پوسٹ کرنے کی تاریخ:
23 OCT 2026 1:32PM by PIB Delhi
وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں چنمیا امرت مہوتسو عالمی سمیلن کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ سنتوں کی محبت اور آشیرواد کے نتیجے میں اس تقریب میں شرکت ان کے لیے ایک گہرا روحانی تجربہ ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ چنمیا مشن محض ایک ادارہ نہیں، بلکہ ایک رشی کے قائم کردہ اور کئی دہائیوں کے مقدس عزم و ارادوں سے پروان چڑھنے والے ایک ابدی شعور کا نام ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تناظر میں اس جشن کا عنوان نہایت موزوں ہے۔
جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے قابلِ احترام گُرو دیو سوامی چنمیانند کے ساتھ ہولو بوٹ کے ذریعے ہونے والی بات چیت نے اس تقریب کو کس طرح جذباتی طور پر مزید مؤثر بنایا، اس کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے بتایا کہ اس تجربے نے انہیں 33 سال پیچھے، 1993 میں وڈودرا میں اس روحانی رہنما کے ساتھ ہونے والی اپنی ملاقات کی یادوں میں پہنچا دیا۔ گُرو دیو کی شفقت، ان سے ہونے والی گفتگو اور ان کے آشیرواد کو اس طرح یاد کرتے ہوئے جیسے وہ ایک بار پھر براہِ راست ان کے سامنے موجود ہوں، وزیر اعظم نے اس قدر دل کو چھو لینے والی خراجِ عقیدت پیش کرنے پر مشن کے اراکین کا تہِ دل سے شکریہ ادا کیا۔وزیر اعظم مودی نے کہا، ‘میرے لیے یہ ایک انتہائی جذباتی تجربہ ہے۔’
وزیر اعظم نے فروری اور مارچ 1993 میں اپنے دورے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ وہ عالمی مذاہب کی پارلیمنٹ کے صد سالہ جشن میں شرکت کے لیے سوامی چنمیانند کو شکاگو مدعو کرنے گئے تھے۔ یہ جشن سوامی وویکانند کے اس تاریخی خطاب کے 100 سال مکمل ہونے کے موقع پر منعقد کیا جا رہا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ گُرو دیو نے اس تقریب کے لیے پورے امریکہ میں انتھک کوششیں کرتے ہوئے لوگوں کو متحرک کیا، لیکن 3 اگست کو سان ڈیاگو میں ان کا انتقال ہو گیا۔ وزیر اعظم نے یاد کیا کہ 11 ستمبر کو شکاگو میں منعقدہ اجتماع کے دوران گُرو دیو کی غیر موجودگی شدت سے محسوس کی گئی۔ انہوں نے اپنی آخری گفتگو کو بھی یاد کیا، جس کا محور نوجوانوں کی قوت کو فروغ دینا تھا۔جناب مودی نے زور دیتے ہوئے کہا،‘‘اس گفتگو کا بنیادی نکتہ نوجوانوں کی قوت کو پروان چڑھانا اور اسی قوت کے ذریعے ایک مضبوط اور اہل بھارت کی تعمیر کرنا تھا!’’
اس ملاقات کے چند سال بعد گجرات کا وزیر اعلیٰ بننے سے لے کر حکومت کے سربراہ کی حیثیت سے مسلسل 25 سال تک خدمات انجام دینے کے اپنے سفر کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ملک کے نوجوان ہمیشہ ان کی پالیسیوں کا محور رہے ہیں۔ انہوں نے چنمیا امرت مہوتسو کے نوجوان رضاکاروں کی ستائش کی، جنہوں نے بڑی ذمہ داریاں سنبھالیں اور 300 دنوں کے دوران 40,000 کلومیٹر کا سفر طے کرکے ایک لاکھ سے زیادہ نوجوان شہریوں سے رابطہ قائم کیا۔وزیر اعظم مودی نے اس شاندار کوشش کے لیے پوری ٹیم کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا،‘‘میں اس بہترین کوشش کے لیے پوری ٹیم کو بھی مبارک باد دیتا ہوں۔“
اپنشد کے قول‘‘وَیَم امرتَسْیہ پُترَہ’’(ہم لافانی قوت کی اولاد ہیں) کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم نے وضاحت کی کہ بھارت ہزاروں برس سے علم اور روشنی کا متلاشی اس لیے بنا ہوا ہے، کیونکہ اس کا شعور اور دانش ابدی ہیں۔ اسی تصور سے تحریک حاصل کرتے ہوئے انہوں نے یومِ آزادی کی75ویں سالگرہ کے موقع پر امرت مہوتسو منانے کی اپیل کی تھی، جو ایک طرف ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر کے لیے نقطۂ آغاز بنے اور دوسری طرف انسانیت کے تئیں بھارت کی ہزاروں سال پرانی فکر کو ازسرِنو زندہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد متعدد روحانی، ثقافتی اور سماجی اداروں نے اہم سنگِ میل کے مواقع پر مقدس عہد کیے ہیں۔ اس تناظر میں انہوں نے چنمیا مشن کی جانب سے ملک کی امرت کال مہم میں شامل ہونے کو سراہا۔جناب مودی نے زور دیتے ہوئے کہا،یہ حقیقت میں اس بات کا حقیقی ثبوت ہے کہ ہم‘‘امرتَسْیہ پُترَہ‘ یعنی لافانی قوت کی اولاد ہیں۔“
