بجلی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

کارپوریٹ اوسط ایندھن کی معیشت (سی اے ایف ای) کے نئے معیارات کو نوٹیفائی کیا گیا


نئے معیارات کے تحت پانچ برسوں میں ایندھن کی بچت اور کارکردگی میں 16 فیصد سے زیادہ بہتری لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے

یہ اقدام متبادل ایندھن، الیکٹرک گاڑیوں (ای ویز) اور ہائبرڈ کاروں کی تیاری اور فروغ کی حوصلہ افزائی کرتا ہے

اس کے ذریعے کاروں میں زیادہ توانائی کی بچت اور بہتر کارکردگی کے لیے نئی ٹیکنالوجیز میں جدت اور اختراع کو فروغ دیا جائے گا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 30 SEP 2026 9:57AM by PIB Delhi

حکومتِ ہند کی وزارتِ بجلی نے مسافر گاڑیوں کے لیے کارپوریٹ اوسط ایندھن کی معیشت (سی اے ایف ای) کے نئے معیارات جاری کر دیے ہیں۔ یہ نئے معیارات یکم اپریل 2027 سے نافذ ہوں گے اور 31 مارچ 2032 تک لاگو رہیں گے۔ ان کا اطلاق بھارت میں فروخت کے لیے تیار یا درآمد کی جانے والی نئی مسافر گاڑیوں پر ہوگا۔

نئے سی اے ایف ای فریم ورک کے تحت پانچ برسوں میں سال بہ سال مقررہ اہداف کو مزید سخت کرتے ہوئے گاڑیوں کی ایندھن بچانے کی صلاحیت میں بتدریج بہتری لائی جائے گی۔ ایندھن کی کھپت کا مقررہ معیار 2027-28 میں 3.996 لیٹر فی 100 کلومیٹر سے کم ہو کر 2031-32 میں 3.3273 لیٹر فی 100 کلومیٹر رہ جائے گا، جو اس مدت کے دوران تقریباً 16.7 فیصد بہتری کی نمائندگی کرتا ہے۔

نظرِ ثانی شدہ اس مخصوص نظام کو اس طرح متوازن کیا گیا ہے کہ گاڑی کے وزن کو بھی مدنظر رکھا جائے۔ اس کے تحت نسبتاً ہلکی گاڑیوں کے لیے اہداف قدرے سافٹ ہوں گے، جبکہ بھاری گاڑیوں کے لیے ایندھن کی زیادہ بچت اور بہتر کارکردگی لازم ہوگی۔ موجودہ معیارات کے تحت 1,082 کلوگرام کے مقابلے میں نئے سی اے ایف ای معیارات میں ریفرینس ویٹ بڑھا کر 1,229 کلوگرام کر دیا گیا ہے، جو تقریباً 13.6 فیصد اضافہ ہے۔ یہ تبدیلی مسافر گاڑیوں کے بیڑے کی بدلتی ہوئی خصوصیات کی عکاسی کرتی ہے۔

نئے معیارات گاڑی ساز کمپنیوں کو صاف ستھری ٹیکنالوجیز، متبادل ایندھن اور دیگر جدید حل اختیار کرنے کی سہولت اور لچک فراہم کرتے ہیں۔ نیا سی اے ایف ای فریم ورک ایندھن کی بہتر بچت، توانائی کے تحفظ اور پائیداری کے مقاصد کے لیے سورج کی شعاعوں کو منعکس کرنے والے پینٹس، جدید گلیزنگ (شیشے کی ٹیکنالوجی) اور زیادہ مؤثر ایئر کنڈیشننگ نظام جیسی نئی ٹیکنالوجیز میں جدت اور اختراع کو فروغ دیتا ہے۔

مسافر گاڑیوں کے شعبہ کا بھارت میں نقل و حمل کے لیے توانائی کی مانگ میں نمایاں تعاون ہے اور معدنی ایندھن کے استعمال میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ نیا سی اے ایف ای  فریم ورک تیز رفتار تکنیکی ترقی، متبادل اور قابل تجدید ایندھن کی بڑھتی ہوئی دستیابی، برقی گاڑیوں کے بڑھتے ہوئے استعمال اور عالمی آٹو موبائل ٹیکنالوجی میں ہونے والی پیش رفت سے ہم آہنگ ہے اور ان تمام عوامل کو تقویت دیتا ہے۔

وضاحتی نوٹ

2027-28 سے 2031-32 تک کارپوریٹ اوسط ایندھن کی معیشت (سی اے ایف ای ) کے معیارات: بھارتی آٹو موبائل شعبے کے لیے مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ اور لچک دار نظام

