پوسٹ کرنے کی تاریخ:
22 OCT 2026 2:17PM by PIB Delhi
|
14 اکتوبر 2026 کو مرکزی کابینہ نے قومی سماجی امدادی پروگرام کو 27-2026 سے 31-2030تک مزید پانچ سال جاری رکھنے کی منظوری دی، جس کے لیے 53,428 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس پروگرام کا نام اب پردھان منتری سماجِک سہایتا یوجنا رکھ دیا گیا ہے اور اس کی چار ذیلی اسکیموں کے نام بھی تبدیل کر دیے گئے ہیں۔ بزرگوں، بیواؤں اور خاندانی امداد سے متعلق پنشن اسکیمیں اپنی موجودہ شکل میں جاری رہیں گی، تاہم معذوری پنشن اسکیم میں ترمیم کی گئی ہے۔ اب اس اسکیم کے تحت اہلیت کے لیے معذور افراد کے حقوق کے قانون، 2016 کے مطابق 40 فیصد معذوری کی حد مقرر کی گئی ہے، جبکہ پہلے یہ حد 80 فیصد تھی۔ اس کے علاوہ، اہلیت کے لیے مقررہ 18 سال کی کم از کم عمر کی شرط بھی ختم کر دی گئی ہے، جس کے نتیجے میں اب پیدائش سے ہی اس اسکیم کے تحت اہلیت حاصل کی جا سکتی ہے۔ مرکزی حکومت کی جانب سے مالی امداد بڑھا کر صفر سے 79 سال تک کی عمر کے افراد کے لیے 375 روپے ماہانہ اور 80 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد کے لیے 625 روپے ماہانہ کر دی گئی ہے۔ مزید برآں، معذوری پنشن اسکیم کے تحت مستفید ہونے والوں کی تعداد 8.33 لاکھ سے بڑھا کر 27.48 لاکھ کر دی گئی ہے۔
|
|
سماجی امداد کے لیے ایک نئے عزم کے ساتھ پروگرام
|
وزیر اعظم کی صدارت میں مرکزی کابینہ نے 14 اکتوبر 2026 کو دیہی ترقی کے محکمے کی اس تجویز کو منظوری دی کہ قومی سماجی امدادی پروگرام کو مزید پانچ سال تک جاری رکھا جائے۔ یہ منظوری 27-2026 سے 31-2030 تک کے لیے دی گئی ہے، جس کے تحت 53,428 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
اس منظوری میں تین امور شامل ہیں۔ پروگرام اور اس کی ہر ذیلی اسکیم کا نام تبدیل کیا گیا ہے۔ معذوری پنشن اسکیم میں ترمیم کی گئی ہے۔ دیگر ذیلی اسکیموں کو ان کی موجودہ شکل میں جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اب اس پروگرام کا نام پردھان منتری سماجِک سہایتا یوجنا رکھ دیا گیا ہے۔ اس کے تحت پنشن کی چاروں ذیلی اسکیموں کے نام بھی تبدیل کر دیے گئے ہیں۔ ضعیف العمر افراد کی پنشن اسکیم کا نام پردھان منتری وردھاواستھا پنشن یوجنا، بیواؤں کی پنشن اسکیم کا نام پردھان منتری ودھوا پنشن یوجنا، معذوری پنشن اسکیم کا نام پردھان منتری دیویانگ جن پنشن یوجنا اور خاندانی امدادی اسکیم کا نام پردھان منتری پریوار لابھ یوجنا رکھ دیا گیا ہے۔

بزرگوں کی پنشن، بیواؤں کی پنشن اور خاندانی امدادی اسکیم اپنی موجودہ شکل میں جاری رہیں گی۔ تاہم، معذوری پنشن اسکیم میں تبدیلیاں کی گئی ہیں، جن میں اہلیت کے معیار، مستفید ہونے والوں کے دائرۂ کار اور مالی امداد کی شرح میں تبدیلی شامل ہے۔
|
قومی سماجی امدادی پروگرام کیا ہے؟
|
یہ پروگرام 15 اگست 1995 کو شروع کیا گیا تھا۔ اس کے ذریعے آئین کی دفعہ 41 پر عمل درآمد کیا جاتا ہے، جس میں سرکار کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ بے روزگاری، بڑھاپے، بیماری اور معذوری کی صورت میں عوام کو امداد فراہم کرے۔ یہ مرکزی حکومت کی مکمل مالی اعانت سے چلنے والی ایک مرکزکے زیر سرپرستی اسکیم ہے، جس کے تحت 100 فیصد مالی امداد مرکزی حکومت فراہم کرتی ہے۔ اس سے یہ یقینی بنایا جاتا ہے کہ ملک میں کہیں بھی خطِ افلاس سے نیچے زندگی گزارنے والے شخص کو کم از کم ضروری امداد حاصل ہو۔ یہ پروگرام دیہی اور شہری، دونوں علاقوں کا احاطہ کرتا ہے اور اس کے تمام اجزاء کے تحت بنیادی شرط یہ ہے کہ متعلقہ خاندان خطِ افلاس سے نیچے زندگی گزار رہا ہو۔
