خواتین اور بچوں کی ترقیات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

غیر قانونی گود لینے کے عمل کی روک تھام کے لیے سی اے آر اے نے منی پور میں گود لینے سے متعلق آگاہی ورکشاپ کا انعقاد کیا


’’قانونی گود لینا، محفوظ بچپن، محفوظ مستقبل۔ غیر قانونی گود لینے کو کہیں نہ’’ کے موضوع پر ورکشاپ کا انعقاد

 تقریباً 150 متعلقہ فریقوں کو قانونی، محفوظ اور بچوں کے مفاد پر مبنی گود لینے کے طریقوں سے آگاہ کیا گیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 23 SEP 2026 4:01PM by PIB Delhi

مرکزی گود لینے کے وسائل کی اتھارٹی (سی اے آر اے) نے حکومت ہند کی وزارت برائے خواتین و اطفال کی ترقی  کی سرپرستی میں 23 ستمبر 2026 کو منی پور کے نارتھ اے او سی، امپھال میں ‘‘قانونی گود لینا، محفوظ بچپن، محفوظ مستقبل۔ غیر قانونی گود لینے کو کہیں نہ!’’ کے موضوع پر گود لینے سے متعلق آگاہی ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ یہ ورکشاپ حکومت منی پور کے محکمہ سماجی بہبود اور منی پور اسٹیٹ ایڈاپشن ریسورس ایجنسی (سارا) کے تعاون سے منعقد کی گئی۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image001_20260923160232_249833.jpg

ورکشاپ میں منی پور کے محکمہ سماجی بہبود کے ڈائریکٹر جناب شیخ عبدالحکیم، امپھال ویسٹ کی ایڈیشنل ایس پی (آئی یو سی اے ڈبلیو) محترمہ کے سندربالا، کارا کی اسسٹنٹ ڈائریکٹر محترمہ روپانشی پانڈے، کارا کی اسسٹنٹ ڈائریکٹر محترمہ انکیتا بھاردواج کے علاوہ بچوں کے تحفظ اور گود لینے کے نظام سے وابستہ سینئر افسران اور متعلقہ فریق موجود تھے۔ ورکشاپ میں تقریباً 150 شرکا نے شرکت کی۔ اس کا مقصد قانونی، شفاف اور بچوں کے مفاد پر مبنی گود لینے کے عمل کے بارے میں آگاہی کو فروغ دینا اور غیر قانونی گود لینے کے طریقوں سے وابستہ خطرات اور اس کے نتائج کو اجاگر کرنا تھا۔

ورکشاپ میں محکمہ سماجی بہبود، چائلڈ ویلفیئر کمیٹیوں ( سی ڈبلیو سیز)، ڈسٹرکٹ چائلڈ پروٹیکشن یونٹس (ڈی سی پی یوز)، اسپیشلائزڈ ایڈاپشن ایجنسیز (ایس اے ایز)، چائلڈ کیئر انسٹی ٹیوشنز (سی سی آئیز)، محکمہ صحت اور پولیس، عدلیہ، قانونی خدمات کے اداروں، اسپتالوں اور نجی نرسنگ ہومز، آشا اور اے این ایم کارکنوں، سول سوسائٹی تنظیموں اور ذرائع ابلاغ سمیت دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

شرکا سے خطاب کرتے ہوئے منی پور کے محکمہ سماجی بہبود کے ڈائریکٹر جناب شیخ عبدالحکیم نے اس بات پر زور دیا کہ بچوں کو غیر منظم اور غیر قانونی گود لینے کے انتظامات سے محفوظ رکھنے کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کی مربوط کوششیں ضروری ہیں۔ کارا کی اسسٹنٹ ڈائریکٹر محترمہ روپانشی پانڈے نے ہر سطح پر چوکس رہنے اور مربوط کارروائی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا، ‘‘غیر قانونی گود لینے کی روک تھام کے لیے ہر سطح پر چوکسی اور مربوط کارروائی ضروری ہے۔‘‘

