امور داخلہ کی وزارت
ملک میں نکسل ازم کی موجودہ صورت حال
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
29 JUL 2026 3:41PM by PIB Delhi
وزیر مملکت برائے امور داخلہ جناب نتیانند رائے نے راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں بتایا کہ ہندوستان کے آئین کے ساتویں شیڈول کے مطابق پولیس اور امن و امان سے متعلق امور ریاستی حکومتوں کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔ تاہم حکومت ہند بائیں بازو کی انتہا پسندی (ایل ڈبلیو ای) سے متاثرہ ریاستوں کی کوششوں میں مسلسل تعاون فراہم کرتی رہی ہے۔ بائیں بازو کی انتہا پسندی کے مسئلے سے جامع طور پر نمٹنے کے لیے 2015 میں ’’بائیں بازو کی انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے قومی پالیسی اور عملی منصوبہ‘‘ منظور کیا گیا تھا، جس میں حکومت کے تمام محکموں اور اداروں کی مشترکہ کوششوں پر مبنی حکمت عملی اختیار کی گئی ہے۔ اس کے تحت کئی جہتی حکمت عملی وضع کی گئی ہے، جس میں سلامتی سے متعلق اقدامات، ترقیاتی سرگرمیاں، مقامی برادریوں کے حقوق اور انہیں حاصل قانونی و سرکاری مراعات کو یقینی بنانا وغیرہ شامل ہیں۔
تقریباً چھ دہائیوں تک جاری رہنے والے تشدد کے بعد ملک بائیں بازو کی انتہا پسندی سے آزاد ہو گیا ہے، جسے کبھی ملک کی داخلی سلامتی کے لیے سب سے بڑے خطرات میں شمار کیا جاتا تھا۔ یہ کامیابی ’’بائیں بازو کی انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے قومی پالیسی اور عملی منصوبہ، 2015‘‘ پر پختہ عزم کے ساتھ عمل درآمد اور مرکز و ریاستی حکومتوں کی مربوط کوششوں کے نتیجے میں حاصل ہوئی ہے۔ اس وقت کسی بھی ضلع کو بائیں بازو کی انتہا پسندی سے متاثرہ ضلع قرار نہیں دیا گیا ہے۔ نکسل ازم سے متاثرہ اضلاع کی تعداد اپریل 2018 میں 126 سے کم ہو کر جولائی 2021 میں 70، اپریل 2024 میں 38، دسمبر 2025 میں 8 اور مارچ/اپریل 2026 میں صفر ہو گئی۔ فی الحال 37 اضلاع کو ’ورثہ اور خصوصی توجہ والے اضلاع‘ کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔ یہ اضلاع اب بائیں بازو کی انتہا پسندی سے متاثرہ نہیں ہیں۔ تاہم صورت حال کو مستحکم کرنے کے لیے کچھ مزید عرصے تک سلامتی اور ترقیاتی اقدامات کے سلسلے میں مسلسل تعاون درکار ہے۔ ایک ضلع کو ’تشویش کا ضلع‘ کے زمرے میں رکھا گیا ہے، جہاں بائیں بازو کی انتہا پسندی سے متعلق پرتشدد سرگرمیوں پر مکمل طور پر قابو پا لیا گیا ہے اور اس کی تنظیمی ساخت کو بھی پوری طرح ختم کر دیا گیا ہے۔ اگرچہ یہ اضلاع اب بائیں بازو کی انتہا پسندی سے آزاد ہیں، تاہم کسی بھی ممکنہ واپسی کو روکنے کے لیے کچھ مزید عرصے تک سلامتی کی نگرانی اور ترقیاتی اقدامات جاری رکھنا ضروری ہے۔
سلامتی کے محاذ پر حکومت ہند سابقہ بائیں بازو کی انتہا پسندی سے متاثرہ ریاستوں کو مرکزی مسلح پولیس دستے فراہم کرنے، انڈیا ریزرو بٹالین کے قیام، ہیلی کاپٹر کی سہولت فراہم کرنے اور سلامتی کیمپوں کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے سمیت مختلف اقدامات کے ذریعے تعاون فراہم کرتی ہے۔
تربیت، ریاستی پولیس دستوں کی جدید کاری کے لیے مالی معاونت، سازوسامان اور اسلحہ کی فراہمی، خفیہ معلومات کا تبادلہ، مضبوط حفاظتی انتظامات سے لیس پولیس تھانوں کی تعمیر وغیرہ۔
