وزیراعظم کا دفتر
azadi ka amrit mahotsav

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے یو پی ایس سی کی صد سالہ تقریبات میں شرکت کی

یو پی ایس سی کے 100 سال مکمل ہونا ایک قابل فخر سنگ میل ہے؛ ایک صدی سے یہ انتظامیہ اور عوام کی خدمت میں اہم کردار ادا کر رہا ہے: وزیر اعظم

آج یو پی ایس سی کے 100 سال مکمل ہونے کا جشن ہی نہیں بلکہ اس کے شاندار ورثے کا بھی جشن ہے؛ یہ اس امید اور خواہش کا جشن ہے جس کے ساتھ ہر سال لاکھوں نوجوان آگے بڑھتے ہیں؛ یہ اس اعتماد کا جشن ہے جو ہر ہندوستانی اس ادارے پر رکھتا ہے: وزیر اعظم

ہمیں ہمیشہ دو باتوں کو پیمانہ بنائے رکھنا چاہیے؛ ایک ‘‘ملک مقدم’’ اور دوسرا ‘‘شہری سب سے پہلے’’وزیر اعظم

ہمیں سرکاری خدمات میں ایسے نوجوانوں کو لانا چاہیے جو عہدہ حاصل کرنے کے بجائے عوام کی خدمت کے جذبے سے سرشار ہوں؛ اسی لیے بھرتی کا امتحان صرف یہ جانچنے تک محدود نہیں ہونا چاہیے کہ امیدوار کیا جانتا ہے بلکہ یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ وہ نوجوان سول سروس میں شامل ہونے کی خواہش کیوں رکھتا ہے: وزیر اعظم

ہمارا منتر ’’ناگرک دیوو بھو‘‘ ہے؛ دوسرے لفظوں میں ہمارے لیے ملک کے شہری ہرطرح سے قابل احترام درجے کے حامل ہیں؛ ہمارے لیے شہریوں کی خدمت سب سے اہم ہے: وزیر اعظم

آج کا 21ویں صدی کا ہندوستان کام کرنے کی ایک نئی ثقافت کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے؛ اس کے پیچھے بنیادی اصول ‘‘عوام کے حق میں، فعال اور بہتر حکمرانی’’ ہے: وزیر اعظم

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 01 OCT 2026 1:46PM by PIB Delhi

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں یونین پبلک سروس کمیشن (یو پی ایس سی) کی صد سالہ تقریبات میں شرکت کی۔ اپنے خطاب میں صد سالہ سفر کی اہم وراثت کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ 100 سال مکمل ہونے کی یہ تقریب دراصل لاکھوں نوجوانوں کی ان عظیم امنگوں کا جشن ہے جن کے ساتھ وہ ہر سال آگے بڑھتے ہیں اور اس ادارے پر ہر ہندوستانی کے غیر متزلزل اعتماد کا بھی جشن ہے۔ انہوں نے بدلتی نسلوں، حکومتوں، ٹیکنالوجی اور نصاب کے باوجود ادارے کی دیرپا ساکھ کو سراہا۔ اس موقع پر یادگاری ڈاک ٹکٹ، خصوصی سکہ اور 100 اہم عدالتی مقدمات کے فیصلوں پر مشتمل مجموعہ بھی جاری کیا گیا۔

آزادی کے بعد ملک کو درپیش بڑے چیلنجوں کو یاد کرتے ہوئے وزیر اعظم نے سردار ولبھ بھائی پٹیل کو خراج عقیدت پیش کیا، جنہوں نے ملک کو صرف آزاد دلانے تک  ہی نہیں بلکہ نئے قائم ہونے والے ملک کو مؤثر طریقے سے چلانے کے لیے ضروری مضبوط انتظامی ڈھانچہ بھی قائم کیا۔ انہوں نے سردار پٹیل کی اس کوشش کو سراہا جس کے ذریعے انہوں نے اس ادارے کو آزاد ہندوستان کے ایک اہم ستون کے طور پر مضبوط اور بااختیار بنایا۔ جناب مودی نے کہا، ’’ملک کی تعمیر نو کے لیے جس مضبوط انتظامی ڈھانچے کی ضرورت تھی، وہ سردار پٹیل نے فراہم کیا۔‘‘

1926 میں برطانوی دور میں ادارے کے قیام اور آزادی کے بعد اس کی ترقی کا موازنہ کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ اس نظام نے آزاد ملک کے خوابوں کو پورا کرنے کے لیے کامیابی کے ساتھ اپنی ترجیحات  میں تبدیلیاں کیں۔ انہوں نے کہا کہ یو پی ایس سی نے تاریخی ذمہ داریاں بخوبی انجام دی ہیں، تاہم اب توجہ ملک کے سامنے موجود اگلے 25 برسوں کے اہم دور پر پوری طرح مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔ جناب مودی نے کہا، ’’اسی لیے آج میں اپنی گفتگو کی توجہ اسی سمت میں رکھوں گا۔‘‘

