مواصلات اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ٹیلی مواصلات کے محکمے نے دھوکے سے سم کارڈ جاری کرنے، ٹیلی مواصلاتی شناختی نمبروں کے غلط استعمال یا آئی ایم ای آئی نمبروں میں چھیڑ چھاڑ کے خلاف شہریوں کو  محتاط کیا

غلط استعمال پر تین سال تک قید اور 50 لاکھ روپے تک جرمانہ ہوسکتا ہے

شہریوں کو اپنے موبائل کنکشن اور ہینڈ سیٹس کی تصدیق اور تحفظ کے لیے سنچار ساتھی پورٹل اور موبائل ایپ استعمال کرنے کا مشورہ

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 21 SEP 2026 12:23PM by PIB Delhi

ٹیلی مواصلات کے محکمے(ڈی او ٹی) کے مدھیہ پردیش ایل ایس اے نے دھوکے سے سم کارڈ جاری کیے جانے کے خلاف سخت کارروائی کی ہے۔ حالیہ سائبر جرائم کی تحقیقات کے دوران ایسے کچھ معاملات سامنے آئے ہیں جن میں چھتیس گڑھ میں ایک پوائنٹ آف سیل (پی او ایس) ایجنٹ نے شہریوں کی لاعلمی اور رضامندی کے بغیر ان کے شناختی دستاویزات کا استعمال کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر 25 موبائل کنکشن (سم) فعال کیے۔

اس کے بعد ٹیلی مواصلات کے محکمے(ڈی او ٹی ) اور ٹیلی  مواصلات کی خدمات کے فراہم  کنندگان نے متعلقہ پی او ایس کو فوری طور پر بلیک لسٹ کردیا، جس کے بعد وہ مستقبل میں موبائل کنکشن (سم) جاری نہیں کرسکتا۔ ان 25 موبائل کنکشن کی ٹیلی مواصلات کے محکمے کے ڈیجیٹل انٹیلی جنس پلیٹ فارم (ڈی آئی پی) پر جانچ کی گئی اور جن کنکشن کو مشتبہ پایا گیا، ان کی دوبارہ تصدیق کی گئی۔ دوبارہ تصدیق میں ناکام رہنے والے نمبروں کو  بعد میں غیر فعال کردیا گیا۔

ٹیلی مواصلات(ڈی او ٹی) کے محکمے کی ایڈوائزری

ٹیلی مواصلات کا محکمہ ایک بار پھر واضح کرتا ہے کہ دھوکے سے سم کارڈ جاری کرنا، ٹیلی مواصلاتی شناختی نمبروں کا غلط استعمال یا آئی ایم ای آئی نمبروں میں چھیڑ چھاڑ ٹیلی مواصلات ایکٹ 2023 کے تحت قابل سزا جرم ہے۔ ایسی خلاف ورزیوں پر تین سال تک قید اور 50 لاکھ روپے تک جرمانہ ہوسکتا ہے۔ ٹیلی مواصلات ایکٹ 2023 اور اس کے تحت بنائے گئے قواعد کی دفعات کی تعمیل ٹیلی مواصلات سے متعلق دھوکہ دہی کی روک تھام، شہریوں کے تحفظ اور ایک محفوظ، مضبوط اور قابل اعتماد ٹیلی مواصلاتی ماحول کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے۔

شہریوں کو  آگاہ کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے نام پر جاری کیے گئے سم کارڈ کسی دوسرے شخص کو نہ دیں اور نہ ہی منتقل کریں، کیونکہ اگر سم کارڈ کا غلط استعمال پایا جاتا ہے تو قانونی ذمہ داری اصل صارف پر بھی عائد ہوسکتی ہے۔ اپنے تحفظ کے لیے شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ سنچار ساتھی پورٹل اور موبائل ایپ کے ذریعے باقاعدگی سے اپنے موبائل کنکشن کی تصدیق کریں۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے صارفین اپنے نام پر جاری کیے گئے تمام موبائل نمبروں کی جانچ کرسکتے ہیں اور ان نمبروں کو بلاک کرسکتے ہیں جن کی انہیں ضرورت نہیں یا جو حقیقت میں ان کے نہیں ہیں۔ یہ اقدامات سائبر دھوکہ دہی میں ٹیلی مواصلاتی وسائل کے غلط استعمال کو روکنے اور محفوظ و مضبوط مواصلاتی ماحول یقینی بنانے کے لیے اہم ہیں۔  ہندوستان میں تیزی سے توسیع پاتے موبائل کنکشن اور ڈیجیٹل خدمات کے ساتھ موبائل سم کارڈز اور ٹیلی مواصلاتی شناختی نمبروں، بشمول موبائل آلات کے بین الاقوامی موبائل آلاتی شناختی نمبر (آئی ایم ای آئی)، کا غلط استعمال ایک سنگین تشویش کا معاملہ بن گیا ہے۔ اس طرح کا غلط استعمال شہریوں کے تحفظ کو متاثر کرسکتا ہے اور ٹیلی مواصلاتی نیٹ ورک کی سلامتی اور سالمیت کے لیے خطرات پیدا کرسکتا ہے۔ حکومت ہند نے منفرد ٹیلی مواصلاتی شناختی نمبروں میں چھیڑ چھاڑ اور ان کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے سخت قانونی دفعات نافذ کی ہیں۔

