سڑک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

این ایچ اے آئی کی جانب سے قومی شاہراہوں کے ٹول پلازوں پر بیت الخلا کی سہولتوں اور پارکنگ کی بہتری، دیکھ بھال اور جدید نگرانی کے لیے رہنما اصول جاری


رہنما اصولوں میں صفائی، حفاظت، آسان رسائی، چوبیس گھنٹے خدمات کی فراہمی اور ٹیکنالوجی پر مبنی نگرانی پر زور دیا گیا ہے۔

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 23 OCT 2026 4:00PM by PIB Delhi

قومی شاہراہوں پر شہریوں کی ضروریات کو مرکز توجہ رکھتے ہوئے خدمات کو بہتر بنانے کے لیے ایک اہم پہل کے تحت، بھارتی قومی شاہراہ اتھارٹی (این ایچ اے آئی) نے ٹول پلازوں پر عوامی بیت الخلا کی سہولتوں اور مخصوص پارکنگ مقامات کی بہتری، دیکھ بھال اور جدید طریقوں سے نگرانی کے لیے رہنما اصول جاری کیے ہیں۔ ان رہنما اصولوں میں موجودہ سہولتوں کو بہتر بنانے، باقاعدگی سے صفائی، ٹیکنالوجی کے ذریعے نگرانی، شہریوں سے رائے حاصل کرنے اور کارکردگی کی بنیاد پر جواب دہی یقینی بنانے کے معیارات مقرر کیے گئے ہیں، تاکہ قومی شاہراہوں کے صارفین کو صاف ستھری، محفوظ اور قابل استعمال عوامی سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔

جامع بہتری اور دیکھ بھال

موجودہ بیت الخلا کی مرمت و بحالی سے قبل ان کا تکنیکی جائزہ لیا جائے گا، تاکہ ضروری مرمت اور تبدیلی کی نشاندہی کی جا سکے۔ بہتری کے کاموں میں فرش، پانی کی پائپ لائنوں، صفائی و حفظانِ صحت سے متعلق سازوسامان، روشنی، ہوا کی آمد و رفت، نکاسیٔ آب، رہنما تختیوں اور دیگر ضروری سہولتوں کو بہتر بنانا شامل ہوگا۔ بیت الخلا کے حصوں کے حجم اور وہاں سے گزرنے والی ٹریفک کی مقدار کے مطابق صفائی ستھرائی کے انتظامات اور صفائی کا نظام الاوقات طے کیا جائے گا، تاکہ باقاعدگی سے دیکھ بھال اور بنیادی سہولتوں کی دستیابی یقینی بنائی جا سکے۔

حفاظت اور آسان رسائی پر خصوصی توجہ

ان رہنما اصولوں میں شاہراہوں پر سفر کرنے والی خواتین اور رات کے وقت رکنے والے خاندانوں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے مناسب اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔ ان میں مناسب روشنی کا انتظام، بیت الخلا تک آنے والے راستوں اور پارکنگ کے مقامات پر نگرانی کے لیے سی سی ٹی وی کیمرے، سینیٹری نیپکن فراہم کرنے والی خودکار مشینیں اور عوامی سہولتوں کی دستیابی کی نشاندہی کرنے والے واضح اور نمایاں معلوماتی بورڈ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، ان رہنما اصولوں کے دائرے میں آنے والے ہر ٹول پلازہ پر کم از کم ایک ایسا بیت الخلا بھی فراہم کرنا لازم ہوگا جو تمام افراد، بشمول معذور افراد، کے لیے قابلِ رسائی ہو۔ اس میں رکاوٹوں سے پاک راستہ، مناسب چوڑائی کے دروازے اور سہارے کے لیے دستے فراہم کرنا شامل ہے۔

ٹول پلازوں پر پارکنگ کے مقامات کو مخصوص پارکنگ جگہوں اور نکاسیٔ آب کے مناسب انتظام کے ذریعے بہتر بنایا جائے گا۔ اس کے ساتھ مستقبل میں برقی گاڑیوں کے لیے چارجنگ کے بنیادی ڈھانچے کی فراہمی کا انتظام بھی رکھا جائے گا۔

جدید نگرانی اور شہریوں کی رائے

ٹیکنالوجی پر مبنی نگرانی کے ذریعے پانی کی دستیابی، بدبو، گندے پانی کی سطح، پانی کے رساؤ، بجلی کی فراہمی اور بیت الخلا کے استعمال کی صورتِ حال پر نظر رکھی جا سکے گی۔ پانی کی قلت، گندے پانی کے اُبل کر باہر آنے اور آلات میں خرابی جیسے مسائل کی صورت میں انتباہات جاری کیے جائیں گے، تاکہ بروقت اصلاحی اقدامات کیے جا سکیں۔ جدید نگرانی سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کو این ایچ اے آئی کے مرکزی ڈیجیٹل پلیٹ فارم سے منسلک کیا جائے گا، جس سے افسران ایک مرکزی ڈیجیٹل ڈیش بورڈ کے ذریعے سہولتوں کی حالت، دیکھ بھال، شکایات اور متعلقہ ایجنسیوں کی کارکردگی کا جائزہ لے سکیں گے۔

قومی شاہراہوں کے صارفین بیت الخلا کی سہولتوں پر نصب کیو آر کوڈز، جو راج مارگ یاترا ایپ سے منسلک ہوں گے اور ٹچ اسکرینوں کے ذریعے اپنی رائے دے سکیں گے۔ ڈیجیٹل طریقے سے درج کی جانے والی شکایات اور تجاویز سے حکام کو مسائل کی نگرانی کرنے اور ان کے حل کی پیش رفت کا جائزہ لینے میں مدد ملے گی۔

اس کے علاوہ، سیپٹک ٹینکوں، سوک پِٹس اور سیوریج لائنوں کی صفائی اور ان سے گاد نکالنے کا کام مکمل طور پر مشینی طریقے سے انجام دینا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ سیپٹک ٹینکوں، مین ہولز اور سیوریج لائنوں میں انسانوں کے خود داخل ہونے پر سختی سے پابندی ہوگی۔

کارکردگی کی بنیاد پر جواب دہی

ان رہنما اصولوں کے تحت معائنہ اور نگرانی کا ایک منظم نظام قائم کیا گیا ہے، جس میں روزانہ نگرانی، ہفتہ وار تکنیکی معائنہ، ماہانہ مشترکہ جائزہ، سہ ماہی جانچ اور سالانہ بیرونی اداروں کے ذریعے جائزہ شامل ہے۔ کارکردگی کا اندازہ موقع پر معائنے، نگرانی سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار اور شہریوں کی تصدیق شدہ آرا کی بنیاد پر لگایا جائے گا۔ مسائل کو دور کرنے کے لیے واضح مدت مقرر کی گئی ہے، جبکہ سہولتوں کی مناسب دیکھ بھال نہ کیے جانے کی صورت میں مالی جرمانے عائد کیے جائیں گے۔ مطلوبہ معیار پر بار بار پورا نہ اترنے والی ایجنسیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جا سکتی ہے۔

ان اقدامات کے ذریعے این ایچ اے آئی کا مقصد ٹول پلازوں پر عوامی سہولتوں کی دیکھ بھال کے معیار کو بہتر بنانا اور شفاف، ٹیکنالوجی پر مبنی نگرانی اور جواب دہی کے نظام کے ذریعے زیادہ صاف ستھری، محفوظ اور آسانی سے قابل رسائی سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔

***

ش ح۔ش ت ۔ م الف

U. No- 6578


(ریلیز آئی ڈی: 2327423) وزیٹر کاؤنٹر : 12