بہت چھوٹی، چھوٹی اور درمیانی درجے کی صنعتوں کی وزارت
ہندوستان میں ناریل کے ریشے کا شعبہ: روزگار کے مواقع کی فراہمی، کاروبار کو فروغ اور پائیدار ترقی کو رفتار
‘ادیم رجسٹریشن پورٹل’ پر کوئر کی21,000 سے زائد اکائیاں رجسٹرڈ ہیں، جن سے 2.3 لاکھ افراد کو روزگار مل رہا ہے
گزشتہ 10 برسوں میں ناریل کے ریشے کی مصنوعات کی برآمدات میں305 فیصد اضافہ ہوا ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
14 OCT 2026 10:09AM by PIB Delhi
دنیا میں کوئر-ناریل کے ریشے کا سب سے بڑا پیداوار کنندہ اور برآمد کنندہ ہونے کے ناطے ہندوستان کی جڑیں روایات میں پیوست ہیں اور یہ جدت طرازی کے ذریعے آگے بڑھ رہا ہے۔ ناریل کے شعبہ کا سیکٹر معاشی اور سماجی ترقی کے ایک فعال، ماحول دوست اور پائیدار محرک کے طور پر ابھر رہا ہے۔ یہ نہ صرف ناریل کے چھلکوں کے مفید استعمال کو فروغ دیتا ہے بلکہ روزگار کے مواقع بھی پیدا کرتا ہے اور دیہی و روایتی برادریوں کی ترقی میں بھی معاون ہے۔ پائیداری، مصنوعات کی قدر میں اضافے اور جامع ترقی پرخصوصی توجہ کے ساتھ ناریل کے ریشے کا شعبہ2047تک ہندوستان کے‘وکست بھارت’ کے سفر میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
ناریل کے ریشے سے تیار کردہ ماحول دوست اور پائیدار مصنوعات جیسے - چٹائیاں، گدے، رسیاں، برش اور روزمرہ استعمال کی دیگر اشیا، ہماری زندگی کا تیزی سے حصہ بنتی جا رہی ہیں۔ لیکن آخر کوئر کیا ہے؟
کوئر ایک قدرتی ریشے دار مادہ ہے، جو ناریل کے بیرونی سخت چھلکے سے حاصل کیا جاتا ہے۔ ان قدرتی ریشوں کو مختلف مراحل سے گزار کر تجارتی استعمال کی متعدد مصنوعات میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ ناریل کے ریشے کا شعبہ ہندوستان کی قدیم ترین روایتی صنعتوں میں سے ایک ہے۔ یہ ماحول دوست صنعت ناریل کے چھلکوں سے ریشے نکالنے، ان کی صفائی و تیاری اور انہیں قدر میں اضافے والی مصنوعات میں تبدیل کرنے کا کام کرتی ہے۔
ہندوستان میں ناریل کے ریشےکا شعبہ:
- - ہندوستان دنیا میں ناریل کے ریشے اور ناریل کے ریشے سے تیارمصنوعات کا سب سے بڑا پیداوار کنندہ اور برآمد کنندہ ہے اور عالمی پیداوار میں اس کا حصہ تقریباً دو تہائی ہے۔ ہندوستانی ناریل کے ریشے صنعت کا کاروبار تقریباً 16,000 کروڑ روپے کا ہے اور یہ ملک کی مجموعی گھریلو پیداوار میں تقریباً ایک فیصد کا حصہ ڈالتی ہے۔
- مالی سال 2025-26 میں ہندوستان سے ناریل کے ریشے اور ناریل کے ریشے کی مصنوعات کی برآمدات کی مالیت 6,614.40 کروڑ روپے رہی۔ امریکہ، چین، نیدرلینڈز، اسپین اور برطانیہ ان مصنوعات کی برآمد کے اہم مقامات ہیں۔ کوئر پِتھ، ریشہ، سوت اور مشینی طریقے سے تیار کردہ گچھے دار چٹائیاں ہندوستان کی اہم برآمداتی مصنوعات ہیں۔
- ہندوستان کے ناریل کے ریشے کے شعبہ میں21,000 سے زیادہ اکائیاں ہیں اور یہ7 لاکھ سے زائد مزدوروں کو براہ راست اور بالواسطہ روزگار فراہم کرتا ہے۔ ان میں80 فیصد خواتین ہیں، جن کا تعلق دیہی گھرانوں سے ہے۔