وکست بھارت کے حصول میں انتخابی کمیشنوں کے اہم رول کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ آج بھرتی کیے جانے والے نوجوان بیک وقت ملک کے مستقبل کے معمار اور اس کے بنیادی مستفیدین میں سے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہر انتخابی عمل کو دو بنیادی اصولوں کی کسوٹی پر سختی سے پرکھا جانا چاہیے، جن میں ملک کو اولین ترجیح اور شہری کو اولین ترجیح دینا شامل ہے۔ جناب مودی نے کہا، ’’جب اس جذبے سے سرشار امیدواروں کا انتخاب کیا جائے گا تو قومی اہداف کا حصول مزید فطری اور آسان ہوجائے گا۔‘‘

2047 کے بالکل مختلف سماجی و اقتصادی منظرنامے کی تصویر پیش کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ تیزی سے شہر کاری کی طرف گامزن ملک اور دیہی و شہری علاقوں کے درمیان کم ہوتے فرق کے باعث نوجوانوں کی توقعات میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ خدمات کی فراہمی کے روایتی طریقوں کو فوری خدمات کی موجودہ دنیا کی رفتار کے مطابق ڈھالنا ہوگا ، جہاں شہری مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیز رفتار اور بروقت حل چاہتے ہیں۔ جناب مودی نے کہا، ’’بدلتی ہوئی سوچ ہماری سول سروسز سے بھی نئی تبدیلیوں کا تقاضا کرتی ہے۔‘‘

بھرتی کے طریقہ کار میں بنیادی تبدیلی پر زور دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ انتخاب کے معیار میں صرف تعلیمی معلومات کو ہی نہیں بلکہ امیدوار کے اس بنیادی جذبے کو بھی جانچا جانا چاہیے کہ وہ عوامی خدمت کی طرف راغب ہے یا محض سرکاری عہدہ حاصل کرنے کی خواہش رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحیح جذبے اور مقصد رکھنے والے افراد کا انتخاب کرنے سے انتظامیہ کے لیے عوام کی تیزی سے بدلتی ہوئی توقعات کے مطابق خود کو ڈھالنا کافی آسان ہوجاتا ہے۔ جناب مودی نے کہا، ’’اسی لیے ہمیں مستقبل کی ضروریات کے مطابق اپنے انتخابی معیار اور بھرتی کے عمل میں بھی تبدیلی لانی ہوگی۔‘‘

نئے شامل ہونے والے سول سروس افسران کے ساتھ اپنی ذاتی بات چیت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے مشورہ دیا کہ زیر تربیت افسران اپنی خدمت کے اصل محرکات کو تحریر کرلیں، تاکہ مستقبل میں چیلنجز اور ذمہ داریاں بڑھنے کی صورت میں یہ تحریر انہیں اپنے مقصد اور جذبے کو یاد رکھنے میں مدد دے سکے۔ انہوں نے یو پی ایس سی اور ریاستی کمیشنوں کو بھی امیدواروں کے لیے اسی طرح کے خود احتسابی نظام کو باقاعدہ طور پر اپنانے کی ترغیب دی۔ جناب مودی نے کہا، ’’یو پی ایس سی اور ریاستی کمیشن بھی ایسا نظام تیار کرنے پر غور کرسکتے ہیں۔‘‘

ماضی کے فرسودہ ’’مائی باپ‘‘ طرز حکمرانی کو ترک کرتے ہوئے وزیر اعظم نے ’’ناگرک دیوو بھو‘‘ یعنی شہری کو دیوتا سمجھنے کے اصول پر مبنی جدید انتظامی دور کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ شہری کی خدمت کو ہر چیز پر ترجیح دینا 21ویں صدی کی حکمرانی کا بنیادی اصول ہے۔ جناب مودی نے کہا، ’’اس کا مطلب ہے کہ ہمارے لیے ملک کا شہری کسی دیوتا سے کم نہیں ہے۔‘‘

جدید انتظامیہ کے لیے کام کرنے کے نئے کلچر کی وضاحت کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ 21ویں صدی کا ہندوستان بالکل نئی عملی سوچ کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس نئے دور کے بنیادی اصول تین اہم ستونوں پر مکمل طور پر قائم ہیں۔ جناب مودی نے کہا، ’’اس کے بنیادی اصول ہیں: عوام دوست، فعال اور بہتر حکمرانی!‘‘

