کارپوریٹ امور کی وزارتت
کارپوریٹ امور کی وزارت کی ہدایت، ضابطوں کی پابندی نہ کرنے والی نِدھی کمپنیوں کے زیادہ منافع کے وعدوں سے عوام کو خبردار کیا
این ڈی ایچ-4 فارم جمع کرنا لازمی قرار؛ اب تک صرف 395 کمپنیوں کو نِدھی قرار دیا گیا، نِدھی کمپنیوں میں جمع رقم ڈی آئی سی جی سی کے تحت بیمہ شدہ نہیں
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
24 SEP 2026 5:11PM by PIB Delhi
کارپوریٹ امور کی وزارت نے عام لوگوں کو ’نِدھی کمپنیوں‘ اور ان کے کام کاج کے بارے میں ایک ہدایت جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ سرمایہ کاری کا فیصلہ کرنے سے پہلے ان کمپنیوں کے پس منظر کی مکمل جانچ کی جائے، خاص طور پر اس وقت جب زیادہ منافع دینے کا وعدہ کیا جا رہا ہو۔
کارپوریٹ امور کی وزارت کی جانب سے این ڈی ایچ-4 درخواستوں کی جانچ کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ بہت سی ’نِدھی‘ کمپنیاں قانون اور اس کے تحت بنائے گئے ضابطوں کی قابل اطلاق دفعات کی مکمل طور پر پابندی نہیں کر رہی ہیں۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ نِدھی کمپنی کے طور پر کام کرنے والی بہت سی کمپنیوں نے نِدھی ضابطوں کے تحت مقررہ مدت کے اندر اپنی این ڈی ایچ-4 درخواستیں جمع نہیں کی ہیں۔
ہر وہ کمپنی جو ’نِدھی‘ کے طور پر کام کرنا چاہتی ہے، اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ خود کو ’نِدھی‘ قرار دینے یا اپنی حیثیت کو نِدھی کے طور پر برقرار رکھنے کے لیے ’این ڈی ایچ-4‘ فارم میں درخواست جمع کرے۔
یہ بات سامنے آئی ہے کہ بہت سی کمپنیاں غیر معمولی طور پر زیادہ منافع دینے کا وعدہ کرکے اپنے اراکین کو راغب کرتی ہیں۔ اس لیے عوام کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ مالی فیصلے کرتے وقت ایجنٹوں کے غیر معمولی طور پر زیادہ منافع کے وعدوں یا غیر رسمی یقین دہانیوں پر مکمل طور پر انحصار نہ کریں اور خود اس بات کی تصدیق کریں کہ آیا مرکزی حکومت نے متعلقہ کمپنی کو نِدھی قرار دیا ہے یا نہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ شرائط و ضوابط پر بھی احتیاط سے غور کریں۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ نِدھی کمپنیوں کی جانب سے قبول کی جانے والی جمع شدہ رقم ڈپازٹ انشورنس اینڈ کریڈٹ گارنٹی کارپوریشن (ڈی آئی سی جی سی) کے ذریعے بیمہ شدہ نہیں ہوتی۔ اگر کمپنی ناکام ہوجاتی ہے یا دھوکہ دہی کا شکار ہوجاتی ہے تو جمع شدہ رقم کی واپسی بہت مشکل یا نامکمل ہوسکتی ہے۔
نِدھی کمپنیاں باہمی فائدے کے لیے قائم کی جانے والی کمپنیاں ہیں، جنہیں کارپوریٹ امور کی وزارت (ایم سی اے) کمپنیز ایکٹ، 2013 اور نِدھی ضابطے، 2014 کے تحت منظم کرتی ہے۔ یہ کمپنیاں صرف اپنے اراکین سے جمع رقم قبول کرسکتی ہیں اور انہیں ہی قرض دے سکتی ہیں۔
سابقہ کمپنیز ایکٹ، 1956 کی دفعہ 620 اے کے تحت نِدھی کے طور پر کام کرنے کی خواہش مند کمپنیوں کو مرکزی حکومت ’نِدھی‘ قرار دیا کرتی تھی۔ کمپنیز ایکٹ، 2013 کی دفعہ 406 کے تحت ابتدا میں کوئی کمپنی خود کو نِدھی کے طور پر رجسٹر کراکے نِدھی کے طور پر کام کرسکتی تھی، تاہم اسے نِدھی ضابطے، 2014 کے تحت مقررہ مختلف ضابطوں کی پابندی کرنا ضروری تھا۔
تاہم، کمپنیز ایکٹ، 2013 کی دفعہ 406 اور نِدھی ضابطے، 2014 میں 15.08.2019 سے ترمیم کی گئی، جس کے بعد مرکزی حکومت کی جانب سے کسی کمپنی کو نِدھی قرار دینے کی ضرورت دوبارہ نافذ کردی گئی، جیسا کہ کمپنیز ایکٹ، 1956 کے تحت تھا۔
کمپنیز ایکٹ، 1956/2013 کی ان دفعات کے تحت مرکزی حکومت کی جانب سے اب تک نِدھی قرار دی گئی 395 کمپنیوں کی فہرست عام لوگوں کی معلومات کے لیے کارپوریٹ امور کی وزارت کی ویب سائٹ پر پہلے ہی دستیاب ہے۔ 03.11.2025 کو کارپوریٹ امور کی وزارت کے پورٹل پر جاری کی گئی فعال نِدھی کمپنیوں کی فہرست درج ذیل ربط پر دستیاب ہے، جس سے مزید معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں۔ [فعال نِدھی کمپنیوں کی فہرست]
(https://www.mca.gov.in/bin/dms/getdocument?mds=J1d7pR2ZnYPDVBpl1gFu4w%253D%253D&type=open&utm_source=chatgpt.com)
*****
ش ح۔ م ع۔ ج
uno-4033
(ریلیز آئی ڈی: 2314522)
وزیٹر کاؤنٹر : 9