پوسٹ کرنے کی تاریخ:
13 AUG 2026 12:27PM by PIB Delhi
ہندوستان کی ترقی کا سفر اب دیہی اور قبائلی برادریوں تک اور گہرائی سے پہنچ رہا ہے، جس سے سہولیات تک رسائی، مواقع اور معیارِ زندگی میں تبدیلی آرہی ہے۔ بنیادی خدمات اور مضبوط و پائیدار بنیادی ڈھانچے سے لے کر روزگار کے ذرائع، ہنرمندی، تعلیم اور مالی تحفظ تک، مختلف اقدامات شمولیتی ترقی کی بنیاد کو وسعت دے رہے ہیں۔ خواتین، قبائلی برادریوں اور کمزور طبقات کے لیے خصوصی کوششیں باوقار زندگی اور بااختیاربنانے کے طریقوں کو مزید مستحکم کر رہی ہیں۔ یہ اقدامات وسیع تر مواقع، مضبوط برادریوں اور زیادہ منصفانہ ترقی کے ذریعے دیہی ہندوستان کی صورتِ حال کو تبدیل کررہے ہیں۔
فلاحی سہولیات کی فراہمی سے اختیارات کی مقامی سطح پر منتقلی اور شراکت داری تک
- گرام پنچایتوں کو براہِ راست مالی وسائل کی منتقلی میں اضافہ کیا گیا ہے۔ پندرہویں مالیاتی کمیشن کے تحت 2021 سے 2026 تک یہ رقم 2.36 لاکھ کروڑ روپے تھی، جو سولہویں مالیاتی کمیشن کے تحت 2026 سے 2031 کے لیے بڑھا کر 4.35 لاکھ کروڑ روپے کر دی گئی ہے۔
- دیہی ترقی کے لیے مرکزی بجٹ میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ 2016-17 میں یہ رقم 87,765 کروڑ روپے تھی، جو 2026-27 میں بڑھ کر 2.73 لاکھ کروڑ روپے ہو گئی ہے۔
- قبائلی امور کے لیے مرکزی بجٹ جو 2016-17 میں 4,826 کروڑ روپے تھا، 2026-27 میں بڑھ کر 15,421.97 کروڑ روپے ہو گیا ہے۔
باوقار زندگی کی بنیادیں: بنیادی ضروریات تک سب کی رسائی
جل جیون مشن
- گھریلو نل کنکشن کے ذریعے پانی کی فراہمی کی سہولت جو اگست 2019 میں 3.23 کروڑ کنبوں کو حاصل تھی،اس میں اضافہ ہوا ہے اور یہ 12 اگست 2026 تک بڑھ کر 15.91 کروڑ سے زیادہ گھرانوں تک پہنچ گئی ہے۔
- 12 اگست 2026 تک، ’ہر گھر جل‘ مہم کے تحت 2.89 لاکھ گاؤں میں نل کے ذریعے پانی کی 100 فیصد فراہمی کی اطلاع دی گئی ہے۔
سوچھ بھارت مشن — گرامین
- 12 اگست 2026 تک، 12.19 کروڑ سے زیادہ انفرادی گھریلو بیت الخلا تعمیر کیے جا چکے ہیں۔
- ہندوستان کو 2019 میں کھلے میں رفع حاجت سے پاک ملک قرار دیا گیا تھا۔
- 11 اگست 2026 تک، گوبردھن اسکیم کے تحت 1,288 سے زیادہ بایو گیس پلانٹ کام کر رہے ہیں، جب کہ مالی سال 2018-19 میں ان کی تعداد محض14 تھی۔
پردھان منتری اُجّولا یوجنا
- 12 اگست 2026 تک، خطِ افلاس سے نیچے زندگی بسر کرنے والے کنبوں کی خواتین کو 10.57 کروڑ سے زیادہ مفت ایل پی جی کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں۔
- ہندوستان میں ایل پی جی کنکشنز کی مجموعی تعدادجو 2014 میں 14.52 کروڑ تھی، 2026 میں بڑھ کر 33.39 کروڑ ہو گئی ہے۔
گاؤں گاؤں بجلی کی فراہمی
- پردھان منتری سہج بجلی ہر گھر یوجنا (سوبھاگیہ) کے تحت مارچ 2019 تک( پورے بھارت میں) بجلی کے خواہش مند 100 فیصد گھرانوں کو بجلی کا کنکشن فراہم کرنے کا ہدف حاصل کر لیا گیا ہے۔
- دین دیال اپادھیائے گرام جیوتی یوجنا کے تحت 2025 تک سبھی گاؤوں میں 100 فیصد بجلی کاری کا ہدف حاصل کر لیا گیا ہے۔
آیوشمان بھارت
