جل شکتی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

نائب صدر جمہوریہ نے نویں بھارت بین الاقوامی آبی ہفتہ 2026 کا افتتاح کیا


نائب صدر جمہوریہ جناب سی پی رادھاکرشنن نے پانی کے تحفظ اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے قابل بھارت کی تعمیر کے لیے اجتماعی اقدامات اور اختراعات پر زور دیا

جل شکتی کے مرکزی وزیر جناب سی آر پاٹل نے آبی تحفظ کے لیے تعاون اور عوامی شراکت داری کی اہمیت اجاگر کی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 22 SEP 2026 6:27PM by PIB Delhi

نائب صدر جمہوریہ ہند جناب سی پی رادھاکرشنن نے آج نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں نویں بھارت بین الاقوامی آبی ہفتہ (آئی آئی ڈبلیو ڈبلیو) 2026 کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر جل شکتی کے مرکزی وزیر جناب سی آر پاٹل، جل شکتی کے وزیر مملکت جناب وی سومنا اور جناب راج بھوشن چودھری بھی موجود تھے۔اس موقع پر پینے کے پانی اور صفائی ستھرائی کے محکمہ کےسکریٹری جناب اشوک کے کے مینا، محکمہ آبی وسائل، دریاؤں کی ترقی اور گنگا کی بحالی کی سکریٹری محترمہ ارچنا ورما، مرکزی آبی کمیشن کے چیئرمین جناب انوپم پرساد کے علاوہ بھارت اور بیرون ملک سے آئے نمائندے، سفراء، عالمی آبی شعبے کے رہنما، اعلی عہدیداران، بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے، ماہرین، محققین، صنعت کار، اختراع کار اور دیگر متعلقہ فریق بھی موجود تھے۔

بھارت سرکار کی وزارت جل شکتی کے زیر اہتمام 22 سے 26 ستمبر 2026 تک منعقد ہونے والی اس پانچ روزہ تقریب کا موضوع ’’موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ آبی انتظام‘‘ ہے۔ نویں ایڈیشن کے انعقاد کو ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس تقریب کو اس کے ابتدائی ایڈیشنز میں ’انڈیا واٹر ویک‘ کے نام سے منعقد کیا جاتا تھا، جو اب ’انڈیا انٹرنیشنل واٹر ویک‘ کی شکل اختیار کرچکی ہے۔ یہ تبدیلی آبی شعبے میں عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے روابط اور مشترکہ آبی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تعاون کی بڑھتی ہوئی اہمیت کی عکاسی کرتی ہے۔

نیدرلینڈز اور جرمنی شراکت دار ممالک کے طور پر شرکت کر رہے ہیں، جبکہ 14 ریاستیں شراکت دار ریاستوں اور دو مرکزی وزارتیں شراکت دار وزارتوں کے طور پر شامل ہیں۔ اس تقریب میں حکومتوں، بین الاقوامی اور کثیر ملکی تنظیموں، تحقیقی و تعلیمی اداروں، صنعت، سول سوسائٹی، نئے کاروباری اداروں، اختراع کاروں اور نوجوان پیشہ ور افراد کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع کیا جا رہا ہے۔ یہ تقریب پالیسی پر مباحثے، ٹیکنالوجی کے عملی مظاہرے، علم اور معلومات کے تبادلے، روابط کے فروغ، کاروباری شراکت داری اور نئی تعاون پر مبنی شراکت داریوں کے لیے ایک جامع پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے۔

افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے موسمیاتی تبدیلی، شہری آبادی میں اضافے اور قدرتی وسائل پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے باعث آبی تحفظ کو درپیش بڑھتے ہوئے چیلنجوں پر زور دیا۔ انہوں نے اختراع، کارکردگی اور اجتماعی اقدامات کے ذریعے پانی کے مربوط اور پائیدار انتظام و انصرام کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے پانی کی دستیابی میں علاقائی اور زمانی فرق کو دور کرنے میں دریاؤں کو آپس میں جوڑنے کے اہم کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے وزارت جل شکتی کی جانب سے کیے گئے مختلف اقدامات کی ستائش کی اور حاصل کی گئی کامیابیوں کو سراہا۔ جھارکھنڈ کے گورنر کی حیثیت سے اپنی مدت کار کو یاد کرتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے بتایا کہ جل جیون مشن کے تحت ریاست میں دیہی علاقوں میں نل کے ذریعے پانی کی فراہمی تقریباً 7 فیصد سے بڑھ کر 37 فیصد ہوگئی ہے۔ انہوں نے مشن کو ایک تبدیلی لانے والا پروگرام قرار دیا، جس نے دیہی گھرانوں تک پینے کے صاف پانی کی رسائی میں نمایاں توسیع کی ہے۔