حکمرانی کے ان بنیادی اصولوں کی وضاحت کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ قومی اور ریاستی دونوں سطحوں پر انتخابی عمل کو اس طرح منظم کیا جانا چاہیے کہ ایسے ماہرین کا انتخاب ہو جو مسائل کا پہلے ہی اندازہ لگاتے ہوئے فعال طور پر کام کریں اور غیر ضروری دباؤ یا اثر و رسوخ کے بغیر اپنی ذمہ داریاں انجام دیں۔ انہوں نے ہمدردی رکھنے والے ایسے سول سروس افسران کی ضرورت پر زور دیا جو مسائل کے نئے حل تلاش کریں، فعال طور پر شہریوں کی زندگی آسان بنائیں اور عوام پر قوانین کے اثرات کا تنقیدی جائزہ لیں۔ جناب مودی نے کہا، ’’ہمیں ملک کو ایسے ماہرین فراہم کرنے ہیں جو مشکل مسائل سے نکلنے کے لیے نئے اور اختراعی طریقے تلاش کریں۔‘‘

معاشرے کو درپیش غیر معمولی تکنیکی تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے خبردار کیا کہ مستقبل کے سول سروس افسران کو اطلاعاتی  ٹکنالوجی پر مبنی جنگ، ڈیپ فیک، الگورتھم میں جانبداری اور ماحولیاتی انصاف جیسے بالکل نئے محاذوں سے نمٹنا ہوگا۔ انہوں نے بھرتی کرنے والے اداروں کو ہدایت دی کہ وہ ان عالمی تبدیلیوں کے مطابق خود کو ڈھالتے ہوئے امیدواروں کی دور اندیشی اور پیچیدہ مسائل حل کرنے کی صلاحیت کو ترجیح دیں۔ جناب مودی نے کہا، ’’ایسی صورت حال میں انتخابی عمل کے دوران پیچیدہ مسائل حل کرنے کی صلاحیت اور دور اندیشی کو جانچنے کو بھی ترجیح دینی ہوگی۔‘‘

انتظامی اصلاحات کی فوری ضرورت پر زور دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ امتحانات کرانے والے اداروں کو ’’وقت کی پابندی‘‘ کے اصول کو اپناتے ہوئے امتحانات کے پورے دورانیے کو کم کرکے ملک میں جاری وسیع تر اصلاحات کی رفتار کے ساتھ تیزی سے ہم آہنگ ہونا چاہیے، تاہم معیار میں کوئی کمی نہیں آنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ امتحانات کے طویل عمل سے خاندانوں پر کوچنگ فیس، کرایے اور آمدورفت جیسے اخراجات کا بھاری بوجھ پڑتا ہے، اس لیے امتحانی عمل کی مدت کم کرنا بنیادی طور پر منصفانہ مواقع سے متعلق معاملہ ہے۔ جناب مودی نے کہا، ’’یہ مساوات کے لیے بھی ایک اصلاح ہوگی۔‘‘

 

اداروں کی صلاحیتوں کو منظم طریقے سے بہتر بنانے کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے وزیر اعظم نے ان قومی کانفرنسوں کو سراہا جہاں ریاستی کمیشن اپنے بہترین طریقہ کار ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرتے ہیں، تاہم انہوں نے ان فورمز کو مزید مؤثر بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی معیار کا مطالعہ کرنے اور تکنیکی کارکردگی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ایک دوسرے سے سیکھنے اور طریقہ کار کو یکساں بنانے کی وکالت کی، تاکہ ملک بھر کے نوجوان امیدواروں کو بڑی سہولت اور واضح رہنمائی مل سکے۔ جناب مودی نے کہا، ’’ایک دوسرے سے سیکھنے کا یہ عمل یو پی ایس سی کے لیے بھی فائدہ مند ہوگا اور ہر ریاست کے انتخابی کمیشن کو بھی اس سے فائدہ ہوگا۔‘‘

مسلسل ادارہ جاتی ترقی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ یو پی ایس سی اور ریاستی انتخابی کمیشنوں، دونوں کو اپنی صلاحیتوں میں مسلسل اضافہ کرنے پر پوری توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے سول سروس افسران کے لیے قومی مشن کے تحت پہلے سے قائم ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی سفارش کی۔ جناب مودی نے کہا، ’’مشن کرم یوگی کے تحت تیار کیے گئے آئی گوٹ پلیٹ فارم کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔‘‘

