وزارت خزانہ
azadi ka amrit mahotsav

ڈی ایف ایس کی جانب سے سرکاری شعبے کے بینکوں، سرکاری شعبے کی بیمہ کمپنیوں اور سرکاری مالیاتی اداروں کے لیے ریزرویشن پالیسی پر ورکشاپ کا انعقاد


سرکاری شعبے کے بینکوں، سرکاری شعبے کی بیمہ کمپنیوں، سرکاری مالیاتی اداروں اور متعلقہ شعبوں کے ریگولیٹری اداروں کے 100 سے زائد شرکاء نے ریزرویشن پالیسیوں کے یکساں نفاذ پر تبادلۂ خیال میں حصہ لیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 16 OCT 2026 5:00PM by PIB Delhi

محکمۂ مالیاتی خدمات (ڈی ایف ایس)، وزارتِ خزانہ، حکومتِ ہند نے سرکاری شعبے کے بینکوں (پی ایس بیز)، سرکاری شعبے کی بیمہ کمپنیوں (پی ایس آئی سیز)، شعبہ جاتی نگراں اداروں اور سرکاری مالیاتی اداروں (پی ایف آئیز) میں حکومتِ ہند کی ریزرویشن پالیسی کے نفاذ کے موضوع پر 15 اور 16 اکتوبر 2026 کو پنچکولہ میں واقع پنجاب نیشنل بینک اسٹاف ٹریننگ کالج میں دو روزہ ورکشاپ کا انعقاد کیا۔


https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image001_20261016170102_25c144.jpg

یہ ورکشاپ پنجاب نیشنل بینک کے اشتراک سے منعقد کی گئی، جس کا مقصد سرکاری مالیاتی اداروں میں ریزرویشن پالیسیوں کے یکساں اور مؤثر نفاذ کو یقینی بنانے اور فلاحی اقدامات کو فروغ دینے کے لیے ادارہ جاتی صلاحیت کو مضبوط بنانا تھا۔

اس ورکشاپ میں 100 سے زائد شرکاء نے شرکت کی، جن میں محکمۂ مالیاتی خدمات (ڈی ایف ایس) کے تحت مختلف اداروں، بشمول تمام سرکاری شعبے کے بینکوں، سرکاری شعبے کی بیمہ کمپنیوں اور سرکاری مالیاتی اداروں کے سینئر انسانی وسائل کے افسران اور سی ایل اوز / ایل اوز شامل تھے۔ اس کے علاوہ، ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی)، پنشن فنڈ ریگولیٹری اینڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی (پی ایف آر ڈی اے) اور انشورنس ریگولیٹری اینڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف انڈیا (آئی آر ڈی اے آئی) کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

ریزرویشن سے متعلق امور کے ماہرین نے ورکشاپ سے خطاب کیا، جبکہ تبادلۂ خیال میں ریزرویشن پالیسی کے نفاذ کے عملی پہلوؤں اور اس دوران پیش آنے والے مسائل پر بھی غور کیا گیا۔ ورکشاپ کا اختتام سوال و جواب کے ایک انٹرایکٹو سیشن کے ساتھ ہوا، جس میں شرکاء کو مالیاتی خدمات کے پورے نظام میں ریزرویشن پالیسیوں کے یکساں نفاذ کے لیے قابلِ عمل اقدامات پر تبادلۂ خیال کا موقع ملا۔

*********

ش ح۔ م م۔ ق ر

UN-No-6219


(ریلیز آئی ڈی: 2324417) وزیٹر کاؤنٹر : 6
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Assamese