کرنے والوں کو اس عادت سے چھٹکارا پانے کے لیے معاونت حاصل کرنے کی ترغیب دینا۔
  2. تمباکو سے پاک تعلیمی اداروں کو مضبوط بنانا: تمباکو سے پاک تعلیمی اداروں ( ٹی او ایف ای آئی)سے متعلق رہنما ہدایات پر عمل درآمد کو فروغ دینا اور اسکولوں، کالجوں اور دیگر تعلیمی اداروں کو تمباکو سے پاک ماحول قائم کرنے اور اسے برقرار رکھنے کی ترغیب دینا۔
  3. تمباکو سے پاک گاؤں کی تعداد میں اضافہ: مقامی انتظامیہ، پنچایتی راج اداروں اور برادری کے متعلقہ فریقوں کی فعال شرکت کی حوصلہ افزائی کرکےتمباکو سے پاک گاؤں کے اقدام کو مزید برادریوں تک وسعت دینا۔
  4. تمباکو پر قابو پانے سے متعلق قوانین کے نفاذ کو مضبوط بنانا: مربوط تنفیذی کارروائیوں اور ضابطوں کی پابندی سے متعلق سرگرمیوں کے ذریعے سگریٹ اور دیگر تمباکو مصنوعات ایکٹ (سی او ٹی پی اے )، 2003 اور الیکٹرانک سگریٹ کی ممانعت سے متعلق ایکٹ (پی ای سی اے) 2019 پر عمل درآمد کو مزید مؤثر بنانا۔
  5. سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارموں سے استفادہ: ڈیجیٹل ذرائع ابلاغ، سوشل میڈیا مہمات اور نوجوانوں پر مرکوز پیغام رسانی کے ذریعے تمباکو کے استعمال کی روک تھام سے متعلق پیغامات کی رسائی کو وسیع کرنا، تاکہ عوام کی زیادہ سے زیادہ شرکت کو فروغ دیا جا سکے۔
  6. یونیورسٹیوں اور کالجوں کو مشغول کرنا: اعلیٰ تعلیمی اداروں پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے تمباکو سے پاک کیمپس کو فروغ دینا، طلبہ کی قیادت میں بیداری کی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کرنا اور کیمپس میں صحت کے فروغ سے متعلق سرگرمیوں میں تمباکو کے استعمال کی روک تھام کو شامل کرنا۔
  7. ان حکمتِ عملیوں کا مقصد مختلف سطحوں پر تمباکو پر قابو پانے کی کوششوں کو مضبوط بنانا ہے، جس میں تمباکو کے استعمال کی ابتدا کو روکنے، اس عادت کو ترک کرنے کی حوصلہ افزائی کرنے اور موجودہ قوانین و رہنما ہدایات پر مسلسل عمل درآمد کو یقینی بنانے پر خصوصی زور دیا جائے گا۔

تمباکو پر قابو پانے کے اقدامات کو مضبوط بنانے کے واسطے حکومت کے تمام محکموں پر مشتمل جامع حکمت عملی

ٹی ایف وائی سی 4.0 کے تحت حکومت کے تمام محکموں پر مشتمل ایک جامع حکمتِ عملی اپنائی جائے گی۔ اس حکمتِ عملی میں اس بات کو تسلیم کیا گیا ہے کہ نوجوانوں کو تمباکو سے محفوظ رکھنے کے لیے صحت، تعلیم، نوجوانوں کی ترقی، مقامی حکمرانی، قانون کے نفاذ، ابلاغ اور دیگر شعبوں کے درمیان مربوط اقدامات ضروری ہیں۔

وزارت صحت و خاندانی بہبود ، مرکزی حکومت کی اہم وزارتوں کے ساتھ اشتراک کو مزید مضبوط بنائے گی۔ ان میں وزارتِ تعلیم، وزارتِ الیکٹرانکس و اطلاعاتی ٹیکنالوجی، وزارتِ اطلاعات و نشریات، وزارتِ پنچایتی راج، وزارتِ دیہی ترقیات، وزارتِ امورِ نوجوانان و کھیل، وزارتِ قبائلی امور، وزارتِ خزانہ، وزارتِ داخلہ، وزارتِ کارپوریٹ امور، وزارتِ ہاؤسنگ و شہری امور اور وزارتِ سماجی انصاف و تفویضِ اختیارات سمیت دیگر وزارتیں شامل ہیں۔

ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں، تنفیذی اداروں، تعلیمی اداروں اور مقامی انتظامیہ کے ساتھ تال میل اس مہم کے نفاذ میں بدستور کلیدی اہمیت کا حامل رہے گا۔

اس مہم کے تحت ترقیاتی شراکت داروں، سول سوسائٹی کی تنظیموں، صحت کے شعبے سے وابستہ پیشہ ور افراد اور برادریوں کی سطح پر کام کرنے والے اداروں کے ساتھ روابط کو بھی مزید مضبوط کرنے کی کوشش کی جائے گی، تاکہ اس مہم کی رسائی  کا دائرہ وسیع ہو، اس پر مؤثر عمل درآمد ہو اور عوام کی مسلسل شرکت یقینی بنائی جا سکے۔

مختلف متعلقہ فریقوں کو ایک ساتھ لا کر، ٹی ایف وائی سی 4.0 کا مقصد تمباکو کے استعمال کی روک تھام کو مشترکہ ذمہ داری کے طور پر مستحکم کرنا اور ملک بھر کے اداروں اور برادریوں میں تمباکو پر قابو پانے کی کوششوں کو مربوط بنانا ہے۔

ترقی یافتہ بھارت کے وژن کو شرمندۂ تعبیر کرنے کے واسطے نوجوانوں کو نشے  کی لت سے پاک رکھنا ناگزیر ہے: مرکزی سکریٹری صحت

صحت و خاندانی بہبود کی وزارت کی سکریٹری محترمہ پُنیا سلیلا سریواستو نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان میں تمباکو پر قابو پانے کی کوششوں کو آگے بڑھانے کے لیے مسلسل عزم، اداروں کی مربوط کارروائیاں اور برادریوں کی فعال شرکت ناگزیر ہیں۔

انہوں نے ڈاکٹر رام منوہر لوہیا اسپتال کو تمباکو سے پاک کیمپس  کا درجہ حاصل ہونے پر مبارک باد دی اور تمباکو پر قابو پانے اور مریضوں، طلبہ، صحت کے شعبے سے وابستہ پیشہ ور افراد اور زائرین کے لیے صحت مند ماحول تشکیل دینے کے سلسلے میں ادارے کی کوششوں کی ستائش کی۔

وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے ترقی یافتہ بھارت کے وژن کا حوالہ دیتے ہوئے، سکریٹری صحت نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کی ترقی کا انحصار بڑی حد تک اس کی نوجوان آبادی کی صحت، خود اعتمادی، پیداواری صلاحیت اور فلاح و بہبود پر ہے۔

انہوں نے کہا کہ مضبوط اور ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر کے لیے ایسی نسل ضروری ہے جو جسمانی اور ذہنی طور پر صحت مند، پراعتماد اور نشے کی لت سے پاک ہو۔

انہوں نے نوجوانوں پر زور دیتے ہوئے کہ وہ تمباکو اور دیگر مضر نشہ آور اشیا سے دور رہیں، ان سے صحت مند طرزِ زندگی اپنانے اور ایسی ثقافت کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کرنے کی اپیل کی جس میں تمباکو کے استعمال کی حوصلہ شکنی کی جائے اور صحت کے حوالے سے مثبت فیصلے کی ترغیب دی جائے۔

انہوں نے تعلیمی اداروں اور برادریوں میں تمباکو کے استعمال کی روک تھام سے متعلق مسلسل سرگرمیوں کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا اور اس بات پر زور دیا کہ دیرپا نتائج حاصل کرنے کے واسطے اجتماعی اقدامات اور رویوں میں تبدیلی ناگزیر ہیں۔

مریضوں کے ذاتی تجربات اور بیداری پر مبنی فلموں کے ذریعے انسانی زندگیوں پر پڑنے والے تمباکو کے اثرات کو اجاگر کیا گیا

مہم کی افتتاحی تقریب میں 300 سے زائد افراد نے شرکت کی، جن میں حکومت کے سینئر عہدیداران، صحت کے شعبے سے وابستہ پیشہ ور افراد، طلبہ، ترقیاتی شراکت داروں کے نمائندے، سول سوسائٹی کی تنظیموں کے ارکان اور میڈیا کے نمائندے شامل تھے۔

تقریب میں موجود اہم شخصیات میں صحت و خاندانی بہبود کی وزارت کی سکریٹری محترمہ پُنیا سلیلا سریواستو؛ ڈائریکٹر جنرل آف ہیلتھ سروسز ڈاکٹر لوو نیش جی کرشنا؛ ڈاکٹر آر ایم ایل اسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر اکھلیانڈیشوری پرساد اور ہندوستان میں عالمی ادارۂ صحت کے نمائندے ڈاکٹر یوان ہُوٹین شامل تھے۔ ان کے علاوہ وزارت کے سینئر عہدیداران بھی موجود تھے۔

اے بی وی آئی ایم ایس کے طلبہ نے بھی اس پروگرام میں شرکت کی، جو تمباکو کے استعمال کی روک تھام میں نوجوانوں کی شمولیت پر مہم کی خصوصی توجہ کی عکاسی کرتی ہے۔

تقریب کے دوران ایک تعلیمی ویڈیو دکھائی گئی، جس میں تمباکو کے مضر اثرات اور تمباکو سے متعلق بیماریوں کی روک تھام کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔

