ہنر مندی کے فروغ اور صنعت کاری کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ورلڈ اسکلز شنگھائی- 2026 میں  ہندوستان 10ویں مقام پر، 6 چاندی کے تمغے اور 20 میڈلز آف ایکسی لینس حاصل کئے


ہندوستان ورلڈ اسکلز ،لیون -2024 میں 13ویں مقام سے شنگھائی- 2026 میں 10ویں مقام پر پہنچا

 اڑتالیسویں ورلڈ اسکلز مقابلہ میں 70 مقابلہ کنندگان پر مشتمل  ہندوستان کا اب تک کا سب سے بڑا دستہ،  تریسٹھ ہنرمندی کے شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر رہا ہے

نوجوان  ہندوستانی مقابلہ کنندگان نے جدید ٹیکنالوجی، مینوفیکچرنگ، انجینئرنگ اور خصوصی خدمات کے شعبوں میں بین الاقوامی معیار کی مہارت کا مظاہرہ کیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 27 SEP 2026 8:24PM by PIB Delhi

ٹیم انڈیا نے 48ویں ورلڈ اسکلز مقابلہ شنگھائی- 2026 میں 10ویں پوزیشن حاصل کی اور 6 چاندی کے تمغہ اور 20 میڈلز آف ایکسی  لینس حاصل کئے۔ چین کے شہر شنگھائی میں منعقدہ اس باوقار بین الاقوامی ہنرمندی کے مقابلہ کے اختتام پر  ہندوستان نے یہ کامیابی حاصل کی۔ ورلڈ اسکلز ،لیون- 2024 میں 13ویں مقام پر رہنے والے  ہندوستان نے اس بار اپنی کارکردگی بہتر بناتے ہوئے 10ویں مقام پر جگہ بنائی۔ لیون -2024 میں  ہندوستان نے 4 کانسہ کے تمغہ اور 12 میڈلز آف ایکسی  لینس حاصل کیے تھے۔ یہ کامیابی عالمی سطح پر ملک کے ہنرمند نوجوانوں کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے۔

ورلڈ اسکلز شنگھائی میں 6 چاندی کے تمغہ بیکری میں اسمرتی نامبیار، ڈینٹل پروستھیٹکس میں محمد سلام، ڈجیٹل انٹرایکٹیو میڈیا ڈیزائن میں کوود اجے گنگراڈے، انڈسٹریل ڈیزائن ٹیکنالوجی میں پارتھ ووہرا، لاجسٹکس اینڈ فریٹ فارورڈنگ میں مہرالنسا بیگم اور ریٹیل سیلز میں سانیہ جوشی نے جیتے۔ ان کی کامیابیاں تخلیقی، تکنیکی اور خدماتی شعبوں کی مختلف ہنرمندیوں پر محیط ہیں، جو عالمی سطح پر  ہندوستانی صلاحیتوں کے وسیع دائرے کی عکاسی کرتی ہیں۔

 ہندوستان نے تکنیکی، صنعتی، ڈجیٹل، تخلیقی اور خدماتی شعبوں میں 20 میڈلز آف ایکسی لینس بھی حاصل کیے۔ بیکری میں چاندی کا تمغہ جیتنے والی اسمرتی نامبیار کو  ہندوستان کے لیے’ بیسٹ آف نیشن‘ کے اعزاز سے بھی نوازا گیا۔

مورخہ 22 سے 27 ستمبر-  2026 تک منعقد ہونے والی اس 6 روزہ بین الاقوامی تقریب میں تقریباً 70 ممالک اور خطوں سے 1,400 سے زیادہ نوجوان مقابلہ کنندگان نے شرکت کی۔ ہندوستان کی نمائندگی اب تک کے سب سے بڑے 70 رکنی دستے نے کی، جس نے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز، جدید مینوفیکچرنگ، انجینئرنگ، تخلیقی صنعتوں اور خصوصی خدمات سمیت 63 ہنرمندی کے شعبوں میں حصہ لیا۔

