صدر جمہوریہ کا سکریٹریٹ
صدرِ جمہوریہ ہند نے وجے واڑہ میں قومی سرس میلے میں شرکت کی
اپنی مدد آپ گروپ اور سرس میلے ترقی کے فوائد ہر گاؤں اور ہر گھر تک پہنچانے میں اہم رول ادا کر سکتے ہیں: صدرجمہوریہ دروپدی مرمو
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
15 OCT 2026 3:15PM by PIB Delhi
صدرِ جمہوریہ ہند محترمہ دروپدی مرمو نے آج (15 اکتوبر 2026) آندھرا پردیش کے وجے واڑہ میں قومی سرس میلے میں شرکت کی۔ اس میلے کا اہتمام مرکزی وزارتِ دیہی ترقی اور آندھرا پردیش حکومت نے کیا تھا۔ صدرِ جمہوریہ نے اس موقع پر سرس میلے کے اسٹالز کا دورہ بھی کیا اور لکھ پتی دیدیوں سے بات چیت کی۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ دیہی خواتین زراعت میں اہم رول ادا کرتی ہیں۔ اپنی مدد آپ گروپوں کے ذریعے انہیں مالی، تکنیکی اور سماجی طور پر بااختیار بننے کا ایک نیا راستہ فراہم ہوا ہے۔ انہوں نے اس بات پر خوشی ظاہر کی کہ خواتین میں کاروبار کرنے کے رجحان میں حوصلہ افزا اضافے کے ساتھ ساتھ معاشی فیصلے کرنے میں دیہی خواتین کی شرکت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کی مساویانہ اور سب کو ساتھ لے کر چلنے والی ترقی کے لیے یہ بہت ضروری ہے۔

صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ خواتین کے اپنی مدد آپ گروپوں نے دیہی معیشت میں مؤثر رول ادا کیا ہے۔ گزشتہ 12 برسوں کے دوران ان گروپوں سے وابستہ خواتین کی تعداد بڑھ کر 10 کروڑ سے زیادہ ہو گئی ہے۔ یہ خواتین 90 لاکھ سے زیادہ اپنی مدد آپ گروپوں سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے اس بات کو اجاگر کیا کہ یہ خواتین اپنے خاندانوں کی معاشی خوش حالی میں اہم رول ادا کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کی اس شرکت سے خواتین پر مرکوز اور سب کو ساتھ لے کر چلنے والی دیہی ترقی کو فروغ مل رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی مل جل کر کاروبار کرنے کے مواقع میں بھی بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا ہے۔

صدرِ جمہوریہ نے اس بات پر خوشی ظاہر کی کہ خواتین کے اپنی مدد آپ گروپ سماجی سرگرمیوں میں اہم رول ادا کر رہے ہیں اور یہ گروپ دیہی زندگی میں ہمہ گیر تبدیلی لانے اور ہمارے ملک کی سب کو ساتھ لے کر چلنے والی ترقی میں نمایاں تعاون دے رہے ہیں۔

صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ حکومتِ ہند نے ’لکھ پتی دیدی‘ پہل کے ذریعے دیہی خواتین کو بااختیار بنانے کی کوششوں کو ایک نئی رفتار اور سمت دی ہے۔ ڈیجیٹل خدمات اور قابلِ تجدید توانائی جیسے جدید شعبوں میں خواتین کی بڑھتی ہوئی شرکت سے دیہی خواتین کے لیے ہنر سیکھنے کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔

صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ آج دیہی خواتین محض سرکاری اسکیموں سے فائدہ اٹھانے والی نہیں رہ گئی ہیں، بلکہ وہ دولت پیدا کرنے والی بن گئی ہیں اور ترقی کو آگے بڑھانے میں اہم رول ادا کر رہی ہیں۔ تاہم، خواتین کو بااختیار بنانے کے اس سفر میں ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ خواتین کو بااختیار بنانے کا ایک اہم پیمانہ یہ ہونا چاہیے کہ دیہی خواتین اپنی آمدنی اور اثاثوں پر کس حد تک اختیار حاصل کر پائی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی گھر کی دیکھ بھال کی ذمہ داریاں نبھانے میں مدد کے لیے کمیونٹی کی سطح پر تعاون کے نظام کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا مقابلہ کرنے والے کاروباروں میں بھی دیہی خواتین کی شرکت بڑھائی جانی چاہیے۔
صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ سرس میلے دیہی معیشت کو مضبوط بنانے کے پلیٹ فارم بنتے جا رہے ہیں۔ یہ میلے دیہی بازاروں کی شکل اختیار کر چکے ہیں، جہاں کاروبار کے مواقع مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ ان کے ذریعے دیہی خواتین کاروباریوں اور ملک بھر کے صارفین کے درمیان براہِ راست رابطہ مضبوط ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2047 تک وکست بھارت کا ہدف حاصل کرنے کے لیے ترقی کے فوائد ہر گاؤں اور ہر گھر تک پہنچانا ضروری ہے۔ اس کوشش میں اپنی مدد آپ گروپ اور سرس میلے اہم رول ادا کر سکتے ہیں۔

قومی سرس میلے کے اس ایڈیشن میں 34 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے تعلق رکھنے والی خود امدادی گروپوں کی تقریباً 1500 خواتین کاروباری اور لکھ پتی دیدیاں 650 سے زیادہ اسٹالز کے ذریعے اپنی مصنوعات پیش کر رہی ہیں۔ یہ میلہ 31 اکتوبر 2026 تک جاری رہے گا۔
صدرِ جمہوریہ کی تقریر دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
](https://static.pib.gov.in/WriteReadData/specificdocs/documents/2026/oct/doc_10182_20261015_15152501.pdf)
ش ح۔ ش ب۔ ج
UNO -6150
(ریلیز آئی ڈی: 2323846)
وزیٹر کاؤنٹر : 9