وزیراعظم کا دفتر
azadi ka amrit mahotsav

وزیر اعظم جناب نریندر مودی کا بلومبرگ نیو اکنامی فورم سے خطاب


میں جس وژن کے ساتھ آیا ہوں، وہ بااختیار بنانے کی طاقت ہے؛ کنٹرول کرنے کی طاقت سے آگے بڑھ کر مواقع فراہم کرنے کی طاقت؛ مقابلہ کرنے کی طاقت سے آگے بڑھ کر تعاون کرنے کی طاقت؛ کامیاب ہونے کی طاقت سے آگے بڑھ کر دوسروں کو کامیاب بنانے کی طاقت ہے: وزیر اعظم

’ہندوستان کی صلاحیتیں دوسرے ممالک کے لیے بھی مواقع کے نئے دروازے کھولیں، ہم اس کے لیے کوشاں ہیں‘: وزیر اعظم

ہندوستان کی ترقی کی بنیاد اجتماعی خوش حالی اور مشترکہ مواقع پر قائم ہے: وزیر اعظم

ہم کسی کی قیمت پر ترقی نہیں کرتے؛ ہم دنیا کے ساتھ اور دنیا کے لیے ترقی کرتے ہیں: وزیر اعظم

غیر یقینی صورت حال سے دوچار دنیا میں ہندوستان اعتماد اور استحکام کی ضمانت پیش کرتا ہے: وزیر اعظم

ہمارے لیے اصلاحات کوئی مجبوری نہیں ہیں، بلکہ ہمارا پختہ یقین ہیں: وزیر اعظم

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 13 OCT 2026 12:42PM by PIB Delhi

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج نئی دہلی میں بلومبرگ نیو اکنامی فورم سے خطاب کیا۔ان سے قبل جناب مائیکل بلومبرگ کی جانب سے پیش کیے گئے خیالات کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم نے ہندوستان میں پہلی بار اس فورم کے انعقاد کو ایک غیر معمولی پیش رفت قرار دیا۔ انہوں نے معیشت، ٹیکنالوجی، توانائی اور بین الاقوامی امور سمیت اہم عالمی موضوعات پر تبادلۂ خیال کے لیے دنیا کے ذہین ترین افراد کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی فورم کی صلاحیت کو سراہا۔ جناب مودی نے کہاکہ میں جناب بلومبرگ اور ان کی پوری ٹیم کو مبارک باد پیش کرتاہوں۔ آپ نے صحیح وقت پر صحیح جگہ کا انتخاب کیا ہے۔‘‘

ابھرتی ہوئی عالمی طاقتوں کے موضوع پر منعقدہ سربراہی اجلاس کے بنیادی مقصد کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے اکیسویں صدی کی تیسری دہائی میں آنے والی اس بڑی تبدیلی کو اجاگر کیا، جس میں ٹیکنالوجی، اعداد و شمار، علم اور اختراع طاقت کے اہم پیمانے بن گئے ہیں۔ انہوں نے حاضرین کو غور کرنے کی درخواست کی کہ اس طاقت کا اصل مقصد کیا ہونا چاہیے؟ کیا اسے صرف چند لوگوں کو مزید بااختیار بنانے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے یا لاکھوں لوگوں کے لیے مواقع کے نئے دروازے کھولنے کے لیے؟ انہوں نے زور دیا کہ اب طاقت کا مقصد محض دوسروں پر قابو پانا نہیں، بلکہ انہیں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنا ہونا چاہیے؛ اسی طرح مقابلے کے بجائے باہمی تعاون کو فروغ دینا ضروری ہے۔ جناب مودی نے کہاکہ کامیاب ہونے کی طاقت سے آگے بڑھ کر دوسروں کو کامیاب بنانے کی طاقت—میں آج جس وژن کے ساتھ یہاں آیا ہوں، وہ ہے دوسروں کو بااختیار بنانے کی طاقت۔‘‘

اس نظریے کو قدیم تہذیبی دانش سے جوڑتے ہوئے وزیر اعظم نے سنسکرت کے روایتی متون کا حوالہ دیا، جن میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ علم، دولت اور طاقت کی حقیقی قدر کا تعین اس امر سے ہوتا ہے کہ انہیں کس اخلاقی انداز میں استعمال کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کی پیچیدہ عالمی صورت حال کو سمجھنے اور اس سے نمٹنے کے لیے طاقت کے اس بنیادی مقصد کو سمجھنا بے حد ضروری ہے۔ جناب مودی نے کہاکہ یعنی طاقت کی حقیقی قدر اس کے مقصد میں پوشیدہ ہے۔‘‘

