جل شکتی کی وزارت
صنعتی آلودگی پر قابو پانا: نمامی گنگے کے تحت ضوابط کے ذریعہ پائیداری
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
13 OCT 2026 12:44PM by PIB Delhi
صنعتی آلودگی پر قابو پانا در دریاؤں کی بحالی کا ایک اہم ستون بنتا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں ضابطہ جاتی نظام روایتی نگرانی اور کارروائی سے آگے بڑھ کر مسلسل تعمیل، سائنسی نگرانی، صاف ستھری پیداوار، وسائل کے مؤثر استعمال اور تکنیکی بہتری کی جانب تیزی سے گامزن ہے۔ نمامی گنگے پروگرام کے تحت، انتہائی آلودگی پھیلانے والی صنعتوں (جی پی آئیز)کی منظم فہرست سازی اور سالانہ معائنہ، آزاد تکنیکی جائزے، متعلقہ شعبوں کے لیے مخصوص ضابطہ جاتی رہنما اصولوں پر عمل درآمد، مشترکہ فضلے کی صفائی کے مراکز(سی ای ٹی پیز)کی نگرانی، ہدف پر مبنی عملی منصوبوں اور مسلسل ضابطہ جاتی نگرانی کے ذریعے صنعتی آلودگی پر قابو پانے کے اقدامات کو مزید مضبوط بنایا گیا ہے۔ ان تمام اقدامات کے نتیجے میں ایک ایسا زیادہ جواب دہ اور پائیدار نظام تشکیل پا رہا ہے، جس کے تحت صنعتیں آلودگی کم کرنے کے ساتھ ساتھ پانی اور وسائل کے مؤثر استعمال کو بھی بہتر بنا رہی ہیں۔ وقفے وقفے سے معائنے سے مسلسل تعمیل تک ایک اہم اقدام انتہائی آلودگی پھیلانے والی صنعتوں (جی پی آئیز)کے سالانہ معائنے کے نظام کا قیام ہے، جس کا آغاز 2017میں مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ(سی پی سی بی)کی معاونت سے کیا گیا، جو قومی سطح پر ضابطہ جاتی نگرانی کا ادارہ ہے۔ اس پروگرام کے تحت دریائے گنگا کے طاس میں واقع تمام جی پی آئیز کا معائنہ کیا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے قومی اہمیت کے حامل تکنیکی اداروں سمیت تیسرے فریق کی ایجنسیوں کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں اور معائنے کی رپورٹیں موبائل ایپلی کیشنز اور ویب پورٹلز کے ذریعے آن لائن جمع کرائی جاتی ہیں تاکہ اس عمل کی افادیت اور شفافیت میں اضافہ ہو۔ 2026 کے معائنہ کے مرحلے کے لیے 40 تکنیکی اداروں کو معائنے کے عمل میں حصہ لینے کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔
وقتی معائنہ سے لے کر مسلسل تعمیل تک
2017سے اس نگرانی کے نظام کا دائرہ نمایاں طور پر وسیع ہوا ہے۔ 2025کے معائنے کے مرحلے میں 3,703جی پی آئیز کا جائزہ لیا گیا، جن میں گنگا کے طاس کی 1,296اور جمنا کے طاس کی 2,407صنعتیں شامل تھیں۔ اس کارروائی کے تحت چھ ریاستوں اور ایک مرکز کے زیر انتظام علاقے کے 113اضلاع کا احاطہ کیا گیا۔ ان صنعتوں سے گنگا اور جمنا کی 46معاون اور ذیلی معاون ندیوں میں آلودہ پانی خارج ہونے کا امکان ہے۔ یہ معائنے محض ظاہری جائزے تک محدود نہیں ہیں۔ مقررہ طریق کار کے تحت ریاستی ضابطہ کار اداروں، یعنی ریاستی آلودگی کنٹرول بورڈ کی جانب سے انفرادی صنعتوں کو جاری کردہ ’’کام جاری رکھنے کی رضامندی‘‘کے ضوابط پر عمل درآمد کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ فضلے کی صفائی کے مراکز(ای ٹی پیز)کے داخلی مقامات، اخراجی مقامات اور ہوا رسانی کے ٹینکوں سے نمونے لیے جاتے ہیں، پانی کے بہاؤ، پی ایچ، حیاتیاتی آکسیجن کی طلب(بی او ڈی)، کیمیائی آکسیجن کی طلب(سی او ڈی)، معلق ٹھوس مادوں (ٹی ایس ایس)اور کل تحلیل شدہ ٹھوس مادوں(ٹی ڈی ایس)کا جائزہ لیا جاتا ہے، آن لائن مسلسل اخراج کی نگرانی کے نظام(او سی ای ایم ایس)کے رابطے کی تصدیق کی جاتی ہے، آلودہ پانی حاصل کرنے والی نالیوں اور آبی ذخائر کا معائنہ کیا جاتا ہے، زیر زمین پانی کا جائزہ لیا جاتا ہے اور پانی کے غیر قانونی راستوں سے اخراج کی جانچ کی جاتی ہے۔ جہاں قابل اطلاق ہو، وہاں صفر مائع اخراج (زیڈ ایل ڈی)کے نظام کا بھی جائزہ لیا جاتا ہے۔ غیر قانونی راستوں سے اخراج، متعدد مقامات سے فضلے کے اخراج یا فضلے کی صفائی کے مراکز (ای ٹی پیز)اور انتہائی آلودگی پھیلانے والی صنعتوں (جی پی آئیز)کے غیر فعال، غیر موجود یا غیر عملی ہونے سے متعلق معاملات کی رپورٹیں پورٹل پر جغرافیائی محل وقوع کے ساتھ تصاویر یا ویڈیو شواہد سمیت درج کی جاتی ہیں۔ ضابطہ جاتی اقدامات کے قابل پیمائش نتائج انتہائی آلودگی پھیلانے والی صنعتوں(جی پی آئیز)کے جائزوں سے مسلسل ضابطہ جاتی اقدامات کے اثرات واضح ہوتے ہیں۔
قابلِ پیمائش نتائج فراہم کرنے والا ضابطہ
زیر جائزہ صنعتوں میں ضوابط کی تعمیل کی شرح 2017میں 39فیصد سے بڑھ کر 2025میں 70فیصد ہو گئی، جبکہ فعال صنعتوں کی تعداد 2017کے 888سے بڑھ کر 2025میں 3,154ہو گئی۔ اسی مدت کے دوران حیاتیاتی آکسیجن کی طلب (بی او ڈی)کا بوجھ سن2017کے 26 ٹن یومیہ سے کم ہو کر 2025میں 12.02ٹن یومیہ رہ گیا، جو آلودگی کے بوجھ میں نمایاں کمی کی عکاسی کرتا ہے۔

گنگا کے طاس میں 2017سے 2025کے دوران مسلسل بہتری کا رجحان دیکھا گیا ہے، جہاں ضابطوں کی تعمیل کی شرح 2017کے 39فیصد سے بڑھ کر 2025میں 86فیصد ہو گئی۔ حیاتیاتی آکسیجن کی طلب (بی او ڈی)کا بوجھ 26ٹن یومیہ سے کم ہو کر 7.16ٹن یومیہ رہ گیا، جو 72.46فیصد کمی کو ظاہر کرتا ہے، جبکہ فضلہ کے اخراج کی مقدار 349ملین لیٹر یومیہ سے کم ہو کر 274.88ملین لیٹر یومیہ رہ گئی، جو 21.24فیصد کمی کی عکاسی کرتی ہے۔



جی پی آئیز کے معائنہ میں مزید یہ بات سامنے آئی کہ 3,145فعال صنعتوں میں سے 2,715ضوابط پر عمل کر رہی تھیں، جبکہ 448فعال صنعتیں ضوابط کی پابندی نہیں کر رہی تھیں، جو فعال صنعتوں کی مجموعی تعداد کا تقریباً 14فیصد ہے۔ ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والی صنعتوں کے خلاف ضابطہ جاتی کارروائی کے تحت، حسب ضرورت، ریاستی آلودگی کنٹرول بورڈز (ایس پی سی بیز)کی جانب سے وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیے جاتے ہیں اور صنعتوں کو بند کرنے کی کارروائی بھی کی جاتی ہے۔ اس طرح ضابطہ جاتی نظام محض قوانین نافذ کرنے کے طریقۂ کار کے طور پر نہیں، بلکہ مسلسل خود اصلاحی نظام کے طور پر کام کر رہا ہے، جس میں معائنہ، خامیوں کی نشاندہی، اصلاحی اقدامات اور ان پر عمل درآمد کی مسلسل نگرانی شامل ہے۔ آزاد تکنیکی ادارے: سائنسی بنیادوں پر سخت جانچ اس نظام کی ایک نمایاں خصوصیت صنعتی معائنے میں آزاد تکنیکی اداروں کی شمولیت ہے۔