- ریاستوں کی استعداد کار بڑھانے کے لیے 15-2014 سے اب تک سلامتی سے متعلق اخراجات (ایس آر ای) اسکیم کے تحت بائیں بازو کی انتہا پسندی سے متاثرہ ریاستوں کو 3,805.04 کروڑ روپے جاری کیے گئے ہیں۔ یہ رقم سلامتی دستوں کے عملی اخراجات اور تربیتی ضروریات، ہتھیار ڈالنے والے بائیں بازو کی انتہا پسندی سے وابستہ کارکنوں کی بازآبادکاری، بائیں بازو کی انتہا پسندی کے تشدد میں شہید ہونے والے سلامتی دستوں کے اہلکاروں اور ہلاک ہونے والے عام شہریوں کے اہل خانہ کو مالی امداد وغیرہ کے لیے فراہم کی گئی ہے۔
- حکومت ہند اور ریاستی حکومتوں نے بائیں بازو کی انتہا پسندی سے وابستہ افراد کے ہتھیار ڈالنے اور ان کی بازآبادکاری کے لیے جامع پالیسیاں وضع کی ہیں۔ حکومت ہند سلامتی سے متعلق اخراجات (ایس آر ای) اسکیم کے تحت ’ہتھیار ڈالنے اور بازآبادکاری‘ کی پالیسی کے ذریعے ریاستوں کی ان کوششوں میں بھی تعاون کرتی ہے۔ حکومت ہند ایس آر ای اسکیم کے تحت بائیں بازو کی انتہا پسندی سے متاثرہ ریاستوں میں ہتھیار ڈالنے والے افراد کی بازآبادکاری پر ہونے والے اخراجات کی تلافی کرتی ہے۔ بازآبادکاری پیکیج میں دیگر مراعات کے علاوہ، اعلیٰ عہدے پر فائز بائیں بازو کی انتہا پسندی سے وابستہ کارکنوں کے لیے 5 لاکھ روپے اور دیگر کارکنوں کے لیے 2.5 لاکھ روپے کی فوری مالی امداد شامل ہے۔ اس کے علاوہ اسکیم کے تحت اسلحہ اور گولہ بارود حوالے کرنے پر بھی مراعات فراہم کی جاتی ہیں۔ ہتھیار ڈالنے والے افراد کو ان کی پسند کے ہنر یا پیشے کی تربیت فراہم کرنے کی بھی گنجائش ہے، جس کے دوران تین سال تک ماہانہ 10,000 روپے وظیفہ دیا جاتا ہے۔
- ریاستوں کی جانب سے اپنے پولیس دستوں کو سازوسامان سے لیس کرنے اور جدید بنانے کی کوششوں کو ’پولیس دستوں کی جدید کاری‘ کی اسکیم کے تحت مزید تقویت دی گئی ہے۔ اس اسکیم کے تحت ریاستی حکومتوں کو اسلحہ، اطلاعاتی ٹیکنالوجی، مواصلات اور تربیت سے متعلق سازوسامان، پولیس تھانوں کی تعمیر، آمد و رفت کے ذرائع، پولیس اہلکاروں کے لیے رہائشی مکانات اور دیگر پولیس بنیادی ڈھانچے کی تعمیر وغیرہ کے لیے مرکزی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ اس کی ذیلی اسکیم یعنی ’خصوصی بنیادی ڈھانچہ اسکیم‘ (ایس آئی ایس) کے تحت بائیں بازو کی انتہا پسندی سے متاثرہ ریاستوں میں ریاستی خصوصی دستوں، خصوصی خفیہ شاخوں (ایس آئی بی)، ضلعی پولیس کو مضبوط بنانے اور مضبوط حفاظتی انتظامات سے لیس پولیس تھانوں کی تعمیر کے لیے 1,761 کروڑ روپے کے کاموں کو منظوری دی گئی ہے۔ حکومت ہند کی جانب سے سلامتی کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ اب تک 663 مضبوط حفاظتی انتظامات سے لیس پولیس تھانے تعمیر کیے جا چکے ہیں۔
- بائیں بازو کی انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے مرکزی اداروں کو معاونت (اے سی اے ایل ڈبلیو ای ایم ایس) اسکیم کے تحت کیمپوں کے بنیادی ڈھانچے اور بائیں بازو کی انتہا پسندی کے خلاف کارروائیوں کے لیے ہیلی کاپٹروں کی فراہمی کے سلسلے میں مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ 15-2014 سے اب تک اس اسکیم کے تحت مرکزی اداروں کو 1,303.68 کروڑ روپے فراہم کیے جا چکے ہیں۔