تبادلہ خیال پر مبنی اس سرگرمی کے تحت شرکا کو چار گروپوں میں تقسیم کیا گیا۔ ان میں پولیس اور انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کے یونٹس (اے ایچ ٹی یوز)، چیف میڈیکل افسران (سی ایم اوز)، اسپتال اور نجی نرسنگ ہومز، اے این ایم اور آنگن واڑی کارکنان؛ قانونی امور، عدلیہ اور چائلڈ ویلفیئر کمیٹیاں (سی ڈبلیو سیز)؛ اور سارا، ضلعی چائلڈ پروٹیکشن افسران (ڈی سی پی اوز)، اسپیشلائزڈ ایڈاپشن ایجنسیز (ایس اے ایز)، چائلڈ کیئر انسٹی ٹیوشنز (سی سی آئیز) اور دیگر متعلقہ فریق شامل تھے۔ گروپوں میں ہونے والی بات چیت نے شرکا کو گود لینے کے قانونی نظام سے متعلق اپنی موجودہ سمجھ کا جائزہ لینے، آگاہی اور باہمی تال میل میں موجود خامیوں کی نشاندہی کرنے اور روک تھام، شناخت، اطلاع دینے اور کارروائی کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے کے لیے عملی تجاویز پیش کرنے کا موقع فراہم کیا۔

اس کے بعد ہر گروپ نے اپنے اہم مشاہدات اور تجاویز پیش کیں اور مختلف محکموں کے درمیان تال میل، بروقت معلومات کے تبادلے، ذمہ دارانہ طور پر متعلقہ ادارے کو معاملہ بھیجنے اور گود لینے کے قانونی طریقہ کار پر سختی سے عمل کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

امپھال کی اسپیشلائزڈ ایڈاپشن ایجنسی (ایس اے اے) کے منیجر/کوآرڈینیٹر جناب تھنگنم روشن سنگھ نے حقیقی زندگی کے تجربات پر مبنی خصوصی نشست میں غیر قانونی گود لینے کے مشتبہ معاملات سے نمٹنے کے بارے میں عملی معلومات فراہم کیں۔ اس نشست میں بروقت کارروائی  کی اہمیت اور بچوں کے تحفظ کو یقینی بنانے میں نچلی سطح پر بچوں کے تحفظ سے وابستہ کارکنوں کے کردار کو اجاگر کیا گیا۔

قانونی گود لینے کے موضوع پر ایک افسانوی فلم بھی دکھائی گئی، جس کا مقصد مجاز گود لینے کے طریقہ کار پر عمل کرنے کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور غیر قانونی گود لینے سے وابستہ خطرات کے بارے میں مزید آگاہی پیدا کرنا تھا۔ ورکشاپ میں اسٹیٹ بال بھون کے بچوں کی جانب سے بچوں کے مفاد پر مبنی ایک پیش کش بھی کی گئی، جس میں خاندان پر مبنی نگہداشت کے پیغام اور بچوں کو محفوظ، پرورش بخش اور معاون خاندانی ماحول فراہم کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔ مختصر ڈرامے نے حاضرین کو متاثر کیا اور ورکشاپ کے بچوں پر مرکوز پیغام کو مزید مؤثر بنایا۔

منی پور میں منعقدہ ورکشاپ نے بچوں کے تحفظ اور گود لینے کے پورے نظام میں مسلسل آگاہی، بہتر تال میل اور بروقت مداخلت کی ضرورت کو اجاگر کیا۔ شرکا کو ان کی متعلقہ ذمہ داریوں اور اس بات کی اہمیت سے آگاہ کیا گیا کہ نگہداشت اور تحفظ کے ضرورت مند ہر بچے کے معاملے میں قانون کی مکمل پابندی کی جائے اور بچے کے بہترین مفاد کو اولین ترجیح دی جائے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image002_20260923160245_fb13f3.jpg

ورکشاپ کا اختتام چوکسی کو مزید مضبوط بنانے، متعلقہ فریقوں کے درمیان تال میل بہتر کرنے اور منی پور میں صرف قانونی، محفوظ اور بچوں کے مفاد پر مبنی گود لینے کے طریقوں کو فروغ دینے کے مشترکہ عزم کے اعادے کے ساتھ ہوا۔

**********

ش ح۔۔ ا ک۔ ر ب

U-3973


(ریلیز آئی ڈی: 2313948) وزیٹر کاؤنٹر : 5
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी