وزارت خزانہ
azadi ka amrit mahotsav

لندن میں منعقدہ ہندوستان-برطانیہ مالیاتی  بازاروں سے متعلق مذاکرات 2026 کے بعد مشترکہ اعلامیہ کی منظوری

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 07 OCT 2026 5:21PM by PIB Delhi

چوتھا برطانیہ-ہندوستان مالیاتی بازار مذاکرات (ایف ایم ڈی) 29 ستمبر 2026 کو لندن میں منعقد ہوا۔ اس مذاکرات کی قیادت حکومتِ ہند کی وزارتِ خزانہ اور برطانیہ کے خزانے کے اعلیٰ عہدیداروں نے کی۔ اس میں ہندوستان اور برطانیہ کے مالیاتی خدمات کے شعبے کے نگران اداروں نے شرکت کی، جن میں سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا (سیبی)، ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی)، انٹرنیشنل فنانشل سروسز سینٹرز اتھارٹی (آئی ایف ایس سی اے)، پنشن فنڈ ریگولیٹری اینڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی (پی ایف آر ڈی اے)، انشورنس ریگولیٹری اینڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف انڈیا (آئی آر ڈی اے آئی)، بینک آف انگلینڈ (بی او ای) اور فنانشل کنڈکٹ اتھارٹی (ایف سی اے) شامل تھے۔

مذاکرات کا آغاز دسمبر 2024 میں ہونے والی گزشتہ میٹنگ کے بعد سے ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لینے سے ہوا۔ شرکا نے اپنے اپنے دائرۂ اختیار میں کی جانے والی اصلاحات کے بارے میں تازہ ترین معلومات کا تبادلہ کیا اور پائیدار اقتصادی ترقی، مضبوط اور کھلے مالیاتی بازاروں، نیز باہمی تجارت اور سرمایہ کاری میں اضافے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ بات چیت میں سرمایہ بازار، بیمہ اور پنشن، اثاثہ جاتی انتظام اور مالیاتی ٹیکنالوجی پر توجہ مرکوز کی گئی۔ دونوں فریقوں نے جاری ضابطہ جاتی رابطے اور بھارت-برطانیہ مالیاتی شراکت داری (آئی یو کے ایف پی) کے رول کا خیرمقدم کیا، جو مالیاتی ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، ماحول دوست اور پائیدار مالیات اور اثاثہ جاتی انتظام جیسے شعبوں میں پالیسی سازوں، نگران اداروں اور صنعت کے درمیان عملی تعاون کو فروغ دینے میں معاون ہے۔

سرمایہ بازار

شرکا نے اپنے اپنے سرمایہ بازاروں میں کی جانے والی اصلاحات کے بارے میں تازہ ترین معلومات کا تبادلہ کیا۔ ہندوستان کی جانب سے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا (سیبی) نے بتایا کہ ہندوستان بازار میں داخلے اور کاروباری سرگرمیوں کو آسان بنا کر عالمی سرمایہ کاروں کی شرکت کے طریقہ کار کو تبدیل کر رہا ہے، جبکہ ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے سرکاری اور کارپوریٹ قرضوں تک بیرون ملک سرمایہ کاروں کی رسائی میں نمایاں آسانی کو اجاگر کیا۔ فریقین نے ہندوستان میں بین الاقوامی سرمایہ متحرک کرنے میں گجرات انٹرنیشنل فنانس ٹیک-سٹی انٹرنیشنل فنانشل سروسز سینٹر (گفٹ آئی ایف ایس سی) کے بڑھتے ہوئے رول پر تبادلۂ خیال کیا اور گفٹ آئی ایف ایس سی کو ایک بین الاقوامی مالیاتی مرکز کے طور پر ترقی دینے میں معاونت کے لیے ضابطہ جاتی تعاون اور معلومات و تجربات کے تبادلے کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

شرکا نے سرحد پار سرمایہ کاری میں اضافے اور ہندوستانی کمپنیوں کی بین الاقوامی سرمایہ تک رسائی کے مواقع پر بھی تبادلہ خیال کیا، جن میں گفٹ-آئی ایف ایس سی کے ذریعے سرحد پار حصص اور بانڈز کی فہرست سازی اور سرمایہ بازاروں کے درمیان مضبوط روابط شامل ہیں۔ دونوں فریقوں نے آئندہ اقتصادی اور مالیاتی مذاکرات سے قبل مستقبل میں سرمایہ بازار کے شعبے میں تعاون کے لیے ترجیحی شعبوں کی نشاندہی اور ان کا جائزہ لینے پر اتفاق کیا۔