آج نوٹیفائی کیے گئے نئے سی اے ایف ای  معیارات یکم اپریل 2027 سے 31 مارچ 2032 تک مسافر گاڑیوں پر لاگو ہوں گے۔ یہ یکم اپریل 2027 سے موجودہ سی اے ایف ای  معیارات کی جگہ لے لیں گے اور بھارت میں فروخت کے لیے تیار یا درآمد کی جانے والی نئی مسافر گاڑیوں پر نافذ ہوں گے۔ یہ نیا نظام آٹو موبائل صنعت کے لیے زیادہ واضح ضابطہ جاتی رہنمائی اور مستحکم پالیسی فریم ورک فراہم کرے گا، جبکہ تکنیکی جدت کو فروغ دینے اور بھارت کے مسافر گاڑیوں کے شعبے کو توانائی کے زیادہ مؤثر استعمال اور کم ایندھن خرچ کرنے کی سمت مسلسل آگے بڑھانے میں معاون ہوگا۔

سی اے ایف ای  فریم ورک بھارت میں صاف ستھری، زیادہ مؤثر توانائی اور پائیدار نقل و حمل کی جانب منتقلی میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔ نئے سی اے ایف ای  معیارات کو گاڑی ساز کمپنیوں، صنعتی ایسوسی ایشنز، تعلیمی ماہرین اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ وسیع مشاورت کے بعد حتمی شکل دی گئی ہے۔ اس کا مقصد مسافر گاڑیوں کے شعبے کے لیے ایسا مستقبل شناس، ٹیکنالوجی سے غیر جانب دار اور لچک دار ضابطہ جاتی نظام فراہم کرنا ہے۔

سی اے ایف ای  فریم ورک موجودہ نظام کے تحت حاصل ہونے والی پیش رفت کو بنیاد بناتے ہوئے آٹو موبائل صنعت کو ٹیکنالوجی کے انتخاب، لچک اور ضابطہ جاتی یقین دہانی کے مزید مواقع فراہم کرتا ہے۔

یہ فریم ورک ایندھن کی کارکردگی میں مسلسل بہتری لانے کے ساتھ ساتھ صاف ستھری ٹیکنالوجیز، متبادل ایندھن اور جدید حل کے وسیع تر استعمال کی حوصلہ افزائی کرے گا، جس سے بھارت کے توانائی کے تحفظ اور پائیداری کے اہداف کو تقویت ملے گی۔ یہ نظام وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے اس وسیع تر وژن سے ہم آہنگ ہے جس میں صاف ستھری، مؤثر توانائی اور پائیدار نقل و حرکت کو بھارت کی ترقی اور توانائی کے تحفظ کا ایک اہم ستون قرار دیا گیا ہے۔

نئے سی اے ایف ای  معیارات کی اہم خصوصیات

1. موجودہ اہداف کے مقابلے میں گاڑیوں کے پورے فلیٹ کی اوسط کارکردگی کا ہدف مرحلہ وار زیادہ سخت کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی، گاڑی ساز کمپنیوں کو مختلف مراعات اور ضابطہ جاتی راستے فراہم کیے گئے ہیں تاکہ وہ صاف ایندھن، ماحول دوست ٹیکنالوجیز اور زیادہ مؤثر گاڑیوں کے استعمال کی جانب راغب ہوں۔ یوں یہ فریم ورک صنعت کے لیے زیادہ بلند اہداف کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی کے انتخاب میں زیادہ لچک بھی فراہم کرتا ہے۔

2. قابلِ تجدید اور کم کاربن والے ایندھن، جن میں ایتھنول ملا ہوا پٹرول، حیاتیاتی ایندھن اور کمپریسڈ بایو گیس (سی بی جی) شامل ہیں، کے رول کو تسلیم کرتے ہوئے کاربن نیوٹرلٹی فیکٹر (سی این ایف) متعارف کرایا گیا ہے۔ اس کے ذریعے گاڑی ساز کمپنیوں کو اپنی مجموعی فلیٹ کارکردگی بہتر بنانے کے لیے گاڑیوں کی ایندھن بچت اور برقی گاڑیوں کے فروغ کے ساتھ ایک اضافی راستہ بھی ملے گا۔ یہ شق صاف ستھرے ایندھن کی جانب بھارت کی وسیع تر منتقلی اور مختلف ٹیکنالوجیز میں جدت کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔

3. تسلیم شدہ ایندھن بچانے والی ٹیکنالوجیز کی فہرست کو چار سے بڑھا کر بارہ ٹیکنالوجیز کر دیا گیا ہے۔ اس سے گاڑی ساز کمپنیوں کو منظور شدہ ایندھن بچانے والی ٹیکنالوجیز اپنانے اور ان کا فائدہ حاصل کرنے میں زیادہ  سہولت حاصل ہوگی گی۔ ہر اہل ٹیکنالوجی کے لیے 1 جی سی او₂ فی کلومیٹر کی رعایت دی جا سکتی ہے، تاہم یہ رعایت زیادہ سے زیادہ 9.0 جی سی او₂ فی کلومیٹر تک محدود ہوگی۔

4. بیٹری الیکٹرک گاڑیوں (بی ای ویز)، رینج ایکسٹینڈڈ الیکٹرک گاڑیوں (آر ای ای ویز)، پلگ اِن ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں (پی ایچ ای ویز)، اسٹرونگ ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں (ایس ایچ ای ویز) اور فلیکس فیول گاڑیوں کو فلیٹ اوسط کے حساب میں حجم کے لحاظ سے خصوصی رعایتی عوامل، جنہیں ’سپر کریڈٹس‘ بھی کہا جاتا ہے، حاصل ہوں گے۔ اس کا مقصد گاڑی ساز کمپنیوں کو صاف ستھری اور جدید ٹیکنالوجی والی گاڑیوں کی تیاری اور مارکیٹ میں ان کے استعمال کو تیز کرنے کی اضافی ترغیب دینا ہے۔

5. ضابطوں کی پابندی آسان بنانے اور گاڑی ساز کمپنیوں کو زیادہ عملی لچک فراہم کرنے کے لیے، کمپنیاں مقررہ دو سالہ یا تین سالہ تعمیلی ادوار میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کا انتخاب کر سکتی ہیں۔ اس سے کمپنیوں کو اپنی ٹیکنالوجی میں منتقلی اور مختلف ماڈلز پر مشتمل اپنی مصنوعات کی حکمتِ عملی کو بہتر انداز میں منظم کرنے میں سہولت ہوگی۔

6. نیا فریم ورک گاڑی ساز کمپنیوں کو سی اے ایف ای  ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے زیادہ لچک فراہم کرتا ہے۔ جو کمپنیاں مقررہ اہداف سے بہتر کارکردگی دکھائیں گی، انہیں کریڈٹس حاصل ہوں گے جنہیں مقررہ تعمیلی ادوار کے اندر اگلے مرحلے کے لیے منتقل کیا جا سکے گا۔جن کمپنیوں کو اپنے ہدف کی تکمیل میں کمی کا سامنا ہو، وہ دستیاب ضوابط کے مطابق پچھلے کریڈٹس استعمال کر سکتی ہیں، دوسری کمپنیوں کے ساتھ کریڈٹس کا تبادلہ یا تجارت کر سکتی ہیں، یا بیورو آف انرجی ایفیشنسی (بی ای ای) کے زیر انتظام ’بائی آؤٹ‘ نظام کے ذریعے کریڈٹس خرید سکتی ہیں۔ ان انتظامات کا مقصد تعمیل کا بوجھ کم کرنا، منتقلی کے مرحلے میں لچک فراہم کرنا اور کمپنیوں کو اپنی مصنوعات اور ٹیکنالوجی میں تبدیلی کے مطابق بہتر انتظام کی سہولت دینا ہے۔

7. گاڑیوں کی کارکردگی کی رپورٹنگ ،ترمیم شدہ بھارتی ڈرائیونگ سائیکل (ایم آئی ڈی سی) اور دنیا بھر میں ہارمونائزڈ لائٹ وہیکلز ٹیسٹ پروسیجر (ڈبلیو ایل ٹی پی)، دونوں کے تحت کی جائے گی۔ اس دوہرے نظام سے بھارت کو بتدریج عالمی سطح پر ہم آہنگ گاڑیوں کی جانچ کے طریقۂ کار کی طرف منتقل ہونے میں مدد ملے گی۔

8. جن گاڑی ساز کمپنیوں کی سالانہ فروخت 1,000 یونٹس سے کم ہوگی، وہ فلیٹ اوسط سے متعلق سی اے ایف ای  ذمہ داریوں سے مستثنیٰ رہیں گی۔ اس طرح کم تعداد میں گاڑیاں تیار یا فروخت کرنے والی کمپنیوں پر غیر ضروری ضابطہ جاتی بوجھ نہیں پڑے گا۔

*****

ش ح ۔ ع ح۔م ش

U-4328


(ریلیز آئی ڈی: 2316807) وزیٹر کاؤنٹر : 11
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Gujarati