وزارت دفاع
azadi ka amrit mahotsav

ایس سی او کی 25ویں سربراہانِ حکومت کونسل کی میٹنگ: وزیر دفاع نے دہشت گردی کے پورے  ماحولیاتی نظام کو ختم کرنے کے لیے متحدہ کوششوں پر زور دیا


’’دہشت گردی کا کوئی جواز نہیں، اس سے نمٹنے میں دوہرا معیار نہیں ہونا چاہیے اور اس کے حامیوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے‘‘

رابطہ کاری کا نظام تمام ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام اور باہمی مشاورت پر مبنی ہونا چاہیے: جناب راج ناتھ سنگھ

’’ایس سی او کی کامیابی نوجوانوں، کاروباری افراد، کسانوں اور چھوٹے کاروباروں کے لیے مواقع پیدا کرنے میں مضمر ہے ‘‘

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 20 OCT 2026 1:16PM by PIB Delhi

وزیر دفاع جناب راج ناتھ سنگھ نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے رکن ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ دہشت گردی کے پورے  ماحولیاتی نظام کو ختم کرنے کے لیے متحد ہوکر کوششیں کریں۔ انہوں نے دہشت گردی کو امن اور ترقی کے لیے سنگین ترین خطرات میں سے ایک قرار دیا۔ وہ 20 اکتوبر 2026 کو تاجکستان کے شہر دوشنبہ میں شنگھائی تعاون تنظیم کی سربراہانِ حکومت کونسل (سی ایچ جی) کی 25ویں میٹنگ سے خطاب کر رہے تھے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ ’’دہشت گردی کے نتیجے میں بے گناہ لوگوں کی جانیں ضائع ہوتی ہیں اور سرمایہ کاری و تجارت متاثر ہوتی ہے۔ یہ معاشروں میں انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہے اور نوجوانوں کو ان مواقع سے محروم کردیتی ہے جن کے وہ بجا طور پر مستحق ہیں۔ دہشت گردی کا کوئی جواز نہیں ہوسکتا، اس سے نمٹنے میں کوئی دوہرا معیار نہیں ہونا چاہیے اور ان لوگوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے جو دہشت گردوں کو مالی وسائل فراہم کرتے ہیں، ان کی حمایت کرتے ہیں یا انہیں محفوظ پناہ گاہیں مہیا کرتے ہیں‘‘ ۔

جناب راج ناتھ سنگھ نے اگست اور ستمبر 2026 میں بشکیک میں منعقدہ ایس سی او سربراہ اجلاس میں ہونے والی بات چیت کا حوالہ دیا، جس میں وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے سلامتی، رابطہ کاری اور مواقع سے متعلق امور پر تنظیم کی جانب سے ٹھوس اقدامات کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ وزیر دفاع نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت کا یقین ہے کہ اقتصادی روابط تمام رکن ممالک کے لیے جامع اور باہمی طور پر فائدہ مند ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا، ’’بھارت کا ماننا ہے کہ ایس سی او کو خودمختار مساوات، اتفاقِ رائے اور باہمی احترام کے اصولوں کی پابندی کرتے ہوئے مؤثر اور ثابت قدم رہنا چاہیے۔ اداروں کی تعداد میں اضافہ لازماً زیادہ کامیابیوں کا ضامن نہیں ہوتا۔ نئے طریقۂ کار کو واضح طور پر متعین ضروریات پر توجہ دینی چاہیے، ایک ہی کام کو دہرانے سے گریز کرنا چاہیے اور رکن ممالک کو عملی فوائد پہنچانے کو ترجیح دینی چاہیے۔‘‘

وزیر دفاع نے اس بات پر زور دیا کہ ایس سی او کو عالمی معیشت کے غیر یقینی ماحول سے نمٹنے کے لیے اتفاقِ رائے پیدا کرنا اور اسے ٹھوس اقدامات میں تبدیل کرنا چاہیے۔ اس ماحول کی نمایاں خصوصیات میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی، تجارت اور رسد کے سلسلوں میں رکاوٹیں، توانائی اور غذائی تحفظ سے متعلق خدشات اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ابھرتی ہوئی خلیج شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مضبوط اور لچک دار رسدی سلسلوں کو فروغ دینے، تجارت اور سرمایہ کاری میں سہولت فراہم کرنے اور ترقی کو آگے بڑھانے کے لیے ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔ اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ اقتصادی تعاون کے فوائد معاشرے کے تمام طبقات تک پہنچنے چاہئیں، انہوں نے 2026-2030 کی مدت کے لیے کثیر فریقی تجارتی و اقتصادی تعاون کے پروگرام کے ایکشن پلان کو منظور کرنے کے لیے بھارت کی حمایت کا اعادہ کیا۔

جناب راج ناتھ سنگھ نے بشکیک میں منعقدہ ایس سی او سربراہ اجلاس میں تاشقند میں یونیورسل سینٹر اور دوشنبہ میں انسدادِ منشیات مرکز کو تنظیم کے مستقل اداروں کے طور پر قائم کرنے کے لیے کیے گئے فیصلوں کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان اداروں کی مؤثریت کا انحصار مؤثر تال میل اور کاموں کی بروقت تکمیل پر ہوگا۔

مشترکہ خوشحالی کے لیے رابطہ کاری کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ بھارت ان اقدامات کی حمایت کرتا ہے جو منڈیوں کو آپس میں جوڑیں، تجارت کو آسان بنائیں اور ترقی کے نئے راستے کھولیں۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی شمال-جنوب ٹرانسپورٹ کوریڈور اور چابہار بندرگاہ جیسے اقدامات وسطی ایشیا کو وسیع تر منڈیوں سے جوڑنے میں نمایاں کردار ادا کرسکتے ہیں۔

