صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر صحت جناب جے.پی. نڈا نے آروگیہ منتھن 2026 کا افتتاح کیا ، یہ آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا کے آٹھ سال اور آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن کے پانچ سال مکمل ہونے کی علامت ہے


آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا اور آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن کی کامیابیاں بھارت کے بڑھتے ہوئے ڈیجیٹل صحت نظام اور صحت کی ضمانت کے وسیع ہوتے نظام کی عکاسی کرتی ہیں: جناب جے.پی. نڈا

مرکزی وزیرِ صحت نے کہا کہ آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا دنیا کا سب سے بڑا صحت ضمانتی پروگرام بن چکا ہے، جس کے تحت 60 کروڑ سے زیادہ مستفید افراد کو صحت کی سہولتوں کی ضمانت حاصل ہے

آروگیہ منتھن 2026 کے دوران ڈیجیٹل صحت اور صحت کی ضمانت سے متعلق متعدد نئے اقدامات شروع کئے گئے، جن میں قومی صحت خدمات فراہم کنندگان کے اندراج کی موبائل ایپ، محفوظ معلوماتی ماحول اور آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا کے لئے دعووں کی خودکار جانچ اور منظوری کا نظام شامل ہیں

آروگیہ منتھن 2026 میں آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا اور آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن کے نفاذ میں مختلف شعبوں کے تحت بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کو بھی اعزاز سے نوازا گیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 25 SEP 2026 3:18PM by PIB Delhi

صحت و خاندانی بہبوداورکیمیکلز و فرٹیلائزرز کےمرکزی وزیر جناب جے. پی. نڈا نے آج نئی دہلی کے وگیان بھون میں آروگیہ منتھن 2026 کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا (اے بی پی ایم-جے اے وائی) کے آٹھ سال اور آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن  (اے بی ڈی ایم)کے پانچ سال مکمل ہونے کی مناسبت سے تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔

قومی صحت اتھارٹی (این ایچ اے) کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والی اس تقریب میں حکومت کے اعلیٰ حکام، صحت کی خدمات فراہم کرنے والے اداروں، انشورنس شعبے کے نمائندوں، ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل ہیلتھ کے ماہرین، تعلیمی اداروں سے وابستہ افراد ، ترقیاتی شراکت داروں اور دیگر متعلقہ فریقوں نے شرکت کی۔ اس دوران بھارت کے صحت سے متعلق مالی تحفظ اور ڈیجیٹل صحت کے نظام میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور اس کے اگلے مرحلے کی ترجیحات پر غور و خوض کیا گیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر برائے صحت و خاندانی بہبود اور کیمیکلز و فرٹیلائزرز، جناب جے۔ پی۔ نڈا نےاے بی پی ایم- جے اے وائی کے آٹھ سال اوراے بی ڈی ایم کے پانچ سال مکمل ہونے پر تمام متعلقہ فریقوں کو مبارکباد پیش کی۔انہوں نے کہا کہ یہ سنگِ میل اب تک حاصل ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لینے اور معاشرے کے غریب اور پسماندہ طبقات کی فلاح و بہبود کے لیے اپنے عزم کو مزید مضبوط کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ یہ عزم معزز وزیر اعظم نریندر مودی کے وژن ’’سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس، سب کا پریاس‘‘ کے مطابق ہے۔

جناب نڈا نے اپنی تقریر میں آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا(اے بی پی ایم-جے اے وائی) کی شروعات کے بعد اس کی نمایاں توسیع کو اجاگر کیا اور کہا کہ یہ اسکیم دنیا کا سب سے بڑا ہیلتھ اشورنس پروگرام بن چکی ہے۔ اس کے تحت 60 کروڑ سے زائد مستفیدین کو شامل کیا گیا ہے اور 13 کروڑ سے زیادہ اسپتال میں داخلوں کی سہولت فراہم کی گئی ہے، جن کے علاج پر 2 لاکھ کروڑ روپے سے زائد خرچ ہوئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت نے بعد ازاں اس اسکیم کو مزید وسعت دیتے ہوئے 70 سال اور اس سے زیادہ عمر کے تمام بزرگ شہریوں کو، ان کی سماجی و اقتصادی حیثیت سے قطع نظر، اس کے دائرۂ کار میں شامل کر لیا ہے۔ انہوں نے اسکیم کے تحت علاج کی سہولت کو ملک بھر میں قابلِ استعمال بنانے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے پروگرام کو آگے بڑھانے میں ریاستی حکومتوں، صحت کی خدمات فراہم کرنے والے اداروں اور دیگر متعلقہ فریقوں کے تعاون کو سراہا۔