- 12 اگست 2026 تک 45.51 کروڑ سے زیادہ آیوشمان کارڈ جاری کیے جا چکے ہیں۔
- 12 اگست 2026 تک 96.43 کروڑ آیوشمان بھارت ہیلتھ اکاؤنٹس(آبھا) بنائے جا چکے ہیں۔
- 12 اگست 2026 تک 1.86 لاکھ سے زیادہ آیوشمان آروگیہ مندر کام کررہے ہیں۔
سب کے لیے غذائی تحفظ
- پردھان منتری غریب کلیان اَنّ یوجنا کے تحت 81.35 کروڑ سے زیادہ مستفیدین کو مفت غذائی اجناس فراہم کیا جا رہا ہے۔
- 29 جولائی 2026 تک، عوامی نظامِ تقسیم(پی ڈی ایس) کے تحت 99.8 فیصد مناسب قیمت کی دکانوں کو آدھار پر مبنی راشن کی تقسیم کے لیے خودکار بنایا جا چکا ہے۔
- 29 جولائی 2026 تک تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں راشن کارڈز کو 100 فیصد ڈیجیٹل بنایا جا چکا ہے۔
- ون نیشن ون راشن کارڈ کے تحت 29 جولائی 2026 تک 221 کروڑ سے زیادہ پورٹیبلٹی لین دین ریکارڈ کیے گئے ہیں ۔

سمگر شکشا ابھیان (سرو شکشا ابھیان)
- 2018-19 سے 2025-26 کے دوران 4,073 اسکولوں کو ترقی دے کر اعلیٰ معیار کی سہولیات سے آراستہ کیا گیا اور 1.49 لاکھ اسکولوں میں اطلاعاتی و مواصلاتی ٹیکنالوجی(آئی سی ٹی)اور ڈیجیٹل اقدامات نافذ کیے گئے۔ اس کے علاوہ، 25,000 اسکولوں میں ہنرمندی کی تعلیم فراہم کی جا رہی ہے۔
- 97.3 فیصد اسکولوں میں لڑکیوں کے لیے قابلِ استعمال صفائی کی سہولیات موجود ہیں۔
- ابتدائی سطح پر لڑکیوں کے اسکول چھوڑنے کی شرح جو 2013-14 میں 4.6 فیصد تھی، 2025-26 میں گھٹ کر 0.1 فیصد رہ گئی۔ ثانوی سطح پر یہ شرح جو 2013-14 میں 14.5 فیصد تھی، 2025-26 میں کم ہو کر 8 فیصد ہو گئی۔
معاشی طور پر کمزور طبقے کے لیے ریزرویشن اور داخلوں کی شرح میں بہتری
- 2019 میں درج فہرست ذاتوں، درج فہرست قبائل اور دیگر پسماندہ طبقات کے لیے پہلے سے موجود ریزرویشن کے زمرے سے باہر کے امیدواروں کے لیے معاشی طور پر کمزور طبقے(ای ڈبلیو ایس)کے تحت 10 فیصد ریزرویشن فراہم کیا گیا۔ اس فیصلے سے عام زمرے کے معاشی طور پر پسماندہ افراد کو فائدہ پہنچا ہے۔
- 2025-26 میں مجموعی شرحِ داخلہ(جی ای آر) ابتدائی سطح پر 89.4 اور ثانوی سطح پر 81.5 درج کی گئی۔ اعلیٰ ثانوی سطح پر مجموعی شرحِ داخلہ 2014-15 کے 46.4 کے مقابلے میں بڑھ کر 2025-26 میں 61.7 ہو گئی۔
بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ
- ثانوی سطح (9 سے 10جماعت) پر لڑکیوں کی مجموعی شرحِ داخلہ جو 2014-15 میں 75.5 فیصد تھی، بڑھ کر 2025-26 میں 83.4 فیصد ہو گئی۔
کستوربا گاندھی بالیکا ودیالیہ اور پی ایم ای ودیا
- منظور شدہ اسکولوں کی تعداد جو 2014-15 میں 3,609 تھی، بڑھ کر 2024-25 میں 5,639 ہو گئی۔ 2024-25 تک 5,133 کستوربا گاندھی بالیکا ودیالیہ (کے جی بی ویز)کام کررہے ہیں۔
- اندراج کی تعداد جو (2014-15)میں 3.52 لاکھ تھی بڑھ کر (2024) میں 7.11 لاکھ ہو گئی ہے۔
- سْویم پورٹل پر، (جو ہندوستان کا اپنا وسیع پیمانے پر آن لائن کورسز فراہم کرنے والا پلیٹ فارم ہے، ) 12 اگست 2026 تک 6.5 کروڑ سے زیادہ اندراج ہو چکے ہیں۔
- 12 اگست 2026 تک دیکشا پر رجسٹرڈصارفین کی تعداد 2.35 کروڑ ہو چکی ہے ۔
