صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
مرکزی وزیرِ صحت جناب جےپی نڈا کل وگیان بھون میں ’’آروگیہ منتھن 2026‘‘ کا افتتاح کریں گے
آروگیہ منتھن 2026 کا انعقاد آیوشمان بھارت پی ایم جےاےوائی کے آٹھ سال اور آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن کے پانچ سال مکمل ہونے کے موقع پر ہورہا ہے
آروگیہ منتھن 2026 کے دوران صحت کے شعبے میں نئی ڈیجیٹل اور ہیلتھ اشورنس کی پہل کا آغاز کیا جائے گا۔ ان میں صحت سے متعلق ڈیٹا کے ذمہ دارانہ استعمال کے واسطے سکیور ڈیٹا انوائرمنٹ(ایس ڈی ای)کی پہل بھی شامل ہے
آیوشمان بھارت پی ایم جے اےوائی (اے بی پی ایم-جے اے وائی) کے تحت 60 کروڑ سے زائد افراد کو صحت کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ اس اسکیم کے تحت اب تک اسپتالوں میں 13 کروڑ سے زیادہ بھرتی کی سہولت دی جا چکی ہے، جن کی مجموعی لاگت 2 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ ہے
اس اسکیم کے دائرے کو 70 سال یا اس سے زیادہ عمر کے تمام شہریوں تک وسعت دینے سے تقریباً 6 کروڑ مزید بزرگ شہریوں کو صحت کی ضمانت کے دائرے میں لایا گیا ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
24 SEP 2026 4:29PM by PIB Delhi
آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن (اے بی ڈی ایم ) کے دائرےمیں بھی تیزی سے توسیع ہوئی ہے۔ اب تک 97.8 کروڑ آیوشمان بھارت ہیلتھ اکاؤنٹس (اے بی ایچ اے) بنائے جا چکے ہیں، جبکہ 121 کروڑ صحت کے ریکارڈ ان سے منسلک کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ 11 لاکھ صحت کے شعبے سے وابستہ ماہرین اور پیشہ ور افراد بھی اس نظام کا حصہ بن چکے ہیں
صحت و خاندانی بہبود اور کیمیکل و فرٹیلائزر کے مرکزی وزیر جناب جگت پرکاش نڈا کل نئی دہلی کے وگیان بھون میں نیشنل ہیلتھ اتھارٹی (این ایچ اے) کی جانب سے منعقد کیے جانے والے آروگیہ منتھن 2026 میں آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا(اے بی پی ایم –جے اے وائی) کے آٹھ سال اور آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن(اے بی ڈی ایم ) کے پانچ سال مکمل ہونے کی مناسبت سے منعقدہ تقریب میں شرکت کریں گے۔
پروگرام میں صحت کی ضمانت اور ڈیجیٹل صحت سے متعلق اہم موضوعات پر مختلف سیشن اور مباحثے ہوں گے۔
مشترکہ اجلاس میں ’’ہیلتھ انشورنس کو آسان بنانے کے واسطے این ایچ سی ایکس کے موضوع پر غور و خوض کیا جائے گا۔ اس میں نیشنل ہیلتھ کلیمز ایکسچینج کے کردار پر تبادلۂ خیال ہوگا، جو صحت بیمہ کے عمل کو معیاری، آسان اور ٹیکنالوجی پر مبنی بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
اس کے بعداے بی پی ایم –جے اے وائی اوراے بی ڈی ایم کے تحت متوازی اجلاس ہوں گے، جن میں درج ذیل موضوعات پر گفتگو کی جائے گی: ’ کلیم پراسیسنگ سے انٹلیجینٹ ہیلتھ اشورنس : اے بی پی ایم-جے اے وائی کا کایا پلٹ؛ اس اجلاس میں کلیمز کی کارروائی کو مزید مؤثر بنانے اور اسکیم کی شفافیت و سالمیت کومضبوط کرنے کے لیے ٹیکنالوجی، ڈیٹا اور تجزیاتی نظام کے استعمال پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔’ معیار اور لاگت کے لحاظ سے کفایتی نقطۂ نظر سے اسٹریٹجک خریداری؛ اس میں صحت کی خدمات کے معیار کو بہتر بنانے اور دستیاب وسائل کے مؤثر استعمال کو یقینی بنانے کے طریقوں پر غور کیا جائے گا۔ ’ صحت کی خدمات تک رسائی بہتر بنانے کے لیےیو ایچ آئی ؛ اس اجلاس میں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے صحت کے پورے نظام میں طبی خدمات تک رسائی اور عوام سمیت تمام متعلقہ فریقوں کی شمولیت بڑھانے پر توجہ دی جائے گی۔ ’بہتر صحت خدمات کی فراہمی کے لیے معیارات سے استفادہ ؛
