زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
وزیراعظم دھن –دھانیہ کرشی یوجنا کو ایک سال مکمل
بہترین کارکردگی والے اضلاع میں بہار کا گیا،راجستھان کا ناگپور اور مدھیہ پردیش کا اُمریہ ضلع شامل
پی ایم ڈی ڈی کے وائی کی کامیابی کا اصل پیمانہ یہ ہوگا کہ اس سے کسانوں کی زندگیوں میں کتنی بامعنی تبدیلی آتی ہے: مرکزی وزیرِ زراعت جناب شیوراج سنگھ چوہان
مرکزی وزیر نے پی ایم ڈی ڈی کے وائی کے دوسرے سال میں نتائج پر مبنی عمل درآمد پر زور دیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
12 OCT 2026 4:11PM by PIB Delhi
وزیر اعظم دھن دھانیہ کرشی یوجنا (پی ایم ڈی ڈی کے وائی) کے نفاذ کا ایک سال 11 اکتوبر 2026 کو مکمل ہونے کے موقع پر، حکومتِ ہند کے محکمۂ زراعت و فلاحِ کسان نے آج نئی دہلی کے پوسا میں واقع نیشنل ایگریکلچرل سائنس کمپلیکس (این اے ایس سی) کے بھارت رتن سی سبرامنیم آڈیٹوریم میں ایک تقریب کا انعقاد کیا۔ اس تقریب میں مرکزی وزراء، مرکزی وزارتوں اور محکموں کے سکریٹریوں، پی ایم ڈی ڈی کے وائی کے تحت مرکزی نوڈل افسران، مرکزی حکومت کے سینئر افسران اور ریاستوں سے آئے 370 سے زائد مندوبین نے شرکت کی۔ ان میں ضلع کلکٹر، ضلعی سطح کے عہدیداران، زرعی سائنس داں اور ڈی ڈی کے وائی اضلاع کے ترقی پسند کسان شامل تھے۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیرِ زراعت و فلاحِ کسان اور دیہی ترقیات جناب شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ پہلے سال توجہ مضبوط بنیادیں قائم کرنے پر مرکوز رہی، جبکہ آنے والے سال میں زمینی سطح پر واضح اور قابلِ پیمائش نتائج حاصل کرنے پر توجہ دینی ہوگی۔ انہوں نے زرعی پیداوار میں اضافہ، ایک سال میں فصلیں اگانے کی تعداد بڑھانے، آب پاشی اور آبی وسائل کے انتظام کو مضبوط بنانے، زرعی قرضوں تک رسائی آسان کرنے، زیادہ قدر والی زرعی سرگرمیوں کو فروغ دینے، فصل کی کٹائی کے بعد کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے اور کسانوں کی آمدنی بڑھانے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

جناب شیوراج سنگھ چوہان نے زور دیا کہ پی ایم ڈی ڈی کے وائی کی کامیابی کا اصل پیمانہ یہ ہوگا کہ اس سے کسانوں کی زندگیوں میں کتنی بامعنی تبدیلی آتی ہے۔ انہوں نے تمام متعلقہ فریقوں سے اپیل کی کہ وہ باہمی تال میل کو مضبوط بنائیں، عمل درآمد کی رفتار تیز کریں اور زرعی نتائج میں قابلِ پیمائش بہتری لانے اور کھیتی باڑی سے پائیدار آمدنی یقینی بنانے پر توجہ مرکوز کریں۔ متعلقہ وزارتوں اور محکموں کی شرکت سے زرعی ترقی کے لیے حکومت کے تمام شعبوں کے درمیان مربوط کوششوں کی اہمیت ظاہر ہوئی ہے۔

جناب شیوراج سنگھ چوہان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومتِ ہند ریاستی حکومتوں، ضلعی انتظامیہ، سائنسی اداروں اور کسانوں کے ساتھ مل کر ڈسٹرکٹ ایکشن پلان کو ٹھوس نتائج میں تبدیل کرنے کے لیے کام کرے گی۔ آنے والے سال میں تمام نشان زدہ اضلاع میں کامیاب اقدامات کو وسعت دینے اور ان کے نتائج کو بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ اس کا وسیع تر مقصد پی ایم ڈی ڈی کے وائی کے تمام 100 اضلاع کو حقیقی معنوں میں‘‘دھن دھانیہ’’ بنانا ہے، یعنی ایسے اضلاع جہاں اناج کی فراوانی ہو اور خوشحالی بھی عام ہو۔

