خلا ء کا محکمہ
azadi ka amrit mahotsav

بھارت اور فرانس کے درمیان خلائی تعاون انسانی خلائی پرواز، اسٹارٹ اپس اور نئے خلائی ماحولیاتی نظام پر توجہ کے ساتھ نئے مرحلے میں داخل: ڈاکٹر جتیندر سنگھ

فرانسیسی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور خلاء فلپ باپٹسٹ کی قیادت میں وفد کی نئی دہلی میں ڈاکٹر جتیندر سنگھ سے ملاقات

بھارت اور فرانس کی خلائی شراکت داری چھ دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط، ساؤنڈنگ راکٹ تجربات سے لے کر گگن یان اور مشترکہ سیٹلائٹ مشنز تک: ڈاکٹر جتیندر سنگھ

سن 2026 کا بھارت-فرانس اختراعی سال گہری سائنسی اور تکنیکی شراکت داری کے لیے نئے راستے کھول رہا ہے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ

ٹریشنا، گگن یان اور بھارت کے 400 سے زائد خلائی اسٹارٹ اپس بھارت-فرانس شراکت داری کے لیے نئے مواقع پیدا کر رہے ہیں: ڈاکٹر جتیندر سنگھ

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے خلائی شعبے میں حکومت، صنعت اور اسٹارٹ اپس کے درمیان وسیع تر تعاون پر زور دیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 28 SEP 2026 4:23PM by PIB Delhi

مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) برائے سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضی علوم اور وزیر مملکت برائے وزیر اعظم دفتر، عملہ، عوامی شکایات، پنشن، جوہری توانائی اور خلاء، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج کہا کہ بھارت اور فرانس کے درمیان خلائی تعاون 1960 کی دہائی کے ابتدائی ساؤنڈنگ راکٹ تجربات سے آگے بڑھ کر ایک وسیع اور مسلسل فروغ پاتی شراکت داری میں تبدیل ہو چکا ہے، جس میں مشترکہ سیٹلائٹ مشنز، لانچ وہیکل ٹیکنالوجیز، انسانی خلائی پرواز اور خلاء سے متعلق ابھرتی ہوئی ایپلی کیشنز شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات اب حکومتوں، تحقیقی اداروں، صنعتوں اور اسٹارٹ اپس کو ایک ساتھ لا کر ایک وسیع تر ماحولیاتی نظام تشکیل دینے کا موقع فراہم کرتے ہیں، جس میں تیزی سے پھیلتے ہوئے خلائی شعبے میں مزید گہرا تعاون بھی شامل ہے۔

فرانس کے اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور خلاء کے وزیر پروفیسر فلپ باپٹسٹ کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی فرانسیسی وفد نے آج نئی دہلی میں ڈاکٹر جتیندر سنگھ سے ملاقات کی۔ ملاقات میں خلائی سربراہی اجلاس، بھارت-فرانس اختراعی سال 2026 اور خلاء، سیفیپرا اور بلیو اکانومی سمیت سائنسی اور تکنیکی تعاون کی ترجیحات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ وفد کی وسیع نمائندگی خود مختلف سائنسی شعبوں میں بھارت اور فرانس کے درمیان وسیع تر تعاون کی عکاسی کرتی ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ کے ہمراہ محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی کے سکریٹری پروفیسر امیش وی واگھمارے، وزارت ارضی علوم کے سکریٹری ڈاکٹر ٹی سری نواسا کمار، محکمہ بایوٹیکنالوجی کے سکریٹری ڈاکٹر راجیش ایس گوکھلے، سائنسی و صنعتی تحقیق کی کونسل (سی ایس آئی آر) کی ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر (محترمہ) این کلیسلوی، محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی میں بین الاقوامی تعاون کے سربراہ ڈاکٹر پروین کمار سوماسندرم، محکمہ خلاء کے ایک نمائندے، وزارت خارجہ کے ایک نمائندے، سیفیپرا کے ڈائریکٹر اور محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی کے بین الاقوامی تعاون ڈویژن(آئی سی ڈی) میں فرانس کے نوڈل افسر، سائنٹسٹ-ای بھی موجود تھے۔

فرانسیسی وفد میں پروفیسر فلپ باپٹسٹ، چیف آف اسٹاف لو لی نباسک، سفارتی مشیر الیکسیا لاکاز، ذاتی سکیورٹی افسر جیریمی رولر، انڈیا ڈیسک افسر بینوا تالو، ای ایس ایس ای سی کے ڈائریکٹر جنرل ونسنزو ونزی، بھارت میں فرانس کے سفیر تھیری ماتھو، تعاون اور ثقافتی امور کے مشیر گریگور ٹرومیل، نائب مشیر نکولا گاسکویں، سائنسی تعاون کی اتاشی سیلوان پیڈ، اسٹریٹجک امور کی مشیر رافائیل سانانیز اور خلائی امور کی مشیر تمارا تیزیلے شامل تھیں۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ بھارت اور فرانس کے درمیان خلائی تعاون دونوں ممالک کی خلائی ایجنسیوں کے قیام جتنا ہی پرانا ہے اور یہ شراکت داری 1960 کی دہائی کے ساؤنڈنگ راکٹ تجربات سے موجودہ دور کی انسانی خلائی پرواز تک مسلسل آگے بڑھی ہے۔ انہوں نے میگھا-ٹروپیکس اور سارل (ایس اے آر اے ایل) کا حوالہ دیا، جنہیں بھارتی خلائی تحقیق تنظیم (آئی ایس آر او) اور فرانسیسی قومی خلائی مرکز  (سی این ای ایس)نے مشترکہ طور پر تیار کیا، اور لانچ وہیکل کے انجن کی تیاری میں تعاون کو بھی اس دیرینہ شراکت داری کی اہم سنگ میل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ تیسرے مشترکہ سیٹلائٹ ٹریشنا کی تکمیل کا کام بھی اچھی پیش رفت کے ساتھ جاری ہے۔ انہوں نے بھارت کے گگن یان پروگرام کے لیے سی این ای ایس کی معاونت کو بھی سراہا، جس میں ضروری استعمالی اشیا کی فراہمی اور فلائٹ سرجنز کی تربیت شامل ہے۔ بھارتی اور فرانسیسی ٹیموں نے انسانی خلائی پرواز کے حوالے سے مائیکرو گریویٹی تحقیق اور پیرا بولک پروازوں سے متعلق بھی بات چیت شروع کر دی ہے۔

وزیرموصوف  نے کہا کہ بھارت کے خلائی شعبے میں جاری تبدیلی نے دونوں ممالک کے لیے حکومت کے اداروں اور قائم شدہ ایجنسیوں سے آگے بڑھ کر تعاون کو وسعت دینے کے نئے امکانات پیدا کیے ہیں۔ بھارت میں خلائی شعبے کی اصلاحات اور نجی شعبے کے ماحولیاتی نظام میں ہونے والی ترقی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت کے 400 سے زائد خلائی اسٹارٹ اپس اب راکٹ سازی، سیٹلائٹ سازی اور خلائی ایپلی کیشنز سمیت مختلف شعبوں میں سرگرم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت-فرانس تعاون کے اگلے مرحلے میں دونوں ممالک کے سرکاری اداروں، صنعتوں اور اسٹارٹ اپس کو ایک ساتھ لا کر ایک وسیع تر ماحولیاتی نظام اور وسائل کا بڑا ذخیرہ تشکیل دیا جا سکتا ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ بھارت-فرانس اختراعی سال 2026، جس کا افتتاح اس سال فروری میں وزیر اعظم نریندر مودی اور فرانس کے صدر نے کیا تھا، اختراع اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے شعبے میں شراکت داری کو آگے بڑھانے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے 11 اکتوبر کو بنگلورو میں ہونے والی واٹر سائیکل اور ٹریشنا مشن تقریب کا حوالہ دیا، جہاں اسرو آگاہی سے متعلق مواد فراہم کرے گا اور اعلیٰ عہدیداران ٹریشنا سیٹلائٹ اور اس کی ایپلی کیشنز کے بارے میں اظہار خیال کریں گے۔