- بائیں بازو کی انتہا پسندی سے وابستہ تنظیموں کی مالی سرگرمیوں پر مؤثر قدغن لگانے اور سی پی آئی (ماؤ نواز) اور اس کے مالی معاونین کے درمیان گٹھ جوڑ کا سراغ لگانے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔
ریاستی پولیس نے مرکزی اداروں کے ساتھ مل کر مختلف ذرائع سے مربوط کارروائیاں کی ہیں، جن کے نتیجے میں ماضی میں بائیں بازو کے انتہا پسندوں کو فراہم کیے جانے والے مالی وسائل اور دیگر ذرائع کی فراہمی پر مؤثر قدغن لگانے میں نمایاں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔
ترقی کے محاذ پر حکومت ہند کی اہم اور نمایاں اسکیموں کے علاوہ، بائیں بازو کی انتہا پسندی سے متاثرہ علاقوں میں سڑکوں کے نیٹ ورک کو وسعت دینے، مواصلاتی رابطے کو بہتر بنانے، تعلیم، ہنر مندی کی ترقی اور مالی شمولیت پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے کئی مخصوص اقدامات کیے گئے ہیں۔ ترقی کے محاذ پر کیے گئے ان اقدامات میں سے چند درج ذیل ہیں:
- سڑکوں کے نیٹ ورک کو وسعت دینے کے لیے بائیں بازو کی انتہا پسندی سے متاثرہ علاقوں کے لیے مخصوص دو اسکیموں، یعنی سڑک ضروریات کے منصوبے (آر آر پی) اور بائیں بازو کی انتہا پسندی سے متاثرہ علاقوں کے لیے سڑک رابطہ منصوبے (آر سی پی ایل ڈبلیو ای اے) کے تحت 15,189 کلومیٹر سڑکیں تعمیر کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ، حکومت ہند نے چھتیس گڑھ کے سابقہ بائیں بازو کی انتہا پسندی سے متاثرہ علاقوں میں سرحدی سڑک تنظیم کے ذریعے 127.08 کلومیٹر اہم سڑکوں اور 6 اہم پلوں کی تعمیر کو بھی منظوری دی ہے۔
- سابقہ بائیں بازو کی انتہا پسندی سے متاثرہ علاقوں میں مواصلاتی رابطے کو بہتر بنانے کے لیے 9,497 ٹاور نصب کرکے فعال کیے جا چکے ہیں۔
- ہنر مندی کی ترقی کے لیے 47 صنعتی تربیتی ادارے (آئی ٹی آئی) اور 49 ہنر مندی کے مراکز (ایس ڈی سی) قائم کیے گئے ہیں۔
- قبائلی علاقوں میں معیاری تعلیم کی فراہمی کے لیے 179 ایکلویہ ماڈل رہائشی اسکول (ای ایم آر ایس) فعال کیے گئے ہیں۔
- مالی شمولیت کو فروغ دینے کے لیے محکمہ ڈاک نے بائیں بازو کی انتہا پسندی سے آزاد ہونے والے علاقوں میں بینکاری خدمات فراہم کرنے والے 6,025 ڈاک خانے کھولے ہیں۔ اس کے علاوہ، ان علاقوں میں 1,804 بینک شاخیں اور 1,321 اے ٹی ایم بھی قائم کیے گئے ہیں۔
- بائیں بازو کی انتہا پسندی کے خاتمے کے بعد، بائیں بازو کی انتہا پسندی سے پاک علاقوں میں قائم ایک تہائی سلامتی کیمپوں کو جن سہولت مراکز میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ ان مراکز کے ذریعے مقامی برادریوں کو روزگار کے مواقع کو فروغ دینے، ہنر مندی کی ترقی، سرکاری اسکیموں تک رسائی، ڈیجیٹل خدمات، صحت کی سہولیات، ثقافتی اور کھیلوں کی سرگرمیوں سمیت مختلف سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ پہلا جن سہولت مرکز چھتیس گڑھ کے جگدل پور میں نیتانار کے مقام پر ’شہید ویر گنڈادھر سیوا ڈیرا مرکز‘ کے نام سے قائم کیا گیا ہے۔