بیمہ اور پنشن

شرکاء نے اپنے اپنے ملک میں بیمہ اور پنشن کے شعبوں میں کی جانے والی اصلاحات اور بازار کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا۔ برطانیہ نے مالیاتی خدمات کی ترقی اور مسابقتی صلاحیت کی حکمت عملی کے تحت اپنے بیمہ ضابطہ جاتی نظام میں حالیہ تبدیلیوں اور پنشن و سالانہ بیمہ ادائیگیوں کے بازار میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا، جبکہ ہندوستان نے بیمہ کوریج، سرمایہ کاری اور بازار کی گنجائش کو وسعت دینے کے اپنے عزائم کا خاکہ پیش کیا۔ بازار کی ترقی، باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے دونوں فریقوں نے 2023 میں وضع کیے گئے بیمہ اور پنشن کے عملی منصوبے کی اہمیت پر اتفاق کیا۔

شرکا نے پیچیدہ خطرات کے انتظام اور طویل مدتی ملکی ترقی میں مسابقتی اور مضبوط بازاروں، خصوصی مہارت تک رسائی، سرمایہ کے متنوع ذرائع اور دوبارہ بیمہ کی گنجائش کی اہمیت کو تسلیم کیا۔ دونوں فریقوں نے ہندوستان کے بدلتے ہوئے ضابطہ جاتی نظام اور لندن کے بیمہ بازار اور ہندوستانی بیمہ کمپنیوں اور دوبارہ بیمہ کاروں کے درمیان مزید گہرے تعاون سے پیدا ہونے والے دوبارہ بیمہ کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا۔

شرکا نے پنشن کے ضابطے، انتظامی نظام، کوریج اور طویل مدتی بچت سے متعلق اصلاحات کے شعبوں میں اپنے تجربات بھی ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کیے۔ انہوں نے عوام کی زیادہ سے زیادہ شمولیت اور طویل مدتی پیداواری سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا اور اپنے اپنے ملکی ترجیحی شعبوں سے ہم آہنگ موضوعات میں معلومات اور تجربات کے تبادلے کے امکانات تلاش کرنے پر اتفاق کیا۔

ضابطہ جاتی تعاون: اثاثہ جاتی انتظام اور پائیدار مالیات

برطانیہ اور ہندوستان نے اثاثہ جاتی انتظام سے متعلق ضابطہ جاتی نظام اور بازاروں کے بارے میں تازہ ترین معلومات کا تبادلہ کیا۔ برطانیہ نے متبادل سرمایہ کاری فنڈز کے منتظمین کے لیے ضابطہ جاتی نظام تیار کرنے کے سلسلے میں جاری کام کی تفصیلات پیش کیں۔ ہندوستان نے سیبی اور آئی ایف ایس سی اے کی جانب سے اپنے اپنے ضابطہ جاتی نظام کے تحت کی جانے والی اہم اصلاحات کا جائزہ پیش کیا۔ دونوں فریقوں نے اثاثہ جاتی انتظام کے شعبے میں جاری ضابطہ جاتی تعاون کا خیرمقدم کیا اور اس بات پر تبادلہ خیال کیا کہ اصلاحات، سرمایہ کاروں کی ضروریات اور بازار کے حالات کے بارے میں باہمی  سمجھ بوجھ کس طرح سرحد پار سرمایہ کاری میں اضافے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔

دونوں فریقوں نے ہندوستانی روپے کو بین الاقوامی سطح پر مزید فروغ دینے کا خیرمقدم کیا اور آف شور روپے کی تجارت کے ایک نمایاں مرکز کے طور پر لندن کے رول کو تسلیم کیا۔ پائیدار مالیات کے حوالے سے انہوں نے قابل اعتماد پائیدار مالیاتی نظام، معیاری معلومات کے افشا، عالمی معیارات اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی اہمیت پر تبادلۂ خیال کیا، تاکہ کم کاربن اور موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلے میں مضبوط معیشت کی جانب منتقلی کے لیے نجی سرمایہ متحرک کیا جا سکے۔

شرکا ءنے آئی یو کے ایف پی کے اثاثہ جاتی انتظام سے متعلق عملی شعبے کے تحت ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا اور اس بات کو تسلیم کیا کہ عملی مواقع کی نشاندہی میں صنعت سے حاصل ہونے والے شواہد کی اہمیت ہے، تاکہ برطانیہ اور ہندوستان کے اثاثہ جاتی منتظمین کی ایک دوسرے کے بازاروں میں مزید گہری شرکت کے امکانات تلاش کیے جا سکیں۔

