وزارت دفاع
azadi ka amrit mahotsav

بھارتی فوج نے وزیر دفاع اور صارفین کے امور ، خوراک اور عوامی تقسیم کے وزیر کی موجودگی میں فوجیوں کے لیے 'بھارت رائس' کا آغاز کیا


لداخ اور شمال مشرق سمیت فوجی رسد کے مراکز تک اعلیٰ معیار کے چاول براہ راست پہنچائے جائیں گے

ایف سی آئی کے ساتھ مفاہمت نامے پر دستخط؛ ہنگامی آپریشنل حالات میں اس کے گوداموں، افرادی قوت اور سامان کی نقل و حمل کے وسائل سے استفادہ کیا جائے گا

یہ پہل کسان کی محنت کو فوجی جوان کی طاقت میں بدلنے کے اجتماعی عزم کی عکاس ہے: جناب راج ناتھ سنگھ

’مضبوط رسدی سلسلے اور فوجیوں کی فلاح و بہبود قومی سلامتی کے لیے ناگزیر ہیں‘

’آپریشن سندور نے فوجی کارروائیوں کو جاری رکھنے کے لیے مضبوط رسدی نظام کی ضرورت کو اجاگر کیا‘

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 12 OCT 2026 1:01PM by PIB Delhi

ہندوستانی فوج نے 12 اکتوبر 2026 کو نئی دہلی میں منعقدہ ایک تقریب میں مسلح افواج کے لیے ’بھارت رائس‘ کا آغاز کیا۔ اس تقریب میں وزیر دفاع جناب راج ناتھ سنگھ اور امور صارفین، خوراک و عوامی نظام تقسیم کے وزیر جناب پرہلاد جوشی نے شرکت کی۔ اس موقع پر ہندوستانی فوج اور فوڈ کارپوریشن آف انڈیا (ایف سی آئی) کے درمیان آپریشنل ہنگامی حالات میں اس کے بنیادی ڈھانچے کے استعمال کے لیے ایک مفاہمت نامے پر بھی دستخط کیے گئے۔ اعلیٰ معیار کے یہ چاول لداخ اور شمال مشرق کے دور دراز علاقوں سمیت فوج کے رسدی مراکز تک براہ راست پہنچائے جائیں گے، جس سے فوجی رسدی مراکز کو مقامی ایف سی آئی مراکز سے چاول خود حاصل کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

اپنے خطاب میں وزیر دفاع نے ’بھارت رائس‘ کو اعتماد کا ایسا رشتہ قرار دیا، جس کی ابتدا کسان کے کھیت سے ہوتی ہے اور جو فوجی جوان کی تھالی تک پہنچتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہل ’جئے جوان، جئے کسان‘ کے جذبے کو عملی شکل دیتی ہے، کیونکہ یہ اس اجتماعی عزم کی عکاس ہے جس کے تحت کسان کی محنت فوجی جوان کی طاقت میں بدل جاتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا، ’’یہ اعلیٰ معیار کے چاول مقررہ معیارات کے مطابق فراہم کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ، ہم اس بات کو بھی یقینی بنا رہے ہیں کہ ان کی پیکنگ آسان اور سہولت بخش ہو۔ اگرچہ یہ پہل بظاہر چھوٹی معلوم ہوسکتی ہے، لیکن اس سے دور دراز اور دشوار گزار علاقوں تک راشن پہنچانے کی ذمہ داری نبھانے والے فوجی جوانوں کو بہت بڑی عملی راحت ملے گی۔‘‘

جناب راج ناتھ سنگھ نے زور دے کر کہا کہ فوجیوں کی عملی تیاری کا انحصار صرف ہتھیاروں پر نہیں ہوتا، بلکہ ان کی جسمانی صحت، ذہنی توازن، حوصلے اور قوت برداشت پر بھی ہوتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب وہ انتہائی سخت حالات میں خدمات انجام دے رہے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ فوجیوں کی فلاح و بہبود کوئی ثانوی معاملہ نہیں، بلکہ قومی سلامتی کا ایک لازمی جزو ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صحت بخش غذا، مضبوط سازوسامان اور مکمل تربیت فوجیوں کے حوصلے بلند کرتے ہیں، انہیں ہر چیلنج کا سامنا کرنے اور ملک کی حفاظت کے لیے تیار رکھتے ہیں۔

وزیر دفاع نے کہا کہ جدید دور کی جنگ میں صرف ہتھیار، جنگی پلیٹ فارم اور ٹیکنالوجی ہی اہم عناصر نہیں ہیں، بلکہ رسدی نظام بھی بذات خود جنگی طاقت کا درجہ رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج جنگیں صرف محاذوں پر نہیں جیتی جاتیں، بلکہ رسدی سلسلوں کی مضبوطی، ذخیرہ کرنے کی گنجائش، نقل و حمل کے نیٹ ورک، گوداموں کے بنیادی ڈھانچے اور ضرورت کے وقت بروقت سامان کی فراہمی کی صلاحیت بھی اتنی ہی اہمیت رکھتی ہے۔

جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا، ’’آپریشن سندور کے اسٹراٹیجک تجزیے سے ظاہر ہوا کہ مستقبل کے تنازعات میں انتباہ کے لیے دستیاب وقت انتہائی کم ہوسکتا ہے۔ بغیر کسی پیشگی انتباہ کے پیدا ہونے والی صورت حال اور جنگ میں ٹیکنالوجی کے استعمال جیسے منظرنامے ہماری تیاریوں کا سخت امتحان لے سکتے ہیں۔ ایسے تنازعات ہمارے رسدی سلسلوں اور سپلائی نیٹ ورک کی پائیداری کو بھی آزما سکتے ہیں۔ اس لیے ہمیں اپنی فوجی کارروائیوں کو جاری رکھنے کے لیے ایک مضبوط اور لچک دار رسدی نظام تیار کرنا ہوگا۔ ایف سی آئی کے ساتھ یہ مفاہمت نامہ اسی سمت میں ایک اہم قدم ہے۔‘‘

وزیر دفاع نے مزید کہا کہ ایف سی آئی کے پاس ملک بھر میں گودام، ذخیرہ کرنے کا بنیادی ڈھانچہ، جدید سائلوز، سامان کی نقل و حمل اور ہینڈلنگ کے آلات، نیز تربیت یافتہ افرادی قوت موجود ہے، جن میں آپریشنل اعتبار سے اہم علاقے بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہل اس بات کا ثبوت ہے کہ ضرورت پڑنے پر ملک کی موجودہ قومی صلاحیت کو قومی سلامتی کے تقاضوں کے مطابق بروئے کار لایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ دوہرے استعمال کے تصور کی عکاس ہے، جس کے تحت ملک کا بنیادی ڈھانچہ اور صلاحیتیں صرف ایک مقصد کے لیے نہیں، بلکہ شہری اور فوجی دونوں ضروریات پوری کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔

 

جناب راج ناتھ سنگھ نے اس بات پر زور دیا کہ جس طرح اب لڑاکا طیارے ایکسپریس وے پر اتر رہے ہیں اور سرحدی سڑکوں کی تنظیم (بی آر او) کے تعمیر کردہ راستوں اور پلوں سے مقامی باشندے بھی استفادہ کررہے ہیں، اسی طرح ایف سی آئی کے گودام بھی اب صرف غذائی اجناس ذخیرہ کرنے تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ ہندوستانی فوج کے رسدی سلسلے کا لازمی حصہ بن جائیں گے۔ انہوں نے کہا، ’’یہ طریقہ وسائل کے بہتر استعمال کو یقینی بنانے کے ساتھ قومی استحکام کو بھی مضبوط کرے گا۔ موجودہ بنیادی ڈھانچے کو آپریشنل منصوبہ بندی سے مربوط کرنے سے ہم وقت بچا سکتے ہیں اور وسائل کو زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کرسکتے ہیں۔ یہ مفاہمت نامہ محض ایک انتظامی بندوبست سے کہیں بڑھ کر ہے۔ یہ فوج کی آپریشنل تیاریوں کو تقویت دینے والے ایک اہم عامل کے طور پر کام کرے گا اور حکومت کے تمام محکموں اور پوری قوم کو ساتھ لے کر چلنے کے ہمارے نقطہ نظر کی عکاسی کرتا ہے۔‘‘

وزیر دفاع نے فوجی جوانوں کی فلاح و بہبود کے ہر پہلو پر حکومت کی توجہ کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ہتھیاروں اور ٹیکنالوجی سے لے کر لباس، سازوسامان اور تربیت تک تمام شعبوں میں خود انحصاری اور جدید کاری پر زور دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’آج ہندوستان اپنی دفاعی ضروریات کا ایک بڑا حصہ ملک میں ہی تیار کرتا ہے۔‘‘ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جدت اور تال میل حکومت کے اس عزم کی بنیاد ہیں کہ فوجی جوانوں کو مسلسل بہترین معیار کی اشیا فراہم کی جائیں، رسدی سلسلوں کو مزید مضبوط اور لچک دار بنایا جائے، اگلے محاذوں تک سامان کی بروقت فراہمی یقینی بنائی جائے اور قومی سلامتی کے لیے شہری بنیادی ڈھانچے کا بہتر استعمال کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب فوجی جوان سرحدوں پر پہرہ دیتے ہیں تو انہیں یہ یقین ہونا چاہیے کہ پورا ملک ان کے ساتھ کھڑا ہے۔ انہوں نے فوجی جوانوں کے حوصلے بلند کرنے کو حکومت کی ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ عزم صرف حکومت کا نہیں، بلکہ کسانوں، امداد باہمی کے شعبے، شہری انتظامیہ اور پوری قوم کا مشترکہ عزم ہے۔

 

اس موقع پر امور صارفین، خوراک و عوامی نظام تقسیم کے وزیر جناب پرہلاد جوشی نے ’بھارت رائس‘ کی پہل کو سراہتے ہوئے کہا کہ ملک کی حفاظت کرنے والے بہادر اور فرض شناس جوانوں کو اعلیٰ معیار کے چاول فراہم کرنا ان کی وزارت کے لیے باعث فخر ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ملک کے محافظوں کو معیاری غذا فراہم کرنا اور ان کی ضروریات کا خیال رکھنا ہمارا فرض ہے۔‘‘

اس موقع پر فوج کے سربراہ جنرل دھیرج سیٹھ، خوراک و عوامی نظام تقسیم کے سکریٹری جناب سنجیو چوپڑا اور وزارت دفاع، وزارت امور صارفین، خوراک و عوامی نظام تقسیم، فوڈ کارپوریشن آف انڈیا (ایف سی آئی)، نیشنل ایگریکلچرل کوآپریٹو مارکیٹنگ فیڈریشن آف انڈیا لمیٹڈ (نیفیڈ) اور امداد باہمی کے شعبے کے سینئر افسران موجود تھے۔

بھارت رائس کے بارے میں

ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سپلائیز اینڈ ٹرانسپورٹ کی قیادت میں شروع کی گئی ’بھارت رائس‘ کی پہل فوجی جوانوں سے مسلسل ملنے والی آرا پر مبنی ہے اور اس کا مقصد راشن کے معیار کو بہتر بنانا ہے۔ مالی سال 2026-27 کے دوران چاولوں کی ملنگ دفاعی شعبے کے مقررہ معیارات کے مطابق کی جائے گی اور انہیں نیفیڈ کے ذریعے فراہم کیا جائے گا۔ ان چاولوں کی ضروری معیاری جانچ کی جائے گی اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ ان میں بیرونی مادے اور ملاوٹ نہ ہو، نیز ٹوٹے ہوئے، خراب اور رنگ بدلے ہوئے دانوں کی مقدار کم سے کم ہو۔

10 اور 30 کلو کے تھیلوں میں چاولوں کی خریداری سے ان کی ترسیل اور نقل و حمل میں مزید آسانی ہوگی، خاص طور پر اگلے محاذوں پر قائم چوکیوں تک پہنچانے میں۔ اس پہل کے لیے فوج، ایف سی آئی، نیفیڈ اور محکمہ خوراک و عوامی نظام تقسیم کے درمیان تقریباً 18 ماہ تک تال میل قائم کیا گیا۔

ایف سی آئی کے ساتھ کیا گیا مفاہمت نامہ آپریشنل تجربات، بشمول آپریشن سندور، سے حاصل ہونے والے اسباق پر مبنی ہے۔ آپریشن سندور نے اس ضرورت کو اجاگر کیا کہ ایسی ہنگامی صورت حال کے لیے مضبوط رسدی انتظامات ہونے چاہئیں جو مختصر نوٹس پر پیدا ہوسکتی ہے اور طویل عرصے تک جاری رہ سکتی ہے۔ یہ مفاہمت نامہ ہندوستانی فوج کو آپریشنل ہنگامی حالات میں ایف سی آئی کے نشان زدہ گوداموں، افرادی قوت اور سامان کی نقل و حمل و ہینڈلنگ کے آلات استعمال کرنے کے لیے ایک باضابطہ نظام فراہم کرتا ہے۔

فوج کے رسد و نقل و حمل سے متعلق شعبوں اور ایف سی آئی کے علاقائی و ڈویژنل دفاتر کے درمیان فارمیشن کی سطح پر تال میل قائم کیا جائے گا اور اسے آپریشنل رسدی منصوبوں میں شامل کیا جائے گا۔ یہ مفاہمت نامہ پانچ سال تک نافذ العمل رہے گا، جس میں باہمی رضامندی سے توسیع کی جاسکے گی۔

اس انتظام سے اضافی ذخیرہ گاہوں کی دستیابی، وسائل کو تیزی سے متحرک کرنے، راشن، سامان اور آلات کو مختلف مقامات پر پھیلانے اور انہیں آپریشنل علاقوں کے قریب پیشگی طور پر پہنچانے میں مدد ملے گی۔ اس طرح موجودہ قومی بنیادی ڈھانچے کا بہتر استعمال کرتے ہوئے فوجی رسدی نظام کی فوری ردعمل دینے کی صلاحیت اور مضبوطی میں اضافہ ہوگا۔ یہ پہل وزیر اعظم کی ’گتی شکتی‘ کے تصور سے ہم آہنگ، حکومت کے تمام محکموں کو ساتھ لے کر چلنے کے نقطہ نظر کی عکاس ہے۔

ہندوستانی فوج نے حالیہ برسوں میں راشن کے معیار اور مقررہ مقدار کو بہتر بنانے کے لیے متعدد اقدامات بھی کیے ہیں۔ ان میں اگنی ویر بھرتی ہونے والے جوانوں کے لیے اضافی راشن اور تینوں مسلح افواج میں راشن کی مقررہ مقدار کے نظام میں زیادہ یکسانیت پیدا کرنا شامل ہے۔ نامیاتی راشن متعارف کرانے کی تجویز بھی ہے۔

*****

ش ح۔ ش ت۔ ج

uno -5005


(ریلیز آئی ڈی: 2322180) وزیٹر کاؤنٹر : 7