PIB Backgrounder
azadi ka amrit mahotsav

بھاویہ:سرمایہ کاری کے لیے سازگار مینوفیکچرنگ کے نظام کی تشکیل

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 14 OCT 2026 12:29PM by PIB Delhi

بھارت اودھیوگک وکاس یوجنا (بھاویہ) 33,660 کروڑ روپے کی اسکیم ہے، جس کے تحت پورے ہندوستان میں 100 ایسے صنعتی پارک تیار کیے جائیں گے جہاں صنعتیں فوری طور پر اپنا کام کاج شروع کر سکیں۔ ان پارکوں میں جدید صنعتی بنیادی ڈھانچہ، قابلِ اعتماد خدمات اور منظوریوں کے تیز تر التزام کی سہولت فراہم کی جائے گی، جس سے نئی صنعتیں قائم کرنے میں لگنے والا وقت کم ہوگا۔ اس اسکیم کا مقصد سرمایہ کاری کو راغب کرنا، چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کی مدد کرنا، سپلائی چین کو مضبوط بنانا، روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور مختلف خطوں میں صنعتی ترقی کو فروغ دینا ہے۔

 

مینوفیکچرنگ پالیسی کا نیا دور

ہندوستان میں مینوفیکچرنگ کا شعبہ ساختیاتی تبدیلی کے دور سے گزر رہا ہے۔ اب یہ مجموعی گھریلو پیداوار میں تقریباً 16 سے 17 فیصد کا حصہ دار ہے اور 2 کروڑ 70 لاکھ سے زیادہ مزدوروں کو روزگار فراہم کرتا ہے۔ قومی مینوفیکچرنگ مشن کا مقصد 2035 تک مجموعی گھریلو پیداوار میں اس شعبے کے حصے کو بڑھا کر 25 فیصد تک پہنچانا ہے۔ صنعتوں کی نوعیت بھی تبدیل ہو رہی ہے، جس میں درمیانی اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی صنعتوں کا حصہ مینوفیکچرنگ کی مجموعی قدر میں 46.3 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ یہ تبدیلی زیادہ قیمت اور ٹیکنالوجی پر مبنی مینوفیکچرنگ کی جانب پیش رفت کی عکاسی کرتی ہے۔

صنعتوں کی ترقی کے ساتھ انہیں قابلِ اعتماد بنیادی ڈھانچے، مؤثر نقل و حمل اور رسد کے نظام اور منظوریوں کے متوقع طریقۂ کار کی ضرورت ہوتی ہے۔ عالمی سپلائی چین بھی متنوع بن رہی ہے، جس کے باعث بہتر رابطے کی سہولتوں سے آراستہ صنعتی مقامات کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔

فوری طور پر کام شروع کرنے کی سہولت والے صنعتی پارک صنعتوں کے کام شروع کرنے سے پہلے ضروری بنیادی ڈھانچہ اور مشترکہ سہولتیں فراہم کرکے ان تمام تقاضوں کو مربوط کرتے ہیں۔ اس سے نئی مینوفیکچرنگ اکائیاں قائم کرنے میں لگنے والے وقت اور لاگت میں کمی آتی ہے۔ اس طریقۂ کار کو ملک بھر میں وسعت دینے کے لیے مارچ 2026 میں مرکزی کابینہ نے بھارت اودھیوگک وکاس یوجنا (بھاویہ) کو منظوری دی اور 10 اپریل 2026 کو اس کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔ اس اسکیم کے لیے 33,660 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ بھاویہ اسکیم کو ریاستی حکومتوں اور پرائیویٹ ڈیولپر کے اشتراک سے نافذ کیا جا رہا ہے۔ اس اسکیم میں ملک میں مینوفیکچرنگ کی صلاحیت بڑھانے اور منظوریوں کے عمل کو آسان بنانے، مؤثر سنگل ونڈو نظام قائم کرنے اور سرمایہ کاروں کے لیے سازگار اصلاحات کے ذریعے کاروبار کرنے میں آسانی پیدا کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ فوری طور پر کام شروع کرنے کی سہولت والے صنعتی نظام  سےصنعتوں کے لیے ابتدائی رکاوٹوں میں کمی آئے گی اور انہیں سرمایہ کاری سے پیداوار تک کا سفر تیزی سے طے کرنے میں مدد ملے گی۔