- ترقیاتی سرگرمیوں کو مزید رفتار دینے کے لیے سابقہ بائیں بازو کی انتہا پسندی سے متاثرہ اضلاع میں عوامی بنیادی ڈھانچے کی اہم کمیوں کو دور کرنے کے لیے خصوصی مرکزی معاونت (ایس سی اے) اسکیم کے تحت فنڈز فراہم کیے جاتے ہیں۔ اس اسکیم کے 2017 میں آغاز سے اب تک تقریباً 4,289.20 کروڑ روپے جاری کیے جا چکے ہیں۔
- مقامی برادریوں کے حقوق اور انہیں حاصل قانونی مراعات کو یقینی بنانے کے لیے مستحقین میں 21,26,268 حقِ ملکیت کے اسناد تقسیم کیے گئے ہیں، جن میں 20,20,268 انفرادی حقِ ملکیت کے اسناد اور 1,06,000 اجتماعی حقِ ملکیت کے اسناد شامل ہیں۔ سابقہ بائیں بازو کی انتہا پسندی سے متاثرہ علاقوں میں مقامی خود حکمرانی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے وزارت داخلہ، وزارت پنچایتی راج کے ساتھ مل کر مشترکہ منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ یہ اقدامات متاثرہ علاقوں میں برادری کے حقوق کو مضبوط بنانے اور فیصلہ سازی میں عوام کی شمولیت پر مبنی حکمرانی کو فروغ دینے کے حکومت کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔
وزارت داخلہ نے ایک آزاد ادارے کے ذریعے چھتیس گڑھ کے بائیں بازو کی انتہا پسندی سے متاثرہ رہنے والے سات اضلاع میں مختلف سرکاری فلاحی اسکیموں، ترقیاتی اقدامات اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی صلاحیت کی مکمل رسائی کا جائزہ لینے کے لیے ایک سروے بھی کرایا ہے۔ اس سروے میں تعلیمی سطح، صحت سے متعلق اشاریوں اور بنیادی سہولیات، جیسے پرائمری اسکول، آنگن واڑی مراکز اور ثانوی صحت کی سہولیات وغیرہ کی دستیابی سے متعلق تفصیلات جمع کی گئی ہیں۔ اس سے مرکزی وزارت داخلہ اور ریاستی حکومت کو ترقیاتی خلا کو پُر کرنے اور روزگار کے مواقع یقینی بنانے کے مقصد کو پورا کرنے میں مدد مل رہی ہے۔
نوجوانوں اور مقامی برادریوں کو تعمیری سرگرمیوں سے جوڑنے کے لیے حکومت ہند قبائلی نوجوانوں کے تبادلے کے پروگرام (ٹی وائی ای پی) پر عمل درآمد کر رہی ہے، جس کے تحت سابقہ بائیں بازو کی انتہا پسندی سے متاثرہ علاقوں کے قبائلی نوجوانوں کوملک کے مختلف حصوں کے ایک ہفتے کے مطالعاتی دورے پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے انہیں مختلف علاقوں اور پس منظر سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے بات چیت اور میل جول کا موقع ملتا ہے، جس سے قومی یکجہتی کو فروغ دینے، بھارت کی مالا مال ثقافتی گوناگونی کے بارے میں بیداری بڑھانے اور ملک کی صنعتی و ترقیاتی پیش رفت سے واقفیت حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے۔ 2014 سے اب تک مجموعی طور پر 37,655 قبائلی نوجوانوں نے اس پروگرام میں شرکت کی ہے۔
مزید برآں شہری بہبود پروگرام کے تحت حکومت ہند مرکزی مسلح پولیس دستوں کو ان کے عملی علاقوں میں مختلف فلاحی سرگرمیاں انجام دینے کے لیے مالی معاونت فراہم کرتی ہے۔ ان سرگرمیوں میں طبی کیمپوں کا انعقاد، کھیلوں کے مقابلے اور مقامی برادریوں میں ضروری اشیا کی تقسیم شامل ہیں۔ اس اسکیم کے تحت 2014 سے اب تک 221.88 کروڑ روپے جاری کیے جا چکے ہیں۔ اس اقدام سے سلامتی دستوں اور مقامی آبادی کے درمیان فاصلے کو کم کرنے اور باہمی اعتماد کو فروغ دینے میں نمایاں مدد ملی ہے۔