ترقی کی بنیاد کو مضبوط بنانا: بنیادی ڈھانچہ اور رابطہ کاری

پردھان منتری آواس یوجنا — گرامین
- پردھان منتری آواس یوجنا — گرامین کے تحت 3.91 کروڑ سے زیادہ مکانات کی منظوری دی جا چکی ہے، جن میں سے 12 اگست 2026 تک 3.13 کروڑ مکانات کی تعمیر مکمل کی جا چکی ہے۔
پردھان منتری گرام سڑک یوجنا
- جون 2026 تک، ہر طرح کے موسم میں قابلِ استعمال سڑکوں کے ذریعے 99.6 فیصد اہل بستیوں کو جوڑا جا چکا ہے۔
- مکمل کی گئی سڑکوں کی لمبائی جومئی 2000 سے مئی 2014 کے دوران 3.86 لاکھ کلومیٹر تھی، مئی 2014 سے 12 اگست 2026 تک بڑھ کر 4.13 لاکھ کلومیٹر ہو گئی۔
- مئی 2014 سے 12 اگست 2026 کے دوران مکمل کیے گئے پلوں کی تعداد 484 سے بڑھ کر 10,404 ہو گئی۔
گرام پنچایتوں کی ڈیجیٹل کاری
- بھارت نیٹ کے تحت مئی 2026 تک 2.19 لاکھ گرام پنچایتوں کو انٹرنیٹ سے جوڑا جا چکا ہے۔
- ای گرام سوراج کے ذریعے جون 2026 تک 3 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی ادائیگیوں کا عمل مکمل کیا جا چکا ہے۔
- جون 2026 تک 1.28 لاکھ سے زیادہ گرام پنچایتیں میٹنگوں کی روداد تیار کرنے کے لیے ’سبھا سار‘ کا استعمال کر رہی ہیں۔
خوش حالی کی راہیں: روزگار کے ذرائع، ہنرمندی اور مالی تحفظ

دین دیال انتودیہ یوجنا – قومی دیہی روزگار مشن (ڈی اے وائی-این آر ایل ایم)
- 12 اگست 2026 تک 94.46 لاکھ اپنی مدد آپ گروپوں(ایس ایچ جیز) میں 10.19 کروڑ کنبوں کو شامل کیا جا چکا ہے۔
- 29 جولائی 2026 تک 3.46 کروڑ خواتین کو ’’لکھ پتی دیدی‘‘ بنایا جا چکا ہے۔
اسکیموں کے فوائد آخری مستحق تک پہنچانے میں کمیونٹی ریسورس پرسنز کا رول
- فی الوقت 9 لاکھ سے زائد کمیونٹی ریسورس پرسنز(سی آر پیز)سرگرم ہیں، جو زراعت، بینکاری، بیمہ اور غذائیت جیسے مختلف شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
- ان میں 50,548 سے زائد بینک سکھیاں، 1.91 لاکھ کرشی سکھیاں، 2,012 متسیہ سکھیاں اور 1.70 لاکھ پشو سکھیاں شامل ہیں۔
خود امدادی کاروباری مراکز(شی مارٹ) کا آغاز
- مرکزی بجٹ 2026-27 میں اس کا اعلان کیا گیا تھا، جس کا مقصد 1 کروڑ خواتین کو فائدہ پہنچانا ہے۔
- اس پہل کا مقصد اپنی مدد آپ گروپوں کے نظام کے تحت خواتین کے لیے ایسی خوردہ فروخت کی جگہیں قائم کرنا ہے، جن کی ملکیت اور انتظام خود کمیونٹی کے پاس ہو۔
دین دیال اپادھیائے گرامین کوشل یوجنا
- اسکیم کے تحت تربیت حاصل کرنے والے امیدواروں کی تعدادجو 2014-15 میں 43,038 تھی، 11 اگست 2026 تک بڑھ کر 18.45 لاکھ ہو گئی ہے۔
- اسی طرح روزگار حاصل کرنے والے امیدواروں کی تعدادجو 2014-15 میں 21,446 تھی، 11 اگست 2026 تک بڑھ کر 12.35 لاکھ ہو گئی ہے۔
پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا
- ٹذکورہ اسکیم کے آغاز سے جون 2026 تک 1.64 کروڑ سے زائد نوجوانوں کو ہنرمندی کی تربیت فراہم کی جا چکی ہے۔
وکست بھارت – روزگار اور ذریعۂ معاش کی ضمانت کا مشن(دیہی)
- مالی سال 2006-07 سے 2013-14 کے دوران مجموعی طور پر 1,660 کروڑلوگوں کے کام کرنے کے دن پیدا کیے گئے، جب کہ مالی سال 2014-15 سے 2024-25 کے دوران یہ تعداد بڑھ کر 3,029 کروڑ ہو گئی ہے۔