مورخہ 23 سے 26 ستمبر تک 4 روزہ سخت مقابلہ کے بعد فاتحین کو 27 ستمبر کو شنگھائی میں منعقدہ شاندار اختتامی تقریب میں اعزازات سے نوازا گیا۔ تقریب میں غیر معمولی تکنیکی مہارت، جدت طرازی، درستگی اور ہنرمندی کا جشن منایا گیا، جس میں دنیا بھر سے مقابلہ کنندگان، بین الاقوامی وفود، ماہرین اور صنعت کے نمائندے شریک ہوئے۔

ٹیم انڈیا کی کارکردگی پر مبارکباد دیتے ہوئے حکومت ہند میں ہنرمندی کی ترقی اور کاروباری صلاحیت کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج) اور وزیر مملکت برائے تعلیم جناب  جینت چودھری نے کہا-’’ورلڈ اسکلز شنگھائی-  2026 میں 6 چاندی کے تمغوں اور 20 میڈلز آف ایکسی لینس کے ساتھ ٹیم انڈیا کی شاندار کارکردگی عالمی ہنرمندی کے میدان میں ہمارے سفر میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ اپنی گزشتہ کارکردگی کو پیچھے چھوڑتے ہوئے ہمارے نوجوان مقابلہ کنندگان نے  ہندوستانی ہنرمند افرادی قوت کی بڑھتی ہوئی طاقت اور مسابقتی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ میں ہر مقابلہ کنندہ، ماہر، ٹرینر اور صنعتی شراکت دار کو مبارکباد دیتا ہوں جنہوں نے اس کامیابی میں اپنا کردار ادا کیا۔ تمغوں سے بڑھ کر جو بات ہمارے لیے باعث فخر ہے، وہ اعتماد، عزم اور بہترین کارکردگی ہے جس کے ساتھ ہمارے نوجوانوں نے عالمی سطح پر ہندوستان  کی نمائندگی کی۔ ان کی کامیابی مستقبل کی ضروریات کے مطابق ہنرمندی کا ایک مضبوط نظام تشکیل دینے اور ہر ہندوستانی  نوجوان کو دنیا کے بہترین لوگوں کے ساتھ مقابلہ کرنے کا موقع فراہم کرنے کے ہمارے عزم کو مزید تقویت دیتی ہے۔‘‘

 ہندووستان کی یہ کامیابی اس کے نوجوان مقابلہ کنندگان کی لگن کی عکاسی کرتی ہے، جنہوں نے کئی ماہ تک سخت تیاری، خصوصی تربیت، رہنمائی اور بین الاقوامی معیار کے مطابق اپنی صلاحیتوں کو جانچنے کے عمل سے خود کو تیار کیا۔ میڈل آف ایکسی لینس ان مقابلہ کنندگان کو دیا جاتا ہے جو عالمی سطح پر قائم ورلڈ اسکلز کے معیارات کے مطابق پیشہ ورانہ مہارت کی اعلی سطح کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

مقابلے کے ذریعے حاصل ہونے والے بین الاقوامی تجربے کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے حکومت ہند کی وزارت ہنرمندی کی ترقی اور کاروباری صلاحیت میں سینئر اقتصادی مشیر اور ورلڈ اسکلز انڈیا کی آفیشل ڈیلیگیٹ محترمہ منیشا سینسرما نے کہا-’’ورلڈ اسکلز مقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ سیکھنے کا بھی ایک اہم ذریعہ ہے۔ شنگھائی نے ہمارے مقابلہ کنندگان اور ماہرین کو بدلتے ہوئے عالمی پیشہ ورانہ معیارات، نئی ٹیکنالوجیز اور بین الاقوامی بہترین طریق کار سے قیمتی واقفیت حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ اب ہماری توجہ ان تجربات کو تربیت کے مزید مؤثر طریقوں، بہتر تشخیصی معیارات اور صنعت کے ساتھ مزید گہری شراکت داری میں تبدیل کرنے پر ہے، تاکہ اس تجربے کے فوائد مقابلہ سے کہیں آگے  ہندوستان کے وسیع تر ہنرمندی کے نظام تک پہنچ سکیں۔‘‘

