نائب صدر جمہوریہ ہند کا سکریٹریٹ
azadi ka amrit mahotsav

نائب صدر جمہوریہ نےسکیورٹی  اورترقیات سے متعلق ابھرتے ہوئے چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے گلوبل ساؤتھ کے ممالک کے درمیان زیادہ مضبوط اسٹریٹجک تعاون پر زور دیا


نائب صدر جمہوریہ نے بدعنوانی کے خاتمے کیلئے عالمی سطح پرمشترکہ اور مربوط اقدامات کی ضرورت اجاگر کی

سائنسی اور تکنیکی ترقی کا مقصد پوری انسانیت کی اجتماعی بھلائی ہونا چاہیے: نائب صدرجمہوریہ

نائب صدر جمہوریہ نے آئی این -ایس ٹی ای پی   کےمندوبین   سےکہا کہ عالمی سطح پر سوچیں، حکمت عملی کےساتھ آگے بڑھیں اور باہمی ہم آہنگی کے ساتھ کام کریں

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 25 SEP 2026 2:07PM by PIB Delhi

نائب صدر جمہوریہ جناب سی پی رادھا کرشنن نے آج تیزی سے بدلتے عالمی سلامتی اور ترقیاتی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے مسلسل بین الاقوامی مذاکرات، باہمی تجربات سے سیکھنے اور تزویراتی تعاون پر زور دیا۔

یو پی- راشٹرپتی بھون میں انٹرنیشنل اسٹریٹجک اینگیجمنٹ پروگرام (آئی این-ایس ٹی ای پی) کے چوتھے ایڈیشن کے مندوبین سے خطاب کرتے ہوئے ، نائب صدر نے 38 بین الاقوامی مندوبین اورہندوستانی شرکاء کا خیرمقدم کیا ، خاص طور پر دوست  اور ہم خیال ممالک کے سینئر پیشہ ور افراد اور رہنماؤں کی شرکت پر روشنی ڈالی ، جن میں گلوبل ساؤتھ کے لوگ بھی شامل ہیں ۔

جناب سی پی رادھا کرشنن نے کہا کہ آئی این- ایس ٹی ای پی ہندوستان کی جی20 صدارت کے دوران پیش کیے گئے اس مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ بامعنی مذاکرات، باہمی تجربات سے سیکھنے اور تزویراتی روابط کے لیے ایک مستقل پلیٹ فارم قائم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ آج کی باہم مربوط دنیا کی نوعیت کے باعث ممالک کے لیے ابھرتے ہوئے چیلنجوں سے تنہا نمٹنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

نائب صدر نے کہا کہ تزویراتی ماحول تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے اور روایتی سلامتی کے خدشات ٹیکنالوجی، سائبر اسپیس، مصنوعی ذہانت، توانائی کی سلامتی، اقتصادی لچک، بحری سلامتی، موسمیاتی تبدیلی اور سپلائی چینز سے متعلق چیلنجوں کے ساتھ تیزی سے جڑ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آئی این-ایس ٹی ای پی وسیع تر تزویراتی نقطہ نظر پیدا کرنے، عالمی پیش رفت کے طویل مدتی اثرات کا اندازہ لگانے اور مناسب ردعمل وضع کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

جناب سی پی رادھا کرشنن نے کہا، ’’عالمی سطح پر سوچیں، تزویراتی طور پر مصروف عمل ہوں اور باہمی اتحاد کے ساتھ اقدام کریں۔‘‘ انہوں نے ان تین اصولوں کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ اصول اس اقدام کے بنیادی فلسفے کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ مشترکہ چیلنجوں سے اکثر تعاون، تال میل اور اجتماعی کوششوں کے ذریعے زیادہ موثر انداز میں نمٹا جا سکتا ہے۔

نائب صدر نے بین الاقوامی مباحث کو تشکیل دینے میں گلوبل ساؤتھ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس کے متنوع تجربات اور ترقیاتی ترجیحات لچک، ترقی، سلامتی، حکمرانی اور تعاون کے شعبوں میں قیمتی سبق فراہم کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گلوبل ساؤتھ کے ساتھ ہندوستان کے روابط باہمی احترام، مشترکہ مفادات، خودمختار مساوات اور ہر ملک کی ترقیاتی و تزویراتی ترجیحات کی قدر و اہمیت کو تسلیم کرنے کے اصولوں سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔

نائب صدر نے کہا کہ بدعنوانی گلوبل ساؤتھ کے ممالک کو درپیش بڑے چیلنجوں میں سے ایک ہے اور اسے ختم کرنے کے لیے مربوط کوششوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے شرکا پر زور دیا کہ وہ ہر سطح پر بدعنوانی سے پاک نظام کے قیام کے لیے کام کریں اور عوامی زندگی میں دیانت داری اور شفافیت کی اہمیت پر زور دیا۔

کووڈ-19 وبا کے دوران ویکسین میتری اقدام کے ذریعے گلوبل ساؤتھ کے ممالک کو ہندوستان کی فراخدلانہ امداد کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تکنیکی ترقی اور سائنسی ایجادات سے پوری انسانیت کو فائدہ پہنچنا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ اجتماعی انسانی فلاح کے لیے اس طرح کے علم اور اختراعات کو باہم بانٹا جانا چاہیے، جو بھارت کے ’وسودھیو کٹمبکم‘ یعنی ’ایک کرہ ارض، ایک کنبہ، ایک مستقبل‘ کے تصور کی عکاسی کرتا ہے۔

انہوں نے نیشنل سکیورٹی کونسل سکریٹریٹ، وزارت خارجہ اور وزارت دفاع کو ممتاز شرکا کے اس گروپ کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کے لیے سراہا اور اعتماد ظاہر کیا کہ ان کے باہمی روابط سے شریک ممالک کے درمیان پیشہ ورانہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے اور تزویراتی امور کی بہتر تفہیم فروغ پائے گی۔

بین الاقوامی تزویراتی مشغولیت پروگرام (آئی این-ایس ٹی ای پی) کے چوتھے ایڈیشن میں 38 مندوبین شامل ہیں، جن میں 22 ممالک کے 25 بین الاقوامی مندوبین شامل ہیں۔ ان ممالک میں سری لنکا، سیشلز، منگولیا، نیپال، ماریشس، مالدیپ، عمان، گیانا، چلی، ارجنٹینا، فلپائن، تھائی لینڈ، آرمینیا، کرغزستان، قطر، میانمار، ازبکستان اور برازیل شامل ہیں۔

آئی این-ایس ٹی ای پی دو ہفتے پر مشتمل پروگرام ہے، جس کا مشترکہ طور پر انعقاد وزارت خارجہ، وزارت دفاع اور نیشنل سکیورٹی کونسل سیکریٹریٹ نے نیشنل ڈیفنس کالج کے اشتراک سے کیا ہے۔ یہ پروگرام سینئر پیشہ ور افراد کو تزویراتی، سلامتی اور ترقیاتی امور پر اپنے نقطہ ہائے نظر کے تبادلے اور ادارہ جاتی و پیشہ ورانہ روابط کو مضبوط بنانے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔ اس کے سابقہ ایڈیشن مارچ 2024، اکتوبر 2024 اور اکتوبر-نومبر 2025 میں منعقد ہوئے تھے۔

***

ش ح۔ ک ا۔ ش ب ن

U.NO.4081


(ریلیز آئی ڈی: 2314879) وزیٹر کاؤنٹر : 7