 

پالیسی کا ارتقا: 2020 سے پہلے کے صنعتی نظام سے فوری کام شروع کرنے کی سہولت والے صنعتی نظام تک

ہندوستان میں مینوفیکچرنگ کی ترقی کے لیے اختیار کیے جانے والے طریقۂ کار میں وقت کے ساتھ تبدیلی آئی ہے۔ ہر مرحلے میں صنعتوں کی مدد کرنے اور نئے اقتصادی مواقع پیدا کرنے کی ملک کی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے۔

پہلے مرحلے میں صنعتی درجے اور خصوصی اقتصادی زون (ایس ای زیڈ) پر توجہ مرکوز کی گئی۔ ان کے ذریعے صنعتی علاقہ، مشترکہ بنیادی ڈھانچے اور ضابطوں کے تحت مراعات فراہم کی گئیں۔ فروری 2026 تک ہندوستان میں 370 خصوصی اقتصادی زون کو نوٹیفائی کیا جا چکا تھا۔ ان علاقوں نے 7.82 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کو راغب کیا اور 31.7 لاکھ سے زیادہ افراد کے لیے روزگار پیدا کیا۔

اس کے بعد یہ طریقۂ کار مخصوص صنعتی زون سے آگے بڑھ کر ملک بھر میں بڑے مینوفیکچرنگ مراکز تک پھیل گیا۔ 14 اکتوبر 2026 تک انڈیا انڈسٹریل لینڈ بینک (آئی آئی ایل بی) میں 4,164 صنعتی پارکوں کا اندراج کیا جا چکا ہے۔ اسی دوران، قومی صنعتی راہداری ترقیاتی پروگرام (این آئی سی ڈی پی) نے صنعتی زمین فراہم کرنے سے آگے بڑھ کر مینوفیکچرنگ زون کو بنیادی سہولتوں، نقل و حمل و رسد اور شہری خدمات کے ساتھ مربوط کیا، جس سے زیادہ مربوط صنعتی مقامات وجود میں آئے۔

دھولیرا خصوصی سرمایہ کاری خطہ (گجرات)، شیندرا -بِڈکن صنعتی علاقہ (مہاراشٹر)، وکرم ادیوگ پوری (مدھیہ پردیش) اور انٹگریٹڈ انڈسٹریل ٹاؤن شپ، گریٹر نوئیڈا (اتر پردیش) جیسے صنعتی مراکز نے مربوط منصوبہ بندی کے فوائد کو نمایاں کیا۔

مدت

پالیسی کا طریقۂ کار

اس کے ذریعے کیا اضافہ ہوا

2020 سے پہلے

صنعتی املاک اور خصوصی اقتصادی زون

مالی مراعات؛ برآمدات رخی ضابطہ جاتی دائرۂ کار

قومی صنعتی راہداری ترقیاتی پروگرام (این آئی سی ڈی پی)

مربوط بنیادی ڈھانچے سے آراستہ اسمارٹ صنعتی شہر

منصوبہ بند صنعتی مراکز، کثیر ذرائع نقل و حمل کے رابطے اور فوری طور پر کام شروع کرنے کی سہولت والے صنعتی پارکوں کے تجرباتی منصوبے

بجٹ 2026-27

مخصوص شعبوں میں فوری طور پر کام شروع کرنے کی سہولت والے صنعتی پارک (کیمیکل پارک، پی ایم مترا)

مخصوص شعبوں کے کلسٹر پر مبنی ماڈل

بھاویہ (2026)

ملک گیر توسیع: پورے ہندوستان میں ایسے 100 صنعتی پارک قائم کرنے کی تجویز ہے جہاں صنعتیں فوری طور پر کام شروع کر سکیں۔

