نوجوانوں کے امور اور کھیل کود کی وزارت
ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے ایشین گیمز کے جائزہ اجلاس میں نیشنل اسپورٹس فیڈریشنز سے چیمپئنز کی تیاری کا سلسلہ مضبوط کرنے کی ہدایت دی
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
15 OCT 2026 6:15PM by PIB Delhi
مرکزی وزیر کھیل ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے جمعرات کو نیشنل اسپورٹس فیڈریشنز پر زور دیا کہ وہبھارت کی کھیلوں کی کارکردگی کے حوالے سے مزید ذمہ داری قبول کریں۔ یہ بات ایشین گیمز میں بھارت کے چوتھے نمبر پر رہنے کے تناظر میں کہی گئی۔ مختلف نیشنل اسپورٹس فیڈریشنز کے سربراہان سے گفتگو کرتے ہوئے، وزیر موصوف نے اس بات پر زور دیا کہبھارت کی کھیلوں میں شاندار کارکردگی کو برقرار رکھنے کے لیے باہمی ہم آہنگی کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔
_20261015181844_1d9e46.jpg)
ڈاکٹر مانڈویہ نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت کو محض چند میڈل جیتنے والوں پر انحصار کرنے کے بجائے، چیمپئنز کی ایک مسلسل کھیپ تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے سوال کیا’میرا بائی چانو کب تک اکیلے ہمارے لیے تمغے جیتتی رہیں گی؟ ہمیں ان جیسی 10 مزید کھلاڑیوں کو تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ ہر فیڈریشن کو اس ذمہ داری کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ ہمیں صلاحیتوں (ٹیلنٹ) کی نشاندہی کرنی ہوگی، مناسب تربیت فراہم کرنی ہوگی اور ایسا ماحول بنانا ہوگا جس میں کھلاڑی اعلیٰ ترین سطح تک ترقی کر سکیں۔‘ وزیر کھیل نے ان کھلاڑیوں کی شناخت اور انہیں تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا جو مختلف کھیلوں کے مقابلوں کے دوران بھارت کے تمغے جیتنے کے عزم کو برقرار رکھ سکیں۔
جمعرات کو منعقدہ نیشنل اسپورٹس فیڈریشنز کا یہ اجلاس، ایشین گیمز میں بھارت کی کارکردگی کے جائزے کے ساتھ ساتھ لاس اینجلس 2028 اولمپکس، 2030 کامن ویلتھ گیمز اور دوحہ میں ہونے والے 2030 ایشین گیمز کی تیاریوں کا جائزہ لینے کا ایک ذریعہ بھی تھا۔ اس اجلاس میں شوٹنگ، ایتھلیٹکس، باکسنگ، تیر اندازی، اسکواش، ووشو اور دیگر کھیلوں کی اہم فیڈریشنز کے نمائندوں نے شرکت کی۔

ڈاکٹر مانڈویہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کھیلوں کے ماہرینِ نفسیات، اسپورٹس سائنس کے ماہرین اور ذہنی تربیت (مینٹل ٹریننگ) فراہم کرنے والے ماہرین کی تعداد بڑھائی جائے، تاکہ بڑے بین الاقوامی مقابلوں کے دوران کھلاڑیوں کی توجہ ہٹنے یا منتشر ہونے کے مسئلے کو کم کیا جا سکے۔ انہوں نے تمام فیڈریشنز سے اپیل کی کہ وہ مزید مقابلوں کا انعقاد کریں، کھلاڑیوں کی تیاریوں کو مضبوط بنائیں، پوری لگن اور عزم کے ساتھ کام کریں، اور ساتھ ہی اپنی کارکردگی اور انتظامی امور میں موجود خامیوں کا دیانتداری سے جائزہ لیں۔
اجلاس کے دوران، جوائنٹ سیکرٹری (کھیلو انڈیا)جناب وینیل کرشنا نےکھیلو انڈیا اسکیم اور نیشنل اسپورٹس فیڈریشنز کے درمیان اشتراک اور ہم آہنگی کے موضوع پر گفتگو پیش کی، جبکہ کرنل این ایس... سی ای او جوہل نے آئیچی-ناگویا ایشین گیمز کی کارکردگی کا جائزہ پیش کیا اور لاس اینجلس اولمپکس 2028 کی تیاریوں پر روشنی ڈالی۔ اس اجلاس میںیشنل اسپورٹس فیڈریشنز کے لیے معاونت کے رہنما خطوط پر مبنی نظر ثانی شدہ کتابچے کا بھی اجرا کیا گیا۔

وزیر مملکت برائے امورِ نوجوانان و کھیل، محترمہ رکشا کھڈسے نے تمام فیڈریشنز پر زور دیا کہ وہ اپنے کام کوکھیلو انڈیا مشن کے وژن سے ہم آہنگ کریں۔ محترمہ کھڈسے نے کہا’ہر نیشنل اسپورٹس فیڈریشن کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ ریاستی اور ضلعی سطح کی فیڈریشنز بھی قائم ہوں اور مؤثر طریقے سے کام کر رہی ہوں۔ یہ کام، کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کی شناخت (ٹیلنٹ آئیڈنٹیفیکیشن) کے ساتھ ساتھ، پورے خلوص اور لگن سے کیا جانا چاہیے۔ صلاحیتوں کی شناخت تو اس عمل کا محض ایک حصہ ہے؛ کھلاڑیوں کو اپنی مکمل صلاحیتوں تک پہنچنے کے لیے درست تربیت اور معاونت ملنا بھی ضروری ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نیشنل اسپورٹس فیڈریشنز کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ صلاحیتوں کی شناخت کے ساتھ ساتھ اس بات کو بھی یقینی بنائیں کہ ریاستی اور ضلعی سطح کی فیڈریشنز مؤثر طریقے سے کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا’صرف اجتماعی کوششوں کے ذریعے ہی ہم کھلاڑیوں کی تیاریوں کو مضبوط بنا سکتے ہیں، باصلاحیت افراد کے لیے بہتر راستے ہموار کر سکتے ہیں اور بھارت کے تمغوں کی تعداد میں اضافہ کر سکتے ہیں۔‘
سیکرٹری (کھیل) جناب ہر ی رنجن راؤ نے کہا کہ بھارت کا ہدف یہ ہونا چاہیے کہ وہ دوحہ میں ہونے والے 2030 کے ایشین گیمز میں سرفہرست تین ممالک میں شامل ہو۔ اس کے علاوہ، 2030 کے کامن ویلتھ گیمز جن کی میزبانی بھارت کرنے والا ہے کو ایک بڑے قومی چیلنج کے طور پر لیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا’ہمیں دوحہ ایشین گیمز میں تیسرے نمبر پر آنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ 2030 کے کامن ویلتھ گیمز میں، ہمیں 2010 کے کامن ویلتھ گیمز میں قائم کردہ اپنے ہی ریکارڈ کو توڑتے ہوئے سرفہرست تین ممالک میں جگہ بنانی چاہیے۔ چونکہ ہم ان کھیلوں کی میزبانی کر رہے ہیں، اس لیے ہر نیشنل اسپورٹس فیڈریشن و اس مقابلے کو سنجیدگی سے لینا چاہیے اور اسی کے مطابق تیاری کرنی چاہیے۔ ہمیں اسے ایک چیلنج کے طور پر لینا ہوگا اور ابھی سے اس سمت میں کام شروع کرنا ہوگا۔‘
اس سے قبل، جناب راؤ نے کھیلوں کے ایکو سسٹم (نظام) کو ایک ایسی چار پہیوں والی گاڑی سے تشبیہ دی تھی جو صرف اسی صورت میں آگے بڑھ سکتی ہے جب اس کے تمام اجزاء یعنی کھلاڑی، کوچز، نیشنل اسپورٹس فیڈریشنز، اور وزارتِ امورِ نوجوانان و کھیل کے ساتھ ساتھ اسپورٹس اتھارٹی آف انڈیا مل کر کام کریں۔
******
(ش ح۔اص)
UR No 6177
(ریلیز آئی ڈی: 2324146)
وزیٹر کاؤنٹر : 7