افسران کو ان کی اہم قومی ذمہ داری یاد دلاتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ان کا بنیادی مقصد نوجوانوں کی طاقت کو مضبوط قومی طاقت میں تبدیل کرنے سے براہ راست جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے اس بات کو بھی اجاگر کیا کہ مواقع اب صرف بڑے شہروں کے مراعات یافتہ طبقے تک محدود نہیں رہے بلکہ دیہی علاقوں کے باصلاحیت نوجوانوں تک بھی پہنچ رہے ہیں۔ انہوں نے سول سروس میں خواتین امیدواروں کی تعداد میں نمایاں اضافے پر فخر کا اظہار کیا۔ 1952 میں خواتین امیدواروں کی تعداد محض 3 فیصد تھی، جو آج بڑھ کر 30 فیصد سے زیادہ ہوگئی ہے۔ اسی طرح 2014 کے بعد یو پی ایس سی کی چار میں سے تین چیئرپرسن خواتین مقرر کی گئی ہیں۔ جناب مودی نے کہا، ’’یہ تبدیلیاں صرف اعداد و شمار نہیں ہیں، بلکہ یہ ظاہر کرتی ہیں کہ ملک میں مواقع کا دائرہ کس قدر وسیع ہوا ہے۔‘‘

1976 میں ادارے کی گولڈن جوبلی کے بعد امیدواروں کی تعداد میں زبردست اضافے کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ امتحان میں شرکت کرنے والوں کی تعداد 45 گنا بڑھ گئی ہے۔ یہ ملک بھر میں موجود بے پناہ صلاحیتوں کی عکاسی کرتی ہے اور اس کے باعث انتخاب کرنے والوں کی ذمہ داری بھی بہت بڑھ جاتی ہے۔ انہوں نے کمیشنوں کو یاد دلایا کہ وہ صرف امیدواروں کا انتخاب نہیں کررہے بلکہ ایسے افراد کا انتخاب کررہے ہیں جو مستقبل میں زمینی سطح پر حکومت کا چہرہ اور نمائندہ بنیں گے۔ جناب مودی نے کہا، ’’اس لیے آپ سب پر صحیح شخص کے انتخاب کی بہت بڑی ذمہ داری ہے۔‘‘

ادارے کی اگلی صدی کی جانب دیکھتے ہوئے وزیر اعظم نے کمیشن پر زور دیا کہ وہ مستقبل کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے اپنی کارکردگی اور طریقہ کار کو تیزی سے بہتر بنائے، تاہم اس کی بنیادی ساکھ کو ہر حال میں برقرار رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یو پی ایس سی کی بنیادی شناخت یعنی اس کی خود مختاری، غیر جانب داری، صداقت، رازداری اور منصفانہ طریقہ کار پر کسی بھی صورت میں سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔ جناب مودی نے کہا، ’’یہ اقدار ہمیشہ برقرار رہنی چاہئیں۔‘‘

اپنے خطاب کے اختتامی حصے میں وزیر اعظم نے مستقبل کے حوالے سے اپنی امید ظاہر کی کہ یہ ادارہ اپنی اگلی صدی میں بھی ترقی کرتا رہے گا اور بدلتے حالات کے مطابق کامیابی سے خود کو ڈھالتا رہے گا۔

100 years of UPSC is a proud milestone. For a century, it has played an important role in administration and serving people. https://t.co/8mLKPv4jXU

— Narendra Modi (@narendramodi) October 1, 2026

आज का ये दिन, UPSC के 100 वर्षों के उत्सव के साथ ही ये एक विरासत का भी उत्सव है... ये उत्सव, उस आकांक्षा का है... जिसे हर वर्ष लाखों-लाख युवा जीते हैं।

ये उत्सव, उस विश्वास का है... जो हर भारतवासी का इस संस्था पर है: PM @narendramodi

— PMO India (@PMOIndia) October 1, 2026

हमें दो कसौटियों को हमेशा याद रखना है।

एक - Nation First.

दूसरी - Citizen First: PM @narendramodi

— PMO India (@PMOIndia) October 1, 2026

हमें ऐसे युवाओं को Public Services में लाना होगा, जो Public Office से नहीं, Public Service से आकर्षित हों।

इसलिए जरूरी है कि Recruitment की परीक्षा... सिर्फ यह न परखे कि Candidate कितना जानता है।

बल्कि वो यह भी देखे कि... वह युवा Civil Services में आना क्यों चाहता है: PM…

— PMO India (@PMOIndia) October 1, 2026

हमारा मंत्र है... नागरिक देवो भव।

यानि देश का नागरिक हमारे लिए किसी देव से कम नहीं है।

हमारे लिए नागरिक की सेवा सर्वोपरि है: PM @narendramodi

— PMO India (@PMOIndia) October 1, 2026

आज 21वीं सदी का भारत, एक नई कार्य-संस्कृति के साथ आगे बढ़ रहा है।

इसका मूल सिद्धांत है... Pro-People, Pro-Active, Good Governance: PM @narendramodi

— PMO India (@PMOIndia) October 1, 2026

 

 

ش ح۔ ش ب۔ ج

Uno- 4430

 

 


(ریلیز آئی ڈی: 2317628) وزیٹر کاؤنٹر : 11