- اس اسکیم میں خواتین کی شرکت بھی بڑھی ہے۔ مالی سال 2013-14 میں خواتین کی شرکت جو 48 فیصد تھی، مالی سال 2024-25 میں بڑھ کر 58.19 فیصد ہو گئی ہے۔
ای-شرم پورٹل
- ای-شرم پورٹل پر رجسٹریشن کی تعدادجو دسمبر 2021 میں 14.40 کروڑ تھی، 12 اگست 2026 تک بڑھ کر 31.87 کروڑ ہو گئی۔
پی ایم وشوکرما یوجنا
- 12 اگست 2026 تک 30 لاکھ سے زائد روایتی دست کاروں کا اندراج کیا جا چکا ہے۔
- 12 اگست 2026 تک 24.32 لاکھ دست کاروں کو ہنرمندی کی تربیت فراہم کی جا چکی ہے، جب کہ 17.70 لاکھ دست کاروں کو اوزاروں کی کِٹ فراہم کی جا چکی ہے۔
پی ایم سواندھی
- مذکورہ اسکیم کے مستفیدین کی تعدادجو نومبر 2021 میں 26.37 لاکھ تھی، 12 اگست 2026 تک بڑھ کر 78.17 لاکھ ہو گئی ہے۔
- 12 اگست 2026 تک 18,971.18 کروڑ روپے کے قرض تقسیم کیے جا چکے ہیں۔ اسکیم کے مستفیدین میں 46 فیصد خواتین ہیں۔
پی ایم مدرا یوجنا
- اسکیم کے تحت منظور کیے گئے قرضوں کی مجموعی تعدادجو 2016 میں 3.49 کروڑ تھی، جولائی 2026 تک بڑھ کر 59.14 کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے۔
پی ایم جن دھن یوجنا
- مذکورہ اسکیم کے مستفیدین کی تعداد جواگست 2015 میں 17.9 کروڑ تھی،12 اگست 2026 تک بڑھ کر 58.90 کروڑ ہو گئی ہے۔
سماجی تحفظ کے دائرے میں توسیع
- قومی پنشن نظام(این پی ایس)کے تحت مستفیدین کی تعدادجو مالی سال 2016-17 میں 1.05 کروڑ تھی، مالی سال 2025-26 میں بڑھ کر 2.17 کروڑ ہو گئی ہے۔
- اٹل پنشن یوجنا کے تحت مستفیدین کی تعداد جومالی سال 2016-17 میں 48.80 لاکھ تھی، جون 2026 تک بڑھ کر 9.29 کروڑ ہو گئی ہے۔
- پردھان منتری جیون جیوتی بیمہ یوجنا کے تحت جولائی 2026 تک 27.90 کروڑ افراد کو بیمہ تحفظ فراہم کیا جا چکا ہے۔
- پردھان منتری سرکشا بیمہ یوجنا کے تحت یکم جولائی 2026 تک 58.78 کروڑ افراد کو بیمہ تحفظ فراہم کیا جا چکا ہے۔
- پردھان منتری شرم یوگی مان دھن یوجنا کے تحت جولائی 2026 تک غیر منظم شعبے کے 54 لاکھ سے زائد کارکنوں کا اندراج کیا جا چکا ہے۔
مربوط اقدامات کے ذریعے قبائلی ترقی کو تیز رفتار بنانا
پردھان منتری جن جاتی آدیواسی نیائے مہا ابھیان (پی ایم جن من)
- 5 اگست 2026 تک 540 ون دھن وکاس کیندروں (جنگلاتی پیداوار کی ترقی کے مراکز) کو منظوری دی جا چکی ہے، جن سے خصوصی طور پر کمزور قبائلی گروپوں کے 46,042 افراد کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔
پردھان منتری جن جاتیہ وکاس مشن(پی ایم -جے وی ایم)
- اگست 2026 تک اس اسکیم کے تحت 4,172 ون دھن وکاس کیندروں کو منظوری دی جا چکی ہے، جن سے 12.48 لاکھ قبائلی افراد مستفید ہو رہے ہیں۔

پردھان منتری جن جاتیہ اُنّت گرام ابھیان (پی ایم –جے یو جی اے)
یہ ابھیان 17 وزارتوں کی مشترکہ کوششوں کو یکجا کرتا ہے اور قبائلی اکثریتی دیہات اور خصوصی طور پر کمزور قبائلی گروپوں (پی وی ٹی جی) کی بستیوں میں عرصۂ دراز سے موجود بنیادی سہولتوں کی کمی کو دور کرنے پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ پی ایم-جے یو جی اے کے تحت اب الگ الگ اقدامات کے بجائے مختلف شعبوں اور وزارتوں کے درمیان تال میل کے ساتھ مشن کے طور پر اسکیموں پر عمل درآمد کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے۔ گزشتہ 12 برسوں کے دوران:
