وزارت آیوش
عالمی یومِ مینوپاز 2026: آیوروید میں مینوپاز سے متعلق صحت کے لیے جامع طریقہ کار پر زور
وزارت آیوش نے مینوپاز کے دوران خواتین کی صحت کے لیے بیداری، احتیاطی نگہداشت اور تحقیق کی اہمیت اجاگر کی
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
17 OCT 2026 6:07PM by PIB Delhi
عالمی یومِ مینوپاز 2026 کے موقع پر، جو 18 اکتوبر کو منایا جا رہا ہے، وزارت آیوش نے مینوپاز کے دوران خواتین کی صحت کے حوالے سے بیداری، احتیاطی نگہداشت اور جامع طریقہ کار کی اہمیت اجاگر کی ہے۔ وزارت اپنے مرکزی کونسل برائے تحقیقاتی آیورویدک علوم (سی سی آر اے ایس) کے ذریعے مینوپاز سے متعلق صحت کو بہتر طور پر سمجھنے اور اس مرحلے کے دوران جسمانی صحت، جذباتی بہبود اور معیار زندگی پر توجہ دینے کی کوشش کر رہی ہے۔
مینوپاز ایک قدرتی حیاتیاتی مرحلہ ہے، جس میں بیضہ دانی کے فولیکولر عمل کے ختم ہونے کے بعد ماہواری مستقل طور پر رک جاتی ہے۔ یہ عموماً 45 سے 55 سال کی عمر کے درمیان ہوتا ہے۔ مینوپاز کی جانب منتقلی کے دوران ماہواری میں بے قاعدگی، اچانک گرمی محسوس ہونا، اندام نہانی میں خشکی، نیند میں خلل، مزاج میں تبدیلی، جوڑوں میں درد اور بے چینی سمیت متعدد جسمانی اور نفسیاتی تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں۔ آیوروید میں اس مرحلے سے وابستہ علامات کو ’رجونی ورتی‘ اور اس سے متعلق طبی علامات کے تناظر میں بیان کیا گیا ہے۔ اس مرحلے کے دوران خواتین کی صحت اور بہبود کے لیے ان علامات کی بروقت شناخت اور مناسب انتظام اہم ہے۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق مینوپاز کی جانب منتقلی کا عمل بتدریج ہو سکتا ہے اور عموماً ماہواری کے دورانیے میں تبدیلیوں سے شروع ہوتا ہے۔ ’پیری مینوپاز‘ اس مدت کو کہا جاتا ہے جب پہلی مرتبہ یہ علامات ظاہر ہوں اور آخری ماہواری کے ایک سال بعد تک یہ مرحلہ جاری رہتا ہے۔ یہ کئی سال تک برقرار رہ سکتا ہے اور جسمانی، جذباتی، ذہنی اور سماجی بہبود کو متاثر کر سکتا ہے۔ ہارمونل اور غیر ہارمونل دونوں طرح کے طریقہ علاج پیری مینوپاز کی علامات کو کم کرنے میں مددگار ہو سکتے ہیں۔
وزارت آیوش کے سکریٹری ویدیا راجیش کوٹیچا نے کہا، ’’خواتین کی صحت کو زندگی کے ہر مرحلے میں مستقل توجہ کی ضرورت ہوتی ہے، جس میں مینوپاز کی جانب منتقلی بھی شامل ہے۔ آیوروید ایک جامع فریم ورک فراہم کرتا ہے جس میں روک تھام، مناسب طرز زندگی اور ہر فرد کی ضروریات کے مطابق نگہداشت پر زور دیا جاتا ہے۔ وزارت آیوش اس شعبے میں تحقیق اور سائنسی توثیق کو مضبوط بنانے کے ساتھ خواتین کی صحت اور ان کی بہبود و معیار زندگی کو بہتر بنانے والے طریقہ کار کے بارے میں بیداری بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔‘‘
سی سی آر اے ایس کے ڈائریکٹر جنرل پروفیسر رابینارائن آچاریہ نے کہا، ’’آیوروید مینوپاز کو کسی بیماری کے بجائے ایک قدرتی تبدیلی کے طور پر دیکھتا ہے۔ رسایَن تھراپی، غذائی رہنمائی اور ذہنی بہبود کے طریقوں کے ذریعے خواتین اس مرحلے سے توازن اور وقار کے ساتھ گزر سکتی ہیں۔ سی سی آر اے ایس میں ہماری تحقیق اشوکاریستا اور آملکی رسایَن جیسی روایتی ادویاتی ترکیبات کی افادیت کی سائنسی توثیق پر مرکوز ہے، تاکہ ہارمونل توازن، ہڈیوں کی صحت اور جذباتی مضبوطی میں ان کے کردار کا جائزہ لیا جا سکے۔ بیداری اور احتیاطی نگہداشت کے ذریعے خواتین کو بااختیار بنانا ہمارے مشن کا اہم حصہ ہے۔‘‘