اس پروگرام کے چار اجزا ءہیں۔ ان میں سے تین ماہانہ پنشن اسکیمیں ہیں، جو بزرگوں، بیواؤں اور معذور افراد کے لیے ہیں۔ چوتھا جزو خاندان کے بنیادی کفیل کی موت کی صورت میں یکمشت خاندانی امداد فراہم کرنے سے متعلق ہے۔
ریاستی حکومتیں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے ان اسکیموں کو بنیادی طور پر اپنے سماجی بہبود کے محکموں کے ذریعے نافذ کرتے ہیں، جبکہ کئی ریاستوں میں دیہی ترقی، خواتین و اطفال کی ترقی، محصولات یا محنت کے محکمے بھی ان پر عمل درآمد کرتے ہیں۔ مستحقین کی شناخت میں گرام پنچایتیں اور بلدیاتی ادارے فعال کردار ادا کرتے ہیں، جبکہ ادائیگی زیادہ تر براہِ راست مستفیدین کے کھاتوں میں رقم منتقل کرنے کے ذریعے کی جاتی ہے۔
ریاستی حکومتیں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے مرکزی حکومت کی جانب سے مقرر کردہ امدادی رقم کے علاوہ اپنی طرف سے بھی اضافی مالی امداد فراہم کرتے ہیں۔ ستمبر 2026 تک، فی مستفید فرد یہ اضافی امداد ماہانہ 50 روپے سے 5,700 روپے تک تھی، جس کے نتیجے میں بیشتر ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں اوسط ماہانہ پنشن تقریباً 1,100 روپے ہو جاتی ہے۔ اس طرح مرکزی حکومت کی جانب سے مقرر کردہ امدادی رقم وہ بنیادی حد ہے، جس کی بنیاد پر ہر ریاست اپنی طرف سے اضافی امداد فراہم کرتی ہے۔
اس پروگرام کے تحت تقریباً 3.09 کروڑ مستفیدین شامل تھے، جبکہ ہر ریاست اور مرکز کے زیر انتظام علاقے کے لیے اسکیم کے لحاظ سے مستفیدین کی تعداد کی الگ الگ حد مقرر تھی۔ مالی سال 2025-26 کے لیے اس پروگرام کے تحت 9,652 کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے، جن میں سے 290 کروڑ روپے معذوری پنشن کے لیے مختص تھے۔ 14 اکتوبر 2026 کی منظوری کے تحت، پروگرام کا دائرۂ کار بڑھا کر تمام 36 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں 3.20 کروڑ مستفیدین تک کر دیا گیا ہے۔

|
معذور افراد کی پنشن کی تفصیلات
|
معذور افراد کے لیے پنشن فروری 2009 میں اندرا گاندھی قومی معذوری پنشن اسکیم کے نام سے شروع کی گئی تھی۔ قومی ٹرسٹ ایکٹ، 1999 کی دفعہ 2 (او) میں شدید معذوری کی تعریف کرتے ہوئے اسے ایک یا ایک سے زیادہ متعدد معذوریوں میں 80 فیصد یا اس سے زیادہ معذوری قرار دیا گیا ہے۔ لہٰذا، پنشن حاصل کرنے کے لیے کسی شخص کی معذوری کا 80 فیصد یا اس سے زیادہ ہونا اور اس کی عمر کم از کم 18 سال ہونا ضروری تھا۔ 79 سال تک کی عمر کے مستفیدین کو مرکزی حکومت کی جانب سے ماہانہ 300 روپے، جبکہ 80 سال یا اس سے زیادہ عمر کے مستفیدین کو ماہانہ 500 روپے کی مالی امداد دی جاتی تھی۔
اس کے بعد پارلیمنٹ نے معذور افراد کے حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے کنونشن کو مؤثر بنانے کے لیے معذور افراد کے حقوق کا قانون، 2016 منظور کیا۔ اس قانون میں اس کے تحت ملنے والی مختلف سہولتوں کے لیے ایک یکساں معیار مقرر کیا گیا ہے۔ اس کی دفعہ 2 (آر) کے مطابق مخصوص معذوری کا حامل شخص وہ ہے جس میں کسی مخصوص معذوری کی شرح کم از کم 40 فیصد ہو اور جس کی تصدیق مجاز اتھارٹی نے کی ہو۔
2016 کے قانون کے تحت معذوری پنشن کے لیے اہلیت کےطریقۂ کار میں تبدیلیاں ضروری ہو گئی تھیں، تاکہ اسے 40 فیصد مخصوص معذوری سے منسلک کیا جا سکے۔
14 اکتوبر 2026 کے اپنے فیصلے کے ذریعے حکومت نے اس پنشن اسکیم، جسے اب پردھان منتری دیویانگ جن پنشن یوجنا کہا جاتا ہے، کو مخصوص معذوری کے اسی طریقۂ کار کے مطابق کر دیا ہے۔ اس نے کم از کم عمر کی شرط ختم کر دی ہے، جس کے نتیجے میں اب پیدائش سے ہی اہلیت حاصل کی جاسکتی ہے۔ اس کے علاوہ، مرکزی حکومت کی مالی امداد بڑھا کر 79 سال تک کی عمر کے افراد کے لیے 375 روپے ماہانہ اور 80 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد کے لیے 625 روپے ماہانہ کر دی گئی ہے۔ اس ذیلی اسکیم کے تحت مستفیدین کی تعداد بھی 8.33 لاکھ سے بڑھا کر 27.48 لاکھ کر دی گئی ہے۔

