صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مانسون سے متعلق بیماریوں کے پھیلاؤ کی روک تھام اور ان پر قابو پانے کے لیے کیے گئے اقدامات


نگرانی کے  مراکز کے طورپر کام کرنے  والے887 اسپتال، 27 اعلیٰ سطحی ریفرل لیبارٹریاں اور آئی ایچ آئی پی کی بر وقت میں نگرانی سے بیماریوں کی نگرانی کا نظام مزید مضبوط

ملک بھر میں ادویات، تشخیصی سہولیات اور تکنیکی رہنما ہدایات کی فراہمی سے بیماریوں کی جلد تشخیص، علاج اور وبا کی صورت میں فوری کارروائی میں بہتری

گھروں کے اندر کیڑے مار ادویات کا چھڑکاؤ، مچھر دانیاں، لاروا کی افزائش کی روک تھام اور افزائش کے مقامات کے خاتمے کے ذریعے مربوط ویکٹر مینجمنٹ

صلاحیت سازی، معلومات، تعلیم و مواصلات ، رویوں میں تبدیلی کے لیے مواصلات مہمات اور مختلف شعبوں کے باہمی تعاون سے ملک بھر میں کمیونٹی کی سطح پر بیماریوں سے بچاؤ کو فروغ

ڈینگو، ملیریا، اسہال اور لیپٹوسپائروسس کے خلاف خصوصی اقدامات، پی پی سی ایل، ‘‘اسٹاپ ڈائریا’’ مہم اور سیلاب سے نمٹنے کی تیاریوں میں معاونت

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 28 JUL 2026 6:13PM by PIB Delhi

حکومت نے ملک میں مانسون سے متعلق بیماریوں کے پھیلاؤ کی روک تھام اور ان پر قابو پانے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں، جن میں شامل ہیں:

  • ملیریا کی جلد تشخیص اور مکمل علاج کے لیے قومی صحت مشن کے ذریعے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ادویات اور تشخیصی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔
  • ڈینگی کی صورت حال پر نظر رکھنے   اور مفت جانچ  کے لیے ملک بھر میں 887 سینٹینل سرویلنس اسپتال اور 27 اعلی سطحی ریفرل لیبارٹریاں قائم کی گئی ہیں۔ حکومت ہند نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی ، پونے کے ذریعے تمام شناخت شدہ لیبارٹریوں کو آئی جی ایم ٹیسٹ کٹس فراہم کرتی ہے۔
  • پی پی سی ایل پروگرام کے تحت 5 تشخیصی لیبارٹریوں کو آلات اور استعمال ہونے والے ضروری سامان کی خریداری کے لیے امدادی گرانٹ  فراہم کرکے مزید مضبوط کیا گیا ہے۔
  • زمینی سطح پر عوام تک رسائی بہتر بنانے کے لیے صلاحیت سازی اور ٹریننگ کے پروگرام منعقد کیے جا رہے ہیں، جن میں ٹریننگ دینے والوں ، کمیونٹی رہنماؤں اور فرنٹ لائن کارکنوں کی ٹریننگ شامل ہے۔
  • مربوط ویکٹر مینجمنٹ کے تحت زیادہ خطرے والے منتخب علاقوں میں گھروں کے اندر کیڑے مار ادویات کا چھڑکاؤ، ملیریا سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں مچھر دانیوں کی فراہمی، مچھروں کے لاروا کھانے والی مچھلیوں کا استعمال، شہری علاقوں میں لاروا کی افزائش روکنے کے اقدامات، جن میں حیاتیاتی لاروا کش ادویات اور معمولی ماحولیاتی انجینئرنگ شامل ہیں، اور مچھروں کی افزائش کے مقامات کا خاتمہ کیا جاتا ہے۔
  • ‘‘اسٹاپ ڈائریا مہم’’ چلائی جاتی ہے، جس کا مقصد پانچ سال سے کم عمر بچوں میں اسہال کے باعث بیماری کو کم کرنا اور اموات کی روک تھام کرنا ہے۔ یہ مہم تحفظ، روک تھام اور علاج(پی پی ٹی)کی حکمت عملی پر مبنی ہے اور او آر ایس اور آئرن  کی کمی کو دور کرنے والی غذا  کے ذریعے اسہال کے ابتدائی علاج کو فروغ دیتی ہے۔
  • بیماریوں کے انتظام کے تحت فعال، غیر فعال اور سینٹینل نگرانی کے ذریعے کیسز کی جلد شناخت، اس کے بعد مکمل اور مؤثر علاج، ریفرل خدمات کو مضبوط بنانا، وبا سے نمٹنے کی تیاری اور فوری کارروائی شامل ہے۔
  • معاون اقدامات کے تحت معلومات، تعلیم و مواصلات (آئی ای سی)اور رویوں میں تبدیلی کے لیے مواصلات(بی سی سی) پر توجہ دی جاتی ہے۔ سوشل میڈیا، ریڈیو، اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا سمیت مختلف ذرائع ابلاغ کے ذریعے صحت عامہ سے متعلق پیغامات عام کیے جاتے ہیں۔
  • ریاستوں کو انٹیگریٹڈ ہیلتھ انفارمیشن پورٹل-ویکٹر بورن ڈیزیزز(آئی ایچ آئی پی-وی بی ڈی) پورٹل پر اعداد و شمار درج کرنے کی ٹریننگ دی جاتی ہے، تاکہ حقیقی وقت میں نگرانی کی جا سکے۔
  • کیسز کے انتظام، روک تھام اور بیماریوں پر قابو پانے کے لیے تکنیکی رہنما ہدایات ریاستوں کو عمل درآمد کے لیے فراہم کی گئی ہیں۔
  • مختلف شعبوں کے درمیان تعاون کے تحت متعلقہ وزارتوں کے ساتھ اعلی سطح پر رابطہ کاری، صلاحیت سازی کے ذریعے انسانی وسائل کی ترقی اور پالیسی سازی شامل ہے۔
  • حکومت ملیریا اور دیگر ویکٹر سے پھیلنے والی بیماریوں(وی بی ڈی )کی روک تھام اور ان پر قابو پانے کے لیے صفائی ستھرائی بہتر بنانے، مچھروں پر قابو پانے کے اقدامات کو مضبوط کرنے اور عوامی بیداری بڑھانے کے لیے ریاستی محکمہ صحت اور شہری بلدیاتی اداروں کے ساتھ فعال طور پر تعاون کر رہی ہے۔
  • پنچایتی راج اداروں(پی آر آئی)، خود امدادی گروپوں(ایس ایچ جی)، عوامی تقسیم کے نظام(پی ڈی ایس)سے وابستہ افراد اور مذہبی و کمیونٹی رہنماؤں کو شامل کرتے ہوئے بین محکمہ جاتی رابطہ کاری کی جاتی ہے، تاکہ لوگوں کو متحرک کیا جا سکے اور بیماریوں سے بچاؤ کے طریقوں کو فروغ دیا جا سکے۔
  • ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو باقاعدگی سے مشاورتی ہدایات جاری کی جاتی ہیں، جن میں بیماریوں کے پھیلاؤ پر قابو پانے سمیت فروغ صحت، احتیاطی اور علاج سے متعلق اقدامات جاری رکھنے کی ہدایت دی جاتی ہے۔
  • لیپٹوسپائروسس سے متعلق مشاورتی ہدایات میں آئی ڈی ایس پی کے ذریعے کیس پر مبنی نگرانی مضبوط کرنے، بروقت رپورٹنگ اور طبی انتظام سے متعلق رہنما ہدایات عام کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ابتدائی مرحلے میں اینٹی بایوٹک کے استعمال اور آئی جی ایم ایلیسا جیسی تشخیصی کٹس کے ذریعے لیبارٹریوں کو تیار رکھنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔
  • نیشنل سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول(این سی ڈی سی) لیپٹوسپائروسس کی روک تھام اور کنٹرول کے پروگرام (پی پی سی ایل)کو نافذ کر رہا ہے۔ اس کا مقصد  دیکھ بھال  اور جانچ کی  صلاحیت کو مضبوط بنا کر بیماری اور اموات کی شرح کم کرنا، جلد فوری جانچ علاج کے بارے میں بیداری پیدا کرنا، مریضوں کے انتظام کی سہولیات بہتر بنانا، صلاحیت سازی کرنا اور وبا کی مؤثر روک تھام و کنٹرول کے لیے مختلف شعبوں کے درمیان تعاون کو مضبوط کرنا ہے۔
  • شہری سیلاب سے نمٹنے کی ذمہ داری ریاستی حکومتوں اور شہری بلدیاتی اداروں (یو ایل بی) شہری ترقیاتی اتھارٹیز کے دائرہ کار میں آتی ہے۔ حکومت ہند کی وزارت ہاؤسنگ و شہری امور(ایم او ایچ یو اے)شہری منصوبہ بندی کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے ریاستوں کو مالی اور تکنیکی مدد فراہم کرتی ہے۔ یہ مختلف اسکیموں کے تحت اقدامات اور شہری نکاسی آب و سیلاب کے بہتر انتظام کے لیے مختلف دستاویزات اور مشاورتی رہنما ہدایات جاری کرکے ریاستوں کی کوششوں میں تعاون کرتی ہے۔
  • حکومت ہند کی وزارت صحت و خاندانی بہبود کی جانب سے وقتاً فوقتاً ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ویکٹر سے پھیلنے والی بیماریوں اور مانسونسے متعلق دیگر بیماریوں کی روک تھام اور ان پر قابو پانے کے لیے ضروری اقدامات سے متعلق مشاورتی ہدایات جاری کی جاتی ہیں۔ ان میں فوری طور پر رسپانس ٹیموں کی تعیناتی، تشخیصی کٹس، ادویات اور کیڑے مار ادویات کا مناسب ذخیرہ برقرار رکھنا، بیماریوں کی نگرانی کے نظام کو مضبوط کرنا اور صورتحال کی قریبی نگرانی شامل ہے، تاکہ بیماری کے پھیلاؤ کی جلد شناخت کی جاسکے اور اس پر قابو پایا جا سکے۔

یہ معلومات مرکزی وزیر مملکت برائے صحت و خاندانی بہبود محترمہ انوپریا پٹیل نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں فراہم کیں۔

***

 ش ح۔ع و ۔ م ذ

UR. No. 3575


(ریلیز آئی ڈی: 2310447) وزیٹر کاؤنٹر : 15