کامرس اور صنعت کی وزارت
وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل نے 2030 تک ہندوستان اور برطانیہ کے باہمی تجارتی حجم کو دوگنا کرنے پر زور دیا
پیوش گوئل نے ہندوستان اور برطانیہ کی ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والی صلاحیتوں کو اجاگر کرتے ہوئے تجارت میں تنوع پیدا کرنے اور برآمدات کے نئے مواقع تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا
پیوش گوئل نے ہندوستان اور برطانیہ کے درمیان تعاون کے پانچ اہم شعبوں کی نشان دہی کی، جن میں صاف توانائی اور جدید مینوفیکچرنگ شامل ہیں
برطانیہ کے سینئر کاروبار، اختراع، سائنس اور تجارت کے وزیر جوناتھن رینالڈز نے ہندوستان اور برطانیہ کے درمیان تجارت کو فروغ دینے کے لیے جامع اقتصادی و تجارتی معاہدے (سی ای ٹی اے) پر مؤثر عمل درآمد کی اہمیت پر زور دیا
مرکزی وزیر مملکت جتن پرسادا نے ہندوستان اور برطانیہ کے اقتصادی تعلقات کے اگلے اہم مرحلے کے طور پر ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون کو نمایاں کیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
12 OCT 2026 6:04PM by PIB Delhi
مرکزی وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل نے ہندوستان اور برطانیہ کے کاروباری اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ ہندوستان اور برطانیہ کے جامع اقتصادی و تجارتی معاہدے (سی ای ٹی اے) کے تحت پیدا ہونے والے مواقع کو تجارت، سرمایہ کاری، کاروباری شراکت داری اور روزگار کے فروغ میں تبدیل کریں۔ ہندوستان اور برطانیہ کی مشترکہ اقتصادی و تجارتی کمیٹی (جے ای ٹی سی او) کے 16ویں اجلاس کے تحت منعقدہ کاروباری اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو 2030 تک باہمی تجارت کو دوگنا کرنے کا ہدف مقرر کرنا چاہیے اور ’’ہندوستان-برطانیہ وژن 2035‘‘ کو زیادہ بلند اقتصادی عزائم اور باہمی تعاون کے لیے ایک مؤثر لائحۂ عمل بنانا چاہیے۔
پیوش گوئل نے کہا کہ جامع اقتصادی و تجارتی معاہدہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ اس معاہدے کے تحت برطانیہ کی منڈی میں ہندوستان کی بیشتر برآمدات کو صفر محصول پر رسائی حاصل ہوگی، جب کہ مختلف شعبوں میں برطانیہ کے برآمد کنندگان کے لیے بھی نمایاں مواقع پیدا ہوں گے۔ اس معاہدے سے خدمات کے شعبے میں بھی نئے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سماجی تحفظ کے سلسلے میں دوہری شراکت داری سے متعلق کنونشن بھی مسابقتی قیمتوں پر خدمات کی فراہمی اور منافع میں اضافے کے ذریعے دونوں معیشتوں کے لیے مزید فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔
معاہدے کو کاروباری سطح پر ٹھوس نتائج میں تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا، ’’یہ معاہدہ دروازے کھولتا ہے، لیکن ان سے گزرنا کاروباری اداروں کا کام ہے۔‘‘ انہوں نے کاروباری اداروں سے اپیل کی کہ وہ معاہدے کے تحت دستیاب مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔ انہوں نے کہا کہ 2030 کو محض ایک دہائی کے اختتام کے طور پر نہیں، بلکہ دونوں ممالک کے درمیان کہیں زیادہ بلند عزائم کے آغاز کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ سال 2030 کے اختتام تک تقریباً 1,500 دن باقی ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کاروباری اداروں پر زور دیا کہ وہ باہمی تجارت کو دوگنا کرنے کے مشترکہ ہدف کے حصول کے لیے کوششیں تیز کریں۔