جناب شیوراج سنگھ چوہان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ 22 اکتوبر سے 30 نومبر 2026 تک تمام ریاستوں میں منعقد کی جانے والی ‘کھیت بچاؤ مہم’ کا مقصد کھادوں کے متوازن اور دانش مندانہ استعمال کے ذریعے زمین کی صحت کو بہتر بنانا ہے۔ وزیر موصوف نے تمام ریاستی حکومتوں اور متعلقہ حکام کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ اس مہم میں سرگرمی سے حصہ لیں اور اس کے کامیاب نفاذ کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے زمین کی زرخیزی برقرار رکھنے، ماحولیات کے تحفظ اور آنے والی نسلوں کے لیے قدرتی وسائل کو محفوظ رکھنے کی غرض سے پائیدار زرعی طریقے اپنانے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

اپنے استقبالیہ خطاب میں محکمۂ زراعت و فلاحِ کسان کے سکریٹری نے اس اسکیم کے ضلع مرکوز طریقۂ کار کو اجاگر کیا۔ اس کے تحت اضلاع کی مٹی کی نوعیت، بارش، فصلوں کے طریقۂ کاشت، پانی کی دستیابی، بنیادی ڈھانچے اور کاشت کار برادریوں کی ضروریات کے مطابق عملی منصوبے تیار کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے اسکیم کے نفاذ میں ریاستی حکومتوں، ضلع کلکٹروں، ضلعی نوڈل افسران، مرکزی نوڈل افسران، کرشی وگیان کیندروں (کے وی کے) کے سائنس دانوں اور میدانی سطح پر کام کرنے والے اہلکاروں کے تعاون کو سراہا۔ انہوں نے منصوبہ بندی اور عمل درآمد میں تال میل قائم کرنے کے لیے ضلعی دھن دھانیہ سمیتیوں کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ اس اسکیم کے تحت ایک مخصوص ڈیش بورڈ کے ذریعے 121 اشاریوں کی بنیاد پر اضلاع کی کارکردگی کا جائزہ لیا جاتا ہے، جبکہ ماہانہ درجہ بندی شفافیت اور اضلاع کے درمیان صحت مند مسابقت کو فروغ دیتی ہے۔

