ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
بھارت کا زور: سی او پی -31 میں خلا کو پُر کرنے، وعدوں کو پورا کرنے اور پیرس معاہدے پر عمل درآمد تیز کرنے پر توجہ دی جائے
انطالیہ میں کامیابی کا پیمانہ تیز ترعمل درآمد، ضرورت مندوں تک مدد کی رسائی اور موجودہ حل کو بڑے پیمانے پر نافذ کرنا ہونا چاہیے: بھوپیندر یادو
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
07 OCT 2026 8:17AM by PIB Delhi
مرکزی وزیر برائے ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی جناب بھوپیندر یادو نے آج فجی میں منعقدہ یو این ایف سی سی سی کی پری-سی او پی 31 میٹنگ میں سی او پی 31 کی ترجیحات پر مکمل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے افہام و تفہیم کے خلا کو پُر کرنے، موجودہ موسمیاتی وعدوں کو پورا کرنے اور پیرس معاہدے پر عمل درآمد تیز کرنے پر زیادہ توجہ دینے کی اپیل کی۔ وہ آسٹریلیا، فجی اور تووالو کی مشترکہ میزبانی میں منعقد ہونے والی یو این ایف سی سی سی کی پری-سی او پی 31 میٹنگ میں بھارتی وفد کی قیادت کر رہے ہیں۔

اپنی گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے جناب بھوپندر یادو نے ٹووالو کے عوام کے جذبے کو سلام پیش کیا، جو ’’موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجوں کا بہادری سے مقابلہ‘‘ کر رہے ہیں اور ایک کامیاب نمونے کی مثال قائم کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی کوششیں موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے امید، اعتماد اور متحد ہوکر عزم کے ساتھ آگے بڑھنے کے حوصلے کو مضبوط کرتی ہیں۔
وزیر موصوف نے کہا کہ یو این ایف سی سی سی اور اس کے پیرس معاہدے کے تحت طویل مدتی مقاصد اور اہداف پہلے ہی طے کیے جا چکے ہیں، جن میں عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو 1.5 ڈگری سیلسیس تک محدود رکھنے کا عزم بھی شامل ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس عزم کو پورا کرنے کے لیے اسی تناسب سے عمل درآمد کے وسائل درکار ہوں گے اور اب توجہ اس بات کا جائزہ لینے پر مرکوز ہونی چاہیے کہ دنیا ان اہداف کی جانب اپنے سفر کو کس طرح تیز کر سکتی ہے۔

سی او پی 31 کی صدارت کرنے والے ممالک کی جانب سے اتفاقِ رائے، فیصلہ سازی اور عمل درآمد پر توجہ کا حوالہ دیتے ہوئے، جناب یادو نے کہا کہ طویل مدتی اہداف اور کثیر ملکی موسمیاتی تعاون کی سمت کے حوالے سے مجموعی طور پر اتفاقِ رائے موجود ہے۔ تاہم، موجودہ افہام و تفہیم کے خلا کی نشاندہی کرنے اور ان پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ ان میں سائنسی علم اور روایتی علم و برادری کے طور طریقوں کے درمیان، عملی طریقوں اور اخلاقیات کے درمیان، نیز دستیاب وسائل اور محسوس کی جانے والی ضروریات کے درمیان موجود خلا شامل ہیں۔ وزیر موصوف نے کہا کہ سی او پی 31 کو افہام و تفہیم کے ان خلا کو پُر کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
فیصلہ سازی کے حوالے سے جناب یادو نے کہا کہ فریقین کی جانب سے لیا جانے والا اہم فیصلہ یہ ہونا چاہیے کہ وہ یو این ایف سی سی سی ا ور پیرس معاہدے کے تحت اپنے وعدوں کو ’’حرف اور روح کے مطابق‘‘ پورا کریں اور ہر فریق کو ان وعدوں کی تکمیل کے قابل بنائیں۔ عمل درآمد کے حوالے سے وزیر موصوف نے ان نشاندہی شدہ خلا کو دور کرنے پر زور دیا جہاں ضرورت سب سے زیادہ ہے اور جس کا اثر اکثریت کو واضح طور پر نظر آتا اور محسوس ہوتا ہے۔ انہوں نے استعداد سازی کو مزید فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا اور فریقین سے اپیل کی کہ وہ ہر سال ٹھوس مثالیں اور کامیابی کی کہانیاں پیش کریں، جن سے زیادہ اثر انگیز اخراج میں کمی، بڑے پیمانے پر موسمیاتی موافقت اور عمل درآمد کے ذرائع کی مؤثر فراہمی کا مظاہرہ ہو۔
جناب بھوپیندر یادو نے کہا کہ ایسی مثالوں کو مسلسل ہر سال ایک دوسرے کے ساتھ بانٹنے اور بڑے پیمانے پر اختیار کرنے سے پیرس معاہدے کے اہداف کے حصول میں زمینی سطح پر بہتر نتائج سامنے آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ انطالیہ میں کامیابی کا پیمانہ محض نئے اہداف یا اعلانات نہیں ہونے چاہئے، بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ آیا عمل درآمد تیز ہوا، ضرورت مندوں تک مدد پہنچی اور موجودہ حلوں کو بڑے پیمانے پر نافذ کیا جا سکا یا نہیں۔

پری-سی او پی ایک تیاری سے متعلق اجلاس ہے، جو ہر سال ہونے والی اقوام متحدہ کی موسمیاتی تبدیلی کانفرنس سے چند ہفتے قبل منعقد کیا جاتا ہے۔ اس سال یہ کانفرنس نومبر میں انطالیہ، ترکیہ میں منعقد ہوگی۔
*****
ش ح۔ ش آ ۔ش ت
U.No.4736
(ریلیز آئی ڈی: 2320024)
وزیٹر کاؤنٹر : 10