خود مختار تکنیکی ادارے: سائنسی پختگی کا اضافہ
سن 2025کے معائنہ میں 25تکنیکی اداروں نے حصہ لیا، جبکہ 2026کے مرحلے کے لیے 40اداروں کو نامزد کیا گیا ہے۔ مقررہ طریق کار کے مطابق، معائنہ کرنے والی ٹیم میں کسی تکنیکی ادارے کے کم از کم دو ماہرین، ریاستی آلودگی کنٹرول بورڈ(ایس پی سی بی)کا ایک افسر اور ریاستی مشن برائے صاف گنگا یا ضلع گنگا کمیٹیوں کے نمائندے شامل ہوتے ہیں۔ اس طریق کار کے ذریعے سائنسی اور متعلقہ شعبوں کی مخصوص مہارت سے حاصل ہونے والی رہنمائی کو ضابطہ جاتی نگرانی میں شامل کیا جاتا ہے، تاکہ جی پی آئیز میں تکنیکی اور پیداواری عمل کو بہتر بنایا جا سکے، آلودگی اور وسائل کے استعمال میں کمی لائی جا سکے اور مجموعی کارکردگی اور ضوابط کی تعمیل کو بہتر بنایا جا سکے۔ اس کے علاوہ، معائنہ کے نتائج کی تائید تجربہ گاہوں کے تجزیوں، آن لائن مسلسل اخراج کی نگرانی کے نظام (او سی ای ایم ایس)کی تصدیق، موقع پر کیے گئے مشاہدات اور جغرافیائی محل وقوع کے ساتھ درج کیے گئے شواہد سے بھی ہوتی ہے، جس سے ضوابط کی تعمیل کے جائزے کی ساکھ اور افادیت مضبوط ہوتی ہے۔
شعبہ وار رہنما اصول: آلودگی پر قابو پانے سے آلودگی کی روک تھام تک ضابطہ جاتی نظام کا دائرہ بھی مزید وسیع کیا گیا
اب توجہ آلودگی پیدا ہونے کے بعد اس کا تدارک کرنے کے بجائے، آلودگی کے منبع پر ہی اسے روکنے پر مرکوز کی جا رہی ہے۔ گودا و کاغذ، چینی، شراب کشید کرنے، کپڑا سازی اور چمڑا سازی کے شعبوں کے لیے الگ الگ رہنما اصول وضع کیے گئے ہیں۔ سابقہ جائزے کے مطابق، ان پانچ شعبوں کی صنعتیں مجموعی طور پر گنگا کے طاس میں انتہائی آلودگی پھیلانے والی صنعتوں (جی پی آئیز)کا تقریباً 70فیصد اور آلودگی کے مجموعی بوجھ کا 88فیصد تھیں۔ پانی کی باز استعمال اور آلودگی کی روک تھام سے متعلق صنعتی رہنما اصولوں کا خاص مقصد پانی اور کیمیائی مادوں کے استعمال کو بہتر بنانا، تازہ پانی کی کھپت اور گندے پانی کی پیداوار کم کرنا، فضلے کی صفائی کے عمل کو بہتر بنانا اور پانی کے دوبارہ استعمال اور باز استعمال کو فروغ دینا ہے، تاکہ بالآخر بغیر صفائی کیے گئے صنعتی فضلے کو دریاؤں اور دیگر آبی دھاروں میں چھوڑنے سے روکا جا سکے۔ ان رہنما اصولوں میں پانی کی کھپت میں کمی، فضلے کی صفائی کے مراکز(ای ٹی پیز)اور ریورس اوسموسس (آر او)نظام کو بہتر بنانے اور طویل مدت میں پانی کی مجموعی مقدار کے مقابلے میں اس کی ری سائیکلنگ جیسے قابل پیمائش اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔ ان میں پیداواری عمل کی ٹیکنالوجی اور فضلے کی صفائی کے مراکز کو بہتر بنانے کے لیے منصوبہ بندی، جائزے، ڈیزائن اور نگرانی میں تیسرے فریق کی شمولیت کا بھی واضح تصور پیش کیا گیا ہے، جس کے ذریعے ضابطہ کار اداروں، تکنیکی اداروں، تحقیقی تنظیموں اور صنعتی شعبے کے متعلقہ فریقوں کو ایک ساتھ لایا جاتا ہے۔