- چھوٹی، بہت چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کی وزارت ناریل کے ریشے کےشعبے کی پائیدار ترقی اور فروغ کے ساتھ ناریل کے ریشے کے دست کاروں اور صنعت کو تعاون فراہم کرنے کے مقصد سے مرکزی شعبہ کی ایک اسکیم ‘کوئر وکاس یوجنا’(سی وی وائی) چلاتی ہے۔
کوئر وکاس یوجنا(سی وی وائی) کے اہم مقاصد درج ذیل ہیں:
- ناریل کے ریشے کی صنعت کے لیے نئی ٹیکنالوجی، مشینوں اور مصنوعات کی تیاری۔
- ہنرمندی کی تربیت اور فروغ کے پروگراموں کا انعقاد۔
- ملکی اور بین الاقوامی منڈیوں میں ناریل کےریشے اور ناریل کےریشے کی مصنوعات کی فروخت کو فروغ دینا۔
- تشہیری سرگرمیوں اور تجارتی میلوں، نمائشوں وغیرہ میں شرکت کے ذریعے بیداری پیدا کرنا۔
- فروخت کو فروغ دینے کے لیے مالی امداد فراہم کرنا۔
- ناریل کےریشےبرآمد کنندگان کی بین الاقوامی نمائشوں میں شرکت کو آسان بنانا۔
- ناریل کےریشے کےشعبے سے متعلق اعداد و شمار مرتب کرنا اور شائع کرنا۔
گزشتہ 12 برسوں کے دوران اہم کامیابیاں (2014-15 سے):
- ادیم رجسٹریشن پورٹل پر کوئر کی21,000 سے زیادہ اکائیاں رجسٹرڈ ہیں، جن میں2.3 لاکھ افراد کو روزگار حاصل ہے۔ اس طرح یہ اکائیاں باقاعدہ چھوٹی، بہت چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کی پالیسی کے نظام کا حصہ بن گئی ہیں۔
- ناریل کےریشے اور ناریل کےریشے کی مصنوعات کی برآمدات مالی سال 2014-15 کے 1,630.33 کروڑ روپے سے بڑھ کر مالی سال 2025-26 میں6,614.40 کروڑ روپے ہو گئیں۔ اس طرح ان میں305.70 فیصد اضافہ درج کیا گیا اور برآمدات چار گنا سے بھی زیادہ ہو گئیں۔
- مختلف تربیتی پروگراموں کے تحت 68,000 سے زیادہ افراد کو تربیت دی گئی، جن میں80 فیصد سے زیادہ خواتین ہیں۔
- کوئر شعبہ میں150 سے زیادہ جدید مشینیں، ٹیکنالوجیز اور قدر میں اضافے والی مصنوعات متعارف کرائی گئیں۔
- ایک ہزار سے زیادہ برآمد کنندگان کی بیرون ملک بین الاقوامی نمائشوں میں شرکت کو ممکن بنایا گیا۔ اس کے علاوہ برآمداتی منڈیوں کے فروغ کے تحت 850 سے زیادہ کاروباری افراد کو 20 کروڑ روپے سے زائد کی مالی امداد فراہم کی گئی۔
- پورے ہندوستان میں1,400 سے زیادہ تشہیری پروگرام منعقد کیے گئے اور 950 سے زیادہ نمائشوں میں شرکت کی گئی۔
ناریل کےریشے سے خوابوں کو پرواز: کاروبار اور کامیابی کی متاثر کن کہانیاں


1-مہاراشٹر کے ضلع سندھو درگ سے تعلق رکھنے والی محترمہ رنجنا رام چندر کدم نے وزیر اعظم کے روزگار پیدا کرنے کے پروگرام (پی ایم ای جی پی) کے تحت اپنے کاروباری خواب کو حقیقت میں بدل دیا۔ اس پروگرام کے تحت انہیں کوئر بورڈ کی رہنمائی حاصل ہوئی، جس کی مدد سے انہوں نے ناریل کے ریشے کی ایک اکائی قائم کی۔ انہوں نے کاروبار شروع کرنے کے لیے ایک شیڈ تعمیر کیا اور ضروری مشینری اور آلات حاصل کیے۔ اس سلسلہ میں کوئر بورڈ کے دفتر نے انہیں نمایاں تعاون فراہم کیا۔ ان کی فیکٹری میں فی الحال ناریل کے ریشے کی رسیاں، تکیے اور دروازوں پر بچھانے والی چٹائیاں تیار کی جاتی ہیں۔ اس کاروبار کے ذریعہ انہوں نے چھ افراد کو کل وقتی روزگار فراہم کیا ہے۔