اس سال  ہندوستان کی شرکت کی ایک اہم خصوصیت 11 نئے اور ابھرتے ہوئے ہنرمندی کے شعبوں میں پہلی بار شرکت تھی، جن میں ڈینٹل پروستھیٹکس، ڈجیٹل انٹرایکٹیو میڈیا ڈیزائن، انٹیلیجنٹ سکیورٹی ٹیکنالوجی، لینڈ اسکیپ گارڈننگ، آپٹیو الیکٹرانک ٹیکنالوجی، ریٹیل سیلز، بغیر پائلٹ کے فضائی نظام، صنعتی مکینکس، سافٹ ویئر ٹسٹنگ، ہیوی وہیکل ٹیکنالوجی اور ایئرکرافٹ مینٹیننس شامل ہیں۔

ان خصوصی شعبوں میں  ہندوستان کی شرکت ملک کے ہنرمندی کے نظام میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کی عکاسی کرتی ہے، جس میں مستقبل پر مبنی پیشوں، نئی ٹیکنالوجیز اور صنعت کی ضروریات کے مطابق مہارتوں پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے۔

مختلف تکنیکی، تخلیقی اور خدماتی شعبوں میں نوجوان خواتین کی شرکت بھی ایک اہم خصوصیت رہی۔ خواتین مقابلہ کنندگان نے کیمیکل لیبارٹری ٹیکنالوجی اور لاجسٹکس اینڈ فریٹ فارورڈنگ سے لے کر فیشن ٹیکنالوجی، ویژول مرچنڈائزنگ، ہیلتھ اینڈ سوشل کیئر، ہاسپیٹیلٹی اور دیگر خصوصی شعبوں تک مختلف ہنرمندی کے شعبوں میں  ہندوستان کی نمائندگی کی، جو پیشہ ورانہ تعلیم اور ہنرمندی کی ترقی میں خواتین کے لیے بڑھتے ہوئے مواقع کی عکاسی کرتا ہے۔

ورلڈ اسکلز شنگھائی -  2026 میں  ہندوستان کی شرکت کی رابطہ کاری وزارت ہنرمندی کی ترقی اور کاروباری صلاحیت کے تحت نیشنل اسکل ڈیولپمنٹ کارپوریشن (این ایس ڈی سی) نے کی۔ اس میں سیکٹر اسکل کونسلز، صنعتی شراکت داروں، تربیتی اداروں، تکنیکی ماہرین اور دیگر متعلقہ فریقوں نے تعاون کیا۔اس مقابلہ نے  ہندوستانی مقابلہ کنندگان اور ماہرین کو قیمتی بین الاقوامی تجربہ حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا اور عالمی پیشہ ورانہ معیارات، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور بین الاقوامی بہترین طریق کار کے بارے میں اہم معلومات فراہم کیں، جو  ہندوستان کے تربیتی اور تشخیصی نظام کو مزید مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوسکتی ہیں۔

ورلڈ اسکلز شنگھائی-  2026 کے اختتام پر ٹیم انڈیا کی کارکردگی محض جیتے گئے تمغوں کا جشن نہیں بلکہ ان 70 نوجوان  ہندوستانیوں کے عزم، ثابت قدمی اور امنگوں کا بھی اعتراف ہے جنہوں نے دنیا کے سب سے بڑے ہنرمندی کے پلیٹ فارم پر ملک کی نمائندگی کی۔ یہ کامیابیاں معیاری ہنرمندی کی ترقی، صنعت کے ساتھ شراکت داری اور عالمی معیار کے مطابق اپنی صلاحیتوں کو پرکھنے کے عمل میں مسلسل سرمایہ کاری کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہیں، تاکہ ایک ہنرمند، پراعتماد اور مستقبل کے تقاضوں کے لیے تیار افرادی قوت پروان چڑھ سکے۔