زیادہ آلودگی پھیلانے والی صنعتوں کے خلاف ہدف پر مبنی کارروائی
زیادہ آلودگی پھیلانے والی صنعتوں کے لیے ہدف پر مبنی اقدامات آلودگی کے بوجھ میں نمایاں حصہ ڈالنے والی صنعتوں کے لیے ہدف پر مبنی اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔ 2022میں ایسی 246انتہائی آلودگی پھیلانے والی صنعتوں (جی پی آئیز)کی نشاندہی کی گئی، جنہیں ترجیحی بنیاد پر کارروائی کی ضرورت تھی۔ ان صنعتوں سے پیدا ہونے والی آلودگی کو کم کرنے کے لیے شعبہ وار 17ورکشاپس منعقد کی گئیں، جن میں 222صنعتوں نے شرکت کی اور عملی منصوبے پیش کیے۔ باقی 24 صنعتیں یا تو بند ہو چکی تھیں یا انہوں نے خشک طریق کار سے کام کرنا شروع کر دیا تھا۔ ان صنعتوں کی پیش رفت کا جائزہ قلیل مدتی، درمیانی مدتی اور طویل مدتی اہداف کی بنیاد پر لیا گیا۔ 173صنعتوں نے قلیل مدتی، 141نے درمیانی مدتی اور 126نے طویل مدتی اہداف حاصل کیے۔ 2021-22کے مقابلے میں 2022-23کے دوران آلودگی کے بوجھ میں اندازاً 65فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جو 18.68ٹن یومیہ سے گھٹ کر 6.381ٹن یومیہ رہ گیا۔ اس کے بعد 156صنعتوں کو ترجیحی فہرست سے خارج کر دیا گیا، جبکہ 66صنعتیں ترجیحی کارروائی کے دائرے میں برقرار رہیں۔
سی ای ٹی پیز: صنعتی کلسٹرز میں آلودگی پر قابو پانے کے نظام کو مضبوط بنانا
صنعتی کلسٹروں میں آلودگی پر قابو پانے کے نظام کو مضبوط بنانا صنعتی کلسٹروں میں اکثر فضلے کی صفائی کے لیے اجتماعی طریق کار اختیار کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ مشترکہ فضلے کی صفائی کے مراکز (سی ای ٹی پیز)ایسے صنعتی کلسٹروں میں واقع صنعتوں کو مشترکہ صفائی کی سہولت فراہم کرتے ہیں، جس سے ان کے گندے پانی کو اجتماعی طور پر صاف کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح یہ مراکز صنعتی آلودگی پر قابو پانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، خصوصاً صنعتی کلسٹروں میں۔ 2025میں گنگا اور جمنا کے مرکزی دھاروں سے متصل ریاستوں میں 41مشترکہ فضلے کی صفائی کے مراکز کا جائزہ لیا گیا، جن میں سے 40فعال تھے۔ ان کی مجموعی عملی صلاحیت 514.53ملین لیٹر یومیہ تھی، جبکہ ان کے ذریعے 286.31ملین لیٹر یومیہ پانی کی صفائی کی جا رہی تھی۔ اس دوران 27مراکز مقررہ تقاضوں پر پورا اترتے پائے گئے۔ جائزے میں کام کاج اور ٹیکنالوجی سے متعلق مخصوص خامیوں کی بھی نشاندہی کی گئی اور ان کے تدارک کے لیے اقدامات ممکن ہوئے، جن میں آپریشن اور دیکھ بھال کو بہتر بنانا، صفائی کے نظام کو جدید بنانا، ضرورت کے مطابق حیاتیاتی صفائی کا طریقہ متعارف کرانا، ابتدائی فضلہ صفائی مراکز(پی ای ٹی پیز)کی کارکردگی بہتر بنانا اور اخراجی پانی کے معیار کی باقاعدہ نگرانی شامل ہیں۔

