وزارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری
azadi ka amrit mahotsav

اندرونِ ملک ماہی گیری میں سرمایہ کاری، قدر میں اضافے اور برآمدات کے مواقع پر توجہ مرکوز کرے گا ماہی گیری کے سرمایہ کاروں اور برآمد کنندگان کا اجلاس 2026

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 22 OCT 2026 8:16AM by PIB Delhi

مدھیہ پردیش حکومت کا محکمہ ماہی گیری اور حکومتِ ہند کی وزارتِ ماہی پروری، مویشی پروری اور ڈیری کے تحت محکمہ ماہی گیری، 23 اکتوبر 2026 کو مدھیہ پردیش کے بھوپال  میں منعقد ہونے والے ماہی گیری کے سرمایہ کاروں اور برآمد کنندگان کے اجلاس 2026 کا اہتمام کر رہے ہیں۔ اس اجلاس کا مقصد اندرونِ ملک ماہی گیری کی پیداوار اور سرمایہ کاری، ڈبہ بندی، کولڈ چین کے بنیادی ڈھانچے، قدر میں اضافے اور برآمدی منڈیوں کے درمیان روابط کو مضبوط بنانا ہے۔ اجلاس میں عموماً پیداوار پر مبنی غلبے والے نقطہ نظر  سے مربوط ویلیو چین کے ماڈل کی جانب منتقلی کی حوصلہ افزائی کی جائے گی، جس میں ماہی گیروں اور ماہی پرور افرادکے لیے منڈیوں تک رسائی اور منافع کو بہتر بنانے پر توجہ دی جائے گی۔

اس اجلاس  میں سرمایہ کار برآمد کنندگان، ماہی گیر افراد، مدھیہ پردیش کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے 1000 سے زیادہ ماہی پرور، ماہی گیری کی کوآپریٹو سوسائٹیاں، ماہی پرور پروڈیوسر تنظیمیں (ایف ایف پی او)، کاروباری افراد، اسٹارٹ اپس، ڈبہ بندی سے وابستہ ادارے، مالیاتی ادارے، تحقیقی تنظیمیں اور دیگر متعلقہ فریق جمع ہوں گے۔ اس میں کاروباری اداروں کی ترقی، مالی وسائل تک رسائی، منڈیوں سے روابط اور اندرونِ ملک ماہی گیری کی ویلیو چین میں باہمی تعاون کے مواقع پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا، جس میں خاص طور پر اندرونی ریاستوں کو ماہی گیری میں سرمایہ کاری اور برآمدات کے نظام سے مربوط کرنے پر زور دیا جائے گا۔

اس اجلاس کی ایک اہم خصوصیت مدھیہ پردیش ماہی گیری سرمایہ کاری اور برآمدات کے رہنما خطوط، 2026 کا اجرا ہوگا۔ مرکزی حکومت نے مدھیہ پردیش کو آبی ذخائر میں ماہی گیری کے کلسٹر کے طور پر نوٹیفائی کیا ہے۔ اس پالیسی کا مقصد ماہی گیری کی ویلیو چین کے اہم شعبوں میں سرمایہ کاری کو سہولت فراہم کرنا ہے، جن میں ہیچریاں، مچھلی کے بیج اور خوراک، آبی ذخائر اور پنجرے پرمبنی ماہی گیری، آبی جانوروں کی صحت، ڈبہ بندی، کولڈ چین کا بنیادی ڈھانچہ، لاجسٹکس، قدر میں اضافہ اور منڈی کی ترقی شامل ہیں۔

اس پروگرام میں اندرونِ ملک ریاستوں کی برآمدی صلاحیت سے متعلق معیاری عملی طریقۂ کار (ایس او پی) کا اجرا اور مربوط پنجرے پر مبنی ماہی پروری یونٹس کا ورچوئل افتتاح بھی شامل ہوگا۔ اس تقریب کے دوران ماہی پروری، مویشی پروری اور ڈیری اور پنچایتی راج کے مرکزی وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ، مدھیہ پردیش میں آبی ذخائر اور امرت سرووروں کی مربوط ترقی کے لیے انتظامی منظوری حوالے کریں گے۔ توقع ہے کہ ان اقدامات سے اندرونِ ملک ماہی پروری میں سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا، آبی وسائل کے پیداواری استعمال کو تقویت حاصل ہوگی اور کاروباری سرگرمیوں کی ترقی کی حوصلہ افزائی ہوگی۔

ہندوستان کے بڑھتے ہوئے ماہی پروری کے شعبے اور غذائی تحفظ، روزگار کے ذرائع اور برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی میں اس کے بڑھتے ہوئے تعاون کے تناظر میں اس اجلاس کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ ہندوستان میں مچھلی کی پیداوار 25-2024 میں بڑھ کر 197.75 لاکھ ٹن تک پہنچ گئی، جس میں سے 151.60 لاکھ ٹن پیداوار اندرونِ ملک ماہی پروری سے حاصل ہوئی، جو ملک کی مچھلی کی مجموعی پیداوار کا تقریباً تین چوتھائی حصہ ہے۔26-2025 میں ہندوستان کی سمندروں سے حاصل ہونے والی  غذاکی برآمدات کی مالیت 73890 کروڑ روپے رہی۔ یہ اعداد و شمار اندرونِ ملک ماہی پروری کی صلاحیت سے بھرپور استفادہ  کرنے کے لیے بنیادی ڈھانچے، ڈبہ بندی  کی صلاحیتوں اور منڈیوں سے روابط کو مضبوط بنانے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔

مدھیہ پردیش میں تقریباً 4.50 لاکھ ہیکٹیئر رقبے پر محیط آبی وسائل موجود ہیں، جو اندرونِ ملک ماہی پروری کی ترقی کے لیے وسیع امکانات فراہم کرتے ہیں۔ اس اجلاس کا مقصد ریاست کے ساتھ ساتھ دیگر اندرونی ریاستوں میں مچھلی کی پیداوار کے مراکز کو سرمایہ کاری، ڈبہ بندی، قدر میں اضافے اور ملکی و برآمدی منڈیوں سے جوڑنا ہے۔

اس اجلاس میں مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو؛ ماہی پروری، مویشی پروری اور ڈیری اور پنچایتی راج کے مرکزی وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ عرف للن سنگھ؛ ماہی پروری، مویشی پروری اور ڈیری اور پنچایتی راج کے وزیر مملکت پروفیسر ایس پی سنگھ بگھیل اور حکومتِ مدھیہ پردیش کے ماہی گیروں کی بہبود اور ماہی پروری کی ترقی کے محکمے کےوزیر جناب نارائن سنگھ پوار شرکت کریں گے۔

متعلقہ شراکت داروں کی شرکت اور سرمایہ کاری و منڈیوں کی ترقی سے متعلق تبادلۂ خیال کے ذریعے اس اجلاس کا مقصد اندرونِ ملک ماہی پروری کی ایسی ویلیو چین کو فروغ دینا ہے جو زیادہ مسابقتی ہو اور منڈی کی ضروریات کے مطابق کام کرے، کاروباری اداروں اور برآمد کنندگان کے لیے مواقع کو وسعت دے اور ماہی گیروں اور ماہی پروروں  کے لیے روزگار اور آمدنی کے مواقع کو مزید مضبوط بنائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

ش ح۔م ش ۔ن م۔

U-6460

                          


(ریلیز آئی ڈی: 2326398) وزیٹر کاؤنٹر : 8
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Gujarati