وزیر اعظم نے قدیم نظریات کو جدید طرزِ حکمرانی میں ڈھالنے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’بااختیار بنانے کی طاقت‘ کا تصور محض دنیا کو دیا جانے والا کوئی وعظ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک گہری تہذیبی روایت ہے، جسے ملک کے نظم و نسق اور کام کاج کے طریقوں میں عملی طور پر اپنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس تبدیلی لانے والے نظریے کو واضح کرنے کے لیے ملک کی ترقی کی ٹھوس مثالیں پیش کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ جناب مودی نے کہاکہ میں اپنی بات کو آگے بڑھانے کے لیے ہندوستان ہی کی مثالیں پیش کروں گا۔

’جمہوریت کی ماں‘ کی متحرک اور مثالی خصوصیات کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے ملک کی وسیع لسانی تنوع، 80 ہزار مطبوعات اور ایک ہزار سے زیادہ ٹیلی ویژن چینلوں کا فخر کے ساتھ ذکر کیا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ سوشل میڈیا کے موجودہ دور میں ملک کے 50 کروڑ یوٹیوب اور انسٹاگرام صارفین کھل کر بھرپور مباحثوں میں حصہ لیتے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ڈیجیٹل طاقت جمہوری مکالمے کو فعال طور پر فروغ دے رہی ہے۔ جناب مودی نے کہاکہ موجودہ دور میں اس سلسلے میں ڈیجیٹل طاقت نے اہم کردار ادا کیا ہے۔‘

ڈیجیٹل سہولتوں سے محرومی کے خلاف بھرپور جدوجہد کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ایک دہائی سے کچھ زیادہ عرصہ پہلے تک موبائل فون اور انٹرنیٹ تک رسائی کو محض مراعات یافتہ طبقے کی سہولت سمجھا جاتا تھا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ 2014 سے حکومت نے دانستہ طور پر انٹرنیٹ ڈیٹا کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی، تاکہ چھوٹے شہروں کے طلبہ سے لے کر گاؤں کے دکانداروں تک ہر شخص علم اور منڈیوں تک فوری رسائی حاصل کر سکے۔ جناب مودی نے کہاکہ یعنی ہندوستان میں رابطے کی سہولتوں نے صرف لوگوں کو ہی نہیں جوڑا، بلکہ مواقع کو بھی آپس میں مربوط کیا ہے۔

مالی شمولیت کے غیر معمولی پیمانے کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے بین الاقوامی مہمانوں کو مدعو کیا کہ وہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کے ایسے مربوط نظام کا مشاہدہ کریں، جہاں ایک معمولی سا خوانچہ فروش اور ایک بڑا کار شوروم بالکل ایک ہی تکنیکی پلیٹ فارم استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے مالیاتی سہولتوں کی اس انقلابی جمہوری کاری کو شمولیتی ٹیکنالوجی کے عملی استعمال کا سب سے بڑا ثبوت قرار دیا۔ جناب مودی نے کہاکہ یہ شمولیتی ٹیکنالوجی کی طاقت ہے۔‘‘

وزیر اعظم نے بین الاقوامی سطح پر تکنیکی تعاون کے تئیں ملک کے عزم پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی ڈیجیٹل صلاحیتیں مسلسل عالمی جنوب اور دیگر شراکت دار ممالک کے ساتھ مشترک کی جا رہی ہیں، تاکہ وہ اپنا ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچہ تیار کر سکیں۔ انہوں نے وبا کے دوران استعمال کیے گئے کھلے ماخذ کے پلیٹ فارم ’کووِن‘ کی مثال پیش کی، جو اس بات کی نمایاں مثال ہے کہ کس طرح ملک میں ہونے والی اختراع عالمی امکانات کے نئے دروازے کھول رہی ہے۔ جناب مودی نے کہاکہ یعنی ہماری صلاحیت انسانیت کو بااختیار بنانے کے کام آنی چاہیے۔‘‘

