زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

آج خواتین کسانوں کا دن 2026 منایا گیا


اس تقریب میں زرعی ترقی کو آگے بڑھانے اور وکست بھارت کے خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے میں خواتین کسانوں کے اہم کردار کو اجاگر کیا گیا

زراعت  کے مرکزی سکریٹری جناب آتیش چندر نے زراعت اور اس سے منسلک شعبوں میں خواتین کے گراں قدر تعاون کو اجاگر کیا اور زراعت میں خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے حکومت کے عزم پر زور دیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 15 OCT 2026 5:32PM by PIB Delhi

حکومتِ ہند کی  زراعت اور کسانوں کی بہبود کی وزارت کے  زراعت اور کسانوں کی فلاح و بہبود کے محکمہ نے آج (15 اکتوبر 2026) نئی دہلی کے ڈاکٹر بی آر امبیڈکر بین الاقوامی مرکز میں جناب آتیش چندر، زراعت اور کسانوں کی فلاح و بہبود کے محکمہ کےسکریٹری کی صدارت میں خواتین کسانوں کا دن 2026 منایا۔ اس پروگرام کا انعقاد ہندوستانی زراعت میں خواتین کسانوں کے گراں قدر تعاون کو تسلیم کرنے اور زرعی ترقی کو آگے بڑھانے نیز وکست بھارت کے وژن کو حقیقت میں بدلنے میں ان کے اہم کردار کو اجاگر کرنے کے لیے کیا گیا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image002_20261015173325_329031.jpghttps://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image001_20261015173320_deec78.jpg

زراعت اور کسانوں کی فلاح و بہبود کے محکمہ کے سکریٹری جناب آتیش چندر نے اپنے خطاب میں زراعت اور اس سے منسلک شعبوں میں خواتین کے گراں قدر تعاون کو اجاگر کیا۔ انہوں نے بالخصوص غذائی تحفظ کو یقینی بنانے، دیہی روزگار کو برقرار رکھنے، قدرتی وسائل کے انتظام اور زرعی ترقی کو آگے بڑھانے میں خواتین کے کردار کو نمایاں کیا۔ انہوں نے زراعت میں خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے مختلف اقدامات کے ذریعے حکومت کے عزم پر زور دیا، جن میں براہِ راست مالی امداد، سستے ادارہ جاتی قرضے، ٹیکنالوجی کی منتقلی، ہنر مندی کی ترقی، زرعی مشینوں کا استعمال اور زرعی مارکیٹنگ کے بنیادی ڈھانچے تک بہتر رسائی شامل ہیں۔

اس پروگرام میں مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی ترقی پسند خواتین کسانوں، خواتین زرعی توسیعی کارکنوں اور عہدیداروں کے ساتھ زراعت  اورکسانوں کی  بہبودِ کے محکمہ کے سینئر افسران نے شرکت کی۔ خواتین کسانوں کے دن 2026 کا موضوع ’’ترقی یافتہ زراعت اور ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر میں خواتین کسانوں کا کردار‘‘ تھا۔ یہ موضوع زرعی پیداوار میں اضافے، پائیدار زرعی طریقوں کو فروغ دینے، قدرتی وسائل کے تحفظ اور دیہی خوشحالی میں خواتین کے اہم کردار کو اجاگر کرتا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image004_20261015173338_581b62.jpghttps://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image003_20261015173332_12c69e.jpg

اس پروگرام کے تحت زراعت اور اس سے منسلک شعبوں میں نمایاں کامیابیوں اور خدمات کے اعتراف میں ممتاز خواتین کسانوں کو اعزاز سے نوازا گیا۔ اس اعزاز کے ذریعے زرعی سرگرمیوں اور دیہی کاروبار میں ان کی لگن، ثابت قدمی، جدت طرازی اور قائدانہ صلاحیتوں کو سراہا گیا۔ تقریب کے دوران ’’ہندوستان کی خواتین کسان: چیلنجوں سے کامیابی تک کا سفر‘‘ کے عنوان سے ایک کتاب بھی جاری کی گئی۔ اس کتاب میں خواتین کسانوں کی متاثر کن کامیابی کی کہانیاں یکجا کی گئی ہیں، جن میں زراعت اور اس سے منسلک شعبوں میں ان کی نمایاں خدمات، کامیابیوں، جدت طرازی اور جدوجہد سے کامیابی تک کے سفر کو اجاگر کیا گیا ہے۔ یہ کتاب زراعت میں خواتین کے اہم کردار کو نمایاں کرتے ہوئے ان کی صلاحیتوں، قائدانہ خوبیوں اور کاروباری جذبے کو تسلیم کرتی ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image006_20261015173350_2d0d2b.jpghttps://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image005_20261015173344_98a4ea.jpg