قوم کو بیدار کرنے اور بلندیوں تک پہنچانے کے لیے ویدک منتر ‘‘وَیَم راشٹرے جاگریاما پُروہتَہ’’کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم نے اس بات کو اجاگر کیا کہ سوامی چنمیانند نے روحانیت کے ساتھ ساتھ قومی ترجیحات پر بھی بھرپور انداز میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ وہ یہ تعلیم دیتے تھے کہ ہماری قوم ہماری ثقافت اور وجود کا گہوارہ ہے، اس لیے روحانی ترقی کو انفرادی نشوونما اور قومی پیش رفت کا محرک بننا چاہیے۔ قومی خود اعتمادی کا جذبہ بیدار کرنے کے لیے سوامی جی نے گیتا گیان یگیہ کا آغاز کیا، تاکہ اپنشدوں، ویدانت اور مذہبی صحیفوں کی تعلیمات عام لوگوں تک پہنچائی جا سکیں۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج چنمیا مشن کے لاکھوں نوجوان بھارتی اقدار کو ثقافتی سفیر بن کر نئی نسل تک پہنچا رہے ہیں۔وزیر اعظم مودی نے کہا، ‘‘قابلِ احترام گُرو دیو کی یہ خدمات بھارت کی ثقافتی اور روحانی نشاۃِ ثانیہ کا ایک اہم باب ہیں۔“
گُرو دیو کی پیدائش کی صد سالہ تقریبات کے موقع پر 2015 میں یادگاری سکےکے اجرا کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے سوامی جی کی زندگی کو علم، عمل اور عقیدت کے ایک غیر معمولی امتزاج سے تعبیر کیا، جس کے ذریعے انہوں نے اپنے گُرو سوامی شیوانند کی اس دعا کو حقیقت کا روپ دیا کہ ‘‘جاؤ، شیر کی طرح گرجو۔’’ انہوں نے کہا کہ سوامی جی کے باطنی یقین نے سامعین پر انمٹ نقوش چھوڑے، جبکہ ان کے ریڈیو پروگرام ‘آرٹ آف مین میکنگ’ نے بے شمار لوگوں کی زندگیوں کی رہنمائی کی۔جناب مودی نے کہا، ‘‘ان کی آواز میں جو خود اعتمادی تھی اور ان کے اندر جو قوت تھی، وہ ہر شخص کے دل پر ان کے خیالات کی چھاپ چھوڑ دیتی تھی۔“
اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ عظیم شخصیات کے مشن ان کی زندگی کے بعد بھی جاری رہتے ہیں، وزیر اعظم نے چنمیا مشن کے قائم کردہ وسیع تعلیمی نظام کو اجاگر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت چنمیا مشن کے 100 سے زائد تعلیمی ادارے ملک بھر میں لاکھوں طلبہ کے مستقبل کو سنوار رہے ہیں۔ وزیر اعظم مودی نے کہا، ‘‘ان اداروں میں طلبہ جدید تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ بھارتی اقدار بھی اپنا رہے ہیں۔“
سوامی چنمیا نند جیسی مفکر شخصیات کے تصورات کو، جو آزادی کے بعد بھارت کی تعمیر سے متعلق تھے، موجودہ طرزِ حکمرانی سے ہم آہنگ کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ملک نئے بھارت کی تعمیر کے لیے تعلیمی نظام کو جدید بنانے کی اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں سرگرمِ عمل ہے۔ انہوں نے قومی تعلیمی پالیسی کے نفاذ کو نمایاں کیا، جس میں بھارتی علمی روایت، مادری زبان میں تعلیم، جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کو یکجا کیا گیا ہے۔ جناب مودی نے کہا،‘‘اس نئی تعلیمی پالیسی میں ان تمام پہلوؤں کو اہمیت دی گئی ہے۔“
سوامی جی کی بھارتی ورثے کے تحفظ کے لیے زندگی بھر کی لگن کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے یاد دلایا کہ گُرو دیو نے کنیا کماری میں سمندر کے اندر وویکانند راک میموریل تعمیر کرنے کے ایکناتھ راناڈے کے عزم کی بھرپور حمایت کی تھی اور اس منصوبے کے لیے سب سے پہلے مالی تعاون بھی فراہم کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آج یہ یادگار دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں کے لیے مشعلِ راہ بنی ہوئی ہے۔ وزیر اعظم مودی نے کہا،‘‘سوامی جی کی زندگی کا ایک اور مقصد بھارتی ورثے پر فخر کرنا اور اس کا تحفظ کرنا تھا۔“