اختراع کو وسیع تر عوام تک پہنچانے کی بھرپور کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے ملک میں اسٹارٹ اَپس کی تیز رفتار ترقی کو سراہا، جن کی تعداد 2014 میں چند سو تھی، لیکن آج بڑھ کر ڈھائی لاکھ سے زیادہ ہو گئی ہے۔ انہوں نے فخر کے ساتھ بتایا کہ ان میں سے تقریباً نصف اسٹارٹ اَپس چھوٹے شہروں سے تعلق رکھتے ہیں اور 45 فیصد سے زیادہ کی قیادت خواتین کے ہاتھ میں ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مسائل حل کرنے کی صلاحیت معاشرے کے تمام طبقات تک پہنچ رہی ہے۔ جناب مودی نے کہاکہ یعنی اختراع کے مواقع زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ رہے ہیں۔‘‘

وزیر اعظم نے عوامی نظم و نسق کے بنیادی فلسفے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی اختیارات کا مقصد کبھی بھی ایسا نظام قائم کرنا نہیں ہونا چاہیے جو لوگوں کو دوسروں کا محتاج بنائے، بلکہ اس کا مقصد شہریوں کو مکمل طور پر خود کفیل اور بااختیار بنانا ہونا چاہیے۔ انہوں نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران 25 کروڑ لوگوں کو غربت سے باہر نکالنے کا سہرا اسی بااختیار بنانے پر مبنی طرزِ حکمرانی کو دیا۔ جناب مودی نے کہاکہ ہندوستان اسی راستے پر گامزن ہے۔

بدعنوانی کے خاتمے کے لیے  اٹھائے گئے نظامی اقدامات کی تفصیل پیش کرتے ہوئے وزیر اعظم نے’جے اے ایم ٹرینٹی‘ اور براہِ راست فائدے  کی منتقلی کے نظام کا ذکر کیا، جن کے ذریعے سرکاری امداد براہِ راست شہریوں کے بینک کھاتوں میں پہنچائی جاتی ہے۔ جناب مودی نے کہاکہ اس سے بدعنوانی میں کمی آئی ہے، ملک کے شہریوں کی سہولت میں اضافہ ہوا ہے اور حکومت اور شہری کے درمیان براہِ راست تعلق قائم ہوا ہے۔

عالمی سطح پر بااختیار بنانے کے اس نظریے کی مثال پیش کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کووِڈ-19 وبا کے دوران ویکسین کی شدید قلت کا ذکر کیا اور سوال اٹھایا کہ کیا زندگی بچانے والی ویکسین تیار کرنے کی صلاحیت کو چند ممالک تک محدود رکھا جانا چاہیے تھا۔ انہوں نے اس بات پر گہرے فخر کا اظہار کیا کہ ہندوستان نے 100 سے زیادہ ممالک کو ویکسین فراہم کرکے انسانیت کی خدمت کا راستہ اختیار کیا۔ جناب مودی نے کہاکہ ہماری پیداواری صلاحیت دوسرے ممالک کی مدد کا ذریعہ بھی بنی۔

شمولیت پر مبنی دور اندیشی کی ایک منفرد مثال پیش کرتے ہوئے وزیر اعظم نے حال ہی میں ملک میں منعقدہ مصنوعی ذہانت کے اثرات سے متعلق سربراہی اجلاس کا ذکر کیا، جس میں گفتگو کا دائرہ انسانی استعمالات سے آگے بڑھاتے ہوئے اس بات پر بھی غور کیا گیا کہ مصنوعی ذہانت جانوروں کی فلاح و بہبود کے لیے کس طرح مفید ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے اس مثال کے ذریعے واضح کیا کہ ایک بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کا حامل ملک پوری دنیا کے لیے مسلسل وسیع تر فوائد پیدا کرے گا۔ جناب مودی نے کہاکہ ہندوستان جتنا زیادہ باصلاحیت ہوگا، انسانیت اور دنیا کے لیے اتنا ہی زیادہ مفید ثابت ہوگا۔‘‘

