زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

غیر سیراب علاقوں سے متعلق قومی اتھارٹی نے واٹرشیڈ کی ترقی اور انتظام کے لیے اعلی سطحی اجلاس کا انعقاد کیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 23 SEP 2026 11:14AM by PIB Delhi

زراعت اور کسانوں کی بہبود ن کی وزارت کے غیرسیراب علاقوں سے متعلق قومی اتھارٹی (این آر اے اے)نے کل 22 ستمبر 2026 کو نئی دہلی کے این اے ایس سی کمپلیکس میں آر ای ڈبلیو اے آر ڈی (اختراعی ترقی کے ذریعے زرعی لچک کے لیے واٹرشیڈز کی بحالی) پروگرام کے تحت قومی سطح کی تکنیکی کمیٹی (این ایل ٹی سی) کا اجلاس منعقد کیا۔

غیرسیراب علاقوں سے متعلق قومی اتھارٹی (این آر اے اے) کے چیف ایگزیکٹو افسر ڈاکٹر چندر شیکھر کمار، آئی اے ایس نے اجلاس کی صدارت کی۔ ڈاکٹر اے کے نائک، ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل (قدرتی وسائل کا انتظام)، آئی سی اے آر؛ جناب نتن کھڑے، آئی اے ایس، جوائنٹ سکریٹری (واٹرشیڈ مینجمنٹ)، محکمہ اراضی وسائل؛ ڈاکٹر سبرت پانڈا، آئی اے ایس، ڈائریکٹر (ڈی ایس سی اینڈ ڈبلیو ڈی)، اڈیشہ؛ اور جناب اپیندر پرتاپ سنگھ، کمشنر، ڈبلیو ڈی ڈی، کرناٹک (آن لائن) نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔ ریاستی سطح کی نوڈل ایجنسی (ایس ایل این اے) اڈیشہ اور کرناٹک کے سائنس دانوں اور نمائندوں، آئی سی اے آر کے اداروں، زرعی یونیورسٹیوں، آئی آئی ٹی، غیر سرکاری تنظیموں، کنسورشیم شراکت داروں، محکمہ اراضی وسائل اور این آر اے اے کی آر ای ڈبلیو اے آر ڈی پروگرام مینجمنٹ یونٹ (پی ایم یو) ٹیم اور سی او ای- ڈبلیو ایم کے تکنیکی شراکت داروں سمیت تقریباً 45 شرکا نے اجلاس میں حصہ لیا۔ اجلاس کی ہم آہنگی ڈاکٹر سشما سدھیشری، تکنیکی ماہر (واٹرشیڈ ڈیولپمنٹ) اور پرنسپل انویسٹی گیٹر،آر ای ڈبلیو اے آر ڈی، این آر اے اے نے کی۔

غیرسیراب علاقوں سے متعلق قومی اتھارٹی (این آر اے اے)کے چیف ایگزیکٹو افسر (سی ای او) ڈاکٹر چندر شیکھر کمار نے آر ای ڈبلیو اے آر ڈی پروگرام کے تحت جمع کیے گئے اعداد و شمار کی بنیاد پر مسودہ این ٹی جی میں کیے گئے بیان یا دعوے کی توثیق پر زور دیا۔ انہوں نے اڈیشہ اور کرناٹک کی ریاستی حکومتوں کو یہ مشورہ بھی دیا کہ وہ واٹرشیڈ سے متعلق اعداد و شمار اور فیصلہ سازی کے لیے معاون نظام (ڈی ایس ایس) تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ شیئر کریں۔ ڈاکٹر اے کے نائک نے واٹرشیڈز کی بہتر منصوبہ بندی کے لیے اراضی وسائل کی فہرست سازی (ایل آر آئی) اور آبیات کو مربوط کرنے پر زور دیا۔

ڈاکٹر اے کے نائک، ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل (قدرتی وسائل کا انتظام)، آئی سی اے آر نے کہا کہ مخصوص نتائج یا اخذ کیے گئے نتائج تک پہنچنے کے لیے اختیار کیے گئے طریقہ کار کو قومی تکنیکی رہنما خطوط (این ٹی جی) میں واضح طور پر درج کیا جانا چاہیے اور ویب پورٹلز جلد از جلد تیار کیے جانے چاہئیں۔

جناب نتن کھڑے، آئی اے ایس، جوائنٹ سکریٹری (واٹرشیڈ مینجمنٹ)، محکمہ اراضی وسائل نے رائے دی کہ سرگرمیوں کے نفاذ کے لیے زیادہ وقت دستیاب کرانے کی غرض سے تفصیلی منصوبہ رپورٹ (ڈی پی آر) کی تیاری کی مدت 6 ماہ سے کم کرکے 3 ماہ کی جا سکتی ہے۔ مختلف شعبوں کے درمیان باہمی تال میل کے امکانات کا بھی جائزہ لیا جانا چاہیے اور انہیں قومی تکنیکی رہنما خطوط میں شامل کیا جا سکتا ہے۔

اجلاس کے آغاز میں ڈاکٹر سشما سدھیشری نے گزشتہ قومی سطح کی تکنیکی کمیٹی کے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں پر عمل درآمد کی رپورٹ پیش کی اور قومی تکنیکی رہنما خطوط کے دوسرے مسودے میں کی گئی اضافی ترامیم سے بھی آگاہ کیا۔

ڈاکٹر سشما نے اڈیشہ اور کرناٹک کی ریاستی سطح کی نوڈل ایجنسیوں سے درخواست کی کہ وہ ریکارڈ کیے گئے اعداد و شمار این آر اے اے اور کنسورشیم شراکت داروں کے ساتھ شیئر کریں، تاکہ ان کا تجزیہ کرکے رپورٹس تیار کی جا سکیں اور قومی تکنیکی رہنما خطوط کی توثیق کی جا سکے۔ تیار کیے جا رہے قومی تکنیکی رہنما خطوط کو ملک میں مستقبل میں واٹرشیڈ کی ترقی کے لیے واٹرشیڈ ڈیولپمنٹ کمپوننٹ – پردھان منتری کرشی سنچائی یوجنا 3.0 کے تحت استعمال کیا جائے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 (ش ح ۔م م ع ۔ع ن)

U. No. 3954


(ریلیز آئی ڈی: 2313783) وزیٹر کاؤنٹر : 10