PIB Backgrounder
azadi ka amrit mahotsav

ہندوستان کے ثقافتی ورثے کی بحالی و احیا


ماضی کا تحفظ، مستقبل کی ثروت مندی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 14 AUG 2026 2:42PM by PIB Delhi

ہندوستان کی ثقافتی شناخت کو مستحکم بنانا

ہندوستان کا وسیع اور مالا مال ثقافتی ورثہ اس کی تہذیبی میراث اور قومی شناخت کی عکاسی کرتا ہے۔ ملک میں ڈیجٹائزیشن  کے  ذریعے، سیاحتی بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کی کوششوں کو تقویت ملی ہے۔ حکومت نے ہندوستان کے ثقافتی اثاثوں کے تحفظ، فروغ اور احیا کے لیے کئی اہم اقدامات کیے ہیں۔ ان کوششوں سے سیاحت، رابطے کی سہولتوں، سیاحوں کے لیے بنیادی سہولتوں اور مقامی اقتصادی ترقی کو فروغ ملا ہے، جبکہ ملک کی ثقافتی شناخت کا تحفظ بھی یقینی بنایا گیا ہے۔

قافتی ورثے کے تحفظ کو بہتر بنانا

 ایک ورثہ کو اپنائیں 2.0

  • اپنائیں ایک ورثہ 2.0 اسکیم کا آغاز ستمبر 2023 میں کیا گیا تھا، جس کا مقصد قومی اہمیت کی حامل محفوظ یادگاروں میں سیاحوں کے لیے سہولت بخش انتظامات تیار کرنا اور انہیں برقرار رکھنا ہے۔
  • مارچ 2026 تک، اپنائیں ایک ورثہ 2.0 پروگرام کے تحت مجموعی طور پر 30 مفاہمت ناموں (ایم او یو) پر دستخط کیے جا چکے ہیں۔
  • اس پروگرام کے تحت اختیار کی گئی یادگاروں میں سیاحوں کی قابلِ ذکر آمد درج کی گئی۔ مالی سال 2025-2024 کے دوران ان یادگاروں میں آنے والے سیاحوں کی مجموعی تعداد 1 کروڑ 35 لاکھ 90 ہزار رہی۔

یاترا کے مقامات  کا احیا  ، روحانی و ثقافتی ورثے کے فروغ کی مہم (پرشاد)

  • پرشاد اسکیم کا مقصد بنیادی ڈھانچے، صفائی ستھرائی، سلامتی اور سیاحوں کے لیے سہولتوں کو بہتر بنا کر زیارت گاہوں اور ثقافتی ورثے کے مقامات کو ترقی دینا ہے۔
  • فروری 2026 تک، 28 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں مجموعی طور پر 54 منصوبوں کو منظوری دی جا چکی ہے۔
  • دسمبر 2025 تک 32 منصوبے مکمل کیے جا چکے ہیں۔
  • ان منصوبوں کی مجموعی لاگت 1,726.74 کروڑ روپے ہے۔

سو دیش  درشن

  • سودیش درشن اسکیم کا مقصد موضوعاتی بنیادوں پر قائم سیاحتی حلقوں میں مربوط سیاحتی بنیادی ڈھانچے کو ترقی دینا ہے۔
  • سیاحتی حلقوں کا احاطہ: سودیش درشن اسکیم کے تحت 15 موضوعاتی سیاحتی حلقوں کو شامل کیا گیا ہے۔ ان میں بدھ مت، ساحلی، صحرائی، ماحولیاتی، ثقافتی ورثہ، ہمالیائی، کرشن، شمال مشرقی، رامائن، دیہی، روحانی، تیرتھنکر، قبائلی، جنگلی حیات اور صوفی سیاحتی حلقے شامل ہیں۔
  • مارچ 2026 تک مجموعی طور پر 76 منصوبوں کو منظوری دی جا چکی ہے، جن پر 5,290.33 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔
  • مارچ 2026 تک ان میں سے 75 منصوبے مکمل کیے جا چکے ہیں۔