سی سی آر اے ایس کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر این سری کانت نے کہا، ’’مینوپاز ایک قدرتی تبدیلی ہے جس کے دوران محتاط نگہداشت ضروری ہے۔ آیوروید غذا، رسایَن تھراپی، یوگا اور جذباتی بہبود کے آزمودہ طریقوں کے ذریعے خواتین کو اس مرحلے سے توازن، توانائی اور اعتماد کے ساتھ گزرنے میں مدد دیتا ہے۔ سی سی آر اے ایس میں ہماری توجہ روایتی علم کو شواہد پر مبنی حل میں تبدیل کرنے پر ہے، تاکہ خواتین کی مجموعی صحت اور معیار زندگی کو بہتر بنایا جا سکے۔‘‘
آیوروید مینوپاز کی علامات سے نمٹنے کے لیے رسایَن (جسمانی و ذہنی توانائی کی بحالی) تھراپی، غذائی رہنمائی، مشاورت، یوگا اور جڑی بوٹیوں سے تیار کردہ ادویاتی ترکیبات کے ذریعے کثیر الجہتی طریقہ کار پیش کرتا ہے۔ اہم طریقوں میں شامل ہیں:
رسایَن اور طرز زندگی میں تبدیلی: روایتی طور پر جسمانی توانائی برقرار رکھنے اور عمر سے وابستہ جسمانی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے جسم کو تقویت دینے والی جڑی بوٹیوں اور مناسب طرز زندگی میں تبدیلیوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔
مشاورت اور جذباتی تعاون: آیوروید خود نگہداشت، ذہنی دباؤ پر قابو پانے اور خاندان کے تعاون کے ذریعے ذہنی و جذباتی بہبود پر زور دیتا ہے۔
جڑی بوٹیوں پر مبنی ادویاتی ترکیبات: اشوکاریستا، لوڈھراساوا، اوشیراساوا، چندنادی لوہ، آملکی رسایَن اور مکتا شکتی جیسی آیوروید کی روایتی ادویاتی ترکیبات مینوپاز سے متعلق صحت کے مسائل کے لیے آیورویدک طریقہ علاج میں استعمال کی جاتی ہیں۔ ان کا استعمال کسی مستند طبی ماہر کی رہنمائی میں ہی کیا جانا چاہیے۔
غذائی رہنمائی: متوازن اور متنوع غذا، جو فرد کی ضروریات کے مطابق ہو، مینوپاز کے دوران اور اس کے بعد عمومی صحت برقرار رکھنے میں مدد کر سکتی ہے۔ آیوروید میں غذائی سفارشات فرد کی جسمانی ساخت، نظام ہاضمہ کی کیفیت اور طبی حالت کے مطابق طے کی جا سکتی ہیں۔ پٹھوں کی مضبوطی اور ہڈیوں کی صحت برقرار رکھنے کے لیے مناسب مقدار میں پروٹین، کیلشیم اور دیگر ضروری غذائی اجزا خاص طور پر اہم ہیں۔
یوگا اور مراقبہ: آسن، پرانایام، مراقبہ اور دھیان کی باقاعدہ مشق جذباتی توازن، نیند کے معیار اور عضلات و ہڈیوں کی صحت میں مددگار ہو سکتی ہے۔ سیتو بندھاسن، وِپریت کرنی آسن، مارجری آسن اور شواسن جیسی یوگا مشقیں جسم کو سکون پہنچاتی ہیں اور اکڑن، کمر درد اور تھکن کو کم کرنے میں مدد کر سکتی ہیں۔ سیتالی پرانایام اور بھَرامری پرانایام کے ساتھ یوگا نیدرا بھی سکون، جذباتی توازن اور بہتر نیند میں معاون ہو سکتی ہے۔
آیوروید متوازن غذائی اور طرز زندگی کی عادات پر زور دیتا ہے، جن میں مناسب مقدار میں غذا کا استعمال، بہت زیادہ تیز اور نمکین غذاؤں سے پرہیز، شراب کے استعمال کو محدود کرنا، تمباکو سے اجتناب اور جسمانی و جذباتی دباؤ کا مؤثر انتظام شامل ہے۔
وزارت آیوش اور سی سی آر اے ایس خواتین کی صحت کے لیے آیورویدک طریقہ کار پر تحقیق کو مسلسل آگے بڑھا رہے ہیں، جس میں سائنسی شواہد تیار کرنے، طبی نتائج کا جائزہ لینے اور مینوپاز سے متعلق صحت و بہبود کے بارے میں باخبر بیداری کو فروغ دینے پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔
عالمی یومِ مینوپاز 2026 کے موقع پر وزارت آیوش نے خواتین کو اعتماد کے ساتھ مینوپاز کے مرحلے سے گزرنے اور اپنی صحت و بہبود برقرار رکھنے میں مدد کے لیے زیادہ بیداری، کھلے مکالمے اور بروقت و مناسب نگہداشت کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
مزید معلومات کے لیے، مینوپازل سنڈروم پر سی سی آر اے ایس کی آئی ای سی اشاعت تک یہاں سے رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ https://ccras.nic.in/wp-content/uploads/2024/06/Menopausal-Syndrome.pdf
************
ش ح ۔ م د ۔ م ص
(U : 6262 )
(ریلیز آئی ڈی: 2324765)
وزیٹر کاؤنٹر : 13