وزارت خزانہ
ڈی آر آئی نے پاکستان سے درآمد کئے گئے 73 لاکھ کلوگرام سے زیادہ راک سالٹ کی غیر قانونی درآمد کا پردہ فاش کیا، چار افراد گرفتار
آپریشن ڈیپ مینی فیسٹ کے ذریعے پاکستانی اشیا کی درآمد پر ہندوستان کی پابندی سے بچنے کے لئے استعمال کئے جانے والے بین الاقوامی اسمگلنگ نیٹ ورک کے طریقۂ کار کا انکشاف
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
14 OCT 2026 4:09PM by PIB Delhi
محکمہ محصولات کے انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ (ڈی آر آئی) نے ایک بار پھر پاکستان میں تیار ہونے والی یا وہاں سے برآمد کی جانے والی اشیا کی درآمد پر بھارت کی پابندی سے بچنے کی ایک بڑے پیمانے کی سازش کا پردہ فاش کیا ہے۔ یہ کارروائی آپریشن ڈیپ مینی فیسٹ کے تحت انجام دی گئی۔
ڈی آر آئی نے پاکستان سے حاصل کیے گئے صنعتی/ہمالیائی راک سالٹ ((چٹانی نمک) کی 7,311 میٹرک ٹن مقدار لے جانے والے 295 کنٹینروں کی درآمد کا پتہ لگایا، جن کی تخمینہ قیمت تقریباً 30 کروڑ روپے ہے۔ ان کھیپوں کو سری لنکا کے کولمبو بندرگاہ کے راستے بھیجا گیا تھا۔ ان کے اصل ملک کے بارے میں غلط معلومات فراہم کرنے کے لئے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی کمپنیوں کے جاری کردہ جعلی سرٹیفکیٹ آف اوریجن اور انوائسز کا استعمال کیا گیا تھا۔
مخصوص خفیہ معلومات کی بنیاد پر ڈی آر آئی نے 26 ستمبر سے 11 اکتوبر 2026 کے درمیان دو ہفتے تک جاری رہنے والی ایک مربوط کارروائی شروع کی۔ اس دوران گاندھی دھام، آدی پور، ویراول، پانی پت، پنے، پٹیالہ، دہلی اور ممبئی میں متعلقہ مقامات پر تلاشی لی گئی۔
تحقیقات سے انکشاف ہوا کہ نو درآمد کنندگان نے پابندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مارچ 2026 سے اب تک مندرا اور کانڈلا بندرگاہوں کے ذریعے 295 کنٹینر درآمد کیے تھے۔ پتا لگائے گئے مجموعی 295 کنٹینروں میں سے صنعتی/ہمالیائی راک سالٹ (چٹانی نمک) کے 140 میٹرک ٹن پر مشتمل پانچ کنٹینر، جن کی مالیت 24.41 لاکھ روپے ہے، کانڈلا بندرگاہ پر ضبط کر لیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ درآمد کنندگان کے بینک کھاتوں میں موجود فروخت سے حاصل ہونے والی 20.96 لاکھ روپے کی رقم بھی ضبط کر لی گئی ہے۔
ابتدائی تحقیقات میں پاکستانی، متحدہ عرب امارات، سری لنکا اور ہندوستانی شہریوں کی ملکیت والے اداروں پر مشتمل ایک بین الاقوامی نیٹ ورک کا انکشاف ہوا ہے۔ الزام ہے کہ اس نیٹ ورک نے اشیا کی پاکستانی اصل کو چھپانے کے لیے کھیپ کی ترسیل اور متعلقہ دستاویزات میں باہمی تال میل کے ساتھ کام کیا۔ ان لین دین کو درست ثابت کرنے کے لیے دبئی میں قائم کمپنیوں کے جاری کردہ جعلی انوائس استعمال کیے گئے۔ اہم بات یہ ہے کہ کھیپوں کی پاکستان سے سری لنکا تک ترسیل سے متعلق بل آف لیڈنگ اور سری لنکا کے کسٹم حکام کے پاس جمع کرائے گئے اعلانات میں واضح طور پر پاکستان کو اصل ملک اور ہندوستان کو آخری منزل بتایا گیا تھا۔ درآمد کنندگان کی جانب سے جمع کرائے گئے اصل ملک کے سرٹیفکیٹ جعلی پائے گئے۔
کسٹمز ایکٹ، 1962 کی دفعات کے تحت چار افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ان میں درآمدی کمپنیوں کے دو مالکان یا شراکت دار، کسٹمز بروکر کا جی کارڈ رکھنے والا ایک شخص اور دبئی میں قائم سپلائر کا مالک شامل ہے، جس نے اپنے والد کے نام پر ایک درآمدی کمپنی بھی قائم کی تھی اور اسے چلا رہا تھا۔
گزشتہ ماہ بھی اسی طرح کی کارروائی کے دوران ڈی آر آئی نے ناسک کے سی ایف ایس امباڈ میں ممبئی کی ایک کمپنی کے ذریعے درآمد کی گئی 13 کنٹینروں میں پیک پاکستان سے حاصل کردہ 3,62,000 کلوگرام سے زائد خشک کھجوریں ضبط کی تھیں۔
یہ معاملات ان بدلتے ہوئے طریقوں کو اجاگر کرتے ہیں جن کے ذریعے بین الاقوامی نیٹ ورک تیسرے ملک کے راستے اشیا کی ترسیل، اصل ملک کے بارے میں غلط معلومات، تجارتی دستاویزات میں جعل سازی اور غیر شفاف مالیاتی انتظامات کے ذریعے پاکستانی اصل کی اشیا کی درآمد پر ہندوستان کی پابندی سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ڈی آر آئی ایسے نیٹ ورکس کی نشاندہی کرکے انہیں ختم کرنے اور ہندوستان کے اقتصادی و قومی سلامتی کے مفادات کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہے۔
اپریل 2025 میں پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد، حکومتِ ہند نے قومی سلامتی اور عوامی پالیسی کے مفاد میں پاکستان میں تیار ہونے والی یا وہاں سے برآمد کی جانے والی تمام اشیا کی براہِ راست یا بالواسطہ درآمد یا ان کی ترسیل پر مکمل پابندی عائد کردی تھی۔ یہ پابندی ڈی جی ایف ٹی کے نوٹیفکیشن نمبر 06/2025-26 مورخہ 02 مئی2025 کے ذریعے نافذ کی گئی تھی۔
**********
ش ح۔ ک ا۔ ش ہ ب
Urdu No. 6072
(ریلیز آئی ڈی: 2323432)
وزیٹر کاؤنٹر : 9