سودیش درشن 2.0 کے تحت اب توجہ سیاحتی حلقوں کی بنیاد پر ترقی سے آگے بڑھ کر مخصوص سیاحتی مقامات کی ترقی پر مرکوز کر دی گئی ہے۔

  • اس اسکیم کے تحت 2,208.31 کروڑ روپے کی مجموعی سرمایہ کاری سے 53 منصوبوں کو منظوری دی گئی ہے۔ یہ منصوبے ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی جانب سے عمل آوری کے مختلف  مراحل میں ہیں۔

چیلنج پر مبنی سیاحتی مقامات کی ترقی کی اسکیم (سی بی ڈی ڈی)

  • چیلنج پر مبنی سیاحتی مقامات کی ترقی کی اسکیم (سی بی ڈی ڈی)  کا آغازمارچ 2024 میں سودیش درشن 2.0 کے تحت کیا گیا تھا۔
  • اس اسکیم کا مقصد مسابقتی اور چیلنج پر مبنی طریقۂ کار کے ذریعے پائیدار سیاحتی مقامات کو ترقی دینا ہے۔
  • اسکیم کے اہم شعبوں میں جامع منصوبہ بندی، اختراع، مقامی برادری کی شمولیت اور سیاحتی مقامات کی ترقی شامل ہیں۔
  • اس اسکیم کے تحت مجموعی طور پر 38 منصوبوں کو منظوری دی گئی ہے، جن پر 697.94 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔ل درآمد کے مختلف مراحل میں ہیں۔

آثارِ قدیمہ اور تاریخی یادگاروں کا تحفظ

محکمہ آثارِ قدیمہ ہند

  • محکمہ آثارِ قدیمہ ہند، ہندوستان کے ثقافتی ورثے کے تحفظ  اور آثارِ قدیمہ کی تحقیق کے لیے ایک اہم ادارہ ہے۔
  • یہ محکمہ ملک بھر میں تقریباً 38 حلقوں کے وسیع نیٹ ورک کے ذریعے اپنے فرائض انجام دیتا ہے۔
  • محکمے نے اپریل 2026 تک، تحفظ کے مضبوط نظام اور سائنسی طریقوں سے بحالی کے ذریعے مرکزی حکومت کے زیرِ تحفظ 3,686 تاریخی یادگاروں کی حفاظت کو  کے تحفظ کو یقینی بنایا ہے۔
  • مالی سال 2025-24 کے دوران محفوظ تاریخی یادگاروں کے تحفظ اور دیکھ بھال کے لیے 374 کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے۔
  • گزشتہ پانچ برسوں کے دوران محکمہ آثارِ قدیمہ ہند نے ملک بھر میں آثارِ قدیمہ سے متعلق منصوبوں کے لیے 121 اجازت نامے جاری کیے ہیں۔

قومی مشن برائے تاریخی  یادگاریں اور نوادرات (این ایم ایم اے)

  • قومی مشن برائے تاریخی یادگاریں اور نوادرات (این ایم ایم اے) کو محکمہ آثارِ قدیمہ ہند (اے ایس آئی) کے ذریعے نافذ کیا جا رہا ہے۔
  • این ایم ایم اے کا مقصد تاریخی یادگاروں اور نوادرات کا ایک جامع قومی معلوماتی ذخیرہ تیار کرنا ہے، تاکہ ان کے تحفظ، منصوبہ بندی اور انتظام کے عمل میں مدد مل  کو  کو یقینی بنایا جاسکے۔
  • مارچ 2026 تک، اس مشن کے تحت پورے ہندوستان میں 1.84 لاکھ تاریخی یادگاروں اور 17.20 لاکھ نوادرات کا اندراج کیا جا چکا ہے۔

 ہردے   اسکیم

منصوبۂ ترقی و توسیعِ ورثہ شہر (ایچ آر آئی ڈی اے وائی)