قومی سطح پر وسعت، دائرۂ کار اور اصلاحات سے مربوط عمل نفاذ

Inside the BHAVYA Framework

بھاویہ کے فریم ورک کے تحت صنعتی ترقی کا نظام

بھاویہ اسکیم کے تحت صنعتی پارکوں کی ترقی کے لیے فی ایکڑ ایک کروڑ روپے تک کی مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔ اس اسکیم میں اندرونی سڑکیں، بجلی کی فراہمی، پانی کی فراہمی کے نیٹ ورک، پانی کے اخراج کا نظام، صنعتی فضلے کی صفائی کی مشترکہ سہولتیں، ویلیوایڈڈ بنیادی ڈھانچہ اور اطلاعات و مواصلات کی ٹیکنالوجی (آئی سی ٹی) پر مبنی انتظامی سہولت جیسی ضروری سہولتیں شامل ہیں۔ زیرِ زمین سہولیات کی راہداریاں کھدائی سے پاک ماحول فراہم کریں گی، جس سے ان کی دیکھ ریکھ کرنے اور صنعتی سرگرمیوں کو بلا تعطل جاری رکھنے میں مدد ملے گی۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image003_20261014123059_c69512.jpg

صنعتی پارکوں میں پہلے سے تیار شدہ فیکٹری شیڈ، حسب ضرورت تعمیر شدہ صنعتی اکائیاں، جانچ اور تصدیق کی سہولتیں اور گودام بھی ہوں گے۔ مزدوروں کی فلاح و بہبود اور پیداواری صلاحیت میں اضافے کے لیے رہائش، صحت کی سہولتوں، ہنرسازی کے مراکز اور دیگر سماجی سہولتوں کا بھی بندوبست کیا گیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت منظور شدہ مالی امداد کا 25 فیصد تک حصہ بیرونی بنیادی ڈھانچے، مثلاً سڑک، ریل اور آخری مرحلے تک نقل و حمل و رسد کے رابطے کی سہولتوں کے لیے مختص کیا جا سکتا ہے، تاکہ صنعتی پارکوں کو وسیع تر نقل و حمل کے نیٹ ورک سے مربوط کیا جا سکے۔

یہ اسکیم مالی سال 2026-27 سے مالی سال 2031-32 تک چھ برسوں کے دوران نافذ کی جائے گی۔ پہلے مرحلے میں، دو انتخابی مدتوں کے دوران مسابقتی طریقۂ کار کے ذریعے 50 تک صنعتی پارکوں کا انتخاب کیا جائے گا۔ باقی پارکوں کا انتخاب بعد کے مراحل میں کیا جائے گا، جس سے بھاویہ کے تحت معاونت یافتہ صنعتی پارکوں کی مجموعی تعداد 100 ہو جائے گی۔ انتخاب کے دوران منصوبے کی تیاری، زمین کی دستیابی اور صنعتی امکانات کو مدنظر رکھا جائے گا۔ اسکیم کے رہنما خطوط میں زمین کے رقبے سے متعلق لازمی معیار کے مطابق ہر پارک کا رقبہ 25 سے 1,000 ایکڑ تک ہوگا۔ منصوبوں پر عمل درآمد اور ان کے نظم کی ذمہ داری مخصوص مقصد کے لیے قائم کردہ اداروں (ایس پی وی) کو سونپی جائے گی، جو ترقیاتی کاموں، آپریشن، سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کرنے اور طویل مدتی دیکھ ریکھ کی نگرانی کریں گے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image004_20261014123130_e9b34f.jpg

مینوفیکچرنگ سے وابستہ کمپنیاں، چھوٹی، خورد اور درمیانی صنعتیں (ایم ایس ایم ای)، نئے کاروباری ادارے اور سرمایہ کار بھاویہ کے تحت مشترکہ سہولتوں اور منظوریوں کے آسان طریقۂ کار سے استفادہ کر سکتے ہیں۔

 جون 2026 میں اس اسکیم پر عمل درآمد اور اس کی نگرانی کے لیے بھاویہ پورٹل کا آغاز کیا گیاہے۔ یہ پورٹل منصوبوں کو پیش کرنے، ان کی جانچ اور تجزیہ میں مدد فراہم کرتا ہے، ساتھ ہی انتخاب کے عمل کو شفاف اور مسابقتی بناتا ہے۔

 

