کامرس اور صنعت کی وزارتہ
ممبئی میں بھارت-متحدہ عرب امارات اعلی سطحی مشترکہ ٹاسک فورس کا 14واں اجلاس منعقد
سرمایہ کاری اور جدت طرازی کے ذریعے بھارت-متحدہ عرب امارات شراکت داری میں نمایاں تبدیلی کے امکانات: مرکزی وزیر تجارت و صنعت جناب پیوش گوئل
بھارت اور متحدہ عرب امارات نے جامع اقتصادی شراکت داری معاہدے (سی ای پی اے) پر پیش رفت کا جائزہ لیا اور مشترکہ سرمایہ کاری کے منصوبوں کو آگے بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
28 SEP 2026 3:56PM by PIB Delhi
بھارت-متحدہ عرب امارات اعلی سطحی مشترکہ ٹاسک فورس برائے سرمایہ کاری (ایچ ایل جے ٹی ایف آئی) کا 14واں اجلاس آج ممبئی میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی مشترکہ صدارت حکومت ہند کے وزیر تجارت و صنعت جناب پیوش گوئل اور ابوظہبی انویسٹمنٹ اتھارٹی (اے ڈی آئی اے) کے منیجنگ ڈائریکٹر عزت مآب شیخ حامد بن زایدال نہیان نے کی۔
ایچ ایل جے ٹی ایف آئی کا قیام 2013 میں بھارت اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے کے لیے عمل میں آیا تھا۔ اپنے قیام کے بعد سے یہ فورم بھارت اور متحدہ عرب امارات میں مزید سرمایہ کاری کے مواقع اور امکانات پر تبادلہ خیال کے لیے ایک موثر طریقہ کار فراہم کر رہا ہے، جبکہ دونوں ممالک کے سرمایہ کاروں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے بھی پلیٹ فارم کا رول ادا کر رہا ہے۔
اعلی سطح پر باقاعدہ دوروں، جن میں مئی 2026 میں وزیر اعظم جناب نریندر مودی کا متحدہ عرب امارات کا دورہ اور ستمبر 2026 میں ابوظہبی کے ولی عہد عزت مآب شیخ خالد بن محمد بن زایدال نہیان کا بھارت کا دورہ شامل ہے، نے دونوں ممالک کے درمیان مسلسل مضبوط ہوتے دوطرفہ تعلقات کو تزویراتی سمت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں مزید رفتار دی ہے۔
آج کے اجلاس میں تجارت اور سرمایہ کاری سے متعلق اہم ترجیحات پر غور کیا گیا، جن میں دوطرفہ سرمایہ کاری کو وسعت دینے اور تعاون کے ابھرتے ہوئے شعبوں کو تلاش کرنے کے اقدامات شامل تھے۔ متحدہ عرب امارات اور بھارت کے درمیان اقتصادی شراکت داری حجم اور تزویراتی اہمیت، دونوں اعتبار سے مسلسل فروغ پا رہی ہے۔ مالی سال 2025-26 میں دوطرفہ تجارت 101.25 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی، جبکہ 2025 میں تیل کے علاوہ دیگر تجارت 76.2 ارب امریکی ڈالر رہی، جو تجارتی تعلقات کی مضبوطی اور جامع اقتصادی شراکت داری معاہدے (سی ای پی اے) کے اثرات کی عکاسی کرتی ہے۔ متحدہ عرب امارات اور بھارت 2032 تک دوطرفہ تجارت کو 200 ارب امریکی ڈالر تک پہنچانے کے مشترکہ ہدف کے حصول کے لیے مسلسل کام کر رہے ہیں، جبکہ دونوں ممالک مستقبل کی ترقی کو آگے بڑھانے والے شعبوں، جن میں توانائی، بنیادی ڈھانچہ، ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت شامل ہیں، میں سرمایہ کاری کے تعاون کو بھی وسعت دے رہے ہیں۔