مرکزی وزیر نے کہا کہ اے بی پی ایم-جے اے وائی اور آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن(اے بی ڈی ایم) کا سفر صحت کے شعبے میں ٹیکنالوجی کے تبدیلی لانے والے کردار کو ظاہر کرتا ہے۔ ڈیجیٹل نظام کے ذریعے مختلف مقامات پر مریضوں کی تصدیق، علاج کی منظوری اور طبی خدمات تک رسائی کو ممکن بنایا جا رہا ہے۔

 اے بی ڈی ایم کے تحت ہونے والی پیش رفت کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ 97.8 کروڑ سے زیادہ آیوشمان بھارت ہیلتھ اکاؤنٹس (اے بی ایچ اے) بنائے جا چکے ہیں، جبکہ 121 کروڑ سے زیادہ ہیلتھ ریکارڈز ان اکاؤنٹس سے منسلک کئے جا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ  اے بی ڈی ایم کے ڈیجیٹل نظام میں 5.6 لاکھ سے زیادہ صحت کی سہولیات اور تقریباً 11 لاکھ طبی ماہرین و صحت کارکنان رجسٹرڈ ہیں۔ انہوں نے نیشنل ہیلتھ کلیمز ایکسچینج کی ترقی کا بھی ذکر کیا، جس کا مقصد اسپتالوں اور انشورنس کمپنیوں کو ایک مشترکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر لانا ہے۔

آروگیہ منتھن 2026 کے موقع پر شروع کیے گئے اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے جناب نڈا نے کہا کہ یہ اقدامات ڈیجیٹل صحت کے نظام کو مزید مضبوط کریں گے، صحت سے متعلق ڈیٹا کے محفوظ استعمال کو فروغ دیں گے اور صحت کے شعبے میں تحقیق، اختراع اور ڈیٹا پر مبنی فیصلہ سازی کے لیے نئے مواقع پیدا کریں گے۔

انہوں نے نیشنل ہیلتھ اتھارٹی (این ایچ اے) کی کاوشوں کو سراہا اور ریاستی حکومتوں، صحت کے ماہرین، فہرست میں شامل اسپتالوں، آیوشمان متروں، آشا اور آنگن واڑی کارکنوں، ٹیکنالوجی شراکت داروں اور دیگر متعلقہ فریقوں کے کردار کا اعتراف کیا۔

جناب نڈا نے زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ سفر جاری رہنا چاہیے اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے مسلسل کوششیں کی جانی چاہئیں تاکہ صحت کی خدمات کو مزید قابلِ رسائی، مؤثر اور مریض مرکوز بنایا جا سکے۔ انہوں نے اعتماد کا اظہار کیا کہ آروگیہ منتھن 2026 میں ہونے والی گفتگو اور غور و خوض سے قابلِ عمل نتائج سامنے آئیں گے، جو بھارت کے صحت کے نظام کو مزید مضبوط بنانے اور انسانیت کی خدمت میں مزید معاون ثابت ہوں گے۔ڈاکٹر ایم۔ سرینواس، رکن (صحت)، نیتی آیوگ نے اس موقع پر نیشنل ہیلتھ اتھارٹی(این ایچ اے) کو مبارکباد پیش کی۔اے بی پی ایم-جے اے وائی کے ذریعے آنے والی تبدیلی کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس اسکیم نے خاص طور پر معاشی طور پر کمزور طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو زیادہ اعتماد کے ساتھ صحت کی خدمات حاصل کرنے اور علاج کے مالی بوجھ کو کم کرنے میں مدد دی ہے۔انہوں نے زور دیا کہ اسکیم کے اگلے مرحلے میں مسلسل اور مربوط طبی نگہداشت، معیاری صحت خدمات اور مریض مرکوز علاج کو مضبوط بنانے پر توجہ دی جانی چاہیے۔ اس کے ساتھ ایسے مریضوں کے لیے، جنہیں خصوصی علاج کی ضرورت ہو، بغیر کسی رکاوٹ کے ریفرل کے مؤثر نظام کو بھی یقینی بنایا جانا چاہیے۔