مالیاتی ٹیکنالوجی اور اختراع

شرکا نے مالیاتی ٹیکنالوجی اور اختراع کے حوالے سے اپنے اپنے طریقۂ کار سے متعلق تازہ ترین معلومات کا باہمی تبادلہ کیا۔ ہندوستان نے ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے (ڈی پی آئی) کے ذریعے مالیاتی ٹیکنالوجی کے استعمال کو بڑے پیمانے پر فروغ دینے اور مالیاتی شمولیت کو وسعت دینے کے اپنے تجربات سے آگاہ کیا، جس میں ڈیجیٹل شناخت، ڈیجیٹل ادائیگیاں، مرکزی بینک کی ڈیجیٹل کرنسیاں (سی بی ڈی سی) اور اعداد و شمار کے باہمی تبادلے کے نظام شامل ہیں۔

دونوں فریقوں نے اس بات کی اہمیت پر اتفاق کیا کہ ضابطہ جاتی نگرانی پر سمجھوتہ کیے بغیر ذمہ دارانہ اختراع اور مسابقت کو فروغ دیا جائے۔ دونوں فریقوں نے مالیاتی خدمات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ممکنہ مواقع اور خطرات کے بارے میں اپنے خیالات کا تبادلہ کیا اور متعلقہ بین الاقوامی فورمز کے ذریعے مسلسل دوطرفہ تبادلے اور باہمی تعاون کی اہمیت سے اتفاق کیا۔ ہندوستان نے خردہ مالیاتی خدمات کے لیے صارفین کو ڈیجیٹل طریقے سے خدمات سے منسلک کرنے کے اپنے عمل سے واقف کرایا اور اپنے تجربات مزید شیئر کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ دونوں فریقوں نے مالی جرائم کے لیے نئی ٹیکنالوجیوں کے مجرمانہ استعمال سے پیدا ہونے والے خطرات کی بھی نشاندہی کی، جن میں بیرون ملک قائم نام نہاد ’اسکیم کمپاؤنڈز‘ کے ذریعے بڑے پیمانے پر دھوکہ دہی کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال، نیز سائبر سلامتی، اعداد و شمار کے تحفظ اور عملیاتی مضبوطی کو درپیش خطرات شامل ہیں۔ شرکاء نے مالیاتی دھوکا دہی کی نشاندہی اور روک تھام کے لیے ٹیکنالوجی اور ضابطہ جاتی اختراع کے استعمال سے متعلق اپنے تجربات شیئر کیے اور متعلقہ حکام کے درمیان تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

دونوں فریقوں نے سرحد پار ادائیگیوں کو بہتر بنانے سے متعلق جی20 کے لائحۂ عمل کی حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے جی20 کے لائحۂ عمل سے ہم آہنگ سرحد پار ادائیگیوں میں رکاوٹیں کم کرنے، شفافیت بہتر بنانے اور زیادہ کارکردگی کو ممکن بنانے کے لیے عملی ترجیحات پر تبادلہ خیال کیا۔ دونوں فریقوں نے اپنے اپنے خردہ ادائیگی کے بنیادی ڈھانچے سے متعلق پیش رفت سے ایک دوسرے کو آگاہ کیا اور جی20 میں الیکٹرانک ادائیگی کے بنیادی ڈھانچوں کے درمیان باہمی مطابقت اور باہمی ربط کو مزید فروغ دینے کے لیے جاری کام کی اہمیت کو تسلیم کیا۔

مستقبل میں تعاون

برطانیہ اور ہندوستان نے تعمیری بات چیت کا خیرمقدم کیا اور پائیدار ترقی، تجارت اور سرمایہ کاری میں مزید گہرائی، اور مضبوط مالیاتی بازاروں سے متعلق اپنے مشترکہ عزائم کی حمایت میں مالیاتی بازار مذاکرات (ایف ایم ڈی) کے نمایاں رول کی اہمیت کا اعادہ کیا۔ دونوں فریقوں نے مالیاتی خدمات کے شعبے میں روابط کو مزید مستحکم کرنے کے لیے عملی اور ممکنہ حل تلاش کرنے میں بھارت-برطانیہ مالیاتی شراکت داری (آئی یو کے ایف پی) کے تعاون کا خیرمقدم کیا۔ دونوں فریقوں نے بالخصوص وژن 2035 کے آغاز کے تناظر میں مضبوط ہوتے باہمی تعلقات کا جائزہ لیا اور 15 جولائی 2026 کو نافذ ہونے والے برطانیہ-ہندوستان جامع اقتصادی و تجارتی معاہدے (سی ای ٹی اے) پر عمل درآمد کو آگے بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔

شرکا ءنے مختلف شعبوں میں پیش رفت کو تیز کرنے پر اتفاق کیا، جبکہ متعلقہ دوطرفہ طریقۂ کار اور آئندہ برطانیہ-ہندوستان اقتصادی و مالیاتی مذاکرات میں پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔

********

 (ش ح ۔ش ب  ۔ص ج )

U. No.4780


(ریلیز آئی ڈی: 2320289) وزیٹر کاؤنٹر : 10
یہ ریلیز پڑھیں: English , Gujarati , Malayalam