شماریات اور پروگرام کے نفاذ کی وزارت
ترقی یافتہ ہندوستان 2047 کے ہدف کے حصول کے لیے مضبوط شماریاتی نظام کلیدی اہمیت رکھتے ہیں:ڈاکٹر پی کے مشرا
‘‘ہمارا شماریاتی ڈھانچہ بھی ہمارے قومی عزائم کی طرح جدید اور بلند حوصلہ ہونا چاہیے’’: ڈاکٹر پی کے مشرا
‘‘ہمارے اعداد و شمار کا معیار ہمارے فیصلوں اور ترقیاتی نتائج کے معیار کو متاثر کرتا ہے’’: وزیر اعظم کے پرنسپل سکریٹری
”اعداد و شمار محض انتظامی ضرورت نہیں، بلکہ ایک اہم قومی اثاثہ ہیں’’: ڈاکٹر پی کے مشرا
مصنوعی ذہانت اور جدید تجزیاتی طریقے سرکاری اعداد و شمار کے نظام کو مضبوط بنا سکتے ہیں، لیکن اعداد و شمار کے معیار کا متبادل نہیں ہو سکتے: ڈاکٹر پی کے مشرا
ڈاکٹر پی کے مشرا نے شماریات و پروگرام نفاذ کی وزارت (ایم او ایس پی آئی) کے زیر اہتمام ریاستی منصوبہ بندی، مالیات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سکریٹریوں کی کانفرنس سے کلیدی خطاب کیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
13 OCT 2026 12:40PM by PIB Delhi
وزیر اعظم کے پرنسپل سکریٹری ڈاکٹر پی کے مشرا نے آج نئی دہلی میں شماریات و پروگرام نفاذ کی وزارت (ایم او ایس پی آئی) کے زیر اہتمام ریاستی منصوبہ بندی، مالیات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سکریٹریوں کی کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے کلیدی خطاب کیا۔ معتبر اعداد و شمار، معلومات میں ہم آہنگی اور ٹیکنالوجی پر مبنی حکمرانی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شواہد پر مبنی پالیسی سازی اور 2047 تک ترقی یافتہ ہندوستان کے تصور کو حقیقت میں بدلنے کے لیے ایک مضبوط شماریاتی نظام ضروری ہے۔
ڈاکٹر مشرا نے کہا کہ شماریات، اعداد و شمار، ٹیکنالوجی، منصوبہ بندی اور حکمرانی ہندوستان کے ترقیاتی سفر کے ایسے عناصر ہیں، جن کا باہمی تعلق مسلسل بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک مضبوط شماریاتی نظام ایسا ہونا چاہیے جو حکومتوں کو ریاستوں اور اضلاع میں ترقی کی پیش رفت کی پیمائش کرنے، پالیسیوں کے نتائج کا جائزہ لینے، خامیوں کی نشاندہی کرنے اور اس بات کو یقینی بنانے کے قابل بنائے کہ عوامی وسائل مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں صرف ہوں۔ انہوں نے کہا، ‘‘جس چیز کی پیمائش نہیں کی جا سکتی، اس کا مؤثر انتظام نہیں کیا جا سکتا۔ اور جس کا مؤثر انتظام نہیں کیا جا سکتا، اسے پائیدار طور پر تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔’’
ڈاکٹر مشرا نے معاشی پیمائش کو جدید بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کے شماریاتی نظام کو ایسی معیشت کے ساتھ ساتھ ترقی کرنی چاہیے جو تیزی سے ڈیجیٹل، باضابطہ اور باہم مربوط ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 23-2022 کو بنیادی سال قرار دیتے ہوئے قومی حسابات کے نئے سلسلے کا آغاز، نیز صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی) اور صنعتی پیداوار اشاریہ (آئی آئی پی) کے تازہ ترین سلسلوں کا اجرا، شماریاتی طریقۂ کار کو بدلتے ہوئے معاشی حقائق کے مطابق رکھنے کی سمت میں ایک اہم قدم ہے۔
ڈاکٹر مشرا نے ریاستی شماریاتی نظام کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی ترقی کی داستان بنیادی طور پر اس کی ریاستوں کی ترقی کی داستان ہے، جہاں پالیسیاں نافذ ہوتی ہیں، معاشی سرگرمیاں انجام پاتی ہیں اور شہری ترقی کے ثمرات محسوس کرتے ہیں۔ انہوں نے سرکاری اعداد و شمار کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے ادارہ جاتی صلاحیت کو مضبوط بنانے اور مرکز و ریاستوں کے درمیان قریبی تال میل پر زور دیا۔
ڈاکٹر مشرا نے کہا کہ مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ، جغرافیائی محل وقوع کے نظام، سیٹلائٹ سے حاصل کردہ تصاویر اور جدید تجزیاتی طریقے سرکاری اعداد و شمار کی بروقت دستیابی، درستگی اور افادیت کو بہتر بنانے کے لیے اہم مواقع فراہم کرتے ہیں۔ تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ تکنیکی ترقی میں شماریاتی معیار، شفافیت، رازداری، سلامتی اور جواب دہی کو رہنما اصولوں کی حیثیت حاصل رہنی چاہیے۔ انہوں نے کہا، ’’رفتار کے لیے درستگی کی قربانی نہیں دی جا سکتی۔ اعداد و شمار کے زیادہ استعمال کی خاطر رازداری سے سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔‘‘
ڈاکٹر مشرا نے شماریات کو باہمی تعاون پر مبنی وفاقیت کا ایک اہم ذریعہ قرار دیا، جو ریاستوں اور مرکز کو نتائج کا موازنہ کرنے، بہترین طریقۂ کار کی نشاندہی کرنے اور علاقائی اختلافات سے سیکھنے کے قابل بناتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2047 کی جانب ہندوستان کی پیش رفت کے دوران صرف قومی اوسط کافی نہیں ہوگی، بلکہ ترقیاتی خامیوں کی نشاندہی کرنے اور مناسب اقدامات کی رہنمائی کے لیے ریاستی، ضلعی اور مقامی سطح پر تفصیلی اعداد و شمار کی ضرورت بھی بڑھتی جائے گی۔
اختتام پر ڈاکٹر مشرا نے شماریات و پروگرام نفاذ کی وزارت، ریاستی شماریاتی دفاتر، مالیات، منصوبہ بندی اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے محکموں، نیتی آیوگ، تعلیمی اداروں اور دیگر متعلقہ فریقوں پر مشتمل ایک اجتماعی قومی کوشش پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو ایسے شماریاتی ڈھانچے کی ضرورت ہے جس پر اعتماد کیا جا سکے، جو شفاف ہو، ٹیکنالوجی سے لیس ہو، مختلف نظاموں کے درمیان باہمی مطابقت رکھتا ہو اور پالیسی سازی کے لیے مفید ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسا نظام نہ صرف ہندوستان کی تبدیلیوں کی پیمائش کرے گا بلکہ 2047 تک ترقی یافتہ ہندوستان کے ہدف کی جانب اس کی رہنمائی کرنے اور اس پیش رفت کو تیز کرنے میں بھی مدد دے گا۔
*****
ش ح۔ض ر۔ اش ق
U. No-5091
(ریلیز آئی ڈی: 2322753)
وزیٹر کاؤنٹر : 8