اس مثبت پس منظر میں شریک صدور نے اجلاس کا آغاز متحدہ عرب امارات اور بھارت کے درمیان تجارت میں اضافے اور دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں جامع اقتصادی شراکت داری معاہدے (سی ای پی اے)، دوطرفہ سرمایہ کاری معاہدے (بی آئی ٹی) اور ٹیکس سے متعلق دیگر معاہدوں اور باہمی قانونی معاونت کے معاہدوں کے رول کو تسلیم کرتے ہوئے کیا۔ دونوں جانب سے سی ای پی اے کی متعلقہ ذیلی کمیٹیوں کے کام کا جائزہ لیا گیا اور تیزی سے پیچیدہ ہوتے جغرافیائی سیاسی اور اقتصادی ماحول میں تجارتی پائیداری کو مزید تقویت فراہم کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
مشترکہ ٹاسک فورس نے کئی مشترکہ سرمایہ کاری منصوبوں اور تعاون کے شعبوں میں ہونے والی مثبت پیش رفت کا جائزہ لیا، جن میں گجرات میں فوڈ پارک منصوبہ بھی شامل ہے۔ دونوں جانب نے اس توقع کا اظہار کیا کہ متحدہ عرب امارات میں انویسٹ انڈیا کے دفتر کو 2026 کے اختتام سے قبل فعال کر دیا جائے گا۔ دونوں جانب نے ایمریٹس این بی ڈی کی جانب سے بھارت کے آر بی ایل بینک میں تقریباً 3 ارب امریکی ڈالر میں اکثریتی حصص کے حالیہ حصول اور انٹرنیشنل ہولڈنگ کمپنی (آئی ایچ سی) کی جانب سے بھارت کی سمان کیپیٹل میں 1 ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ اڈیشہ میں مربوط ایلومینیم کمپلیکس کے قیام کے لیے 11.5 ارب امریکی ڈالر کی مشترکہ سرمایہ کاری کے ارادے کا خیرمقدم کیا۔ دونوں جانب نے بھارت کے گفٹ سٹی میں مشرق بینک، فرسٹ ابوظہبی بینک (ایف اے بی) اور ابوظہبی نیشنل انشورنس کمپنی (اے ڈی این آئی سی) کے شاخی دفاتر کے کامیاب افتتاح کا بھی ذکر کیا۔ دونوں جانب نے مئی 2026 میں وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے متحدہ عرب امارات کے دورے کے دوران دستخط کیے گئے مفاہمت ناموں کے تحت توانائی کے شعبے میں تعاون کا بھی جائزہ لیا۔ باہمی سرمایہ کاری کے وسیع دائرے اور گہرائی کو دیکھتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان یہ شراکت داری واقعی کئی جہتوں پر مشتمل شراکت داری کی حیثیت رکھتی ہے۔
مالیاتی شعبے میں تعاون متحدہ عرب امارات اور بھارت کی اقتصادی شراکت داری کا ایک اہم ستون بدستور ہے۔ شریک صدور نے مقامی کرنسی میں لین دین، ادائیگی اور پیغام رسانی کے نظام کے انضمام اور مرکزی بینکوں کی ڈیجیٹل کرنسیوں سے متعلق اقدامات میں متحدہ عرب امارات اور بھارت کے مرکزی بینکوں کی جانب سے کی گئی پیش رفت کا جائزہ لیا۔ اس بات کا ذکر کیا گیا کہ ان اقدامات سے دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کو مزید موثر، قابل رسائی اور مستحکم بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ دونوں جانب نے ان اقدامات پر بروقت عمل درآمد میں تعاون کے لیے ضروری اقدامات کرنے پر اتفاق کیا۔
وفود نے دوطرفہ سرمایہ کاری کے عمل میں اضافے کے امکانات رکھنے والے شعبوں پر غور کیا، جن میں توانائی، صنعت، نقل و حمل و سپلائی، بنیادی ڈھانچہ، ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت، خلائی شعبہ، خوراک کی یقینی فراہمی، زرعی جدت طرازی اور اسٹارٹ اپ نظام میں باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانا شامل ہے۔
