امور داخلہ کی وزارت
مرکزی داخلہ سکریٹری جناب گووند موہن نے گجرات کے ایکتا نگر میں منعقد ہونے والے راشٹریہ ایکتا دیوس 2026 اور بھارت پرو 2026 کی تقریبات کے سلسلے میں نئی دہلی میں پریس کانفرنس سے خطاب کیا
تقریبات 31 اکتوبر کو منعقد ہوں گی اور ان کا آغاز وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی جانب سے مجسمہ اتحاد پر سردار ولبھ بھائی پٹیل کو خراج عقیدت پیش کرنے سے ہوگا
اس سال کی ایکتا پریڈ میں تبدیلیاں کی گئی ہیں اور اسے مزید پُر رونق، متنوع اور پرکشش بنایا جائے گا
ایکتا دیوس پریڈ میں پولیس فورسز، مرکزی مسلح پولیس فورسز (سی اے پی ایف) اور مرکزی پولیس تنظیموں (سی پی او) کی جانب سے انجام دیے جانے والے غیر معمولی کام کو نمایاں کیا جائے گا
ایکتا پریڈ کا مارچ پاسٹ ملک میں مسلح نکسل ازم کے خاتمے کا جشن ہوگا
ایکتا پریڈ کے ذریعے ملک بھر کے لوگوں کو ایکتا نگر میں راشٹریہ ایکتا دیوس کی تقریبات میں شرکت کرنے اور ان سے لطف اندوز ہونے کی ترغیب دی جائے گی
پریڈ میں ریاستی پولیس فورسز اور مرکزی مسلح پولیس فورسز کے دستے شامل ہوں گے، جو ملک میں مسلح نکسل ازم کے خلاف جدوجہد میں صفِ اول میں رہے ہیں
نیشنل اسکول آف ڈرامہ (این ایس ڈی) ’نکسل مکت بھارت‘ کے موضوع پر ایک ڈرامائی پیش کش کرے گا، جس میں ملک کے 126 اضلاع سے تعلق رکھنے والے تقریباً 2,000 فن کار حصہ لیں گے۔ ان اضلاع میں کسی نہ کسی وقت مسلح نکسل ازم کا خطرہ رہا ہے
نکسل ازم سے متاثرہ 126 اضلاع کے تقریباً 5,000 افراد کو تماشائیوں کی حیثیت سے مدعو کیا گیا ہے
ایکتا نگر میں ثقافتی پروگراموں، بشمول جھانکیوں، کا موضوع ’وندے ماترم‘ ہوگا
پہلی بار جھانکیوں میں عوام کی امنگوں کی عکاسی کی گئی ہے، جس کا مشاہدہ ایکتا نگر میں کیا جا سکے گا
5,000 فن کاروں کی ثقافتی پیش کش ’ایک بھارت شریشٹھ بھارت‘ کی ایک شاندار مثال ہوگی
اس سال وزیر اعظم کے سامنے پیش کیے جانے والے ڈرامے کا موضوع جناب بنکم چندر چٹرجی کا انقلابی ناول ’آنند مٹھ‘ ہوگا
یہ ڈراما ’آنند مٹھ‘ کے اس پائیدار فلسفے پر مبنی عصری پیش کش ہوگا کہ ملک کے روشن مستقبل کی تعمیر ہر ایک ہندوستانی کی ذمہ داری ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
21 OCT 2026 8:17PM by PIB Delhi
مرکزی داخلہ سکریٹری جناب گووند موہن نے آج نئی دہلی میں گجرات کے ایکتا نگر میں منعقد ہونے والی راشٹریہ ایکتا دیوس 2026 اور بھارت پرو 2026 کی تقریبات کے سلسلے میں پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔

میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے مرکزی داخلہ سکریٹری جناب گووند موہن نے کہا کہ اس سال کی ایکتا پریڈ کو مزید پُر رونق، متنوع اور پرکشش بنایا جائے گا۔ مرکزی تقریب 31 اکتوبر 2026 کو شروع ہوگی۔ وزیر اعظم جناب نریندر مودی صبح کے وقت مجسمۂ اتحاد پر سردار ولبھ بھائی پٹیل کو خراج عقیدت پیش کریں گے۔ ایکتا پریڈ شام کے وقت منعقد ہوگی۔ اس پریڈ میں 2026 میں ہندوستان کو مسلح نکسل ازم سے نجات دلانے کی عظیم کامیابی کو نمایاں کیا جائے گا۔