جناب راج ناتھ سنگھ نے اس بات پر زور دیا کہ رابطہ کاری تمام ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام اور باہمی مشاورت پر مبنی ہونی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان اصولوں پر مبنی نہ ہونے والے منصوبے پائیدار ثابت نہیں ہوں گے۔ انہوں نے اس ضرورت پر بھی زور دیا کہ محض  فزیکل رابطہ کاری تک محدود رہنے کے بجائے کسٹم کے طریقۂ کار کو آسان بنایا جائے، ڈیجیٹل دستاویزات کے استعمال کو فروغ دیا جائے، رسدی نظام کو بہتر بنایا جائے اور ایک دوسرے کے ساتھ مطابقت رکھنے والے ڈیجیٹل حل اختیار کیے جائیں، تاکہ پورے خطے میں کاروبار کرنے کی لاگت کم ہوسکے۔

وزیر دفاع نے وسطی ایشیا میں بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی مالی اعانت سے متعلق اس سمپوزیم کا ذکر کیا، جو اس ماہ کے اوائل میں ممبئی میں منعقد ہوا تھا۔ انہوں نے وسطی ایشیائی ممالک اور ایس سی او کے شراکت داروں کی فعال شرکت پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے پہلی مرتبہ منعقد ہونے والے ایس سی او ایشیائی اقتصادی مکالمے کے انعقاد کو بھی سراہا۔

جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا، ’’ہماری کامیابی کا پیمانہ یہ ہونا چاہیے کہ ہم نوجوانوں کے لیے کتنے مواقع پیدا کرتے ہیں، اپنے کاروباری افراد کے لیے کتنی نئی منڈیاں کھولتے ہیں، اپنے کسانوں اور چھوٹے پیمانے پر کاروبار کرنے والوں کو کتنی ٹیکنالوجیز فراہم کرتے ہیں اور معاشروں کے درمیان کتنے روابط کو فروغ دیتے ہیں۔‘‘

وزیر دفاع نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت کا اپنا ترقیاتی تجربہ اس تبدیلی کی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے جو ترقی کو رفتار دینے اور مسائل کے حل فراہم کرنے والی ٹیکنالوجی اور اختراع میں موجود ہے۔ انہوں نے ملک کے ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کا ذکر کیا، جس نے عوامی خدمات کی فراہمی کے نظام کو تبدیل کیا ہے اور مالی شمولیت کو فروغ دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت نے دنیا کے سب سے بڑے اسٹارٹ اَپ نظام میں سے ایک قائم کیا ہے، اور خواتین کی قیادت میں ترقی پر ملک کی توجہ اس یقین پر مبنی ہے کہ خواتین ترقی کی راہ متعین کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہیں۔

جناب راج ناتھ سنگھ نے اس بات کو اجاگر کیا کہ بین الاقوامی شمسی اتحاد اور آفات سے محفوظ بنیادی ڈھانچے کے لیے اتحاد جیسے بھارت کے عالمی اقدامات سستی صاف توانائی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے محفوظ ترقی میں معاون ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مشن لائف پائیدار طرزِ زندگی اور ذمہ دارانہ کھپت کو فروغ دیتا ہے، جب کہ عالمی حیاتیاتی ایندھن اتحاد زیادہ صاف ستھرے اور پائیدار توانائی کے حل کو فروغ دیتا ہے۔

وزیر دفاع نے ایس سی او پر زور دیا کہ وہ گزشتہ 25 برسوں میں قائم ہونے والی مضبوط بنیاد کو آگے بڑھائے اور اتفاقِ رائے پر مبنی تعاون اور ٹھوس نتائج پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے مستقبل کے لیے ایک جامع لائحۂ عمل مرتب کرے۔ انہوں نے ان مقاصد کے حصول کے لیے تمام رکن ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کے بھارت کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے رکن ممالک کو اس سال کے آخر میں بھارت کی میزبانی میں منعقد ہونے والے پہلے ایس سی او تہذیبی مکالمے کے فورم میں شرکت کی دعوت بھی دی۔

اس میٹنگ میں ایس سی او کے رکن ممالک کے درمیان کثیر فریقی اقتصادی اور تجارتی تعاون میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور ٹرانسپورٹ، مالیات، ڈیجیٹل معیشت اور سماجی ترقی جیسے شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے اقدامات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

وفود کے سربراہان نے ایس سی او کی سربراہانِ حکومت کونسل کی 25ویں میٹنگ کا مشترکہ اعلامیہ منظور کیا، جس میں 2027 کے لیے ایس سی او کا بجٹ، متعلقہ مالیاتی اور انتظامی فیصلے اور 2026-2030 کے لیے کثیر فریقی تجارتی و اقتصادی تعاون پروگرام (پی ایم ٹی ای سی) کا ایکشن پلان شامل ہیں۔

ایس سی او کی سربراہانِ حکومت کونسل (سی ایچ جی) تنظیم کا ایک اہم طریقۂ کار ہے، جو رکن ممالک کے درمیان اقتصادی اور عملی تعاون کے دیگر شعبوں کو فروغ دینے کی ذمہ داری انجام دیتا ہے۔ بھارت 2017 سے ایس سی او کا مکمل رکن ہے اور تنظیم کے مختلف طریقۂ کار میں سرگرمی سے شرکت کرتا رہا ہے۔

 

******

ش ح۔ ف ا ۔ م ر

U-NO. 6355

 


(ریلیز آئی ڈی: 2325437) وزیٹر کاؤنٹر : 10
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Tamil