  •  ہردے اسکیم کا مقصد تاریخی شہروں کی منفرد شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے شہری ترقی کو ثقافتی ورثے کے تحفظ کے ساتھ مربوط کرنا ہے۔
  • اس اسکیم کے تحت آبی ذخائر اور سرسبز مقامات کی بحالی، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، حفاظتی انتظامات میں بہتری اور سیاحت کے ذریعے مقامی لوگوں کے روزگار کے مواقع کو فروغ دینے پر بھی توجہ دی گئی ہے۔
  • دائرۂ کار: ہندوستان بھر کے 12 تاریخی شہروں کا احاطہ کیا گیا۔
  • اہم کامیابیاں:
  • اجمیر، امراوتی اور بادامی میں صفائی ستھرائی، سیاحت اور کمیونٹی کی ترقی کو بہتر بنایا گیا۔
  • امرتسر، گیا اور وارانسی میں ثقافتی ورثے کی بحالی، شمولیت اور اقتصادی ترقی کو فروغ دیا گیا۔
  • ورنگل اور پوری میں سیاحتی بنیادی ڈھانچے اور عوامی سہولتوں کو بہتر بنایا گیا۔
  • کانچی پورم اور متھرا میں حفاظتی انتظامات اور شہری بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کیا گیا۔
  • ویلنکنی میں ماحولیاتی پائیداری اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کو فروغ دیا گیا۔
  • دوارکا میں ثقافتی ورثے کے جامع علاقے، جلوسوں کے لیے مخصوص سڑکیں، سی سی ٹی وی نیٹ ورک اور بیت دوارکا درشن سرکٹ تیار کیا گیا۔
  • مجموعی اثرات: اس اسکیم سے مقامی باشندوں کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے اور سیاحت کے امکانات کو تقویت دینے میں مدد ملی۔
  • اسکیم کی مدت: یہ مشن 31 مارچ 2019 کو اختتام پذیر ہوا۔

ہندوستان کے ثقافتی خزانوں کی واپسی

حکومت نے نوآبادیاتی استحصال، غیر ملکی قبضوں اور غیر قانونی اسمگلنگ کے ذریعے بیرونِ ملک لے جائی گئی مقدس تبرکات اور نوادرات کو واپس لانے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔

 کردی ہیں ۔

مقدس تبرکات کی وطن واپسی

وطن واپسی کے سلسلے میں اہم کامیابیاں درج ذیل ہیں:

- بھگوان بدھ کے پپراہوا تبرکات 127 سال بعد 2025 میں واپس لائے گئے۔

- دیوی اناپورنا کی مورتی 108 سال بعد 2021 میں کینیڈا سے واپس لائی گئی۔

- رام، سیتا اور لکشمن کی کانسی کی مورتیاں 2020 میں برطانیہ سے واپس لائی گئیں۔

- مقدس اور ثقافتی نوادرات آسٹریلیا، امریکہ، برطانیہ، جرمنی، سنگاپور اور کینیڈا سے بھی واپس لائے گئے ہیں۔

مقدس تبرکات کی عالمی نمائش

ہندوستان نے ثقافتی اور تہذیبی روابط کو مستحکم بنانے کے لیے بھگوان بدھ کے مقدس تبرکات کی بین الاقوامی نمائش کا دائرہ وسیع کیا ہے۔

  • ویتنام (2025): اس نمائش میں ڈیڑھ کروڑ سے زائد عقیدت مندوں نے شرکت کی۔
  • کلمیکیا، روس (2025): اس نمائش میں 90,000 سے زائد افراد نے شرکت کی۔
  • بھوٹان (2025): عالمی دعائے امن کے تہوار کے دوران مقدس تبرکات کی نمائش کا اہتمام کیا گیا۔
  • سری لنکا (2026): کولمبو کے گنگارامایا مندر میں مقدس تبرکات کی نمائش منعقد کی گئی۔

2026 میں نئی دہلی اور لداخ میں بھی مقامی سطح پر نمائشوں کا اہتمام کیا گیا، جن میں پپراہوا سے تعلق رکھنے والے دوبارہ یکجا کیے گئے مقدس تبرکات کی نمائش کی گئی۔