انہوں نے بین ریاستی دریاؤں کے پانی کی تقسیم اور انتظام کے لیے ریاستوں کے درمیان باہمی تعاون پر مبنی انتظامات کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے شرکا پر زور دیا کہ وہ آئی آئی ڈبلیو ڈبلیو 2026 کو علم کے تبادلے، شراکت داریوں کو مضبوط بنانے اور غور و خوض کو ٹھوس اقدامات میں تبدیل کرنے کے لیے استعمال کریں۔ انہوں نے اس موقع پر دو اہم مطبوعات، ’’پائیدار شہری دریائی انتظام کا فریم ورک‘‘ اور ’’مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ پر مبنی مربوط آبی ذخائر میں تلچھٹ کے انتظام‘‘ بھی جاری کیں۔

 جل شکتی کے مرکزی وزیرجناب سی آر پاٹل نے کہا کہ آبی تحفظ اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی صلاحیت ایک ساتھ آگے بڑھنی چاہیے، کیونکہ موسمیاتی تبدیلی کے بہت سے اثرات کا سامنا بڑھتے ہوئے پانی کے ذریعے ہو رہا ہے۔ انہوں نے ’واٹر وژن@2047‘ اور اہم اقدامات کو اجاگر کیا، جن میں پردھان منتری کرشی سنچائی یوجنا، جل جیون مشن، جل سنچای جن بھاگیداری، نمامی گنگے، اٹل بھوجل یوجنا، نیکوئم، کین-بیتوا لنک پروجیکٹ، ڈیم ری ہیبلیٹیشن اینڈ امپروومنٹ پروجیکٹ اور نیشنل ہائیڈرولوجی پروجیکٹ شامل ہیں۔وزیر موصوف نے مزید کہا کہ جن بھاگیداری ہماری سب سے بڑی طاقت ہے، جس کے ذریعے ہم ایک دوسرے سے سیکھتے اور اپنے تجربات بانٹتے ہیں تاکہ آبی انتظام کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔ انہوں نے تحقیق و ترقی، مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ، ریموٹ سینسنگ، جی آئی ایس، حقیقی وقت میں کام کرنے والے سینسرز اور جدید ماڈل سازی میں تبدیلی لانے کی بھرپور صلاحیت کو اجاگر کیا۔ تاہم، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ٹیکنالوجی کو مضبوط اداروں، مقامی علم اور عوامی شراکت داری کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے۔

شرکا ءکا خیرمقدم کرتے ہوئے محکمہ آبی وسائل، دریاؤں کی ترقی اور گنگا کی بحالی کی سکریٹری محترمہ ارچنا ورما نے کہا کہ آئی آئی ڈبلیو ڈبلیو ایک اہم کثیرشعبہ جاتی عالمی پلیٹ فارم کی شکل اختیار کرچکا ہے، جہاں تبادلہ خیال، علم کا اشتراک، ٹیکنالوجی کا مظاہرہ اور شراکت داری کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ پانی کے وسائل اور بنیادی ڈھانچے کی منصوبہ بندی، مالی اعانت، ترقی، آپریشن اور انتظام میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کی صلاحیت کو شامل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ اجلاس میں ہونے والے غور و خوض سے قابل عمل سفارشات، بڑے پیمانے پر نافذ کیے جا سکنے والے حل، بہترین طور طریقوں کا تبادلہ اور مزید مضبوط شراکت داری سامنے آئے گی۔

افتتاحی اجلاس میں زمینی سطح پر پانی کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے ’واٹر وارئیرز‘ کی خدمات کو بھی تسلیم کیا گیا۔ مدھیہ پردیش کے چھندواڑہ کی محترمہ رام کماری کو پینے کے پانی کی دستیابی اور پانی کے تحفظ کے لیے خواتین اور برادریوں کو متحرک کرنے کے سلسلے میں ان کی خدمات کے اعتراف میں اعزاز سے نوازا گیا۔ ان کی کوششوں سے تقریباً 225 خاندانوں تک پینے کے پانی کی رسائی بہتر بنانے میں مدد ملی ہے۔ مہاراشٹر کے گڈچرولی کے جناب سیتارام ماداوی کو بھی پانی کے تحفظ، دیہی ترقی اور زرعی پائیداری کے شعبوں میں دو دہائیوں سے زائد عرصے تک کام کرنے پر اعزاز سے نوازا گیا۔ انہوں نے کنویں، کھیت،تالاب اور پانی کے تحفظ سے متعلق دیگر اقدامات کیے، جن سے زیر زمین پانی کی دستیابی اور آبپاشی تک رسائی بہتر بنانے میں مدد ملی ہے۔