اپنے خطاب کو جاری رکھتے ہوئے، جناب گوئل نے کہا کہ ہندوستان اور برطانیہ کی معیشتیں ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں اور موجودہ تجارت کو وسعت دینے، برآمدات کے نئے مواقع پیدا کرنے اور باہمی تجارت میں شامل مصنوعات کی اقسام کو متنوع بنانے کے وسیع امکانات رکھتی ہیں۔ ہندوستان کے پاس بڑے پیمانے پر پیداوار کی صلاحیت، مسلسل ترقی کرتا ہوا صنعتی شعبہ، عالمی معیار کا ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچہ اور دنیا میں کہیں بھی دستیاب نوجوانوں کا سب سے بڑا باصلاحیت طبقہ موجود ہے، جب کہ برطانیہ تحقیق، ڈیزائن، جدید ٹیکنالوجی اور دنیا کے اہم مالیاتی مراکز میں سے ایک ہونے کے اعتبار سے نمایاں صلاحیتیں رکھتا ہے۔
تجارت کے موجودہ تکمیلی امکانات کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ ہندوستان اسمارٹ فون، ادویہ سازی کی مصنوعات، زیورات، کپڑے، چمڑے کی مصنوعات، چاول اور بعض زرعی مصنوعات، لوہا اور غیر مخلوط فولاد، مشینری کے پرزوں اور گاڑیوں کے اجزا کا ایک بڑا برآمد کنندہ ہے۔ برطانیہ کی جانب سے انہوں نے پیٹرولیم کی پوری پیداواری و تجارتی زنجیر سے متعلق مصنوعات، برقی اور الیکٹرانک آلات میں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی کی مصنوعات، ادویات، موٹر کاروں اور اسکاچ وہسکی کی فراہمی میں امکانات کی نشان دہی کی۔ انہوں نے کہا کہ جامع اقتصادی و تجارتی معاہدے نے تجارت کو وسعت دینے، نئے برآمد کنندگان کی حوصلہ افزائی کرنے اور مصنوعات کی نئی اقسام متعارف کرانے کے بے شمار مواقع پیدا کیے ہیں۔
وزیر موصوف نے دونوں سمتوں میں سرمایہ کاری کے وسیع امکانات کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی متعدد کمپنیوں نے برطانیہ کے بنیادی شعبوں میں نمایاں سرمایہ کاری کی ہے، جب کہ برطانیہ کی معروف کمپنیوں نے بھی ہندوستان میں سرمایہ کاری کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزارتِ تجارت و صنعت موجودہ نظاموں کو وسعت دینے، مختلف شعبوں میں باہمی منظوری کے عمل کو بہتر بنانے اور دونوں معیشتوں کو تیز رفتار ترقی کی راہ پر آگے بڑھانے میں تعاون کے لیے تیار ہے۔
ہندوستان اور برطانیہ کے درمیان تعاون کے پانچ ترجیحی شعبوں کی وضاحت کرتے ہوئے، جناب گوئل نے کہا کہ بنیادی ڈھانچے اور صاف توانائی کے شعبوں میں منصوبوں کی تیاری و ترقی، قابلِ تجدید توانائی، بجلی کی ترسیلی لائنوں اور عوامی خدمات فراہم کرنے والے اداروں کے لیے مالی وسائل کی فراہمی کے وسیع امکانات موجود ہیں، جو دونوں ممالک میں پائیدار ترقی کے فروغ میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔
دوسرا شعبہ جدید صنعت کاری اور مستحکم رسدی نظاموں سے متعلق تھا، بالخصوص برقی گاڑیوں، بیٹریوں، الیکٹرانکس اور دقیق انجینئرنگ کے شعبوں میں۔ انہوں نے کہا کہ باہمی تعاون کے ذریعے مسابقتی صنعتی نظام تشکیل دینے، رسدی نظاموں کو زیادہ مستحکم بنانے اور ان دونوں قابلِ اعتماد شراکت داروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط کرنے میں مدد ملنی چاہیے۔
تیسری ترجیح ٹیکنالوجی اور اختراع تھی۔ انہوں نے تعلیمی و تحقیقی اداروں، ٹیکنالوجی کمپنیوں اور نئی کاروباری کمپنیوں کے درمیان مضبوط روابط قائم کرنے کے ساتھ تحقیق و ترقی کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر زور دیا۔ انہوں نے نیم موصل آلات، کوانٹم کمپیوٹنگ اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں باہمی اشتراک کے امکانات کو بھی اجاگر کیا۔