مشترکہ فضلے کی صفائی کے مراکز(سی ای ٹی پیز)کے جائزے سے تمام مراکز کے لیے یکساں طریق کار اپنانے کے بجائے، مخصوص ضروریات کے مطابق اقدامات کرنے میں مدد ملی ہے۔ ان اقدامات میں مراکز کے کام کاج اور دیکھ بھال کو بہتر بنانا، صفائی کے نظام کو جدید بنانا، ضرورت کے مطابق حیاتیاتی صفائی کا طریقہ متعارف کرانا، ابتدائی فضلہ صفائی مراکز (پی ای ٹی پیز)کے کام کاج کو بہتر بنانا، اخراجی پانی کی باقاعدہ نگرانی اور کیمیائی مادوں کے زیادہ صاف ستھرے طریق استعمال کو فروغ دینا شامل ہے۔ کپڑا سازی کے صنعتی کلسٹروں کے لیے کیمیائی مادوں کے انتظام کا نظام اپنانے، ماحول دوست اور غیر زہریلے کیمیائی مادوں اور کم نمک والی رنگائی کے مادوں کے استعمال کی سفارش کی گئی ہے۔ چمڑا سازی کے صنعتی کلسٹروں کے لیے صاف ستھری پیداوار کے طریقے اپنانے، ابتدائی فضلہ صفائی مراکز(پی ای ٹی پیز)میں صفائی کے عمل کو بہتر بنانے اور میکانیکی طریقے سے نمک الگ کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
آبی تحفظ: صاف کیے گئے گندے پانی کو ایک وسیلے میں تبدیل کرنا
ایک اہم تبدیلی یہ ہے کہ صاف کیے گئے گندے پانی کو محض فضلہ سمجھنے کے بجائے ایک وسیلے کے طور پر تسلیم کیا جانے لگا ہے۔ مقررہ رہنما اصولوں پر مبنی اقدامات سے صنعتوں کو پانی کے دوبارہ استعمال اور استعمال کے ذریعے تازہ پانی کی فی اکائی کھپت اور گندے پانی کی پیداوار کم کرنے میں مدد ملی ہے۔ تازہ ترین جائزے میں اہم صنعتی شعبوں میں اس ضمن میں نمایاں کمی درج کی گئی ہے، جبکہ پانی کی صفائی اور استعمال کی ٹیکنالوجی اپنانے کے رجحان میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ مثال کے طور پر، چینی کے شعبے میں وسائل کے مؤثر استعمال کے حوالے سے نمایاں بہتری آئی ہے۔ 2017سے 2025کے درمیان تازہ پانی کی کھپت 155لیٹر فی ٹن گنا سے کم ہو کر 58 لیٹر فی ٹن گنا رہ گئی، گندے پانی کا اخراج 190 لیٹر فی ٹن گنا سے کم ہو کر 136 لیٹر فی ٹن گنا رہ گیا، جبکہ حیاتیاتی آکسیجن کی طلب (بی او ڈی) کے لحاظ سے اخراج 0.0065 کلوگرام فی ٹن گنا سے کم ہو کر 0.0029 کلوگرام فی ٹن گنا رہ گیا۔ اس بہتری میں ہائی پریشر بوائلر، کنڈینسیٹ صاف کرنے والے یونٹ، فضلے کی صفائی کے تیسرے درجے کے نظام کو جدید بنانے، صاف کیے گئے گندے پانی کے دوبارہ استعمال اور پیداواری عمل میں دیگر بہتریوں نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ گودا و کاغذ کے شعبے میں بھی وسائل کے مؤثر استعمال کے حوالے سے نمایاں کامیابیاں درج کی گئی ہیں۔ تازہ ترین جائزے کے مطابق، ری سائیکل شدہ ریشوں پر مبنی گودا و کاغذ کی 60ملیں صفر مائع اخراج (زیڈ ایل ڈی)کے نظام کے تحت کام کر رہی ہیں۔ اس کے ساتھ زیر زمین پانی کی یومیہ 928.89ملین لیٹر بچت اور ہر سال 1,649.80میگاواٹ توانائی کی بچت کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ گنگا کے طاس کے صنعتی کلسٹروں میں موجود مشترکہ فضلے کی صفائی کے مراکز کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ ان سے وابستہ صنعتی اکائیاں صاف کیے گئے پانی کو دوبارہ استعمال کر سکیں۔
پائیدار صنعتی ضابطہ کاری کا ایک نیا تصور