عالمی نظام میں توازن قائم کرنے کی اپیل کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ مقابلہ، اختراع اور قومی طاقت اگرچہ اہم ہیں، لیکن ان کے ساتھ ہمدردی اور موسمیاتی تبدیلی، آبی انتظام و انصرام اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کے ذمہ دارانہ استعمال جیسے عالمی چیلنجوں کو حل کرنے کا عزم بھی لازمی طور پر ہونا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ دنیا کو ایسی طاقتوں کی اشد ضرورت ہے جو نئے اور مشترکہ مواقع پیدا کرنے کے لیے سرگرم ہوں۔ جناب مودی نے کہاکہ طاقت صرف آگے بڑھنے کی صلاحیت کا نام نہیں، بلکہ دوسروں کو آگے بڑھنے کے قابل بنانے کی صلاحیت بھی ہے۔‘‘

موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے ملک کے پختہ عزم کی مثال پیش کرتے ہوئے وزیر اعظم نے پیرس معاہدے کے تحت 2015 میں کیے گئے اس اہم وعدے کا ذکر کیا کہ 2030 تک بجلی کی مجموعی نصب شدہ صلاحیت کا 40 فیصد غیر فوسل ذرائع سے حاصل کیا جائے گا۔ انہوں نے فخر کے ساتھ اعلان کیا کہ ہندوستان نے نومبر 2021 میں، مقررہ مدت سے نو سال پہلے ہی، یہ ہدف حاصل کر لیا اور ایسا کرنے والا پہلا جی 20 ملک بن گیا۔ جناب مودی نے کہاکہ یہ محض ایک وعدہ پورا کرنے کی بات نہیں ، بلکہ ہندوستان کے بدلتے ہوئے توانائی کے سفر کی علامت بھی تھی۔‘‘

سبز توانائی کی جانب اس بڑی تبدیلی کے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے وزیر اعظم نے بتایا کہ ملک میں قابلِ تجدید توانائی کی صلاحیت 2014 میں محض 75 گیگاواٹ تھی، جو آج بڑھ کر تقریباً 300 گیگاواٹ ہو گئی ہے۔ انہوں نے صلاحیت میں ہونے والے اس چار گنا اضافے کو ملک کی پائیدار ترقی کی ایک بڑی کامیابی قرار دیا۔

توانائی کی اس تبدیلی سے عام لوگوں کو ہونے والے معاشی فوائد کی وضاحت کرتے ہوئے وزیر اعظم نے بتایا کہ پردھان منتری سوریہ گھر اور پردھان منتری کے یو ایس یو ایم اسکیموں کے ذریعے گھروں اور کسانوں کو اپنی شمسی توانائی خود پیدا کرنے اور پیداواری اخراجات کم کرنے کے قابل بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات سے 30 گیگاواٹ سے زیادہ توانائی کی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں ہر سال کاربن کے اخراج میں 3 کروڑ ٹن سے زیادہ کمی آ رہی ہے۔ اس طرح قدرتی ماحول کے تحفظ کے ساتھ ساتھ شہریوں کی خوش حالی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ جناب مودی نے کہاکہ اس سے لوگوں کو بااختیار بنانے میں بھی مدد مل رہی ہے۔‘‘

عالمی سطح پر طاقت کی کشمکش کے برعکس ملک کے باہمی تعاون کے جذبے کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ دنیا میں غلبہ حاصل کرنے کی دوڑ کے درمیان ہندوستان  نے دانستہ طورپر ایک الگ اور استحکام فراہم کرنے والا راستہ اختیار کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دہائی ملک کے اس منفرد مزاج کی واضح گواہ ہے۔ جناب مودی نے کہاکہ دنیا میں طاقت کی اس دوڑ میں ہندوستان ایک مختلف مزاج کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔

اکیسویں صدی کی تیسری دہائی میں یکے بعد دیگرے سامنے آنے والے بحرانوں کی تفصیل بیان کرتے ہوئے وزیر اعظم نے عالمی وباؤں، علاقائی جنگوں اور اہم معدنیات، توانائی اور تجارت سے متعلق سپلائی چینز میں شدید رکاوٹوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے دنیا کی ایسی سنگین صورت حال کی تصویر پیش کی جہاں ایک بحران ابھی ٹل بھی نہیں پاتا کہ دوسرا سر اٹھا لیتا ہے۔ جناب مودی نے کہاکہ دنیا ایک بحران سے نکلنے کا راستہ تلاش کرتی ہے، لیکن تب تک ایک نیا چیلنج سامنے آ جاتا ہے۔‘‘