افتتاحی اجلاس کے بعد ’’موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے قابل آبی انتظام کے بارے میں ممالک کے نقطہ ہائے نظر‘‘ کے موضوع پر اعلی سطحی وزارتی اجلاس منعقد ہوا، جس میں بھارت اور اس کے بین الاقوامی شراکت داروں کے خیالات پیش کیے گئے۔ اجلاس میں پانی کے ردعمل پر مبنی انتظام سے آگے بڑھتے ہوئے ایسے نظام وضع کرنے کی ضرورت پر توجہ مرکوز کی گئی جو خطرات کی پیشگی نشاندہی، بدلتے حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے اور موسمیاتی شدت کے واقعات سے نمٹنے کے بعد بحال ہونے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ تبادلہ خیال میں موسمیاتی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، سیلاب اور خشک سالی کا انتظام، ڈیجیٹل ہائیڈرولوجی اور پیشگی انتباہی نظام، قدرتی نظام پر مبنی حل، پانی کے مؤثر استعمال، ادارہ جاتی صلاحیت اور بین الاقوامی تعاون جیسے موضوعات شامل تھے۔

وزارتی اجلاس کا افتتاح کرتے ہوئے جناب سی آر پاٹل نے وینزویلا، نیدرلینڈز اور ڈنمارک سمیت مختلف ممالک کے ساتھ بھارت کے تعاون کو اجاگر کیا۔ انہوں نے عالمی بینک اور آئی یو سی این جیسے کثیر ملکی اور بین الاقوامی اداروں کے اہم کردار پر بھی زور دیا۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ، اطلاعاتی ٹیکنالوجی، ریموٹ سینسنگ، مشترکہ تحقیق، صلاحیت سازی اور عملی مظاہرے کے منصوبوں کے شعبوں میں مزید گہرے تعاون کی اپیل کی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں صرف علم کے تبادلے سے آگے بڑھ کر مشترکہ طور پر نیا علم تخلیق کرنے اور آبی بحران پیدا ہونے کے بعد ردعمل دینے کے بجائے بحران سے پہلے ہی لچکدار نظام تیار کرنے کی سمت آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔

وزارتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے،پینے کے پانی اور صفائی ستھرائی کے محکمہ کے سکریٹری جناب اشوک کے کے مینا نے کہا کہ جل جیون مشن کے تحت ہم نے یہ سیکھا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کی صلاحیت صرف بنیادی ڈھانچہ تیار کرنے تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کا مقصد وقت کے ساتھ پانی کی قابل اعتماد اور پائیدار خدمات کو یقینی بنانا ہے، جس میں منصوبہ بندی، عمل درآمد اور طویل مدتی پائیداری میں مقامی برادریوں کا مرکزی کردار ہو۔ سکریٹری موصوف نے مزید کہا کہ اس کے لیے گندے پانی کے مؤثر انتظام، زیر زمین پانی کی سطح میں اضافے اور آبی ذرائع کے تحفظ کو بھی یقینی بنانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیصلہ سازی معاون نظام کے ذریعے محکمہ اضلاع اور پنچایتوں کو پانی کے ان ذرائع کی نشاندہی کرنے میں مدد فراہم کر رہا ہے جو خطرات سے دوچار ہیں اور ایسے مقامات پر ترجیحی بنیاد پر اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ پانی کا ہر قطرہ ایک سفر طے کرتا ہے اور ہر قطرے کی قدر ہے؛ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے کہ اس سفر کو آنے والی نسلوں کے لیے پائیدار بنائیں اور آبی چکر کو بلا تعطل جاری رکھیں۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وینزویلا کی پینے کا پانی اور صفائی ستھرائی کی نائب وزیرمحترمہ یسینیا کیرولینا مورینو گیرڈل نے پانی کے ذرائع کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیا، خاص طور پر زلزلہ جیسے قدرتی آفات کے دوران۔ انہوں نے کہا کہ پانی تک رسائی ایک بنیادی انسانی حق ہے اور زندگی، امن اور خوشحالی کے لیے پانی کی بنیادی اہمیت کو اجاگر کیا۔ بھارت میں ڈنمارک کے سفیر عالی جناب راسموس ابیلڈگارڈ کرسٹینسن، بھارت میں مملکت نیدرلینڈز کی سفیر محترمہ ماریسا گیرارڈس، عالمی بینک کی جنوبی ایشیا کی علاقائی ڈائریکٹر محترمہ مارا کے وارک اور آئی یو سی این کے واٹر گلوبل ڈائریکٹر جناب جیمز ڈالٹن نے بھی وزارتی اجلاس میں شرکت کی۔