صنعتی آلودگی پر قابو پانے کے اقدامات کے اثرات نہ صرف ضوابط کی تعمیل کے اعداد و شمار میں بلکہ وسیع تر ماحولیاتی نتائج میں بھی نظر آتے ہیں۔ جائزے کے مطابق، گودا و کاغذ کی ملوں سے بلیک لیکوئر کا کوئی اخراج نہیں ہو رہا ہے، شراب کشید کرنے والی صنعتوں سے گندے پانی کا کوئی اخراج نہیں ہو رہا ہے، رنگین پانی کے اخراج اور مچھلیوں کی ہلاکت کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا ہے، زیر زمین پانی کی یومیہ تقریباً 719 ملین لیٹر بچت ہو رہی ہے اور رام گنگا، کوسی، ڈھیلا اور بہیلا سمیت معاون ندیوں کے پانی کے معیار میں بہتری آئی ہے۔ ان اقدامات سے ہر سال تقریباً 1,277.6 میگاواٹ توانائی کی بچت اور کاربن کے اخراج میں اندازاً 1,162.6 ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مساوی کمی لانے میں بھی مدد ملی ہے۔
ضابطہ جاتی اقدامات کے ذریعے آلودگی پر قابو پانے کے عمل کو برقرار رکھنا
نمامی گنگے پروگرام کے تحت صنعتی آلودگی پر قابو پانے کی کوششیں ماحولیاتی نظم و نسق میں ایک اہم تبدیلی کی عکاسی کرتی ہیں، جس کے نتیجے میں ضوابط کی مؤثر تعمیل کو یقینی بنانے میں مدد ملی ہے۔
اس طریق کار میں ضابطہ بندی کے ساتھ سائنس، نفاذ کے ساتھ تعاون، ٹیکنالوجی کے ذریعے نگرانی اور ضوابط کی تعمیل کے ساتھ وسائل کے مؤثر استعمال کو یکجا کیا گیا ہے۔ انتہائی آلودگی پھیلانے والی صنعتوں (جی پی آئیز)کے سالانہ معائنے ضابطہ جاتی نظام کی بنیاد فراہم کرتے ہیں، آزاد تکنیکی ادارے سائنسی جانچ کو مضبوط بناتے ہیں، شعبہ وار رہنما اصول صاف ستھری پیداوار اور پانی کے باز استعمال کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، ہدف پر مبنی عملی منصوبے زیادہ آلودگی پھیلانے والی صنعتوں کے مسائل سے نمٹتے ہیں جبکہ مشترکہ فضلے کی صفائی کے مراکز (سی ای ٹی پیز)کے جائزے صنعتی کلسٹروں میں آلودگی پر قابو پانے کے نظام کو مضبوط بناتے ہیں۔
اعداد و شمار اس پیش رفت کی عکاسی کرتے ہیں۔ 2025کے جائزے میں مجموعی طور پر 3,703انتہائی آلودگی پھیلانے والی صنعتوں کا احاطہ کیا گیا، جن میں گنگا کے طاس کی 1,296اور جمنا کے طاس کی 2,407صنعتیں شامل تھیں۔ گنگا کے طاس میں ضوابط کی تعمیل کی شرح 2017 کے 39 فیصد سے بڑھ کر 2025میں 86فیصد ہو گئی، جبکہ اسی دوران حیاتیاتی آکسیجن کی طلب (بی او ڈی)کے بوجھ میں 72.46 فیصد کمی درج کی گئی۔
لہٰذا اب مقصد صرف یہ یقینی بنانا نہیں ہے کہ صنعتیں مقررہ ضوابط پر عمل کریں، بلکہ ذمہ دارانہ پیداوار، آبی تحفظ، آلودگی کی روک تھام، پانی کے دوبارہ استعمال اور باز استعمال کی ایک پائیدار روایت قائم کرنا بھی ہے۔
ضابطہ بندی سے ذمہ داری تک، نگرانی سے قابل پیمائش نتائج تک اور آلودگی پر قابو پانے سے پائیدار پیداوار تک، صنعتی آلودگی پر قابو پانے کی کوششیں صاف ستھرے اور صحت مند دریاؤں کی جانب سفر کا ایک مستقل اور لازمی حصہ بنتی جا رہی ہیں۔
*****
ش ح – ظ الف –ن ع
UR No. 5084
(ریلیز آئی ڈی: 2322759)
وزیٹر کاؤنٹر : 10