نوادرات کی وطن واپسی

  • گزشتہ پانچ برسوں کے دوران، 30 جون 2026 تک، مجموعی طور پر 615 نوادرات واپس لائے گئے ہیں۔
  • تصدیق شدہ نوادرات میں سے 11 اشیا متعلقہ تنظیموں اور اداروں کے حوالے کی گئی ہیں۔
  • 9 اشیا نئی پارلیمنٹ کی عمارت میں نمائش کے لیے اندرا گاندھی قومی مرکز برائے فنون (آئی جی این سی اے) کو، 1 شے قومی عجائب گھر کو اور 14 اشیا ہندوستانی ادارۂ ورثہ کو عارضی طور پر نمائش کے لیے دی گئی ہیں۔

 میوزیم  اور ثقافتی ڈھانچہ

 میوزیم  گرانٹ اسکیم

  • میوزیم  گرانٹ اسکیم کے تحت علاقائی، ریاستی اور ضلعی سطح پر نئے عجائب گھر قائم کرنے اور موجودہ عجائب گھروں کو مضبوط بنانے کے لیے مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔
  • معاون  شعبے: عجائب گھروں کو جدید خطوط پر استوار کرنا، ان کے ذخائر کو رقمی شکل دینا اور عجائب گھروں کے پیشہ ور افراد کی صلاحیت سازی کرنا۔
  • اس اسکیم کے تحت مجازی عجائب گھر، موضوعاتی عجائب گھر اور مجازی تجرباتی عجائب گھر (وی ای ایم) تیار کرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے گئے ہیں۔
  • گزشتہ پانچ مالی سالوں کے دوران منظور شدہ مجموعی رقم 184.39 کروڑ روپے ہے۔
  • گزشتہ پانچ مالی سالوں کے دوران استعمال کی گئی مجموعی رقم 101.19 کروڑ روپے ہے۔

ہندوستان کا پہلا آثارِ قدیمہ تجرباتیو میوزیم  — وڈنگر، گجرات

  • ’’آثارِ قدیمہ تجرباتی عجائب گھر‘‘ دنیا کا واحد عجائب گھر ہے جہاں تاریخ اور کھدائی کے عمل کو یکجا کرکے پیش کیا گیا ہے۔
  • یہ عجائب گھر 12,500 مربع میٹر رقبے پر پھیلا ہوا ہے اور اسے 298 کروڑ روپے کی مجموعی لاگت سے تعمیر کیا گیا ہے۔
  • عجائب گھر میں 5,000 سے زائد نوادرات نمائش کے لیے رکھے گئے ہیں، جن میں غذائی اجناس، ڈی این اے کے نمونے اور ڈھانچوں کی باقیات شامل ہیں۔
  • اس میں 4,000 مربع میٹر پر مشتمل ایک کھلا کھدائی کا مقام بھی ہے، جہاں 16 سے 18 میٹر کی گہرائی میں آثارِ قدیمہ کی باقیات دیکھی جا سکتی ہیں۔
  • تجرباتی گزرگاہ کے ذریعے شائقین  کھدائی کے دوران دریافت ہونے والے آثار کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔

یونیسکو کے ذریعے عالمی سطح پر شناخت

  • گزشتہ ایک دہائی کے دوران ہندوستان نے عالمی سطح پر اپنے ثقافتی ورثے کی شناخت کو نمایاں طور پر وسعت دی ہے۔ اب ہندوستان میں یونیسکو کے عالمی ورثے کے 45 مقامات موجود ہیں۔
  • ہندوستان نے 2024 میں نئی دہلی میں یونیسکو کی عالمی ورثہ کمیٹی کے 46ویں اجلاس کی میزبانی بھی کی۔

ڈیجٹائزیشن کے ذریعے علمی ورثے کا تحفظ

ثقافتی ورثے کو ڈیجٹل  شکل دینا (گیان  بھارتَم)