عالمی باہمی انحصار کو دباؤ ڈالنے کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیے جانے کی مذمت کرتے ہوئے وزیر اعظم نے افسوس کا اظہار کیا کہ سپلائی چینز، توانائی، معدنیات، ٹیکنالوجی اور ادائیگیوں کے نظام جیسی بنیادی چیزوں کو دباؤ ڈالنے اور غلبہ قائم کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ عالمگیریت کے کئی عشروں کے دوران قائم ہونے والا باہمی ربط تیزی سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہا ہے اور اس کی جگہ ایسے خطرناک جغرافیائی و سیاسی مقامات لے رہے ہیں، جہاں سے رسد اور رابطوں کو روک کر دباؤ ڈالا جا سکتا ہے۔ جناب مودی نے کہاکہ گزشتہ دہائیوں میں عالمگیریت نے جو بنیادیں قائم کی تھیں، وہ کب اور کہاں رکاوٹوں کے مراکز میں تبدیل ہو گئیں، یہ ہم سب دیکھ رہے ہیں۔‘‘

تیز رفتار تکنیکی تبدیلیوں اور آبادی سے متعلق چیلنجوں کے درمیان اعتماد کے عالمی بحران کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ دنیا ایسے قابلِ اعتماد شراکت داروں کی تلاش میں ہے جو بحران کے وقت سپلائی  چینز کو برقرار رکھیں اور اپنے وعدوں پر قائم رہیں۔ انہوں نے ہندوستان کو ایک ایسے قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر پیش کیا ،جو عالمی تعلقات میں تعاون پر مبنی بالکل مختلف طرزِ فکر اختیار کرتا ہے۔ جناب مودی نے کہاکہ ہندوستان ایک مختلف مزاج اور ایک مختلف سوچ کے ساتھ آپ کے سامنے موجود ہے۔‘

عالمی سطح پر ملک کے کردار کی وضاحت کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ اکیسویں صدی میں ہندوستان کی ترقی کی بنیادی پہچان باہمی تعاون اور شمولیت کے ساتھ آگے بڑھنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہندوستان دنیا کو جنرک ادویات کا 5؍واں حصہ فراہم کرتا ہے۔ ڈیجیٹل شناخت کے نمونوں کو فروغ دینے میں پیش پیش رہا ہے اور ایک قابلِ اعتماد افرادی قوت کا مرکز ہے، جہاں 2000 سے زیادہ عالمی صلاحیتی مراکز دنیا بھر کی ضروریات پوری کر رہے ہیں۔ جناب مودی نے کہاکہ ہندوستان کی ترقی کی کہانی سب کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے اور سب کو ساتھ لے کر آگے بڑھنے کی کہانی ہے۔

عالمی سطح پر استحکام فراہم کرنے والے ملک کے کردار کو دوہراتے ہوئے وزیر اعظم نے زور دیا کہ جب بھی دنیا کو کسی مضبوط سہارے کی ضرورت ہوتی ہے، تب ہندوستان عالمی برادری کی مدد کے لیے ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھتا ہے۔ انہوں نے عالمی سطح پر منصفانہ ترقی کے بنیادی فلسفے کو واضح کرتے ہوئے کہاکہ ہم کسی کی قیمت پر ترقی نہیں کرتے۔’ ہم دنیا کے ساتھ اور دنیا کے لیے ترقی کرتے ہیں۔‘

تاریخی ورثے کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان نے ماضی میں ’صفر‘ کا تصور انسانیت کو تحفے میں دیا، لیکن اس کے بدلے کبھی کسی قسم کی رائلٹی کا مطالبہ نہیں کیا اور آج بھی اسی بے لوث جذبے کے ساتھ کام کر رہا ہے۔ انہوں نے اس کے برعکس ماضی کی ان عالمی تنظیموں کا ذکر کیا جو صرف اپنے مفادات کے تحت کام کرتی تھیں۔ جناب مودی نے کہاکہ آج بھی ہندوستان اسی جذبے کے ساتھ کام کر رہا ہے۔‘‘