اہلیت کے طریقۂ کار مستفیدین کی تعداد اور مالی امداد کی شرح سے متعلق ترمیم شدہ رہنما اصول تین ماہ کے اندر جاری کیے جائیں گے اور ان پر عمل درآمد کیا جائے گا۔
|
اس فیصلے سے کن افراد کو فائدہ پہنچے گا؟
|
اس فیصلے سے تین گروپوں کو فائدہ پہنچے گا، اور ان تینوں کو الگ الگ سمجھنا ضروری ہے۔
40 سے 79 فیصد تک معذوری کی تصدیق رکھنے والے افراد، جن کے خاندان خطِ افلاس سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ 14 اکتوبر 2026 کو منظور کیا گیا مخصوص معذوری کا طریقۂ کار انہیں بھی پنشن کے دائرے میں لے آئے گا۔
بچے، پیدائش سے ہی۔ خطِ افلاس سے نیچے زندگی گزارنے والے خاندان کے ایسے بچے کو، جس کے پاس مخصوص معذوری کا سرٹیفکیٹ ہو، منظور شدہ طریقہ کارکے تحت فائدہ پہنچے گا۔ پہلے ایسے خاندانوں کو بچے کے 18 سال کا ہونے تک انتظار کرنا پڑتا تھا۔
پہلے سے پنشن حاصل کرنے والے افراد۔ انہیں حکومت کی جانب سے منظور کردہ اضافی شرح کے مطابق ماہانہ 375 روپے اور 625 روپے کی مالی امداد ملے گی۔
ان تینوں گروپوں کے لیے تین شرائط میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ معذوری کا سرٹیفکیٹ اب بھی لازمی ہے، کیونکہ 2016 کے قانون کے تحت مخصوص معذوری کی شرح کا تعین مجاز اتھارٹی کی تصدیق سے ہوتا ہے۔ متعلقہ خاندان کا خطِ افلاس سے نیچے ہونا بھی ضروری ہے، جبکہ درخواست دینے کا طریقۂ کار سرکار کے سماجی بہبود کے محکمے کے ذریعے ہی برقرار رہے گا۔
|
فلاحی نظام میں ایک یکساں طریقۂ کار
|
2011 کی مردم شماری کے مطابق، بھارت میں 2.68 کروڑ افراد معذوری کا شکار تھے، جو ملک کی کل آبادی کا 2.21 فیصد تھے۔ معذور افراد کے حقوق کے قانون، 2016 کے ضمیمے میں معذوری کی 21 اقسام متعین کی گئی ہیں۔
19 اپریل 2017 کو معذور افراد کے حقوق کا قانون، 2016 نافذ ہونے کے بعد سے، 40 فیصد معیاری معذوری کا معیار اعلیٰ تعلیم، سرکاری ملازمتوں، زمین اور رہائش سے متعلق سہولتوں میں معذور افراد کے حقوق اور مراعات کے تعین کے لیے نافذ ہے۔ 14 اکتوبر 2026 کے فیصلے کے ذریعے حکومت نے اپنے قدیم ترین سماجی امدادی پروگرام، یعنی معذوری پنشن، کو بھی معذور افراد کے حقوق کے قانون، 2016 کے مطابق کر دیا ہے۔
ترمیم شدہ رہنما اصول جاری ہونے کے بعد اس معاملے کی مکمل تفصیلات ایک سرکاری دستاویز میں یکجا ہو جائیں گی، جس میں پردھان منتری دیویانگ جن پنشن یوجنا کے تحت اہلیت کے معیار، مستفیدین کی تعداد اور مالی امداد کی شرحیں درج ہوں گی۔
حوالہ
مرکزی کابینہ
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2323264
وزارتِ دیہی ترقی
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2323266
https://www.dord.gov.in/static/uploads/2024/07/1ff5b85d83a44d7b22cda3b40547ed4c.pdf
وزارتِ سماجی انصاف اور تفویضِ اختیارات
https://cdnbbsr.s3waas.gov.in/s3e58aea67b01fa747687f038dfde066f6/uploads/2023/10/202310161053958942.pdf
https://cdnbbsr.s3waas.gov.in/s3e58aea67b01fa747687f038dfde066f6/uploads/2023/11/202311171038909259.pdf
https://cdnbbsr.s3waas.gov.in/s3e58aea67b01fa747687f038dfde066f6/uploads/2023/10/20231107101118372.pdf
https://depwd.gov.in/en/about-department/introduction/
پی آئی بی کے پس منظر پر مبنی مضامین
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2187327
https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?NoteId=158466&ModuleId=3
پی ڈی ایف دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں
*****
ش ح۔اع خ۔ اش ق
U. No-6476