شہری کن باتوں سے گریز کریں

ٹیلی مواصلات کا محکمہ شہریوں کو مشورہ دیتا ہے کہ وہ درج ذیل کاموں سے گریز کریں:

  • ایسے موڈیم، ماڈیول، سم باکس یا دیگر آلات کا استعمال، حصول یا تیاری نہ کریں جن میں آئی ایم ای آئی نمبروں کو تبدیل کرنے یا ان میں چھیڑ چھاڑ کرنے کی سہولت موجود ہو؛
  • فرضی دستاویزات، جعل سازی، فریب یا کسی دوسرے شخص  کی شناخت ظاہر  کرکے سم کارڈ حاصل نہ کریں؛
  • اپنے نام پر حاصل کیے گئے سم کارڈ کسی ایسے شخص کو منتقل، فروخت یا حوالے نہ کریں جو ان کا غلط استعمال کرسکتا ہو؛
  • کالنگ لائن شناخت (سی ایل آئی) یا دیگر ٹیلی مواصلاتی شناختی نمبروں میں تبدیلی کے لیے موبائل ایپلی کیشنز، ویب سائٹس یا کسی بھی دوسرے ذریعے کا استعمال نہ کریں؛
  • اپنے نام پر سم کارڈ حاصل کرکے بعد میں سائبر دھوکہ دہی یا کسی دوسری غیر قانونی سرگرمی میں غلط استعمال کے لیے انہیں دوسروں کو اُدھار، کرائے پر یا کسی اور طریقے سے فراہم نہ کریں، کیونکہ اس صورت میں اصل صارف بھی قانونی ذمہ داری کا سامنا کرسکتا ہے؛ اور
  • ایسے آلات استعمال نہ کریں جن کے آئی ایم ای آئی نمبروں میں چھیڑ چھاڑ کی گئی ہو، دھوکے کے ذریعے سم کارڈ حاصل نہ کریں اور اپنے نام پر حاصل کیے گئے سم کارڈ ایسے افراد کو منتقل نہ کریں جو ان کا غلط استعمال کرسکتے ہیں، کیونکہ اس کے سنگین قانونی نتائج ہوسکتے ہیں۔

سنچار ساتھی کے ذریعے تصدیق اور اطلاع دینا

حکومت نے ٹیلی مواصلاتی وسائل کے غلط استعمال کو روکنے اور ہندوستان کے ٹیلی مواصلاتی نظام کے تحفظ اور سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے موثر اقدامات کیے ہیں۔ شہری اپنے موبائل کنکشن اور آلات کی تصدیق اور تحفظ کے لیے سنچار ساتھی پہل کے تحت دستیاب مختلف خدمات سے استفادہ کرسکتے ہیں۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ  محتاط رہیں اور اپنے موبائل ہینڈ سیٹس کی تصدیق اور تحفظ کے لیے سنچار ساتھی پہل کے ذریعے دستیاب ڈیجیٹل ذرائع کا استعمال کریں۔

 

سنچار ساتھی پلیٹ فارم پراپنے موبائل ہینڈ سیٹ کی اصلیت کی جانچ کریںکی سہولت کے ذریعے موبائل ہینڈ سیٹ کی آئی ایم ای آئی تفصیلات کی تصدیق کی جاسکتی ہے۔ اس خدمت کے ذریعے شہری ڈیوائس سے متعلق برانڈ کا نام، ماڈل کا نام اور تیار کنندہ کی معلومات جیسی تفصیلات جانچ سکتے ہیں۔

شہریوں کو ترغیب دی جاتی ہے کہ وہ سنچار ساتھی پورٹل www.sancharsaathi.gov.in پر جائیں یا سنچار ساتھی موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کریں اور پلیٹ فارم پر دستیاب شہریوں پر مرکوز مختلف خدمات سے استفادہ کریں۔

اینڈرائیڈ کےلیےhttps://play.google.com/store/apps/details?id=com.dot.app.sancharsaathi

آئی او ایس کے لیے: https://apps.apple.com/app/sancharsaathi/id6739700695

 

 

مزید تفصیلات کے لیے ڈی او ٹی ہینڈلز فالو کریں

 ایکس - https://x.com/DoT_India

انسٹا- https://www.instagram.com/department_of_telecom?igsh=MXUxbHFjd3llZTU0YQ==

فیس بک - https://www.facebook.com/DoTIndia

یوٹیوب: https://youtube.com/@departmentoftelecom?si=DALnhYkt89U5jAaa

 

 

 

 

 

 

 

****

ش ح۔  م ش۔ ش ب ن

U.NO.3839

 


(ریلیز آئی ڈی: 2312902) وزیٹر کاؤنٹر : 9