- 7.60 لاکھ قبائلی مکانات کی تعمیر مکمل کی جا چکی ہے اور 28,303 قبائلی دیہات میں پینے کے پانی کی سہولت دستیاب ہے۔
- 59,812 قبائلی کنبوں اور عوامی اداروں کو بجلی فراہم کی جا چکی ہے، جب کہ قبائلی علاقوں میں 657 آنگن واڑی مراکز کو سرگرم بنایا جا چکا ہے۔
- قبائلی طلبہ کے لیے 692 ہاسٹلس کو بھی منظوری دی جا چکی ہے۔
پردھان منتری انوسوچت جاتی ابھیودے یوجنا(پی ایم-اے جے اے وائی)
- 12 اگست 2026 تک درج فہرست ذاتوں(ایس سی) کے 4.16 لاکھ سے زائد مکانات تعمیر کیے جا چکے ہیں، 4.17 لاکھ سے زیادہ درج فہرست ذاتوں کے کنبے صحت کے تحفظ کی اسکیموں کے دائرے میں آ چکے ہیں اور 3.57 لاکھ سے زائد کنبوں کے پاس انفرادی بیت الخلا موجود ہیں۔
- 12 اگست 2026 تک 17,578 دیہات کو ’’آدرش گراممثالی گاؤں قرار دیا جا چکا ہے۔
ایکلویہ ماڈل رہائشی اسکولس (ای ایم آر ایس س)
- کام کرنے والے اسکولوں کی تعدادجو 2014-15 میں 129 تھی، 12 اگست 2026 تک بڑھ کر 511 ہو گئی ہے۔
- 12 اگست 2026 تک ان اسکولوں میں 1.68 لاکھ طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔
پی ایم یشسوی
- مالی سال 2024-25 میں 20.61 لاکھ طلبہ کو پری میٹرک اسکالرشپ، جب کہ 24.53 لاکھ طلبہ کو پوسٹ میٹرک اسکالرشپ فراہم کی گئی ہے۔
درج فہرست قبائل (ایس ٹی) کے طلبہ کے لیے وظائف
- اپریل 2024 سے 12 اگست 2026 کے دوران پری میٹرک اسکالرشپ اسکیم سے 28.99 لاکھ سے زائد قبائلی طلبہ مستفید ہوئے۔
- قومی فیلوشپ برائے درج فہرست قبائل کے تحت مالی سال 2025-26 میں 2,961 تحقیقی اسکالرز کو معاونت فراہم کی گئی۔ ان میں 56 فیصد خواتین تھیں۔
اعلیٰ تعلیم کے لیے نوجوانوں کی معاونت کی اسکیم(شریاس)
- درج فہرست ذاتوں کے طلبہ کے لیے اعلیٰ درجے کی تعلیم کی اسکیم کے تحت مالی سال 2025-26 میں 8,571 طلبہ کو آئی آئی ٹی، آئی آئی ایم، این آئی ٹی اور ایمس جیسے ممتاز تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا گیا۔
میکانائزڈ صفائی کے نظام کے لیے قومی اقدام(نمستے)
- جولائی 2026 تک سیور اور سیپٹک ٹینکوں کی صفائی کرنے والے 89,915 کارکنوں اور 2.81 لاکھ سے زائد کچرا چننے والوں کی تصدیق کی جا چکی ہے۔
غیر مطلع شدہ قبائل کی معاشی خودمختاری کی اسکیم(ایس ای ای ڈی)
- مالی سال 2025-26 کے دوران 4,48,500 غیر نوٹیفائڈ قبائل(ڈی این ٹی) کے طلبہ کو تعلیمی طور پر بااختیار بنانے کے لیے 26.75 کروڑ روپے تقسیم کیے گئے۔
- اسی مالی سال کے دوران صحت سے متعلق جزو کے تحت ڈی این ٹی کنبوں کو 73,569 آیوشمان بھارت کارڈ جاری کیے گئے۔
حوالہ جات
Ministry of Jal Shakti
https://gobardhan.sbm.gov.in/
https://ejalshakti.gov.in/jjmreport/jjmindia.aspx
https://sbm.gov.in/sbmgdashboard/statesdashboard.aspx
Ministry of Housing & Urban Affairs