پروگرام کی ایک اہم خصوصیت ’وائس آف ٹوبیکو وکٹم‘ (وی او ٹی وی)پہل کے تحت ایک مریض کے ذاتی تجربےکی پیشکش تھی ۔ اس میں ایک مریض نے تمباکو سے متعلق بیماری کے حوالے سے اپنے ذاتی تجربات بیان کیے، جس سے ان تباہ کن اثرات کو نمایاں کیا گیا جو تمباکو کے استعمال سے افراد اور ان کے خاندانوں پر مرتب ہوسکتے ہیں۔

اس موقع پر خصوصی مہم کی ایک ویڈیو بھی دکھائی گئی، جس میں 2023 سے 2025 تک تمباکو سے چھٹکارے کی  نوجوانوں کی مہم کے گزشتہ تین مراحل کی کامیابیوں کو پیش کیا گیا۔ ویڈیو میں تمباکو سے پاک تعلیمی اداروں، تمباکو سے پاک گاؤں، قوانین کے نفاذ اور عوامی شراکت داری کو فروغ دینے کے سلسلے میں ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی پیش رفت کو اجاگر کیا گیا۔

بیداری کی ان سرگرمیوں نے مہم کے مرکزی پیغام کو تقویت دی کہ تمباکو کے مضر اثرات سے بچاؤ ممکن ہے اور بروقت روک تھام، باخبر فیصلے اور تمباکو کا استعمال ترک کرنے کے لیے معاونت فراہم کرکے انسانی زندگیوں کا تحفظ کیا جا سکتا ہے۔

وزارت صحت و خاندانی بہبود کی ’تمباکو کے انسداد ‘ کو ملک گیر تحریک بنانے کے واسطے عوام سے بھرپور شرکت کی اپیل

وزارت صحت و خاندانی بہبود نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں، تعلیمی اداروں، سرکاری محکموں، سول سوسائٹی کی تنظیموں، ترقیاتی شراکت داروں، صحت کے شعبے سے وابستہ پیشہ ور افراد، نوجوانوں کی تنظیموں اور شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ تمباکو سے پاک نوجوان مہم 4.0(ٹی ایف وائی سی 4.0) میں فعال طور پر حصہ لیں اور ملک گیر سطح پر اس کے نفاذ میں اپنا تعاون دیں۔

متعلقہ فریقوں کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ بیداری پیدا کرنے کی سرگرمیاں انجام دیں، تعلیمی اداروں اور گاؤں کو تمباکو سے پاک بنانے کے عمل کو فروغ دیں، قوانین کے نفاذ کو مضبوط بنائیں، تمباکو کا استعمال ترک کرنے میں معاونت فراہم کریں اور تمباکو کے استعمال کی روک تھام کے لیے مسلسل کوششوں میں برادریوں کو مشغول کریں۔

وزارت نے اداروں اور شہریوں سے یہ اپیل بھی کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارموں کے ذریعے تمباکو پر قابو پانے سے متعلق پیغامات کو زیادہ سے زیادہ عام کریں، مہم کی سرگرمیوں اور بہترین طریقۂ کار کو دوسروں کے ساتھ شیئر کریں اور عوام کی وسیع تر شرکت کی حوصلہ افزائی کریں۔

نوجوانوں کو اس پہل کے وسط میں رکھتے ہوئے اور حکومت، تعلیمی اداروں اور برادریوں کے درمیان تعاون کو مضبوط بنا کر، تمباکو سے چھٹکارے کی نوجوانوں کی مہم 4.0 کا مقصد بیداری کو عملی اقدامات اور عملی اقدامات کو طرز عمل میں دیرپا تبدیلی میں تبدیل کرنا ہے۔

اس مہم کا چوتھا ایڈیشن نوجوان نسل کی صحت کے تحفظ اور ایسے معاشرے کی تعمیر کے لیے حکومتِ ہند کے عزم کو مزید مستحکم کرتا ہے، جہاں بچے اور نوجوان تمباکو اور نشے کی لت سے نجات پا کر نشوونما پا سکیں، تعلیم حاصل کر سکیں اور زندگی میں آگے بڑھ سکیں۔

’تمباکو کےانسداد کے پیغام کو مرکز میں رکھتے ہوئے، ٹی ایف وائی سی 4.0 کا مقصد نوجوانوں کی قیادت اور معاشرے کے ہر طبقے کی حمایت سے ایک ملک گیر تحریک کا آغاز کرنا ہے، جو صحت مند، نشے سے پاک اور ترقی یافتہ بھارت کے وژن کی تکمیل میں معاون ثابت ہو۔

******

 (ش ح ۔ م ش   ع۔ص ج )

U. No.6823


(ریلیز آئی ڈی: 2329585) وزیٹر کاؤنٹر : 14