گیان بھارتَم مشن

  • اس مشن کا آغاز 2025 میں کیا گیا، جس کا مقصد ہندوستان کے مخطوطات کے ورثے کو محفوظ رکھنا، انہیں رقمی شکل دینا اور ان تک رسائی کو فروغ دینا ہے۔
  • ٹیکنالوجی کا استعمال: مخطوطات کے طویل مدتی تحفظ اور انہیں عالمی سطح پر قابلِ رسائی بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

قومی مخطوطات کا سروے

  • قومی مخطوطات کے سروے کا آغاز مارچ 2026 میں کیا گیا، جس کا مقصد مخطوطات کی شناخت، ان کی دستاویز بندی اور ان کا ایک جامع قومی معلوماتی ذخیرہ تیار کرنا ہے۔
  • اس سروے کے دوران 1.19 کروڑ سے زائد مخطوطات کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔
  • ملک بھر میں ڈیجٹل  شکل میں دستیاب مخطوطات کی مجموعی تعداد 8 لاکھ سے زائد ہے۔ ان میں سے 4.40 لاکھ سے زیادہ مخطوطات فی الحال عوامی رسائی کے لیے گیان بھارتَم پورٹل پر دستیاب ہیں۔
  • مخطوطات کو ڈیجٹل شکل دینے اور ان تک رسائی کو وسعت دینے کے لیے اس مشن کو 2024 سے 2031 تک کی مدت کے لیے 482.85 کروڑ روپے کے بجٹ کے ساتھ منظوری دی گئی ہے۔

عجائب گھروں کے ذخائر کو ڈیجٹل شکل دینا

  • وزارتِ ثقافت، پونے، مہاراشٹر میں واقع سینٹر فار ڈیولپمنٹ آف ایڈوانسڈ کمپیوٹنگ (سی-ڈیک) کے تکنیکی تعاون سے تیار کیے گئے جے اے ٹی اے این سافٹ ویئر کے ذریعے عجائب گھروں کے ذخائر اور محفوظ دستاویزی مواد کو  ڈیجٹل شکل دے رہی ہے۔
  •  قومی  ڈیجٹل  ریپوزٹری   تک ڈیجٹل رسائی فراہم کرنے کے لیے میوزیمز آف انڈیا پورٹل کے ذریعے ایک قومی ڈیجٹل ریپوزٹری  قائم کیا گیا ہے۔
  • اس پورٹل پر قومی سطح کے 8 عجائب گھروں، محکمہ آثارِ قدیمہ ہند (اے ایس آئی) کے 2 مقامات پر واقع عجائب گھروں اور پونے، مہاراشٹر میں واقع ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر عجائب گھر کے ڈیجٹل ذخائر دستیاب ہیں۔
  • 15 جولائی 2026 تک، مجموعی طور پر 4,88,983 نوادرات میں سے 3,75,707 نوادرات کو ڈیجٹل شکل دے کر آن لائن دستیاب کرا دیا گیا ہے۔

ٹیکنالوجی کی مدد سے ثقافتی ورثے کا تحفظ

ثقافتی ورثے کی دستاویز بندی اور تحفظ کو مزید مستحکم بنانے کے لیے لائٹ ڈیٹیکشن اینڈ رینجنگ (لائیڈار) اسکیننگ، جغرافیائی معلوماتی نظام (جی آئی ایس) پر مبنی نقشہ سازی اور ڈرون سروے جیسی جدید ٹیکنالوجیز کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ حکومت ثقافتی اثاثوں اور ورثے سے متعلق معلومات کو ڈیجٹل شکل دینے، ان کی دستاویز بندی کرنے اور انہیں قابلِ رسائی بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے بھی استفادہ کر رہی ہے۔

ثقافت اور علم کے تحفظ کے لئے  مصنوعی ذہانت کا استعمال

ہندوستان زبانوں، مخطوطات اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے ساتھ ساتھ تعلیم اور عوامی خدمات تک رسائی کو بہتر بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال کر رہا ہے۔