فوری کام شروع کرنے کی سہولت والے صنعتی پارک: تصور اور خصوصیات

ٹرنک انفراسٹرکچر سے مراد ایسا اعلیٰ سطح کا بنیادی ڈھانچہ ہے جس کا بنیادی مقصد ایسے وسیع علاقے کی ضروریات پوری کرنا ہے، جن سے مختلف ترقیاتی منصوبوں کو مشترکہ طور پر استفادہ کرنے کا موقع ملتا ہے۔ یہ عموماً مقامی حکومتوں کی جانب سے فراہم کیا جاتا ہے۔ اس میں پانی کی فراہمی، پانی کا اخراج، سیوریج اور فضلے کی نکاسی، سڑکوں، اسٹریٹ لائٹس اور بجلی کی فراہمی جیسے بنیادی ڈھانچے کی مرکزی لائنوں کی تعمیر شامل ہے۔

 

فوری طور پر کام شروع کرنے کی سہولت والے صنعتی پارک پہلے سے تیار کردہ صنعتی نظام ہوتے ہیں، جہاں زمین، بنیادی رابطہ جاتی ڈھانچہ، ضروری سہولتیں اور مشترکہ خدمات پہلے ہی فراہم ہیں۔ بہت سے معاملوں میں منظوریوں اور بنیادی اجازتوں کے عمل کو سنگل ونڈو نظام کے ذریعے آسان بنایا جاتا ہے۔ اس سے کاروباری اداروں کو مالی فیصلوں سے پیداوار شروع کرنے تک کا سفر تیزی سے طے کرنے میں مدد ملتی ہے، جبکہ ابتدائی اخراجات اور عمل درآمد میں ہونے والی تاخیر بھی کم ہوتی ہے۔

سپلائی چین کا دائرہ مختلف مقامات تک پھیلنے اور مینوفیکچرنگ میں وقت کی اہمیت بڑھنے کے ساتھ ایسے ماڈل زیادہ اہم ہوتے جا رہے ہیں۔ سرمایہ کار اب تیزی سے ایسے مقامات کو ترجیح دے رہے ہیں جہاں زمین کی دستیابی، رابطے کی سہولتوں، بنیادی خدمات اور ضابطہ جاتی طریقۂ کار کے بارے میں یقین اور توقع کی جا سکے۔

ہندوستان میں فوری طور پر کام شروع کرنے کی سہولت والے صنعتی پارکوں کے ماڈل کو پہلے ہی مقبولیت حاصل ہو رہی ہے۔ مرکزی بجٹ 2025-26 میں ایسے صنعتی پارکوں کی ترقی کے لیے 2,500 کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے۔ فی الحال ہندوستان میں ایسے 260 صنعتی پارک موجود ہیں، جو مختلف شعبوں اور ریاستوں میں بنیادی سہولتوں سے آراستہ صنعتی نظام کو مسلسل اختیار کیے جانے کی عکاسی کرتے ہیں۔

فوری طور پر کام شروع کرنے کی سہولت والے ماڈل کو مخصوص شعبوں کے لیے قائم کیے جانے والے صنعتی مراکز تک بھی وسعت دی جا رہی ہے۔ جولائی 2026 میں حکومت نے تین کیمیکل پارکوں کے لیے بھاویہ-رساین اسکیم کو منظوری دی۔ ان پارکوں میں کیمیکل مینوفیکچرنگ کے لیے مشترکہ سہولتیں اور ماحولیاتی تحفظ کے انتظامات فراہم کیے جائیں گے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image005_20261014123152_517fbe.jpg

 

دھولیرا خصوصی سرمایہ کاری خطہ: مربوط صنعتی شہر

گجرات کا دھولیرانئی نسل کے صنعتی شہر کے طور پر ابھر رہا ہے۔ یہاں وسیع سڑکوں، قابلِ اعتماد بنیادی سہولتوں، ڈیجیٹل نیٹ ورکس اور جدید شہری خدمات کی منصوبہ بندی ابتدا ہی سے کی گئی ہے۔ بجلی، پانی، گیس اور پانی کے اخراج کے نظام ایک مشترکہ زیرِ زمین نیٹ ورک کے ذریعے چلتے ہیں، جس سے صنعتوں کے لیے فوری طور پر کام شروع کرنے کے واسطے سازگار ماحول فراہم ہوتا ہے۔

