کامرس اور صنعت کی وزارتہ
بھارت کی 14ویں مشرقی ایشیا سربراہی اجلاس کے وزرائے اقتصادیات کے اجلاس اور 23ویں آسیان۔بھارت وزرائے اقتصادیات کے مشاورتی اجلاس میں شرکت
سال2026-2025 میں بھارت اور آسیان کے درمیان دو طرفہ تجارت 128.38 بلین امریکی ڈالر تک پہنچ گئی
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
24 SEP 2026 7:32PM by PIB Delhi
محکمہ تجارت کے ایڈیشنل سیکریٹری جناب نتن کمار یادو کی قیادت میں بھارتی وفد نے منیلا، فلپائن میں منعقدہ 14ویں مشرقی ایشیا سربراہی اجلاس کے وزرائے اقتصادیات کے اجلاس اور 23ویں آسیان-بھارت وزرائے اقتصادیات کے مشاورتی اجلاس میں شرکت کی۔
ان اجلاسوں میں آسیان کے تمام 11 ممالک برونائی، کمبوڈیا، انڈونیشیا، لاؤس، ملائیشیا، میانمار، فلپائن، سنگاپور، تھائی لینڈ، تیمور-لیستے اور ویتنام کے وزرائے اقتصادیات یا ان کے نمائندوں کے ساتھ ساتھ مشرقی ایشیا سربراہی اجلاس کے شراکت داروں (بشمول بھارت، آسٹریلیا، چین، جاپان، نیوزی لینڈ، کوریا، روس اور امریکہ) نے بھی شرکت کی۔
ان اجلاسوں کے دوران خطے اور دنیا میں جاری اقتصادی پیش رفت پر خیالات کے تبادلے کا موقع ملا۔ آسیان سیکریٹریٹ نے 2027 کے لیے علاقائی اور عالمی اقتصادی منظرنامے پر بریفنگ دی، جس میں تجارت اور سرمایہ کاری کے بہاؤ پر متوقع اثرات کا احاطہ بھی شامل تھا۔
آسیان اور مشرقی ایشیا کے لیے اقتصادی تحقیقی ادارے نے بھی اپنا مقالہ پیش کیا جس کا عنوان تھا’ای اے ایسخطے میں ترقی کی اگلی لہر کو تقویت دینا: توانائی کے تحفظ اور صنعتی کلسٹرز کے لیے ایک مربوط نقطہ نظر۔ اس مقالے میں توانائی کے تحفظ اور صنعتی کلسٹرز کے لیے ایک مربوط حکمت عملی کا خاکہ پیش کیا گیا، جس میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے، ڈیجیٹل اور صنعتی طلب، اور تجارت و سرمایہ کاری کی مربوط پالیسیوں کو یکجا کیا گیا ہے۔
آسیان-بھارت وزرائے اقتصادیات کے مشاورتی اجلاس کے دوران، بھارت نے مضبوط تجارتی شراکت داری کو فروغ دینے اور اس بات کو یقینی بنانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا کہ علاقائی تجارتی معاہدے باہمی طور پر فائدہ مند ہوں۔ بات چیت میںآسیان-بھارت اشیاء کی تجارت کے معاہدے کے جاری جائزے پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی؛ اس جائزے کا مقصد تجارت کے بہاؤ کو بڑھانا اور تجارت میں موجود عدم توازن کو دور کرنا ہے۔
سا ل 2026-2025 میں بھارت اور آسیان کے درمیان دو طرفہ تجارت 128.38 بلین امریکی ڈالر تک پہنچ گئی، اور بھارت کی کل عالمی تجارت میں آسیان کا حصہ 10.55 فیصد رہا، جو اس شراکت داری کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
بھارت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اے آئی ٹی آئی جی اے کے جائزے کے نتائج باہمی طور پر فائدہ مند ہوں گے اور یہ معاہدہ متوازن، زیادہ مؤثر، استعمال میں آسان اور کاروباری اداروں کے لیے تجارت کو آسان بنانے والا ثابت ہوگا۔ ملاقاتوں کے دوران، بھارتی وفد نے 22 ستمبر 2026 کو فلپائن میں کام کرنے والے بھارتی کاروباری اداروں سے بات چیت کی اور اشیاء و خدمات کی برآمد کے سلسلے میں انہیں درپیش مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔ وفد نے 23 ستمبر 2026 کو منعقدہ ’آسیان-انڈیا بزنس فورم 2026‘ میں بھی شرکت کی۔

***
(ش ح۔اص)
UR No 4056
(ریلیز آئی ڈی: 2314626)
وزیٹر کاؤنٹر : 9