- بھاشنی: 2022 میں شروع کیے گئے اس پلیٹ فارم کے ذریعے آواز کے لیے 22 زبانوں اور متن کے لیے 36 زبانوں کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ اس میں مصنوعی ذہانت کے 350 سے زیادہ نمونے شامل ہیں اور اس کے ذریعے زبان سے متعلق 4 ارب سے زیادہ لین دین ہو چکے ہیں۔ اس پلیٹ فارم نے کاشی تمل سنگم اور مہا کمبھ 2025 جیسے بڑے اجتماعات میں فوری ترجمے کی سہولت فراہم کی۔

- بھارت جین: اس پلیٹ فارم کے تحت آئین میں درج 22 زبانوں کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی نمونے تیار کیے جا رہے ہیں، جب کہ آدی وانی سنتھالی، بھیلی، منڈاری اور گونڈی جیسی قبائلی زبانوں کے تحفظ اور ترجمے کے لیے کام کرتا ہے۔ آدی وانی مصنوعی ذہانت پر مبنی ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جس کا مقصد ہندوستان کی قبائلی زبانوں کو محفوظ رکھنا اور انہیں نئی زندگی دینا ہے۔ اس کے ذریعے ہندی، انگریزی اور قبائلی زبانوں کے درمیان فوری ترجمہ، تقریر کو تحریری متن میں تبدیل کرنے، نئی نسلوں کو زبانیں سکھانے اور لوک کہانیوں و زبانی روایات کو رقمی شکل میں محفوظ کرنے کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔

- انوادنی، ای-کمبھ، ایس پی پی ای ایل، سنچیکا اور گیان سیتو جیسے پلیٹ فارم کثیر لسانی تعلیم کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ معدومیت کے خطرے سے دوچار زبانوں اور روایتی علم کے تحفظ میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

- سویم جیسے رقمی تعلیمی پلیٹ فارموں کے ذریعے 5 کروڑ سے زیادہ طلبہ مستفید ہو رہے ہیں۔

 ویدک ہیریٹیج  پورٹل

- یہ پورٹل مارچ 2023 میں اندرا گاندھی قومی مرکز برائے فنون کے تحت شروع کیا گیا تھا۔ اس کا مقصد ہندوستان کی ویدک علمی روایات کو محفوظ کرنا، ان کی دستاویز بندی کرنا اور انہیں رقمی ذرائع سے قابلِ رسائی بنانا ہے۔

- دائرۂ کار: رِگ وید، یجروید، سام وید اور اتھرو وید کی روایات۔

- اس پورٹل میں وسیع سمعی و بصری مواد، مخطوطات اور مذہبی رسومات سے متعلق دستاویزات شامل ہیں۔ اس پر 500 گھنٹے سے زیادہ کی ریکارڈنگ بھی فراہم کی گئی ہے۔

- اس میں ویدک شاخاؤں (ویدوں کی مختلف روایتی شاخوں) اور زبانی روایات کو بھی درج کیا گیا ہے، تاکہ نسل در نسل منتقل ہونے والے علمی نظاموں کو محفوظ رکھا جا سکے۔

یونیسکو کی جانب سے اعتراف

- ویدک منتروں کے جاپ کی روایت کو یونیسکو کے غیر مادی ثقافتی ورثے کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔

- رِگ وید کے مخطوطات کو یونیسکو کے عالمی یاد گار کے اندراج میں شامل کیا گیا ہے۔

ہندوستان کے فلمی ورثے کا تحفظ

قومی مشن برائے فلمی ورثے کا تحفظ

- آغاز: 2015۔ اس مشن کا مقصد ہندوستان کے فلمی ورثے کو محفوظ کرنا، اسے رقمی شکل دینا اور فلموں کی بحالی کا کام انجام دینا ہے۔

- اس کے تحت ہندوستان کی مختلف زبانوں میں بننے والی فیچر فلموں، مختصر فلموں اور دستاویزی فلموں کا احاطہ کیا جاتا ہے۔

- دسمبر 2025 تک 1,469 فلمی عنوانات، یعنی مجموعی طور پر 4.3 لاکھ منٹ کی فلموں کو رقمی شکل دی جا چکی ہے۔