ملک کے شمال سے جنوب اور مشرق سے مغرب تک جاری وسیع ثقافتی نشاۃِ ثانیہ کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کاشی وشوناتھ دھام، ایودھیا میں شری رام مندر، اُجّین کے مہاکال مہالوک، کیدارناتھ اور بدری ناتھ کی عظیم الشان تجدید و بحالی کا ذکر کیا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے یونیسکو کے عالمی ورثے کی فہرست میں ثقافتی مقامات کی شمولیت کا بھی حوالہ دیا۔ ماضی کے ان ادوار سے موازنہ کرتے ہوئے، جب بھارت کے چوری شدہ قدیم نوادرات کو بلا روک ٹوک بیرونِ ملک فروخت کیا جاتا تھا، انہوں نے گزشتہ بارہ برسوں کے دوران ورثے سے متعلق نوادرات کی ملک میں واپسی کو نمایاں کیا۔ جناب مودی نے کہا، ‘‘گزشتہ 12 برسوں میں ہم ایسی ساڑھے چھ سو سے زیادہ قدیم مورتیاں بھی واپس لائے ہیں۔“
سوامی جی کی جانب سے بھارتی فلسفے کو دنیا تک پہنچانے اور آج بین الاقوامی یومِ یوگا کے ذریعے بھارت کے ساتھ پوری دنیا کے متحد ہونے کے درمیان مماثلت بیان کرتے ہوئے وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ اپنے ورثے پر ملک کا نئے سرے سے فخر اور نوآبادیاتی ذہنیت سے آزادی اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت قدیم رشیوں اور محبِ وطن شخصیات کے تصور کردہ راستے پر آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان شخصیات کی فکری میراث اس سفر میں ملک کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ وزیر اعظم مودی نے کہا،‘‘اپنے ورثے پر فخر کا یہ خود اعتمادی سے بھرپور جذبہ اور غلامی کی ذہنیت سے آزادی کا یہ یقین اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک اب اسی راستے پر آگے بڑھ رہا ہے۔“
اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ مختلف تنظیمیں اگرچہ الگ الگ مقاصد کے لیے کام کرتی ہیں، لیکن ان کی تمام راہیں بالآخر قومی ترقی اور عظمت کی ایک ہی منزل پر آ کر ملتی ہیں، وزیر اعظم نے کہا کہ جس طرح سوامی چنمیا نند نے اپنے دور کے چیلنجوں کے مطابق اپنے عزم و ارادے متعین کیے تھے، اسی طرح آج کی نسل کو بھی معاشرے میں موجود بگاڑ اور جدید دور کے چیلنجوں سے نمٹنا ہوگا۔ انہوں نے تقسیم پیدا کرنے والی قوتوں کے خلاف سماج کو متحد کرنے، خود انحصاری کو فروغ دینے اور ہر شہری کو 2047 تک ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر کے مقصد سے جوڑنے کے لیے سرگرم کوششوں پر زور دیا۔ جناب مودی نے کہا، ‘‘آج ہمیں تقسیم پیدا کرنے والی قوتوں کے خلاف سماج کو متحد کرنا ہے۔“
اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہ 2047 میں ایک تاریخی اتفاق سامنے آئے گا، جب بھارت کی آزادی کی صد سالہ تقریبات اور چنمیا مشن کے قیام کی صد سالہ مدت ایک ساتھ ہوگی، وزیر اعظم نے کہا کہ دونوں سفر کے مقاصد یکساں ہیں اور انہیں ایک ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔ انہوں نے اس پورے اعتماد کا اظہار کیا کہ آچاریوں، سچائی کے متلاشیوں اور رضاکاروں پر مشتمل مشن کا عالمی خاندان، گُرو دیو کی میراث اور کئی دہائیوں کے تجربے سے استفادہ کرتے ہوئے، ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرے گا۔ آخر میں انہوں نے تہوار کے موقع پر اپنی نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ وزیر اعظم مودی نے کہا، ‘‘چنمیا مشن کا صد سالہ سفر اور ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر کا سفر ایک ساتھ آگے بڑھیں گے۔“
*****
ش ح- رک
UR No-6567