جناب گووند موہن نے کہا کہ ایکتا نگر میں راشٹریہ ایکتا دیوس کی تقریبات کا تصور دو مقاصد کو مدنظر رکھتے ہوئے پیش کیا گیا ہے۔ پہلا مقصد ملک کی پولیس فورسز، مرکزی مسلح پولیس فورسز (سی اے پی ایف) اور مرکزی پولیس تنظیموں (سی پی او) کی جانب سے انجام دیے جانے والے غیر معمولی کام کو اجاگر کرنا ہے۔ دوسرا مقصد ملک کے تمام حصوں سے لوگوں کو مدعو کرنا ہے تاکہ وہ سردار ولبھ بھائی پٹیل کے دنیا کے سب سے بڑے مجسمے کے ساتھ ایکتا نگر کے مقامی ماحول اور گرد و نواح کا مشاہدہ کر سکیں اور اس سے لطف اندوز ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ایکتا نگر کے آس پاس کئی دیگر سیاحتی مقامات بھی تیار کیے گئے ہیں، جس کے نتیجے میں یہ اب ملک کے نمایاں ترین اور پُر کشش سیاحتی مقامات میں سے ایک بن چکا ہے۔
مرکزی داخلہ سکریٹری نے کہا کہ ایکتا دیوس پریڈ کے دوران ملک میں مسلح نکسل ازم کے خاتمے کا جشن منایا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے تین منفرد اور مختلف پیش کشیں کی جائیں گی:
1. اس سال پریڈ میں ریاستی پولیس فورسز اور مرکزی مسلح پولیس فورسز کے دستے شامل ہوں گے، جو ملک میں مسلح نکسل ازم کے خلاف جدوجہد میں صف اول میں رہے ہیں۔ 31 اکتوبر 2026 کو ان میں سے ہر دستے کے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے سامنے سے گزرنے کے دوران کئی ایل ای ڈی اسکرینوں پر ایک مختصر فلم دکھائی جائے گی، جس میں ان کی غیر معمولی کامیابیوں کی نمایاں خصوصیات کو اجاگر کیا جائے گا۔
2. نیشنل اسکول آف ڈرامہ (این ایس ڈی) ملک کے 126 اضلاع سے تعلق رکھنے والے تقریباً 2,000 فن کاروں پر مشتمل ایک خصوصی پیش کش پیش کرے گا۔ ان اضلاع نے کسی نہ کسی دور میں مسلح نکسل ازم کا خطرہ جھیلا ہے۔ یہ فن کار اپنی پیش کشوں کے ذریعے اس دور کی جد و جہد کو پیش کریں گے، جب مسلح نکسل ازم عروج پر تھا اور لوگوں کی جان و مال کو خطرات لاحق تھے۔
3. ان 126 اضلاع سے تعلق رکھنے والے تقریباً 5,000 افراد کو مدعو کیا گیا ہے۔ وہ تمام پیش کشوں کے دوران تماشائیوں کی حیثیت سے موجود رہیں گے اور باہمی تبادلۂ خیال کے دوران مسلح نکسل ازم کے دور کے اپنے تجربات بھی بیان کریں گے۔
مرکزی داخلہ سکریٹری نے کہا کہ ان تینوں اجزا کے ذریعے ہم مسلح نکسل ازم کے خلاف ہندوستان کی جد و جہد، اس کے خاتمے اور سب سے اہم بات یہ دیکھ سکیں گے کہ آج تشدد اور انتہا پسندی کی جگہ ان اضلاع میں ترقی کی ایک نئی لہر نے لے لی ہے۔
جناب گووند موہن نے کہا کہ راشٹریہ ایکتا دیوس کی تقریبات میں ثقافتی پیش کشوں کا موضوع ’وندے ماترم‘ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سال ’وندے ماترم‘ کی 150ویں سالگرہ کا سال ہے اور اس سال کی پریڈ میں شامل کی گئی کئی نئی خصوصیات اسی سے ماخوذ ہیں۔
