پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

اوپیک-بھارت توانائی مذاکرات کا ساتواں اعلی سطحی اجلاس


اوپیک-بھارت توانائی مذاکرات کا ساتواں اعلی سطحی اجلاس 22 ستمبر 2026 کو بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں منعقد ہوا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 22 SEP 2026 2:38PM by PIB Delhi

اجلاس کی مشترکہ صدارت بھارت کے پٹرولیم و قدرتی گیس کے وزیر جناب ہردیپ سنگھ پوری اور اوپیک کے سکریٹری جنرل جناب ہیثم الغیث نے کی۔

مذاکرات میں تیل کی مارکٹ میں استحکام، توانائی کی یقینی دستیابی اور تیل کی پوری صنعت میں مناسب اور بروقت سرمایہ کاری کی اہمیت پر توجہ مرکوز کی گئی۔ دونوں فریقوں نے قلیل، درمیانے اور طویل مدتی امکانات کا جائزہ لیا اور عالمی اقتصادی توسیع اور توانائی کی طلب میں اضافے میں بھارت کے اہم کردار کو اجاگر کیا۔

اپنے خطاب میں جناب ہردیپ سنگھ پوری نے کہا کہ بھارت اور اوپیک کے درمیان فطری طور پر ایک دوسرے کے لیے معاون اور باہمی مفاد پر مبنی تعلقات ہیں۔ انہوں نے اس شراکت داری کو مضبوط بنانے میں سکریٹری جنرل کے تعاون پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اوپیک اور اس کے رکن ممالک کے ساتھ اپنے دیرینہ روابط کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، جنہوں نے توانائی سے متعلق اہم امور پر باہمی تفہیم اور تعاون کو فروغ دینے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ‘‘دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی معیشتوں میں سے ایک ہونے کے ناطے بھارت آنے والی دہائیوں میں عالمی توانائی کی طلب میں اضافے کا ایک اہم محرک بنا رہے گا۔ عالمی ترقی اور خوشحالی کے لیے سرمایہ کاری کو فروغ دینے، توانائی کے نظام کی مضبوطی بڑھانے اور توانائی کی قابل اعتماد فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے پیداوار کنندگان اور صارفین کے درمیان مسلسل مذاکرات ضروری ہیں۔‘‘

جغرافیائی اور سیاسی غیر یقینی صورتحال اور مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کے دور میں عالمی توانائی کی مارکیٹوں میں استحکام اور شفافیت کو فروغ دینے کی اوپیک کی کوششوں کو سراہتے ہوئے، انہوں نے اوپیک اور بھارت پر زور دیا کہ وہ ایک متوازن، مستحکم اور قابلِ پیشگوئی عالمی توانائی مارکیٹ کو آگے بڑھانے کے لیے مل کر کام کریں۔

اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئےعزت مآب الغیث نے کہا کہ ‘‘بھارت کے ساتھ بات چیت اوپیک کے لیے ایک ترجیح ہے کیونکہ ہم موجودہ عالمی توانائی کے منظر نامے میں بھارت کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں اور اس حقیقت کو بھی کہ آنے والی دہائیوں میں اس اہمیت میں مزید اضافہ ہوگا۔’’ انہوں نے مزید کہا کہ ‘‘اوپیک-بھارت توانائی کا مکالمہ گیارہ سال سے جاری ہے، جسے 2015 میں نئی دہلی میں شروع کیا گیا تھا۔’’

سیکرٹری جنرل نے توانائی کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے بھارت کے متوازن، حقیقت پسندانہ اور عملی نقطہ نظر کی تعریف کی، اور اس بات پر زور دیا کہ‘‘بھارت کی بہت سی توانائی کی ترجیحات اوپیک کی ترجیحات ہیں۔’’

عزت مآب  الغیث نے بھارتی حکومت کے بین الاقوامی تعاون اور بات چیت کے عزم کو بھی سراہا۔ انہوں نے زور دے کر کہا، ‘‘ہمارے مکالمے کے بارے میں جو چیز خاص طور پر دل کو خوش کرنے والی ہے وہ یہ حقیقت ہے کہ بھارتی حکومت نے ہمارے دور کے بڑے چیلنجوں کو حل کرنے کے ذرائع کے طور پر ہمیشہ سفارت کاری اور بات چیت کی وکالت کی ہے۔’’

جناب ہیثم الغیث نے تمام شرکاء کا ان کے قیمتی تعاون  کے لیے شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اوپیک کے وفد کی پرتپاک میزبانی پر جناب ہردیپ سنگھ پوری کا بھی تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔

اجلاس میں مذاکرات کے فریم ورک کے تحت اب تک حاصل ہونے والی پیش رفت، بشمول تکنیکی سطح پر ہونے والی پیش رفت، کو سراہا گیا۔ اجلاس کا اختتام دونوں فریقوں کی جانب سے اوپیک اور بھارت کے درمیان توانائی کے شعبے میں مزید گہرے تعاون کو فروغ دینے کی اہمیت پر زور دینے کے ساتھ ہوا۔

اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ اوپیک-بھارت توانائی مذاکرات کی آٹھویں اعلی سطحی میٹنگ آسٹریا کے شہر ویانا میں باہمی طور پر متفقہ تاریخ پر منعقد کی جائے گی۔

 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ش ح۔ک ح۔ ر ب۔

U-3917


(ریلیز آئی ڈی: 2313482) وزیٹر کاؤنٹر : 9