 

پہلے روز کے پروگرام میں بین الاقوامی نمائش کا افتتاح بھی شامل تھا، جو 22 سے 25 ستمبر تک منعقد کی جا رہی ہے۔ یہ نمائش حکومتوں، ٹیکنالوجی فراہم کرنے والے اداروں، تحقیقی اداروں، صنعتوں، نئے کاروباری اداروں اور دیگر متعلقہ فریقوں کو پائیدار اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے قابل آبی انتظام کے لیے ٹیکنالوجیز، مصنوعات اور عملی حل پیش کرنے کے لیے ایک مخصوص پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے۔

بعد ازاں دن کے دوسرے حصے میں ’پانی، خوراک اور توانائی کے مربوط انتظام‘ کے موضوع پر آبی اُمور کےعالمی رہنماؤں کے پہلے اجلاس میں پانی، خوراک اور توانائی کے نظاموں کے باہمی انحصار اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے قابل ترقی کے لیے پانی، خوراک اور توانائی کے باہمی تعلق پر مبنی مربوط حکمت عملی کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔ اجلاس میں پانی اور وسائل کے تحفظ، آبپاشی کی کارکردگی اور پانی کی پیداواری صلاحیت، خرد آبپاشی، شمسی توانائی سے چلنے والی آبپاشی، ڈیجیٹل نگرانی، درست زراعت، اعداد و شمار پر مبنی فیصلہ سازی اور اداروں کے درمیان بہتر تال میل پر توجہ مرکوز کی گئی۔

آبی اُمور کےعالمی رہنماؤں کے دوسرے اجلاس میں گلوبل ریور سٹیز  الائنس کے تحت شہرکے دریاؤں کے پائیدار انتظام اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے قابل دریائی شہروں کی تعمیر پر توجہ مرکوز کی گئی۔ اجلاس میں مربوط پالیسی فریم ورک، عالمی سطح پر علم کا تبادلہ، شہری دریائی انتظام کے منصوبوں، تکنیکی اور ادارہ جاتی اختراعات اور دریاؤں کو مرکز بنا کر شہری ترقی کے لیے ترقیاتی اداروں اور سرکاری و نجی شعبے کے حل فراہم کرنے والوں کے درمیان تعاون کے مواقع کو اجاگر کیا گیا۔ اجلاس میں شہری دریائی انتظام کے پانچ منصوبے بھی جاری کیے گئے۔

آئی آئی ڈبلیو ڈبلیو 2026 کے ساتھ پانی، صفائی ستھرائی اور حفظان صحت (واش) 2026 سے متعلق بیک وقت منعقد ہونے والی دوسری بین الاقوامی کانفرنس نے موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں پینے کے پانی، صفائی ستھرائی اور حفظان صحت پر توجہ کو مزید مضبوط کیا ہے۔ اس کانفرنس میں پالیسی ساز، شعبے سے وابستہ افراد، ماہرین، ترقیاتی شراکت دار اور دیگر متعلقہ فریق جمع ہوئے ہیں، جہاں موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے قابل واش خدمات، پینے کے پانی کے ذرائع کی پائیداری، پانی کے معیار، صفائی ستھرائی، گندے پانی کے انتظام، ٹیکنالوجی اور عوامی شراکت داری پر غور و خوض کیا جا رہا ہے۔ یہ کانفرنس پائیدار اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے قابل واش خدمات کے حصول اور پائیدار ترقی کے ہدف 6 کے مقاصد کو آگے بڑھانے کے لیے تجربات، اختراعات اور بڑے پیمانے پر نافذ کیے جا سکنے والے حل کے تبادلے کا ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے۔