چوتھا شعبہ مالیاتی خدمات کا تھا، جس میں انہوں نے لندن کے مالیاتی مرکز اور گجرات کے گاندھی نگر میں واقع گفٹ سٹی کے درمیان تعاون بڑھانے پر زور دیا۔ انہوں نے مالیاتی ٹیکنالوجی، بیمہ، سرحد پار ادائیگیوں، پائیدار معیشت کی جانب منتقلی کے لیے مالی اعانت اور تجارتی مالیات کو باہمی تعاون کے اہم شعبوں کے طور پر پیش کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں مالیاتی مراکز کو ایک ایسا مربوط راستہ تشکیل دینے کے لیے کام کرنا چاہیے جو مزید ترقی اور خوش حالی کی جانب لے جائے۔
پانچواں شعبہ صحت کی دیکھ بھال اور صارفین سے متعلق شعبوں کا تھا۔ جناب گوئل نے ہندوستان کی جانب سے جنیرک ادویات اور برطانیہ کی جانب سے معروف برانڈز کی ادویات اور جدید ادویاتی مصنوعات کے علاوہ تشخیصی خدمات، غذائی اشیا کی تیاری اور صارفین کے استعمال کی مصنوعات میں تعاون کے امکانات کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی کم لاگت پر معیاری مصنوعات فراہم کرنے کی صلاحیت اور برطانیہ کی نئی ادویات و مصنوعات کی دریافت کے شعبے میں مہارت مل کر ایک ایسی قوت بن سکتی ہیں جو نتائج کو کئی گنا بڑھا دے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کاروباری امکانات کو وسعت دینے کے لیے ان پانچوں شعبوں میں ہنرمندی اور تربیت بھی اہم ہوگی، کیونکہ سرمایہ سرحدوں کے پار تیزی سے منتقل ہوسکتا ہے، لیکن صلاحیتوں کو فروغ دینے میں وقت لگتا ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو وسعت دینے کے لیے باہمی افہام و تفہیم اور صلاحیت سازی میں سرمایہ کاری کی ضرورت پر زور دیا۔
کاروباری اداروں کو جامع اقتصادی و تجارتی معاہدے سے فائدہ اٹھانے میں عملی مدد فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے، جناب گوئل نے کہا کہ محصولات کے نظام الاوقات، اصلِ پیداوار کے قواعد اور دستاویزات سے متعلق تقاضوں کو واضح ہدایات کے ذریعے قابلِ رسائی بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے سادہ زبان اور ہندوستانی تناظر میں علاقائی زبانوں میں رہنما مواد فراہم کرنے پر زور دیا، تاکہ مختلف حجم کے کاروباری ادارے اور مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے تاجر اس معاہدے سے مؤثر طور پر استفادہ کرسکیں۔ جنوبی ہندوستان کے شہر تروپور کی ایک صنعتی اکائی اور مڈلینڈز کی ایک انجینئرنگ کمپنی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تمل جیسی متعلقہ زبانوں سمیت آسانی سے قابلِ فہم رہنمائی کاروباری اداروں کو اس معاہدے سے فائدہ اٹھانے میں مدد دے گی۔
وزیر موصوف نے کہا کہ کامیابی کا ایک پیمانہ یہ ہوگا کہ کتنے نئے برآمد کنندگان نئی مصنوعات کے ساتھ برطانیہ کی منڈی میں داخل ہوتے ہیں۔ انہوں نے دونوں ممالک کے کاروباری اداروں کے درمیان روابط بڑھانے کے لیے باقاعدگی سے شعبہ جاتی گول میز اجلاس منعقد کرنے، مختلف شعبوں کے تجارتی وفود کے تبادلوں اور بڑے پیمانے پر نمائشوں میں شرکت پر زور دیا۔ اس میں شراکت دار ممالک کی حیثیت سے شرکت بھی شامل ہے، تاکہ آزاد تجارتی معاہدے پر عمل درآمد کے لیے دونوں ممالک کے عزم کا اظہار کیا جاسکے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر، جناب گوئل نے ہندوستان-برطانیہ وژن 2035 کے وعدوں کو عملی پیش رفت میں تبدیل کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اس اصول کو رہنما بنایا جانا چاہیے کہ جب قومیں مل کر ترقی کرتی ہیں تو ان کے عوام بھی مل کر خوش حال ہوتے ہیں۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے برطانیہ کے سینئر کاروبار، اختراع، سائنس و تجارت کے وزیر جوناتھن رینالڈز نے کہا کہ ہندوستان اور برطانیہ کے جامع اقتصادی و تجارتی معاہدے (سی ای ٹی اے) کی تکمیل دونوں ممالک کی حکومتوں اور کاروباری اداروں کے درمیان مسلسل اور عملی مکالمے کے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کاروباری مکالمے سے قبل دونوں حکومتوں کے درمیان مشترکہ اقتصادی و تجارتی کمیٹی (جے ای ٹی سی او) کا اجلاس اختتام پذیر ہوا، جس میں کمیٹیوں اور ورکنگ گروپس کا آغاز کیا گیا اور معاہدے کے استعمال کا مشترکہ جائزہ لینے پر اتفاق ہوا، تاکہ کاروباری اداروں کی آرا کو مدنظر رکھا جاسکے، عمل درآمد سے متعلق مسائل حل کیے جاسکیں اور نتائج کی فراہمی کو بہتر بنایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ سی ای ٹی اے کو نافذ ہوئے تقریباً 100 دن ہوچکے ہیں اور حوصلہ افزا اشارے مل رہے ہیں کہ دونوں ممالک کے کاروباری اداروں نے اس معاہدے سے فائدہ اٹھانا اور جدید صنعت کاری، صاف توانائی، حیاتیاتی علوم، ٹیکنالوجی، خدمات اور تخلیقی صنعتوں میں نئے مواقع تلاش کرنا شروع کردیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ معاہدے کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ کاروباری ادارے اسے برآمدات، سرمایہ کاری اور شراکت داریوں کو وسعت دینے کے لیے کس حد تک استعمال کرتے ہیں۔
جناب رینالڈز نے کاروباری اداروں، بالخصوص چھوٹی، بہت چھوٹی اور درمیانہ درجے کی صنعتوں اور پہلی مرتبہ برآمدات کرنے والوں کو عملی مدد فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا، تاکہ وہ محصولات میں کمی، اصلِ پیداوار کے قواعد، کسٹم کے طریقۂ کار، ضابطہ جاتی تقاضوں اور سرکاری خریداری کے مواقع کو سمجھ سکیں۔ انہوں نے عمل درآمد کی راہ میں حائل مشکلات اور ان شعبوں کی نشان دہی کے لیے کاروباری اداروں کی جانب سے بے لاگ اور تعمیری آرا کی اہمیت پر زور دیا، جہاں حکومت کی مزید کارروائی سے تجارت اور سرمایہ کاری کو آسان بنایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری اداروں کی آرا کو معاہدے کے استعمال کے جائزے، کمیٹیوں اور ورکنگ گروپس کے ذریعے زیرِ غور لایا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ معاہدہ ہندوستان اور برطانیہ کے تجارتی تعلقات کو مزید وسعت دینے کی بنیاد ہے۔ انہوں نے تجارت اور تعاون کے عزم کو ٹھوس نتائج میں تبدیل کرنے کی اپیل کی، جن میں دونوں ممالک میں تجارتی معاہدے، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی کو تجارتی سطح پر متعارف کرانا اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا شامل ہیں۔ انہوں نے اس بات کی اہمیت کا اعادہ کیا کہ معاہدے پر عمل درآمد کے تمام مراحل میں کاروباری اداروں کو مرکزی حیثیت حاصل رہنی چاہیے۔
مرکزی وزیر مملکت برائے تجارت و صنعت جناب جتن پرسادا نے اپنے خطاب میں کہا کہ تجارتی وفود کے دوروں اور صنعتی انجمنوں کے درمیان تبادلوں کے ذریعے ہندوستان اور برطانیہ کی کاروباری برادریوں کے درمیان مسلسل روابط کمپنیوں کو ممکنہ شراکت داروں کی شناخت کرنے، مواقع تلاش کرنے اور مختلف خطوں اور مختلف حجم کے کاروباری اداروں کے درمیان تجارتی تعلقات مضبوط بنانے میں مدد دیں گے۔ انہوں نے ہندوستان اور برطانیہ کے اقتصادی تعلقات میں تکنیکی تعاون کو اگلا اہم میدان قرار دیا، بالخصوص مصنوعی ذہانت، نیم موصل آلات اور ڈیٹا مراکز کے شعبوں میں۔ انہوں نے کہا کہ تحقیق و ترقی کے میدان میں برطانیہ کی صلاحیتیں، ہندوستان کے انجینئرنگ کے ہنر، ڈیجیٹل منڈی اور بڑے پیمانے پر ٹیکنالوجی کو بروئے کار لانے کی استعداد کے ساتھ مل کر تعاون کے نئے مواقع فراہم کرتی ہیں۔ 2024 میں طے پانے والے ٹیکنالوجی سلامتی اقدام کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک عالمی منڈیوں کے لیے قابلِ اعتماد اور کم لاگت والی ٹیکنالوجیز تیار کرنے کے لیے مل کر کام کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور صنعت کے درمیان مسلسل روابط کاروباری اعتماد کو مضبوط بنائیں گے، اور زور دیا کہ اگلے مشترکہ اقتصادی و تجارتی کمیٹی (جے ای ٹی سی او) اجلاس میں پیش رفت کو طے پانے والی شراکت داریوں، قائم ہونے والی فیکٹریوں اور پیدا ہونے والے روزگار کے مواقع کی بنیاد پر جانچا جائے۔
یہ ہندوستان اور برطانیہ کے جامع اقتصادی و تجارتی معاہدے (سی ای ٹی اے) پر 15 جولائی 2026 کو دستخط اور اس کے نافذ العمل ہونے کے بعد مشترکہ اقتصادی و تجارتی کمیٹی (جے ای ٹی سی او) کا پہلا اجلاس تھا۔ وزرا نے معاہدے سے کاروباری اداروں کے ابتدائی استفادے، دو طرفہ تجارت و سرمایہ کاری میں ہونے والی پیش رفت اور آئندہ سال کی ترجیحات کا جائزہ لیا۔
جے ای ٹی سی او کا اجلاس شمالی انگلینڈ کے سات میئرز اور ایک مشترکہ اتھارٹی کے سربراہ کے دورۂ ہندوستان کے موقع پر منعقد ہوا۔ اس اجلاس نے دونوں ممالک کی حکومتوں، کاروباری اداروں، جامعات، اختراع کاروں اور علاقائی رہنماؤں پر مشتمل وسیع تر رابطہ کاری کے پروگرام کو تقویت دی۔ اس پروگرام کے تحت برطانیہ کے وزیرانِ مملکت برائے اسکاٹ لینڈ اور ماحولیات، خوراک و دیہی امور کے متوازی دورے بھی شامل تھے۔
دونوں فریقوں نے جامع اقتصادی و تجارتی معاہدے کے استعمال کا مشترکہ جائزہ لیا اور اس رفتار کا خیرمقدم کیا جس کے ساتھ دونوں ممالک کے کاروباری اداروں نے اس معاہدے سے فائدہ اٹھانا شروع کیا ہے۔ وزرا نے معاہدے کے تحت ذیلی کمیٹیوں اور ورکنگ گروپس کے قیام اور ان کے لیے رابطہ افسران کی تفصیلات کے تبادلے کا بھی خیرمقدم کیا۔ وزرا نے اتفاق کیا کہ یہ کمیٹیاں باہمی رابطے کے ذریعے ایک عملی آئندہ لائحۂ عمل تیار کریں گی، جس میں ان ترجیحی شعبوں اور مسائل کی نشان دہی کی جائے گی جن پر وہ کام کریں گی۔
برطانیہ-ہندوستان بزنس کونسل، جو گریٹ نارتھ وفد کی تزویراتی اور علمی شراکت دار ہے، ہندوستان کے لیے اپنی نوعیت کے پہلے میئرز کے مشن کی معاونت کر رہی ہے۔ اس مشن میں شمالی انگلینڈ کی پانچ مشترکہ اتھارٹیز کے رہنما ایک ساتھ شریک ہیں۔
برطانیہ-ہندوستان بزنس کونسل نے وفد کو ہندوستان کے بارے میں اسٹریٹجک معلومات اور منڈی سے متعلق تجزیے فراہم کیے، ترجیحی شعبوں میں دو طرفہ مواقع کی نشان دہی کی اور ہندوستانی صنعت و حکومت کے ساتھ روابط قائم کرنے میں سہولت فراہم کی۔ یہ مشن شمالی انگلینڈ کے علاقوں کے ساتھ کونسل کی وسیع تر سرگرمیوں کا حصہ ہے، جن میں ہندوستان میں ہر علاقے کی نمایاں ترین صلاحیت کی شناخت، منڈی سے متعلق حکمتِ عملیوں اور رابطہ کاری کے منصوبوں کی تیاری، اور ہندوستانی کاروباری اداروں و ادارہ جاتی تنظیموں کے ساتھ طویل مدتی شراکت داریوں کا قیام شامل ہے۔ ان کوششوں کا مقصد عزائم اور ارادوں کو عملی شکل دیتے ہوئے زمینی سطح پر ٹھوس پروگراموں میں تبدیل کرنا ہے۔
******
ش ح۔ ف ا۔ م ر
U-NO. 5041
(ریلیز آئی ڈی: 2322502)
وزیٹر کاؤنٹر : 10