پروگرام کے تحت پی ایم ڈی ڈی کے وائی کے تین اضلاع کے نمائندوں نے اپنے تجربات اور اختراعی اقدامات پیش کیے۔ گڈچرولی ضلع نے پانی کے تحفظ اور خشک سالی کے اثرات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت بڑھانے کے لیے کیے گئے کاموں کی تفصیلات پیش کیں، آلوری سیتاراما راجو ضلع نے زیادہ قدر والی باغبانی کو فروغ دینے کے اقدامات کو اجاگر کیا، جبکہ بانکا ضلع نے لیلہ ورن قدرتی کاشت کاری کے ذریعے زمین کی بحالی کے نمونےکو پیش کیا۔ ان پیش کشوں سے ظاہر ہوا کہ مقامی ضروریات کے مطابق تیار کیے گئے اقدامات، مختلف منصوبوں کے باہمی تال میل اور کسانوں کی شرکت کے ذریعے زرعی چیلنجوں سے نمٹنے اور ایسے حل وضع کرنے میں مدد مل سکتی ہے جنہیں دوسرے علاقوں میں بھی اپنایا جا سکے۔
پروگرام کے دوران پی ایم ڈی ڈی کے وائی کے تحت اضلاع کی نمایاں کارکردگی کو بھی تسلیم کیا گیا۔ مجموعی طور پر بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے اضلاع میں گیا ضلع، بہار نے پہلی، ناگور ضلع، راجستھان نے دوسری اور امریا ضلع، مدھیہ پردیش نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ اس کے علاوہ، اسکیم کے چھ اہم مقاصد کے تحت مثالی کام کرنے پر 18 اضلاع کو بھی اعزاز سے نوازا گیا۔ ان مقاصد میں زرعی پیداوار میں اضافہ (چھترپتی سمبھاجی نگر، مہاراشٹر؛ چترکوٹ، اتر پردیش؛ گیزنگ، سکم)؛ فصلوں کے تنوع اور پائیدار زرعی طریقوں کی حوصلہ افزائی (مہوبا، اتر پردیش؛ ڈنڈوری، مدھیہ پردیش؛ چمولی، اتراکھنڈ)؛ فصل کی کٹائی کے بعد ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ (ٹیکم گڑھ، مدھیہ پردیش؛ سدھی، مدھیہ پردیش؛ دانتے واڑہ، چھتیس گڑھ)؛ آب پاشی کے بنیادی ڈھانچے میں بہتری (کشتواڑ، جموں و کشمیر؛ داہود، گجرات؛ چھوٹا اودے پور، گجرات)؛ قلیل مدتی اور طویل مدتی زرعی قرضوں تک رسائی میں اضافہ (نارائن پیٹ، تلنگانہ؛ جالون، اتر پردیش؛ سری ستیہ سائی، آندھرا پردیش)؛ اور بہتر حکمرانی اور خدمات کی فراہمی (ناگر کرنول، تلنگانہ؛ کچھ، گجرات؛ ہاویری، کرناٹک) شامل ہیں۔ اعزازات کے ذریعے زرعی ترقی کو آگے بڑھانے میں ضلعی سطح پر کی جانے والی کوششوں کا اعتراف کیا گیا اور دیگر اضلاع کی حوصلہ افزائی کی گئی کہ وہ اختراعی طریقے اپنائیں اور اپنی کارکردگی کو بہتر بنائیں۔
تقریب کا اختتام ضلعی سطح پر منصوبہ بندی کو مضبوط بنانے، اختراعات کو فروغ دینے اور جامع و پائیدار زرعی ترقی کے لیے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی اسکیموں کے درمیان مؤثر تال میل یقینی بنانے کے نئے عزم کے ساتھ ہوا۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ پہلے سال کی کامیابیوں کو زرعی پیداوار میں اضافے، زرعی طریقوں کو زیادہ پائیدار اور چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے قابل بنانے، بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے اور ادارہ جاتی قرضوں تک رسائی میں اضافے کے ذریعے کسانوں کے لیے ٹھوس فوائد میں تبدیل کیا جائے۔ حکومت نے پی ایم ڈی ڈی کے وائی کے مقاصد کے حصول اور نشان زدہ 100 اضلاع کو زرعی ترقی، خوشحالی اور کسانوں کی فلاح وبہبودی کے نمونے بنانے کے لیے ریاستی حکومتوں، ضلعی انتظامیہ، سائنسی اداروں اور کاشت کار برادریوں کے ساتھ قریبی تال میل سے کام کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔
وزیر اعظم دھن دھانیہ کرشی یوجنا (پی ایم ڈی ڈی کے وائی) کا اعلان مرکزی بجٹ 2025-26 میں کیا گیا تھا اور اسے 11 اکتوبر 2025 کو باضابطہ طور پر شروع کیا گیا۔ اس اسکیم کے تحت کم زرعی پیداوار، کم شدتِ زراعت اور زرعی قرضوں کی کم تقسیم والے 100 اضلاع کا احاطہ کیا گیا ہے۔ اس اسکیم کا مقصد زرعی پیداوار میں اضافہ کرنا، فصلوں کے تنوع اور پائیدار زرعی طریقوں کو اپنانے کی حوصلہ افزائی کرنا، پنچایت اور بلاک کی سطح پر فصل کی کٹائی کے بعد پیداوار کو ذخیرہ کرنے کی سہولتوں میں اضافہ کرنا، آب پاشی کی سہولتوں کو بہتر بنانا اور طویل مدتی و قلیل مدتی قرضوں کی دستیابی کو آسان بنانا ہے۔
اس اسکیم کے تحت 11 وزارتوں اور محکموں کی 36 مرکزی اسکیموں کو متعلقہ ریاستی حکومتوں کی اسکیموں کے ساتھ ایک مربوط نظام میں شامل کیا گیا ہے، تاکہ ہر ضلع کی مخصوص زرعی ترجیحات کے مطابق اقدامات کیے جا سکیں۔
یوٹیوب لنک: https://www.youtube.com/live/erq0JIG6otw?si=z4el13dVAX9lXwS2
*******
) ش ح – رک )
U.NO- 5024
(ریلیز آئی ڈی: 2322373)
وزیٹر کاؤنٹر : 11