https://pmsvanidhi.mohua.gov.in/Home/PMSDashboard
Ministry of Health & Family Welfare
https://dashboard.nha.gov.in/public/
https://dashboard.abdm.gov.in/abdm/
https://aam.mohfw.gov.in/
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2294278®=48&lang=1
Ministry of Consumer Affairs, Food & Public Distribution
https://sansad.in/getFile/lsapps/loksabhaquestions/annex/188/AU1711_fUMnpm.pdf?source=lsapps
https://dfpd.gov.in/pradhan-mantri-garib-kalyan-anna-yojana/en
Ministry of Finance
https://sansad.in/getFile/annex/271/AS91_36800U.pdf?source=pqars
https://pmjdy.gov.in/
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2287200®=1&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2287200®=48&lang=2
Ministry of Education
https://diksha.gov.in/data/
https://swayam.gov.in/
https://dashboard.udiseplus.gov.in/#
https://sansad.in/getFile/loksabhaquestions/annex/1711/AS444.pdf?source=pqals
PIB Backgrounders
https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?NoteId=158809&ModuleId=3®=3&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?NoteId=157341&ModuleId=3®=3&lang=1
Ministry of Rural Development
https://lokos.dord.gov.in/home#/
https://pmgsy.dord.gov.in/dbweb
https://x.com/MoRD_GoI/status/2063930187511922850
https://dashboard.dord.gov.in/dashboardnew/mgnrega.aspx
https://pmayg.gov.in/netiay/PBIDashboard/PMAYGDashboard.aspx
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2297790®=48&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2288999®=48&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2290658®=48&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleaseIframePage.aspx?PRID=2112680®=48&lang=2
Ministry of Panchayati Raj
https://x.com/mopr_goi/status/2067496574595575823
Ministry of Labour & Employment
https://eshram.gov.in//dashboard
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2293891®=48&lang=1
Ministry of MSMEs
https://pmvishwakarma.gov.in/
Ministry of Tribal Affairs
https://pmagy.gov.in/
https://nests.tribal.gov.in/
https://dashboard.tribal.gov.in/
https://dbttribal.gov.in/PrePostRPT.aspx?Ret=VGB==
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2286362®=48&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2209488®=48&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2253348®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2294712®=6&lang=1
Ministry of Petroleum & Natural Gas
https://www.pmuy.gov.in/index.aspx
Niti Aayog
https://niti.gov.in/sites/default/files/2026-05/School-Education-System-in-India.pdf
Click here to see PDF
*****
) ش ح – ش م - ف ر )
U.No. 6556