داخلہ سکریٹری نے کہا کہ اس سال کی تقریبات کی ایک اور نئی خصوصیت یہ ہے کہ پریڈ اور تمام ثقافتی پیش کشیں شام کے وقت منعقد ہوں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ دن کے وقت درجہ حرارت زیادہ رہنے کے باعث تقریبات شام میں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ انہیں مزید پُر کشش اور یادگار بنایا جا سکے۔
مرکزی داخلہ سکریٹری نے کہا کہ عام طور پر جھانکیاں سرکاری وزارتوں، محکموں، ریاستی حکومتوں یا دیگر سرکاری اداروں کی جانب سے تیار اور ڈیزائن کی جاتی ہیں۔ تاہم، اس مرتبہ قومی سطح پر مائی گو کے ذریعے اور گجرات کے ہر ضلع میں قومی مقابلوں کا انعقاد کیا گیا، جن کے ذریعے جھانکیوں کے لیے ڈیزائن اور خصوصیات مدعو کی گئیں۔
جناب گووند موہن نے کہا کہ قومی اور ریاستی سطح کے ان مقابلوں سے موصول ہونے والے تمام موضوعات اور ڈیزائنوں کو یکجا کرتے ہوئے ان کی بنیاد پر مجموعی طور پر 15 جھانکیاں تیار کی جائیں گی۔ ان جھانکیوں کے ڈیزائن مکمل طور پر عوام تیار کریں گے اور ان میں کسی بھی سرکاری وزارت یا محکمے کی شمولیت نہیں ہوگی۔ جناب موہن نے مزید کہا کہ ہم اس تصور کی جانب بڑھ رہے ہیں کہ اہم تقریبات میں پیش کی جانے والی جھانکیوں میں سرکاری اداروں اور ریاستی حکومتوں کے طے شدہ موضوعات کے بجائے عام ہندوستانیوں کی امنگوں کی عکاسی کی جائے۔ ایکتا نگر میں پہلی بار عوام کی تیار کردہ جھانکیاں دیکھنے کو ملیں گی۔
مرکزی داخلہ سکریٹری نے کہا کہ ایک اور اہم تبدیلی ثقافتی پروگرام کے حوالے سے کی گئی ہے۔ اب تک ثقافتی پروگرام وزارت ثقافت کے زیر اہتمام منعقد کیا جاتا تھا، لیکن اس مرتبہ گجرات کے عوام کو اس میں شامل کیا گیا ہے۔ گجرات میں مختلف ریاستوں سے تعلق رکھنے والے ایسے گروہ آباد ہیں، جو کئی نسلوں سے وہاں رہ رہے ہیں اور انہوں نے گجرات کو اپنا وطن بنا لیا ہے۔ ہم نے ان مختلف گروہوں سے رابطہ کیا اور ان سے درخواست کی کہ وہ اپنی آبائی ریاستوں کی ثقافتی پیش کشوں کی بنیاد پر اپنے پروگرام خود ترتیب دیں۔ اس طرح کے تقریباً 50 ثقافتی عناصر کو یکجا کرکے تقریباً 5,000 فن کاروں پر مشتمل ایک ثقافتی پیش کش تیار کی گئی ہے۔ یہ ’ایک بھارت شریشٹھ بھارت‘ کی ایک شاندار مثال ہوگی، جس کا مظاہرہ بھی کیا جائے گا۔
جناب گووند موہن نے کہا کہ گزشتہ سال سے نیشنل اسکول آف ڈرامہ کی جانب سے تیار کردہ ایک بڑے ڈرامے کی پیش کش کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ سال اس کا موضوع سردار پٹیل تھے۔ اس سال ’وندے ماترم‘ کا سال ہونے کے باعث ڈرامے کا موضوع جناب بنکم چندر چٹرجی کا انقلابی ناول ’آنند مٹھ‘ ہوگا۔ یہ ڈراما اسی ناول پر مبنی ہوگا۔ تاہم، اس میں ’آنند مٹھ‘ کے اس دیرپا فلسفے کو بھی اجاگر کیا جائے گا کہ ہر ہندوستانی کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک کے روشن مستقبل کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرے، اپنے ثقافتی ورثے سے واقف ہو اور ملک کی امنگوں کی تکمیل میں رضاکارانہ طور پر اپنا تعاون کرے۔
***
ش ح۔ ف ش ع
U: 6457
(ریلیز آئی ڈی: 2326278)
وزیٹر کاؤنٹر : 4