اس میں مشترکہ ہیلتھ ڈیٹا کےمعیارات کے کردار پر غور کیا جائے گا، تاکہ معلومات کا بلا رکاوٹ تبادلہ ممکن ہو اور صحت کی خدمات کے تسلسل، کارکردگی اور معیار کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔

آروگیہ منتھن 2026 میں ہندوستان کے ڈیجیٹل ہیلتھ اور ہیلتھ اشورنس کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کے مقصد سے متعدد نئے اقدامات بھی شروع کیے جائیں گے۔ ان میں نیشنل ہیلتھ کیئر پرووائیڈر رجسٹری (این ایچ پی آر) موبائل ایپ، ادائیگی کرنے والے اداروں کے لیے این ایچ سی ایکس امپلی مینٹیشن گائیڈ، ماڈل ڈیجیٹل ہیلتھ فیسلٹی کے لیے گائیڈ بک، سکیور ڈیٹا انوائرمنٹ (ایس ڈی ای) ایپلی کیشن اور اے بی پی ایم-جے اے وائی کے تحت کلیمز کی خودکار جانچ و منظوری کے لیے فریم ورک شامل ہیں۔
سکیور ڈیٹا انوائرمنٹ (ایس ڈی ای) کو نیشنل ہیلتھ اتھارٹی (این ایچ اے) نے بنگلورو کے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس (آئی آئی ایس سی) کے تعاون سے تیار کیا ہے۔ اس کا مقصد اے بی پی ایم-جے اے وائی اور اے بی ڈی ایم کے صحت سے متعلق ڈیٹا تک رسائی اور اس کے تجزیے کے لیے منظم اور محفوظ ماحول فراہم کرنا ہے۔ منظور شدہ ادارے اس نظام میں شناخت ظاہر نہ کرنے والےڈیٹا پر کام کر سکیں گے یا این ایچ اے کے محفوظ اور مخصوص ماحول میں اپنا کوڈ چلا سکیں گے۔ تاہم، کسی بھی نتیجے کو جاری کرنے سے پہلے اس کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد صحت سے متعلق تحقیق، پروگرام کی منصوبہ بندی، نتائج کے تجزیے اور ذمہ دارانہ مصنوعی ذہانت کی جدت کو فروغ دینا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ذاتی معلومات اور ڈیٹا کے تحفظ کے لیے ضروری حفاظتی اقدامات بھی شامل کیے گئے ہیں۔
تقریب کے دوران اے بی پی ایم-جے اے وائی اور اے بی ڈی ایم کے تحت مختلف زمروں میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو اعزاز بھی دیا جائے گا۔ اس کے ذریعے صحت کی ضمانت اور ڈیجیٹل صحت کے نظام کو مؤثر انداز میں نافذ کرنے کے لیے ان کی کوششوں کی ستائش ہوگی۔
اے بی پی ایم-جے اے وائی اور اے بی ڈی ایم کے بارے میں
سال 2018 میں شروع ہونے والی آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا (اے بی پی ایم-جے اے وائی) کمزور اور ضرورت مند خاندانوں کو اسپتال میں بھرتی کے اخراجات سے مالی تحفظ فراہم کرنے کی حکومت کی کوششوں کا ایک اہم ستون بن چکی ہے۔
اس اسکیم کے تحت ثانوی اوراس سے اعلیٰ درجے کے علاج کے لیے فی خاندان ہر سال 5 لاکھ روپے تک کی صحت سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ گزشتہ برسوں کے دوران اس اسکیم کا دائرہ ملک بھر میں وسیع ہوا ہے اور اب تک 60 کروڑ سے زائد افراد اس کے تحت شامل کیے جا چکے ہیں۔ اس اسکیم کے ذریعے اسپتال میں 13 کروڑ سے زیادہ بھرتی کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے، جن کے ذریعہ 2 لاکھ کروڑ روپے سے زائد مالیت کا علاج ہوا ہے۔