اس پروگرام میں خواتین کسانوں اور زرعی توسیعی خدمات سے وابستہ کارکنوں کو اپنے تجربات اور سفر بیان کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم بھی فراہم کیا گیا۔ چند شرکاء نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اپنے ذاتی تجربات، چیلنجوں، کامیابیوں اور زراعت میں اپنے تعاون کے بارے میں بتایا۔ ان کے تجربات نے بہتر زرعی طریقوں کو اپنانے، دیہی روزگار کو مضبوط بنانے اور دیگر خواتین کو زرعی ترقی میں حصہ لینے کی ترغیب دینے میں خواتین کے اہم کردار کو اجاگر کیا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image008_20261015173404_ee14b3.jpghttps://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image007_20261015173358_efdd8d.jpg

خواتین کسان فصلوں کی کاشت، مویشیوں کے انتظام، بیجوں کے تحفظ، قدرتی وسائل کے انتظام، فصل کی کٹائی کے بعد کی سرگرمیوں اور زرعی پیداوار کی قدر میں اضافے سمیت زرعی ویلیو چین کے مختلف مراحل میں اہم تعاون کرتی ہیں۔ ان کا روایتی علم، کاروباری اقدامات اور اختراعی نیز موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا مقابلہ کرنے والے طریقوں کو اپنانا ہندوستانی زراعت کو زیادہ پیداواری، پائیدار اور سب کو ساتھ لے کر چلنے والا بنانے کے لیے ضروری ہے۔

خواتین، زرعی افسران اور توسیعی خدمات سے وابستہ کارکن بھی زرعی تحقیق اور کسان برادریوں کے درمیان فاصلے کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ تربیت، ٹیکنالوجی کی تشہیر، بیداری پیدا کرنے اور سرکاری اسکیموں کے بارے میں رہنمائی کے ذریعے وہ سائنسی زرعی طریقوں کو اپنانے میں سہولت فراہم کرتی ہیں اور خواتین کسانوں کو علم اور ادارہ جاتی تعاون کے ذریعے بااختیار بناتی ہیں۔

خواتین کسانوں کے دن 2026 کی تقریبات نے زرعی تبدیلی میں خواتین کو اہم شراکت دار تسلیم کرنے کے حکومت کے عزم کی توثیق کی۔ اس موقع پر زراعت میں خواتین کی ٹیکنالوجی، وسائل، صلاحیت سازی کے مواقع اور ادارہ جاتی تعاون تک رسائی کو مضبوط بنانے کی اہمیت کو  اجاگر کیا گیا، ساتھ ہی زراعت اور اس سے منسلک شعبوں میں فیصلہ سازی اور قیادت کے عمل میں ان کی زیادہ سے زیادہ شرکت کی حوصلہ افزائی کی گئی۔

خواتین کسانوں کا دن 2026 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں، توسیعی تعلیم کے اداروں(ای ای آئیز)، ریاستی زرعی انتظام و توسیعی تربیتی اداروں(سمیتیز) اور مینیج میں بھی منایا جا رہا ہے، جن میں خواتین کسانوں اور زراعت سے وابستہ دیگر متعلقہ فریقوں نے شرکت کی۔ قبائلی علاقوں کی خواتین کسانوں کی شرکت پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔

اس تقریب نے اس پیغام کو مزید مستحکم کیا کہ خواتین کسانوں کو بااختیار بنانا اور ان کے تعاون کو تسلیم کرنا ترقی یافتہ زراعت کی تعمیر، دیہی روزگار کو مضبوط بنانے اور وکست بھارت کے وژن کو حقیقت میں بدلنے کے لیے ضروری ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image009_20261015173412_bb0a4d.jpg

*****

) ش ح –  م   م      ع  -  ف ر )

U.No. 6166


(ریلیز آئی ڈی: 2324072) وزیٹر کاؤنٹر : 7