- بحال کی گئی فلموں کو ہندوستان کے قومی فلمی آرکائیو میں محفوظ رکھا جاتا ہے اور اس کی سرکاری ویب سائٹ کے ذریعے طلب پر دیکھا جا سکتا ہے۔

ہندوستانی سنیما کا قومی عجائب گھر دوستانی سنیما کے قومی عجائب گھر کا افتتاح 2019 میں کیا گیا تھا۔ اس منصوبے پر 140.61 کروڑ روپے کی لاگت آئی۔

- اس عجائب گھر میں نوادرات، فلم سازی کے قدیم آلات، تصاویر، یادگاری اشیا، باہمی تعامل پر مبنی نمائشوں اور ملٹی میڈیا نمائشوں کے ذریعے ہندوستانی سنیما کی 100 سال سے زیادہ کی تاریخ پیش کی گئی ہے۔

- عجائب گھر میں آنے والے افراد کی تعداد: مئی 2026 میں 17,000 سے زیادہ افراد نے اس عجائب گھر کا دورہ کیا، جس سے ایک اہم ثقافتی اور سیاحتی مرکز کی حیثیت سے اس کی اہمیت مزید مستحکم ہوئی۔

ہندوستان کے ثقافتی ورثے کو آئندہ نسلوں تک پہنچانا

ہندوستان کا ثقافتی ورثہ اس کے ماضی، حال اور مستقبل کے درمیان ایک زندہ رابطہ ہے۔ ورثے کے مسلسل تحفظ، اسے ڈیجٹل شکل دینے، بحالی اور فروغ کے ذریعے حکومت نے اس بیش قیمت ورثے کو محفوظ رکھنے کی کوششوں کو مزید مستحکم کیا ہے، ساتھ ہی عوام کی اس تک رسائی کو بھی وسیع بنایا ہے۔ ان کوششوں سے ایسا مستقبل تشکیل دینے میں مدد ملے گی جہاں ثقافتی ورثہ آنے والی نسلوں کے لیے علم، شناخت اور تحریک کا ایک متحرک ذریعہ بنا رہے گا۔

 حوالہ جات

وزارت ثقافت

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2289399&reg=48&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2099146&reg=48&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2242375&reg=3&lang=1

https://www.indianheritage.gov.in/assets/docs/Visitors%20footfall%20at%20the%20Centrally%20Protected%20Ticketed%20Monuments%20under%20ASI%20for%20FY%202023-24.pdf

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2286588&reg=48&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2243793&reg=3&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2223734&reg=3&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2286586&reg=3&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2240543&reg=3&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2289928&reg=48&lang=2

https://www.myscheme.gov.in/schemes/mgsch

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2236932&reg=3&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2034457&reg=48&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2165457&reg=48&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2288288&reg=48&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2293807&reg=48&lang=1

 سیاحت کی وزارت

https://www.pib.gov.in/PressReleaseIframePage.aspx?PRID=2041555&reg=48&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2227369&reg=48&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2196921&reg=48&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2150720&reg=3&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2238959&reg=3&lang=1

https://x.com/tourismgoi/status/1765670310605725718

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2200321&reg=3&lang=1

مکانات اور شہری امور کی وزارت

 

https://sansad.in/getFile/loksabhaquestions/annex/184/AS397_T4BASb.pdf?source=pqals

امور داخلہ کی وزارت

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2093139&reg=48&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleaseIframePage.aspx?PRID=2093525&reg=3&lang=2

اطلاعات و نشریات کی وزارت

AS453_KIMPcM.pdf

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2201518&reg=3&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=1560338&reg=48&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2268814&reg=48&lang=2

 پی آئی بی  بیک گراؤنڈر

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2253199&reg=3&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?NoteId=158940&ModuleId=3&reg=3&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2225474&reg=3&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2182427&reg=48&lang=2

ہندوستان کے ثقافتی ورثے کی بحالی و احیا

***

ش ح۔ ش  ب۔رض

U-No.7655


(ریلیز آئی ڈی: 2327343) وزیٹر کاؤنٹر : 5