اکتوبر 2024 میں اے بی پی ایم-جے اے وائی میں ایک اہم توسیع کی گئی، جب اس اسکیم کو 70 سال اور اس سے زیادہ عمر کے تمام بزرگ شہریوں تک پہنچا دیا گیا، خواہ ان کی سماجی یا معاشی حالت کچھ بھی ہو۔ اس توسیع کے نتیجے میں تقریباً 6 کروڑ مزید بزرگ شہری ہیلتھ اشورنس اسکیم کے دائرے میں شامل ہوئے ہیں۔
آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن (اے بی ڈی ایم)
اے بی پی ایم-جے اے وائی کے ذریعے فراہم کیے جانے والے مالی تحفظ کے ساتھ آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن (اے بی ڈی ایم) بھی صحت کے شعبے کو ڈیجیٹل بنیادوں پر مضبوط بنا رہا ہے۔ ستمبر 2021 میں شروع کیا گیا یہ مشن ایک ایسے منسلک، باہم مربوط اور شہری مرکز صحت نظام کے لیے ڈیجیٹل ڈھانچہ تیار کر رہا ہے، جس میں صحت کی خدمات تک رسائی اور معلومات کا تبادلہ آسان ہو۔
اس مشن کے تحت آیوشمان بھارت ہیلتھ اکاؤنٹ (اے بی ایچ اے) ، ہیلتھ کیئر پروفیشنل رجسٹری (ایچ پی آر) اور ہیلتھ فیسلٹی رجسٹری (ایچ ایف آر) جیسے اہم ڈیجیٹل نظام قائم کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ صحت کی خدمات تک آسان رسائی اور صحت سے متعلق معلومات کے بلا رکاوٹ تبادلے کے لیے مختلف ڈیجیٹل سہولیات بھی فراہم کی گئی ہیں۔
یکم ستمبر 2026 تک 97.8 کروڑ سے زیادہ اے بی ایچ اے اکاؤنٹ بنائے جا چکے ہیں اور 121 کروڑ سے زائد صحت کے ریکارڈ ان سے منسلک کیے گئے ہیں۔ اے بی ڈی ایم کے ڈیجیٹل نظام میں 5.6 لاکھ سے زیادہ صحت مراکز اور 11 لاکھ صحت کے شعبے سے وابستہ پیشہ ور افراد بھی رجسٹرڈ ہیں۔
مشن کے تحت ڈیجیٹل ہیلتھ کے معیارات تیار کرنے اور صحت کے شعبے میں ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔
اسٹریٹیجی فار آرٹیفیشل انٹیلی جنس اِن ہیلتھ کیئر فار انڈیا (ایس اے ایچ آئی) ، بینچ مارکنگ اوپن ڈیٹا پلیٹ فارم اِن ہیلتھ (بی او ڈی ایچ)، کامن لیب کوڈز فار انڈیا اور بھارت ہیلتھ ٹرمینالوجی سروس (بی ایچ ٹی ایس) جیسے اقدامات معیاری اور باہم مربوط ڈیجیٹل ہیلتھ نظام کی تشکیل میں معاون ثابت ہو رہے ہیں۔ شہریوں کو مرکز میں رکھتے ہوئے اسکین اینڈ رجسٹر، اسکین اینڈ پے اور ای-سشروت کلینک جیسے اقدامات بھی ڈیجیٹل صحت کی خدمات کے استعمال کو فروغ دے رہے ہیں۔
آروگیہ منتھن 2026 میں مرکزی و ریاستی حکومتوں کے سینئر افسران، صحت کی خدمات فراہم کرنے والے ادارے، انشورنس کمپنیاں، ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل ہیلتھ کے ماہرین، تعلیمی ادارے، ترقیاتی شراکت دار اور دیگر متعلقہ فریق شرکت کریں گے۔
اجلاس میں ہندوستان کے ہیلتھ اشورنس اور ڈیجیٹل ہیلتھ پروگراموں میں اب تک ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا اور اگلے مرحلے کی ترجیحات پر غور کیا جائے گا۔
اے بی پی ایم-جے اے وائی کے آٹھ سال اور اے بی ڈی ایم کے پانچ سال مکمل ہونے کے موقع پر آروگیہ منتھن 2026 بھارت کے صحت کے شعبے میں جاری انقلابی تبدیلیوں کا جائزہ لینے اور مستقبل کی ترجیحات طے کرنے کے لیے اہم موقع فراہم کرے گا۔
****
UN NO : 0000
ش ح۔ م ش ع۔ خ م
(ریلیز آئی ڈی: 2314631)
وزیٹر کاؤنٹر : 9