2-کیرالہ کے شہر کوژیکوڈ میں جناب سریندرن پی کی زیر نگرانی کام کرنے والے ادارے سمپورنا پلس ایگرو فرٹیلائزر انٹرپرائزز کو کوئر بورڈ کے ذیلی علاقائی دفتر، کنور اور مرکزی کوئر تحقیقی ادارے، کلاوور کی جانب سے فراہم کردہ تربیت اور تکنیکی رہنمائی سے تقویت ملی۔ انہوں نے کوئر پِتھ سے حیاتیاتی کھاد تیار کرنے اور اس کے مؤثر استعمال سے متعلق عملی تربیتی پروگراموں، مظاہروں اور بیداری اجلاسوں میں سرگرمی سے حصہ لیا۔ محض ایک سال کی مختصر مدت میں ان کے ادارے نے 500 سے زیادہ صارفین پر مشتمل حلقہ قائم کر لیا ہے۔ اس ادارے نے کوئر پِتھ سے تیار کردہ 20 ٹن سے زیادہ حیاتیاتی کھاد کی فروخت بھی ریکارڈ کی ہے۔ فی الحال اس ادارے میں5 مزدور کام کر رہے ہیں، جن میں2 خواتین بھی شامل ہیں۔


3-آندھرا پردیش کے ضلع مشرقی گوداوری کی محترمہ الّام گوتمی نے پانچ سال قبل کوئر بورڈ کے تربیتی مرکز سے تربیت حاصل کی تھی۔ تکنیکی رہنمائی سے حوصلہ پا کر انہوں نے اپنا ادارہ، اڈیگو کوئر پروڈکٹس قائم کیا۔ انہوں نے وزیر اعظم کے روزگار پیدا کرنے کے پروگرام (پی ایم ای جی پی) کے تحت مالی امداد بھی حاصل کی۔ آج ان کے ادارے کا سالانہ کاروبار تقریباً 35 لاکھ روپے تک پہنچ گیا ہے اور سالانہ منافع تقریباً 10 لاکھ روپے ہے۔ اس ادارے نے چھ خواتین کے لیے روزگار کے مواقع بھی پیدا کیے ہیں۔ وہ کوئر بورڈ کے علاقائی دفتر، راجمندری اور منڈل پریشد کے حکام کے تعاون سے تربیتی پروگرام بھی سرگرمی سے منعقد کر رہی ہیں۔ اب تک تقریباً 120 خواتین کو ناریل کے ریشے کی چٹائیاں بُننے، رسیاں بنانے اور دست کاری کی مصنوعات تیار کرنے کی تربیت دی جا چکی ہے۔


کیرالہ کے ضلع الاپّوزا سے تعلق رکھنے والے جناب جی سابو نے 2024 میں وزیر اعظم کے روزگار پیدا کرنے کے پروگرام (پی ایم ای جی پی) کے تحت کوئر بورڈ کے علاقائی دفتر، کلاوور کے ذریعے ناریل کے ریشے کے سوت کاتنے کی اکائی قائم کی۔ دو سال کے اندر اس اکائی نے ناریل کے ریشے کی سوت اور رسیاں تیار کرنے میں مستحکم پیداوار حاصل کر لی، جنہیں الاپّوزا کی مقامی کوئر سوسائٹیوں اور مصنوعات تیار کرنے والے اداروں کو فراہم کیا جاتا ہے۔ اس کاروبار سے مقامی طور پر 8 سے 10 مزدوروں کو براہِ راست روزگار ملا، جن میں زیادہ تر آس پاس کے دیہات کی خواتین ہیں۔ ماہانہ کاروبار میں نمایاں اضافہ ہوا، جس سے کاروباری شخص کو مستقل آمدنی حاصل ہونے لگی اور ملازمین کے لیے باقاعدہ اجرت کا انتظام بھی ہوا۔
*****
ش ح-ظ الف- م ش
UR No. 6049
(ریلیز آئی ڈی: 2323080)
وزیٹر کاؤنٹر : 6