صدر جمہوریہ کا سکریٹریٹ
azadi ka amrit mahotsav

 نیشنل ڈیفنس کالج کے 66ویں کورس کے اساتذہ اور شرکا کی صدر جمہوریہ سے ملاقات

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 13 OCT 2026 3:58PM by PIB Delhi

قومی دفاعی کالج کے 66ویں کورس کے اساتذہ اور شرکا نے آج (13اکتوبر 2026)راشٹرپتی بھون میں ہندوستان کی صدر محترمہ دروپدی مرمو سے ملاقات کی۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صدرجمہوریہ محترمہ دروپدی مرمو نے کہا کہ سلامتی اور ٹیکنالوجی کے منظرنامے تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں، جس کے نتیجے میں نئے اور پیچیدہ چیلنجز سامنے آ رہے ہیں۔ ان تبدیلیوں کے پیش نظر مزید بہتر تیاری، مستقبل کی تزویراتی( اسٹریٹجک) پیش بینی اور بدلتے ہوئے حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت ضروری ہے۔ تیز رفتار فیصلہ سازی کا نظام بھی زیادہ اہم ہوتا جا رہا ہے، کیونکہ جدید جنگی طریقوں کا دائرہ روایتی شعبوں کے علاوہ سائبر سلامتی، خلائی ٹیکنالوجی اور حیاتیاتی ٹیکنالوجی تک پھیل گیا ہے۔

صدرجمہوریہ نے کہا کہ آج قومی سلامتی کا دائرہ فوجی صلاحیتوں سے آگے بڑھ چکا ہے۔ اختراعات کو عملی حل میں تبدیل کرنے کے لیے سائنسی اداروں اور مسلح افواج کے درمیان قریبی تعاون ضروری ہے۔ حالیہ تنازعات نے کم لاگت والی ایسی ٹیکنالوجی کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے جو جدید دفاعی نظام کی معاون ہو اور دستیاب وسائل کا بہترین استعمال یقینی بنائے۔ انہوں نے اختراعات اور قومی سلامتی کے درمیان تعلق کو مضبوط بنانے کے لیے تحقیق، ترقی اور اختراع کی اسکیم جیسے حکومتی اقدامات کی اہمیت پر زور دیا۔

صدر جمہوریہ نے کہا کہ سائنس، قومی سلامتی اور معاشی سرگرمیوں کے مختلف شعبوں میں مصنوعی ذہانت کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیصلہ سازی کا مکمل اختیار صرف اس ٹیکنالوجی کے حوالے نہیں کیا جا سکتا اور اس سلسلہ میں انہوں نے متوازن نقطۂ نظر اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

صدرجمہوریہ نے اس بات پر زور دیا کہ معاشی استحکام قومی سلامتی کے نظام کا ایک لازمی حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی معیشت نے بیرونی عوامل سے پیدا ہونے والی رکاوٹوں کا سامنا کرنے اور ان کے اثرات کو برداشت کرنے کی اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ ہندوستان نے یہ سب کچھ اپنی تزویراتی- اسٹریٹجک  آزادی عمل سے سمجھوتہ کیے بغیر حاصل کیا ہے۔

 

صدر جمہوریہ کی تقریر سننے کے لئے برائے کرم یہاں کلک کریں

 

*****

ش ح – ظ الف –ن ع

UR No. 6000


(ریلیز آئی ڈی: 2322817) وزیٹر کاؤنٹر : 7