ورلڈ اسکلز کے بارے میں:ورلڈ اسکلز دنیا کا سب سے بڑا بین الاقوامی ہنرمندی کا مقابلہ ہے، جس میں شریک ممالک اور خطوں کے نوجوان پیشہ ور افراد مختلف پیشہ ورانہ اور تکنیکی شعبوں میں اپنی بہترین صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ یہ مقابلہ ہر دو سال بعد منعقد ہوتا ہے اور بین الاقوامی معیارات کے فروغ، معلومات کے تبادلہ اور نوجوانوں کو ہنرمند پیشوں کو اپنانے کی ترغیب دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

ٹیم انڈیا کے تمغہ اور میڈل آف ایکسی لینس حاصل کرنے والے فاتحین کی مکمل فہرست

بیسٹ آف نیشن: اسمرتی نامبیار- بیکری (چاندی کا تمغہ)

 

سلور میڈل جیتنے والے فاتحین

نمبر شمار

ہنر کا زمرہ

مدمقابل

1

بیکری

اسمرتی نامبیار

2

ڈینٹل پروسٹیٹکس

محمد سلام

3

ڈجیٹل انٹرایکٹیو میڈیا ڈیزائن

کوویڈ اجے گینگریڈ

4

صنعتی ڈیزائن ٹیکنالوجی

پارتھ ووہرا

5

لاجسٹک اور فریٹ فارورڈنگ

مہرالنساء بیگم

6

خوردہ فروخت

ثانیہ جوشی

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

تمغہ برائے حسن کارکردگی

نمبر شمار

ہنر کا زمرہ

مدمقابل

1

اینٹلیجنٹ سکیورٹی ٹیکنالوجی

رگول کنتھما بلراج

2

میکاٹرونکس

دیپو مدیگیرپالیا سری نواسا؛ جینت کریپا

3

موبائل ایپلیکیشنز کی ترقی

ارجن سماتھی وجے بشکر

4

برقی تنصیبات

دھنش مادھوگیری گووندراجو

5

پلستر اور ڈرائی وال سسٹم

سورنتھیرن مانی

6

پینٹنگ اور ڈیکوریشن

مسکان

7

خود مختار موبائل روبوٹکس

آدتیہ پرکاش؛ دیبایش پانڈا

8

کابینہ سازی

یشونتھ چاری کیشوجو

9

زیورات

جوئے داس

10

بیوٹی تھراپی

تحسین صابر ستار

11

فیشن ٹیکنالوجی

ودھی نیروکمار سوتھر

12

آٹوموبائل ٹیکنالوجی

محمد سراج

13

کار پینٹنگ

کیف خان

14

آئی ٹی نیٹ ورک سسٹمز ایڈمنسٹریشن(آئی ٹی این ایس اے)

خوشراج نیمیش راٹھور

15

گرافک ڈیزائن ٹیکنالوجی

رجیب لوچن چند

16

صحت اور سماجی نگہداشت

وشنوپریہ سنیل

17

صنعت 4.0

مالی ناتھ؛ سوہان مسکرینہس

18

کیمیکل لیبارٹری ٹیکنالوجی

سمپدا دیسائی

19

اضافی مینوفیکچرنگ

پون بھدراوتی سریش

20

روبوٹ سسٹم انٹیگریشن

ابھیشیک سومنا شگنالی؛ ونے متیا ہیرے مٹھ

 

 

 

*****

 ش ح – ظ الف –ش ب ن

UR No. 4203

 

 


(ریلیز آئی ڈی: 2315857) وزیٹر کاؤنٹر : 4