یہ خطہ جدید مینوفیکچرنگ کے شعبوں کے مرکز کے طور پر ترقی کر رہا ہے۔ سیمی کنڈکٹر، ہوابازی اور دفاع، شمسی توانائی کے آلات کی تیاری، گرین ہائیڈروجن، حیاتیاتی ٹیکنالوجی اور بھاری انجینئرنگ ان اہم شعبوں میں شامل ہیں جن پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ بندرگاہوں، ہوائی اڈوں، ایکسپریس وے اور مخصوص مال بردار راہداری سے مضبوط رابطے کا نظام دھولیرا کو ملکی اور عالمی منڈیوں سے جوڑتاہے۔ اس کے نتائج مندرجہ ذیل ہیں:

  • 11 پلاٹوں میں 495 ایکڑ زمین مختص کی گئی
  • سرمایہ کاری کا امکان: 97,328 کروڑ روپے
  • روزگار کے ممکنہ مواقع: 6,000 سے زائد ملازمتیں

ٹاٹا الیکٹرانکس کے سیمی کنڈکٹر یونٹ اور رینیو پاور کے شمسی ماڈیول تیار کرنے والے کارخانے سمیت بڑے منصوبوں کے لیے زمین مختص کی گئی ہے۔

 

مینوفیکچرنگ کےنئے نظام کی جانب پیش قدمی

ہندوستان میں مینوفیکچرنگ کے شعبے کی صورتِ حال تبدیل ہو رہی ہے اور مربوط صنعتی ترقی پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے۔ صنعتی املاک سے منصوبہ بند مینوفیکچرنگ مراکز کی جانب پیش رفت اس بدلتے ہوئے طریقۂ کار کی عکاسی کرتی ہے۔ بھاویہ اسکیم اس تبدیلی کے اگلے مرحلے کی نمائندگی کرتی ہے۔ صنعتی ترقی کے لیے دیگر اقدامات کے ساتھ یہ اسکیم بھی ہندوستان کی ان وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے، جن کا مقصد ملک میں مینوفیکچرنگ کی بنیاد کو مضبوط بنانا اور عالمی مینوفیکچرنگ میں اس کے کردار کو بڑھانا ہے۔

حوالہ جات

کابینہ

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2241785&reg=3&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2288863&reg=48&lang=1

وزارت تجارت و صنعت

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2241814&reg=3&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2114840&reg=3&lang=2

https://www.dpiit.gov.in/static/uploads/2025/07/a7f8726a772d283c2c10a7d02ab5b190.pdf

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2270334&reg=3&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2264533&reg=3&lang=1

وزارتِ خزانہ

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2219990&reg=3&lang=1

وزارتِ ہاؤسنگ و شہری امور

https://pmay-urban.gov.in/uploads/guidelines/Operational-Guidelines-of-PMAY-U-2.pdf

وزارتِ ٹیکسٹائل

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2241103&reg=3&lang=2

نیتی آیوگ

https://www.niti.gov.in/sites/default/files/2025-04/India_Hand_Power_Tools_Sector_Report.pdf

https://niti.gov.in/sites/default/files/2025-10/Reimagining_Manufacturing_Indias_Roadmap_to_Global_Leadership_in_Advanced_Manufacturing.pdf

اقوامِ متحدہ کی صنعتی ترقیاتی تنظیم

https://www.unido.org/sites/default/files/files/2019-11/International_Guidelines_for_Industrial_Parks.pdf

این آئی سی ڈی سی

https://nicdc.in/projects/4-projects-developed/dholera-special-investment-region-gujarat

https://dholera.gujarat.gov.in/advantage_dholera

https://dholera.gujarat.gov.in/business

آئی بی ای ایف

https://dev.ibef.org/industry/manufacturing-sector-india

Click here to see pdf

******

ش ح ۔ م ش ع ۔ م ا

UR No-6058

                          


(ریلیز آئی ڈی: 2323285) وزیٹر کاؤنٹر : 8