کانفرنس کے ایک حصے کے طور پر موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے قابل واش خدمات کی فراہمی کے اہم پہلوؤں کا احاطہ کرنے والے تین موضوعاتی اجلاس منعقد کیے گئے۔ ان اجلاسوں میں (1) پانی کی فراہمی کے نظام: آپریشن اور دیکھ بھال، بنیادی ڈھانچہ اور آبی ذرائع کی پائیداری؛ (2) پانی کا معیار، تحفظ اور ابھرتے ہوئے آلودہ عناصر؛ اور (3) موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی صلاحیت، قدرتی نظام پر مبنی حل اور صفائی ستھرائی پر توجہ مرکوز کی گئی۔ اجلاس میں پالیسی سازوں، شعبے سے وابستہ افراد، محققین، ترقیاتی شراکت داروں اور شعبے کے ماہرین نے شرکت کی اور پائیدار اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے قابل واش نظام کو مضبوط بنانے کے لیے اپنے تحقیقی مقالے پیش کیے۔

رسمی غور و خوض کے علاوہ، بھارت بین الاقوامی آبی ہفتہ 2026 کو حکومتوں، بین الاقوامی تنظیموں، تعلیمی اداروں، صنعت، نئے کاروباری اداروں اور برادریوں کے درمیان روابط، ادارہ جاتی اور کاروباری شراکت داری، ٹیکنالوجی پر مبنی تعاون، مشترکہ تحقیق، علم کے تبادلے، صلاحیت سازی اور تعاون کے پلیٹ فارم کے طور پر تیار کیا گیا ہے۔ وزارتی اور آبی  اُمور کےعالمی رہنماؤں کے اجلاسوں، ملکی فورمز، آبی رہنماؤں کے فورمز، شعبے سے وابستہ افراد کے فورمز، موضوعاتی فورمز، نئے کاروباری اداروں اور نوجوانوں کے فورمز، بین الاقوامی نمائش اور اس کے ساتھ منعقد ہونے والی دوسری بین الاقوامی واش کانفرنس 2026 کے ذریعے اس تقریب کا مقصد مکالمے کو قابل عمل سفارشات، دیرپا شراکت داری اور پانی کے تحفظ اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے قابل مستقبل کے لیے بڑے پیمانے پر نافذ کیے جا سکنے والے حل میں تبدیل کرنا ہے۔

پہلے روز کا اختتام ’’پائیدار آبی انتظام کے لیے مشترکہ بھارت۔ڈنمارک حل‘‘ کے موضوع پر پہلے ملکی فورم کے انعقاد کے ساتھ ہوا۔ فورم میں ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنے والے، کارکردگی پر مبنی اور اعداد و شمار پر مبنی آبی حل تیار کرنے میں بین الاقوامی تعاون کے بڑھتے ہوئے کردار کو اجاگر کیا گیا۔ اس میں شہری سیلاب اور بارش کے پانی کے انتظام، موسمیاتی تبدیلی کے باعث پیدا ہونے والے شدید حالات، ڈیجیٹل فیصلہ سازی  کے معاون نظام، خلائی ٹیکنالوجی، ڈرونز، روبوٹکس اور جدید سروے کے حل کے شعبوں میں تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔ اس کا وسیع تر مقصد سرحد پار شراکت داری، مشترکہ منصوبوں، مشترکہ اختراع، سرمایہ کاری کے مواقع اور صنعت، تعلیمی اداروں اور حکومت کے درمیان مضبوط روابط کو فروغ دینا تھا۔

افتتاحی روز ہونے والے مباحثوں سے ایک مشترکہ پیغام سامنے آیا کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے قابل آبی انتظام  وانصرام کے لیے مختلف شعبوں، اداروں اور جغرافیائی حدود کے درمیان بہتر تال میل، سائنس، اعداد و شمار اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کا زیادہ سے زیادہ استعمال، مضبوط ادارے اور عوامی شراکت داری اور مسلسل بین الاقوامی تعاون ضروری ہے۔ آئی آئی ڈبلیو ڈبلیو 2026 پالیسی کو عملی اقدامات، تحقیق کو عمل درآمد اور اختراع کو سرمایہ کاری سے جوڑ کر اس ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔

***

 (ش ح ۔م م ع ۔ع ن)

U. No. 3942


(ریلیز آئی ڈی: 2313759) وزیٹر کاؤنٹر : 6