ڈاکٹر سرینواس نے آیوشمان بھارت ہیلتھ اکاؤنٹ (اے بی ایچ اے) کو وسیع پیمانے پر اپنانے اور اس کے مکمل نفاذ کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے شہریوں کی رضامندی اور مناسب حفاظتی اقدامات کے ساتھ ڈیجیٹل ہیلتھ ریکارڈز کے درمیان باہمی مطابقت کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔انہوں نے کہا کہ اعلیٰ معیار، معیاری اور باہم مربوط صحت سے متعلق ڈیٹا، صحت کے شعبے میں تحقیق کو آگے بڑھانے اور مصنوعی ذہانت  کے ذمہ دارانہ استعمال کے لیے نہایت اہم ہوگا۔ انہوں نے نیشنل ہیلتھ کلیمز ایکسچینج (این ایچ سی ایکس) کو مزید مضبوط بنانے، کلیمز اور پیشگی کے عمل کو آسان بنانے اور ہیلتھ اشورنس و ڈیجیٹل ہیلتھ سے متعلق اقدامات کے بارے میں عوامی آگاہی کو وسیع کرنے پر بھی زور دیا۔

آئی آر ڈی اے آئی کے چیئرمین جناب اجے سیٹھ نے آیوشمان بھارت پی ایم – جے اے وائی کی کامیابی کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اس اسکیم سے حاصل ہونے والا تجربہ ملک کے ہیلتھ انشورنس نظام کو مزید مضبوط بنانے کا ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صحت کی خدمات میں معیار، قابلِ استطاعت قیمت اور رسائی کو یقینی بناتے ہوئے شہریوں، اسپتالوں، انشورنس کمپنیوں اور ٹیکنالوجی فراہم کرنے والوں سمیت تمام متعلقہ فریقوں کے لیے قدر پیدا کی جانی چاہیے۔صحت بیمہ کے شعبے میں معیاری کاری اور شفافیت کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے جناب سیٹھ نے اہم ڈیجیٹل اور عملی نظاموں کو وسیع پیمانے پر اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان میں ہیلتھ انشورنس کے لیے شناخت کے طور پر اے بی ایچ اے، علاج کے طریقۂ کار کی کوڈنگ، معیاری بلنگ فارمیٹس، اور معیاری علاج کے پروٹوکول اور رہنما اصول شامل ہیں۔

انہوں نے بھارت کے ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر اور نیشنل ہیلتھ کلیمز ایکسچینج (این ایچ سی ایکس) کے کردار کو بھی اجاگر کیا، جو مختلف نظام کے درمیان بہتر باہمی مطابقت پیدا کرنے اور زیادہ مربوط ہیلتھ انشورنس نظام تشکیل دینے میں مدد دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا: ’’ہمارے لیے یہ ممکن ہے کہ زیادہ سے زیادہ آبادی کو مؤثر صحت کی خدمات فراہم کریں، جو قابلِ استطاعت بھی ہوں اور اچھے معیار کی بھی۔‘‘

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر راجیو بہل، ڈائریکٹر جنرل، انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ(آئی سی ایم آر) اور سیکریٹری، محکمہ صحت تحقیق (ڈی ایچ آر)نے آیوشمان بھارت  پی ایم-جے اے وائی کے آٹھ سال اور  اے بی ڈی ایم کے پانچ سال مکمل ہونے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ آیوشمان بھارت  پی ایم-جے اے وائی دنیا کی سب سے بڑی ہیلتھ اشورنس اسکیم کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے، جس کے تحت 60 کروڑ سے زیادہ شہریوں کو کوریج اور فائدہ فراہم کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ آئندہ توجہ صحت کی خدمات کے معیار کو مزید بہتر بنانے اور کوریج کو وسعت دینے پر مرکوز ہوگی، تاکہ شہریوں کو مزید فوائد حاصل ہو سکیں۔ ڈی ایچ آر،آئی سی ایم آر اور این ایچ اے کے درمیان تعاون کو اجاگر کرتے ہوئے ڈاکٹر بہل نے کام کے دو اہم شعبوں کی وضاحت کی۔

علاج کے طریقۂ کار کو معیاری بنانے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ معیاری ایلگوریدمز پر مبنی علاج، طبی نگہداشت میں زیادہ یکسانیت اور معیار کو یقینی بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آئی سی ایم آر نے 150 سے زیادہ معیاری علاج کے ورک فلو اور رہنما اصول تیار کیے ہیں۔انہوں نے صحت کی خدمات میں لاگت اور افادیت  کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے بتایا کہ محکمہ صحت تحقیق(ڈی ایچ آر) کے تحت ہیلتھ ٹیکنالوجی اسیسمنٹ اِن انڈیا  صحت سے متعلق ٹیکنالوجیز اور طبی مداخلتوں کی لاگت اور افادیت کا جائزہ لیتا ہے۔

جناب سنیل کمار برنوال، چیف ایگزیکٹو آفیسر(سی ای او) ، نیشنل ہیلتھ اتھارٹی(این ایچ اے) نے آیوشمان بھارت پی ایم- جے اے وائی کے آٹھ سال اور آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن (اے بی ڈی ایم) کے پانچ سال مکمل ہونے کے دو اہم سنگِ میل حاصل کرنے پر تمام متعلقہ فریقوں کو مبارکباد پیش کی۔انہوں نے دونوں پروگراموں کے وسیع دائرۂ کار اور رسائی کو اجاگر کرتے ہوئے بتایا کہ ملک بھر میں 49 کروڑ سے زیادہ آیوشمان کارڈز اور تقریباً 98 کروڑ اے بی ایچ اے آئی ڈی جاری کیے جا چکے ہیں۔آئندہ کے اقدامات کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ آیوشمان بھارت  پی ایم – جے اے وائی کے تحت 13 کروڑ سے زیادہ مریضوں کے ریکارڈز تیار کیے گئے ہیں، جو تحقیق، ترقی اور صحت سے متعلق ڈیٹا کے تجزیے کے لیے ایک قیمتی ذخیرہ بناتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سکیور ڈیٹا انوائرنمنٹ ایسے ڈیٹا کے ذمہ دارانہ استعمال کو ممکن بنائے گا، جبکہ مریضوں کی شناخت اور نجی معلومات کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔انہوں نے آٹو ایڈجوڈیکیشن فریم ورک کے آغاز کو بھی اجاگر کیا، جس کا مقصد ٹیکنالوجی اور ڈیٹا پر مبنی طریقۂ کار کے ذریعےاے بی –جے اے وائی کے تحت کلیمز کی جانچ اور فیصلہ سازی کے عمل کو مزید منظم، تیز اور مضبوط بنانا ہے۔

آروگیہ منتھن 2026 کی ایک اہم خصوصیت بھارت کے ہیلتھ اشورنس نظام کی ڈیجیٹل بنیادوں کو مزید مضبوط بنانے کے مقصد سے متعدد اقدامات کا آغاز تھا۔ ان اقدامات میں نیشنل ہیلتھ کیئر پرووائیڈرز رجسٹری (این ایچ پی آر) موبائل ایپ، ادائیگی کرنے والے اداروں  کے لیے  این ایچ سی ایکس امپلیمنٹیشن گائیڈ، ماڈل ڈیجیٹل ہیلتھ فیسلٹی کے لیے گائیڈ بک، سیکیور ڈیٹا انوائرنمنٹ  ایپلی کیشن اوراے بی پی ایم-جے اے وائی کے تحت کلیمز کی آٹو ایڈجوڈیکیشن کے لیے فریم ورک شامل ہیں۔سیکیور ڈیٹا انوائرنمنٹ(ایس ڈی ای) کو نیشنل ہیلتھ اتھارٹی( این ایچ اے) نے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس ، بنگلورو کے تعاون سے تیار کیا ہے۔ اسے ایک ایسے منظم اور باقاعدہ نظام کے طور پر تصور کیا گیا ہے جہاں اے بی پی ایم-جے اے وائی اور  اے بی ڈی ایم سے متعلق صحت کے ڈیٹا تک رسائی اور اس کا تجزیہ کیا جا سکے۔

منظور شدہ ادارے مریضوں کی شناخت سے پاک ڈیٹا کے ساتھ کام کر سکیں گے یا این ایچ اے کے محفوظ اور الگ تھلگ ماحول میں اپنا کوڈ چلا سکیں گے۔ کسی بھی نتائج کو جاری کرنے سے قبل ان کا جائزہ لیا جائے گا۔اس اقدام کا مقصد صحت کے شعبے میں تحقیق، پروگرام کی منصوبہ بندی، نتائج کے تجزیے اور مصنوعی ذہانت میں ذمہ دارانہ جدت کو فروغ دینا ہے، جبکہ ذاتی معلومات کے تحفظ کے لیے مناسب حفاظتی اقدامات بھی شامل کیے گئے ہیں۔

آروگیہ منتھن 2026 میں ہونے والی گفتگو اور غور و خوض کا مرکز صحت کی خدمات کی کارکردگی، معیار اور باہمی مطابقت  کو مزید مضبوط بنانا تھا۔

’’ہیلتھ انشورنس کو مؤثر اور آسان بنانے کے لیے این ایچ سی ایکس‘‘ کے عنوان سے ہونے والے اجلاس میں نیشنل ہیلتھ کلیمز ایکسچینج  کے کردار کا جائزہ لیا گیا۔ اس میں اس بات پر غور کیا گیا کہ  این ایچ سی ایکس کس طرح صحت بیمہ سے متعلق آسان، معیاری اور ٹیکنالوجی پر مبنی عمل کو ممکن بنا سکتا ہے۔اجلاس میں اس بات پر بھی گفتگو ہوئی کہ باہم مربوط ڈیجیٹل کلیمز انفراسٹرکچر صحت بیمہ کے عمل کی کارکردگی بہتر بنانے، صحت بیمہ کے پورے نظام میں باہمی تعاون کو مضبوط کرنے اور صحت کی مالی معاونت کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے میں کس طرح مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

اس کے بعد اے بی پی ایم-جے اے وائی اور اے بی ڈی ایم کے تحت متوازی اجلاس منعقد ہوئے، جن میں پروگرام کے نفاذ، صحت کی خدمات کی فراہمی اور ڈیجیٹل تبدیلی کے اہم پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔

اے بی پی ایم-جے اے وائی ٹریک کے تحت ’’کلیمزپراسیسنگ سے انٹیلی جنٹ اشورنس تک: اے بی پی ایم-جے اے وائی میں تبدیلی‘‘ کے عنوان سے ہونے والے اجلاس میں کلیمز کی کارروائی اور پروگرام کی شفافیت و سالمیت کو مضبوط بنانے کے لیے ٹیکنالوجی، ڈیٹا اور تجزیاتی نظام کے استعمال کا جائزہ لیا گیا۔’’معیار اور لاگت کی مؤثریت کے نقطۂ نظر سے اسٹریٹجک پرچیزنگ‘‘ کے اجلاس میں ایسے طریقۂ کار پر گفتگو کی گئی جن کے ذریعے وسائل کے مؤثر استعمال کو فروغ دیتے ہوئے صحت کی خدمات کے معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔

اے بی ڈی ایم ٹریک کے تحت ’’صحت کی خدمات تک رسائی بہتر بنانے کے لیے یو ایچ آئی‘‘ کے موضوع پر گفتگو ہوئی، جس میں صحت کے پورے نظام میں رسائی اور شمولیت کو بڑھانے میں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے کردار پر توجہ دی گئی۔

اسی ٹریک کے تحت ’’بہتر صحت خدمات کی فراہمی کے لیے معیارات سے استفادہ‘‘ کے موضوع پر بھی اجلاس ہوا، جس میں صحت سے متعلق معلومات کے بلارکاوٹ تبادلے اور طبی خدمات کے تسلسل اور معیار کو بہتر بنانے کے لیے مشترکہ ہیلتھ ڈیٹا اسٹینڈرڈز کی اہمیت کا جائزہ لیا گیا۔تقریب کے دوران اے بی پی ایم-جے اے وائی اوراے بی ڈی ایم کے تحت مختلف زمروں میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کو بھی اعزاز سے نوازا گیا۔اے بی پی ایم-جے اے وائی کے تحت بڑی ریاست، چھوٹی ریاست اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقے کے زمروں میں بالترتیب آندھرا پردیش، سکم اور جموں و کشمیر کو آشا کارکنان، آنگن واڑی ورکرز(اے ڈبلیو ڈبلیو) اور آنگن واڑی ہیلپرز (اے ڈبلیو ایچ) کے مستفیدین میں آیوشمان کارڈز کی سب سے زیادہ شرحِ تکمیل  کے اعتراف میں منتخب کیا گیا۔بین الریاستی پورٹیبلٹی کے تحت کلیمز کے تصفیے میں چھتیس گڑھ، مہاراشٹر اور گجرات کو بہترین کارکردگی دکھانے والی ریاستوں کے طور پر تسلیم کیا گیا۔

 اے بی ڈی ایم کے تحت بہار، لداخ اور دادرا و نگر حویلی کو اضلاع کی آبادی کے مختلف زمروں کی بنیاد پر منتخب ماڈل اضلاع میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی ریاستوں/مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے طور پر تسلیم کیا گیا۔اسی طرح چنڈی گڑھ، آسام اور اتر پردیش کو بالترتیب چھوٹی ریاست/مرکز کے زیرِ انتظام علاقہ، میڈیم اسٹیٹ/مرکز کے زیرِ انتظام علاقہ اور بڑی ریاست کے زمروں میں اے بی ڈی ایم سے مربوط ہیلتھ مینجمنٹ انفارمیشن سسٹمز (ایچ ایم آئی ایس) استعمال کرنے والے ذیلی مراکز کی سب سے زیادہ تعداد کے حوالے سے اعزاز دیا گیا۔

*****

) ش ح ۔ک ا۔ش ب ن )

U.No. 4090


(ریلیز آئی ڈی: 2314994) وزیٹر کاؤنٹر : 9