بندرگاہوں، جہازرانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارت
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
22 OCT 2026 7:24PM by PIB Delhi
بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کے مرکزی وزیر سربانند سونووال نے پولینڈ کی کمپنیوں پر زور دیا کہ وہ ہندوستان کو محض اپنی مصنوعات فروخت کرنے کے بجائے یہاں ’’تعمیر، اختراع اور سرمایہ کاری‘‘ کریں۔ انہوں نے دونوں ممالک کے کاروباری رہنماؤں کے سامنے ہندوستان کی ترقی کی داستان پیش کی۔
مرکزی وزیر سربانند سونووال نے آج یہاں ہندوستان-پولینڈ کاروباری فورم سے کلیدی خطاب کیا۔ اس فورم میں پولینڈ کے وزیر اعظم ڈونالڈ ٹسک نے بھی شرکت کی۔ سونووال نے یاد دلایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے اگست 2024 میں پولینڈ کے دورے سے دونوں ممالک کے تعلقات کو اسٹریٹجک شراکت داری کا درجہ حاصل ہوا۔
سربانند سونووال نے کہا: ’’جب وزیر اعظم نریندر مودی نے اگست 2024 میں پولینڈ کا دورہ کیا تو انہوں نے اور وزیر اعظم ٹسک نے ہمارے تعلقات کو اسٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل کیا۔ انہوں نے اس پختہ یقین کے ساتھ یہ قدم اٹھایا کہ ہندوستان اور پولینڈ کے تعلقات صرف سفارتی سطح پر ہی مضبوط نہیں ہونے چاہئیں، بلکہ کاروبار، ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور اختراع کے شعبوں میں بھی مضبوط ہونے چاہئیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اب مقصد یہ ہے کہ کاروبار، ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور اختراع کے میدانوں میں بھی دونوں ممالک کے تعلقات اتنے ہی مضبوط ہوں جتنے سفارتی سطح پر ہیں۔
سونووال نے کہا: ’’ہندوستان ایک وسیع اور ترقی کرتی ہوئی منڈی کا حجم، نوجوان اور باصلاحیت افرادی قوت کی مہارتیں، اور اصلاحات، کاروبار اور کشادگی کے لیے پُرعزم جمہوریت کا اعتماد فراہم کرتا ہے۔‘‘
سونووال نے کہا کہ دونوں ممالک کی معیشتیں ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں۔ ان کے مطابق، پولینڈ کو انجینئرنگ، مشینری، کان کنی کی ٹیکنالوجی، نقل و حمل، ماحولیاتی حل اور جدید مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں مہارت حاصل ہے۔ ہندوستان کے پاس ایسی صلاحیتوں کو بڑے پیمانے پر وسعت دینے کے لیے منڈی، باصلاحیت افرادی قوت اور مینوفیکچرنگ کا مضبوط ڈھانچہ موجود ہے۔ سونووال نے کہا: ’’پولینڈ کی کمپنیوں کے لیے میرا پیغام ہے: ہندوستان کو صرف اپنی مصنوعات فروخت نہ کریں، بلکہ ہندوستان میں تعمیر کریں، ہندوستان میں حل تیار کریں، ہندوستانی شراکت دار تلاش کریں اور ترقی کے لیے ہندوستان کو ایک پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کریں۔‘‘
سونووال نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی متحرک قیادت میں ہندوستان نے 2030 تک غیر فوسل ایندھن سے 500 گیگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت حاصل کرنے کا پُرعزم ہدف مقرر کیا ہے، جو ملک کی جانب سے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے ایک مضبوط قدم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس مقصد کے لیے تقریباً 280 سے 300 ارب یورو کی سرمایہ کاری درکار ہوگی۔ اس سے آلات تیار کرنے والی کمپنیوں، توانائی ذخیرہ کرنے، بجلی کے گرڈ، سبز ہائیڈروجن، ری سائیکلنگ اور ماحولیاتی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں مواقع پیدا ہوں گے۔ سونووال نے کہا کہ کان کنی، اہم معدنیات اور صاف توانائی کے شعبوں میں پولینڈ کا تجربہ اس کوشش میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔
ٹیکنالوجی کے شعبے میں سونووال نے بتایا کہ ہندوستانی آئی ٹی کمپنیوں نے پولینڈ کو اپنی یورپی سرگرمیوں کا مرکز بنایا ہے اور وہاں تقریباً 10,000 افراد کو روزگار فراہم کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگلا قدم آئی ٹی خدمات سے آگے بڑھ کر مصنوعی ذہانت، کوانٹم کمپیوٹنگ، 5جی ایپلی کیشنز، ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے، اسمارٹ مینوفیکچرنگ اور خلائی ٹیکنالوجی کے شعبوں تک پہنچنا چاہیے۔
مرکزی وزیر نے دونوں ممالک کے کاروباری اداروں، محققین اور اختراع کاروں کو باہم مربوط کرنے کے لیے اسٹارٹ اَپ برج، اختراعی کوریڈور اور مصنوعی ذہانت و کوانٹم ٹیکنالوجی سے متعلق مذاکراتی فورم قائم کرنے کی تجویز پیش کی۔ سونووال نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت 6.36 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے، جبکہ پولینڈ میں ہندوستانی سرمایہ کاری 3 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔ پولینڈ کی کمپنیاں بھی ہندوستان میں پیکیجنگ، مینوفیکچرنگ، کچرے سے توانائی کی پیداوار اور برقی نقل و حرکت کے شعبوں میں سرگرم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2030 تک دوطرفہ تجارت کو دوگنا کرنے سے بھی بڑا ہدف مقرر کیا جانا چاہیے۔
سونووال نے کہا: ’’ہمیں مل کر تخلیق کرنا چاہیے، مل کر اختراع کرنی چاہیے، مل کر سرمایہ کاری کرنی چاہیے، قابلِ اعتماد رسدی سلسلے مشترکہ طور پر قائم کرنے چاہئیں اور مل کر کامیابی حاصل کرنی چاہیے۔‘‘
انہوں نے کاروباری رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ ہندوستان اور یورپی یونین کے آزاد تجارتی معاہدے کو محض ایک تجارتی معاہدے سے بڑھ کر سمجھیں۔ انہوں نے کہا: ’’اسے شراکت داری کو وسعت دینے والے ایک ذریعے کے طور پر دیکھیں۔‘‘ ان کے مطابق، یہ معاہدہ پولینڈ کی کمپنیوں کے لیے ہندوستانی منڈی تک رسائی کے وسیع تر مواقع فراہم کرتا ہے اور ہندوستانی کمپنیوں کے لیے یورپ میں مواقع کا دائرہ وسیع کرتا ہے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر سونووال نے ہندوستان کے فلسفے ’’بااختیار بنانے کے لیے قوت‘‘ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مقابلہ کرنے کی قوت سے آگے تعاون کرنے کی قوت موجود ہے۔ انہوں نے کہا: ’’ہندوستان کی ترقی پولینڈ کے لیے مواقع پیدا کر سکتی ہے۔ پولینڈ کی صلاحیتیں ہندوستان کو مزید مضبوط بنا سکتی ہیں۔ اور دونوں ممالک کے کاروباری ادارے مل کر دنیا کے لیے حل تیار کر سکتے ہیں۔‘‘
******
ش ح۔ ش ا ر۔ ول
Uno-6534