شمولیت پر مبنی عالمی پلیٹ فارم قائم کرنے کے ہندوستان کے ریکارڈ کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے بین الاقوامی شمسی اتحاد، سی ڈی آر آئی، بگ کیٹ الائنس، عالمی حیاتیاتی ایندھن اتحاد، آئی ایم ای سی اور مشن لائف جیسی تبدیلی لانے والی پہلوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ ان پلیٹ فارموں کو اس مقصد کے تحت تشکیل دیا گیا ہے کہ وہ محدود جغرافیائی و سیاسی مفادات کی تکمیل کے بجائے تمام جانداروں کے لیے یکساں طور پر مفید ثابت ہوں۔ جناب مودی نے کہاکہ یعنی جن سے سب کو فائدہ پہنچے، جن سے ہر جاندار مستفید ہو، ہندوستان نے ایسی پہلیں کی ہیں۔‘‘

ملک کی خارجہ پالیسی کی رہنمائی کرنے والے وسیع تر فلسفے کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے وزیر اعظم نے ’ایک سورج، ایک دنیا، ایک گرڈ‘، ’ایک زمین، ایک خاندان، ایک مستقبل‘ اور ’ایک زمین، ایک صحت‘ کے تصورات کا حوالہ دیا۔ انہوں نے زور دیا کہ ہندوستان اپنی طاقت کا استعمال دوسروں کو جوڑنے، متحد کرنے اور آگے بڑھانے کے لیے کرتا ہے۔ جناب مودی نے کہاکہ اس میں بھی طاقت کا استعمال صرف دوسروں کو بااختیار بنانے کے لیے کیا جاتا ہے۔‘‘

عالمی غیر یقینی صورت حال کے درمیان ہندوستانی معیشت کی مضبوطی کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے اپریل سے جون کی سہ ماہی میں 7.8 فیصد شرحِ نمو ،جاری کھاتے کے خسارے میں کمی کے بعد اس کے محض 0.61 فیصد رہ جانے اورزر مبادلہ کے ذخائر ے 700 ارب ڈالر سے تجاوز کر جانے کا فخر کے ساتھ ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کا بینکاری نظام اس وقت کئی دہائیوں کی اپنی مضبوط ترین پوزیشن میں ہے۔ جناب مودی نے کہاکہ ’ غیر یقینی صورت حال سے دوچار دنیا میں ہندوستان اعتماد اور استحکام کی ضمانت پیش کرتا ہے۔‘

وزیر اعظم نے حالیہ عرصے میں خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں آئی بہتری کو ملک کی غیر معمولی ساختی مضبوطی کا نتیجہ قرار دیا اور نظام میں اصلاحات پر مسلسل عمل درآمد کو اجاگر کیا۔ ان اصلاحات میں ایک متحد قومی منڈی کے قیام کے لیے جی ایس ٹی کا نفاذ، دیوالیہ پن سے متعلق قوانین وضع کرنا، 29 مزدور قوانین کو یکجا کرکے چار ضابطوں میں تبدیل کرنا اور کاروبار سے متعلق سینکڑوں معمولی جرائم کو فوجداری دائرے سے باہر کرنا شامل ہیں۔ انہوں نے عالمی سرمایہ کاروں کو یقین دلایا کہ ترقی کی یہ مسلسل رفتار کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک سوچے سمجھے اور پیشگی اختیار کیے گئے راستے کا حصہ ہے، جو ملک کو آگے لے جا رہا ہے۔ جناب مودی نے کہاکہ ہمارے لیے اصلاحات کوئی مجبوری نہیں، بلکہ ہمارا پختہ یقین ہیں۔‘

اپنے خطاب کے اختتام پر قدیم ویدک منتر کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اجتماعی قوت کو کئی گنا بڑھانے اور دنیا کو درپیش بڑے چیلنجوں کا حل تلاش کرنے کے لیے مل جل کر آگے بڑھے، باہمی ہم آہنگی کے ساتھ اپنے خیالات کا اظہار کرے اور ایک دوسرے کو سمجھے۔ انہوں نے پورے اعتماد کا اظہار کیا کہ بلومبرگ نیو اکنامی فورم مشترکہ عالمی مواقع پیدا کرنے کے اسی جذبے کو فروغ دینے کے لیے ایک وسیع پلیٹ فارم ثابت ہوگا۔

***

ش ح۔ م ع ن- م ش

U.NO.5082


(ریلیز آئی ڈی: 2322728) وزیٹر کاؤنٹر : 12