وزارت دفاع
بھارت-منگولیا مشترکہ ورکنگ گروپ کے 14ویں اجلاس میں دوطرفہ دفاعی شراکت داری کو مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
16 OCT 2026 4:42PM by PIB Delhi
بھارت اور منگولیا کی دفاعی وزارتوں کے درمیان مشترکہ ورکنگ گروپ کا 14واں اجلاس 16 اکتوبر 2026 کو اولان باتر میں منعقد ہوا۔ دونوں فریقوں نے جاری دوطرفہ دفاعی تعاون کی سرگرمیوں کا جامع جائزہ لیا، موجودہ اقدامات پر پیش رفت کا جائزہ لیا اور باہمی طور پر شناخت کیے گئے شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کے لیے مختلف اقدامات پر تبادلۂ خیال کیا۔ اس موقع پر مسلسل بات چیت کے ذریعے دیرینہ شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ دونوں فریقوں نے علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت سے متعلق اپنے نقطہائے نظر کا بھی تبادلہ کیا۔
_20261016164246_1e022b.jpeg)
دونوں فریقوں نے ’نومادک ایلیفینٹ‘ فوجی مشق کی کامیاب تکمیل کو سراہا، جو دوطرفہ دفاعی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے بھارت اور منگولیا کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔ منگولیائی فریق نے منگولیا کی مسلح افواج کے اہلکاروں کی صلاحیت سازی اور تربیت میں بھارت کی مسلسل معاونت کا اعتراف کیا۔
اس اجلاس کی مشترکہ صدارت بھارت کی وزارتِ دفاع کی جوائنٹ سکریٹری ڈاکٹر ایشیتا گنگولی ترپاٹھی اور منگولیا کی وزارتِ دفاع کے ڈپٹی اسٹیٹ سکریٹری بریگیڈیئر جنرل گانسوخ ای نے کی۔
_20261016164257_6590bd.jpeg)
جوائنٹ سکریٹری ڈاکٹر ایشیتا گنگولی ترپاٹھی نے منگولیا کی مسلح افواج کے ڈپٹی چیف آف دی جنرل اسٹاف میجر جنرل اوسوخ بایار جے کے ساتھ بھی ملاقات کی۔ دونوں فریقوں نے دونوں ممالک کی دفاعی افواج کے درمیان تعاون میں ہونے والی پیش رفت کو سراہا۔ انہوں نے باہمی روابط کو مزید گہرا کرنے، دفاعی تعلقات کو مضبوط بنانے اور بھارت-منگولیا تزویراتی شراکت داری کے لیے مستقبل پر مبنی لائحۂ عمل تیار کرنے کے امکانات کی نشاندہی کی۔
بھارتی وفد نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کا بھی دورہ کیا، جہاں اس نے بھارت کی معاونت سے قائم کیے گئے سائبر سکیورٹی ٹریننگ سینٹر کے کام کاج کا جائزہ لیا۔ منگولیائی فریق نے زبان کی تربیت اور سائبر سکیورٹی کے شعبوں میں بھارت کی مسلسل معاونت کو سراہا۔ اس موقع پر صلاحیت سازی، علم کے تبادلے اور دفاعی تعاون کو مزید گہرا کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا، جو دونوں ممالک کی تزویراتی شراکت داری کو مضبوط بنانے میں معاون ہیں۔
بھارت اور منگولیا کے درمیان دیرینہ تاریخی، ثقافتی اور تہذیبی روابط قائم ہیں، جو ان کی موجودہ شراکت داری کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ اس دورے نے دونوں ممالک کو قریب لانے میں مشترکہ عقیدے اور ثقافتی ورثے کے اہم کردار کو اجاگر کیا۔
***
ش ح۔ ا ک۔ ر ب
U.NO.6215
(ریلیز آئی ڈی: 2324406)
وزیٹر کاؤنٹر : 11