اجلاس میں ابوظہبی اور بھارت کے درمیان شہری ہوابازی کے شعبے میں تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جس کا مقصد وسیع تر اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے کے لیے فضائی رابطے کو مزید بہتر بنانا تھا۔ اسی تناظر میں بھارت کے گجرات میں دھولیرا میں ہوابازی اور نقل و حمل و سپلائی کے مرکز کی ترقی کے لیے سرمایہ کاری کے مواقع اور باہمی تعاون کے امکانات کا بھی دونوں جانب سے جائزہ لیا گیا۔
اپنے قیام کے بعد سے ایچ ایل جے ٹی ایف آئی نے متحدہ عرب امارات اور بھارت کے درمیان سرمایہ کاری سے متعلق مسائل اٹھانے اور انہیں حل کرنے کے لیے ایک کھلے اور موثر طریقہ کار کے طور پر مسلسل خدمات انجام دی ہیں۔
دونوں جانب نے متحدہ عرب امارات اور بھارت کے درمیان فاسٹ ٹریک میکانزم کے ذریعے بھارت میں متحدہ عرب امارات کی سرمایہ کاری اور کمپنیوں، نیز متحدہ عرب امارات میں بھارتی سرمایہ کاری اور کمپنیوں کو درپیش زیر التوا مسائل کے حل کے لیے کی جانے والی کوششوں کا بھی ذکر کیا۔ دونوں جانب نے ان مسائل کے بروقت حل میں تعاون کے لیے اقدامات کرنے پر اتفاق کیا۔
اجلاس کے اختتام پر شریک صدور نے ایچ ایل جے ٹی ایف آئی کی کامیابی میں مسلسل تعاون کے لیے متعلقہ سفیروں، عہدیداروں اور تکنیکی ٹیموں کی خدمات کو سراہا۔
ایچ ایل جے ٹی ایف آئی کے 14ویں اجلاس پر تبصرہ کرتے ہوئے ایچ ایل جے ٹی ایف آئی کے شریک صدر اور حکومت ہند کے وزیر تجارت و صنعت جناب پیوش گوئل نے کہا:
’’دنیا کی سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی معیشت کے طور پر بھارت جامع، پائیدار اور مستحکم ترقی کے لیے بدستور پرعزم ہے۔ اس سفر میں متحدہ عرب امارات ایک قابل اعتماد دوست اور شراکت دار ہے۔ آج مشترکہ ٹاسک فورس کے اجلاس میں متعدد اقدامات کے تحت ہونے والی مثبت پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور مستقبل میں تعاون کے نئے امکانات پر غور کیا گیا۔ سرمایہ کاری، جدت طرازی، ترقی اور عوام کے تحفظ کے شعبوں میں تعاون کی بنیاد پر قائم یہ شراکت داری دونوں جانب کی دوراندیش قیادت میں نمایاں تبدیلی کے لیے تیار ہے۔‘‘
ایچ ایل جے ٹی ایف آئی کے شریک صدر اور ابوظہبی انویسٹمنٹ اتھارٹی (اے ڈی آئی اے) کے منیجنگ ڈائریکٹر عزت مآب شیخ حامد بن زایدال نہیان نے کہا: ’’یہ اجلاس متحدہ عرب امارات اور بھارت کے درمیان دیرینہ اور مسلسل مضبوط ہوتی شراکت داری کے ایک اہم مرحلے میں منعقد ہوا ہے۔ 2013 میں قیام کے بعد سے ہماری مشترکہ ٹاسک فورس نے کھلے تبادلہ خیال، عملی طور پر مسائل کے حل اور مشترکہ اقتصادی ترجیحات کو آگے بڑھانے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر خدمات انجام دی ہیں۔ گزشتہ برسوں کے دوران اس نے سرمایہ کاروں کی مدد، درپیش چیلنجوں سے نمٹنے اور تعاون کے نئے مواقع کی نشاندہی کے ذریعے دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے مزید قریب لانے میں اہم رول ادا کیا ہے۔‘‘
******
ش ح ۔ ش ب ۔ م ا
UR No-4224
(ریلیز آئی ڈی: 2316048)
وزیٹر کاؤنٹر : 10