وزیر موصوف نے خلائی شراکت داری کو بھارت اور فرانس کے درمیان وسیع تر سائنسی تعاون کے تناظر میں بھی پیش کیا، جو بایوٹیکنالوجی، ڈیجیٹل سائنسز و ٹیکنالوجیز اور بحری علوم سمیت مختلف شعبوں تک پھیلا ہوا ہے۔ انہوں نے سیفیپرا اور بھارت-فرانس مشترکہ مراکز جیسے اداروں اور نظام کے ذریعے جاری تعاون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ شراکت داری سائنس کے متعدد شعبوں میں مسلسل آگے بڑھنے والے تعاون کے طور پر فروغ پائی ہے۔

بلیو اکانومی کا حوالہ دیتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے بحری علوم اور بھارت کے ڈیپ اوشن مشن میں تعاون کے امکانات پر بات کی، جس کا مقصد گہرے سمندروں کی وسیع سائنسی اور وسائل کی صلاحیت کو دریافت کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خلاء، سائنس اور سمندری شعبوں میں بڑھتا ہوا تعاون دونوں ممالک کے اداروں اور مختلف متعلقہ فریقوں کی شمولیت کے ساتھ بھارت-فرانس کی ایک وسیع تر شراکت داری قائم کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

پروفیسر فلپ باپٹسٹ نے کہا کہ فرانس سائنس، ٹیکنالوجی اور خلاء کے شعبوں میں شراکت داری کو آگے بڑھانے کے بھارت کے وژن سے اتفاق کرتا ہے اور ان شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے میں گہری دلچسپی رکھتا ہے۔ انہوں نے ٹریشنا کو اس بات کی ایک عمدہ مثال قرار دیا کہ بھارت اور فرانس مل کر کیا حاصل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے انسانی خلائی پرواز، خلانوردوں کی صحت، مائیکرو گریویٹی تحقیق اور پیرا بولک پروازوں کے شعبوں میں مزید تعاون کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے تحقیقی اداروں اور اسٹارٹ اپس کو آپس میں جوڑنے کی ضرورت پر بھی مثبت انداز میں بات کی، جو ایک مضبوط اور مستقبل پر مبنی بھارت-فرانس اختراعی ماحولیاتی نظام تشکیل دینے کے مشترکہ مقصد کی عکاسی کرتا ہے۔

یہ ملاقات بھارت-فرانس شراکت داری کے ایک اہم مرحلے میں ہوئی ہے، کیونکہ 2026 کو بھارت-فرانس اختراعی سال کے طور پر منایا جا رہا ہے اور خلاء، سائنس و ٹیکنالوجی، بایوٹیکنالوجی، ڈیجیٹل سائنسز اور بحری علوم سمیت مختلف شعبوں میں تعاون جاری ہے۔ بات چیت سے اس دیرینہ شراکت داری کو ابھرتے ہوئے شعبوں تک مزید وسعت دینے اور اداروں، صنعتوں اور اسٹارٹ اپس کے درمیان تعاون کے وسیع تر مواقع پیدا کرنے کو نئی رفتار ملی ہے۔

 

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image001_20260928162447_a0e903.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image002_20260928162452_b9770e.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image003_20260928162458_0722d7.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image004_20260928162503_63b5e9.jpg

 

************

 

 

 

ش ح۔ا ک۔ ج ا

 (U: 4226)       


(ریلیز آئی ڈی: 2316088) وزیٹر کاؤنٹر : 13