پچھلے پانچ سالوں کے دوران بائیں بازو کے انتہا پسند تشدد ، شہری اموات اور سیکورٹی فورسز کے شہید ہونے کے واقعات کی ریاست وار تفصیلات ضمیمہ I میں دی گئی ہیں ۔ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران مختلف اسکیموں کے تحت ایل ڈبلیو ای کا مقابلہ کرنے کے لیے حکومت ہند کی طرف سے جاری کردہ مالی امداد کی تفصیلات ضمیمہ II میں دی گئی ہیں ۔ پچھلے پانچ سالوں میں ایل ڈبلیو ای سے متاثرہ اضلاع کی تفصیلات ضمیمہ III میں دی گئی ہیں ۔
ایل ڈبلیو ای کے بعد کے منظر نامے میں ، توجہ حکومتی فلاحی پروگراموں کی تکمیل ، مقامی خود مختاری کو مضبوط بنانے ، ہتھیار ڈالنے والے کارکنوں کی بحالی میں سہولت فراہم کرنے ، قبائلی شناخت اور ثقافت کے تحفظ اور دور دراز علاقوں میں حکمرانی اور عوامی خدمات کی رسائی کو بڑھانے پر مرکوز ہے ۔
مجموعی طور پرحکومت ہند ملک کے سابقہ ایل ڈبلیو ای سے متاثرہ اضلاع کی سلامتی اور تیز تر ترقی کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے ۔
ضمیمہ I
ایل ڈبلیو ای: تشدد کے اعداد و شمار
|
سال
|
2021
|
2022
|
2023
|
2024
|
2025
|
2026
(21 جولائی تک)
|
|
|
وی پی ایم*
|
شہریوں کی اموات
|
ایس ایف ایس اموات
|
وی پی ایم
|
شہریوں کی اموات
|
ایس ایف ایس اموات
|
وی پی ایم
|
شہریوں کی اموات
|
ایس ایف ایس اموات
|
وی پی ایم
|
شہریوں کی اموات
|
ایس ایف ایس اموات
|
وی پی ایم
|
شہریوں کی اموات
|
ایس ایف ایس اموات
|
وی پی ایم
|
شہریوں کی اموات
|
ایس ایف ایس اموات
|
|
آندھرا پردیش
|
8
|
1
|
0
|
3
|
1
|
0
|
3
|
1
|
0
|
1
|
0
|
0
|
0
|
0
|
0
|
0
|
0
|
0
|
|
بہار
|
20
|
7
|
0
|
11
|
1
|
0
|
4
|
0
|
0
|
2
|
1
|
0
|
3
|
0
|
0
|
0
|
0
|
0
|
|
چھتیس گڑھ
|
188
|
56
|
45
|
246
|
51
|
10
|
305
|
68
|
27
|
268
|
106
|
17
|
144
|
52
|
27
|
18
|
3
|
4
|
|
جھارکھنڈ
|
100
|
21
|
5
|
96
|
9
|
3
|
129
|
27
|
5
|
69
|
16
|
2
|
63
|
6
|
7
|
13
|
3
|
0
|
|
کیرالہ
|
0
|
0
|
0
|
0
|
0
|
0
|
4
|
0
|
0
|
0
|
0
|
0
|
0
|
0
|
0
|
0
|
0
|
0
|
|
مدھیہ پردیش
|
15
|
3
|
0
|
16
|
2
|
0
|
7
|
1
|
0
|
11
|
0
|
0
|
5
|
2
|
0
|
0
|
0
|
0
|
|
مہاراشٹر
|
15
|
6
|
0
|
16
|
8
|
0
|
19
|
7
|
0
|
10
|
4
|
0
|
8
|
2
|
1
|
0
|
0
|
1
|
|
اوڈیشہ
|
11
|
3
|
0
|
16
|
8
|
3
|
12
|
3
|
0
|
6
|
2
|
0
|
4
|
1
|
1
|
0
|
0
|
0
|
|
تلنگانہ
|
4
|
0
|
0
|
9
|
2
|
0
|
3
|
0
|
0
|
8
|
3
|
0
|
7
|
1
|
0
|
2
|
0
|
0
|
|
مغربی بنگال
|
0
|
0
|
0
|
0
|
0
|
0
|
0
|
0
|
0
|
0
|
0
|
0
|
0
|
0
|
0
|
0
|
0
|
0
|
|
مجموعی
|
361
|
97
|
50
|
413
|
82
|
16
|
486
|
107
|
32
|
375
|
132
|
19
|
234
|
64
|
36
|
33
|
6
|
5
|
وی پی ایم-ماؤنوازوں کے ذریعہ تشدد
ضمیمہII-
حکومت ہند کی طرف سے جاری کردہ مالی امداد
مختلف اسکیمیں
کروڑروپے میں
|
اسکیم
|
2021-22
|
2022-23
|
2023-24
|
2024-25
|
2025-26
|
کل
|
|
خصوصی مرکزی معاونت
|
487.50
|
210.00
|
154.24
|
274.97
|
489.98
|
1616.69
|
|
سیکیورٹی سے متعلقہ اخراجات
|
306.95
|
306.95
|
400.00
|
325.00
|
425.00
|
1763.90
|
|
خصوصی بنیادی ڈھانچے کی اسکیم
|
32.22
|
190.00
|
65.29
|
4.49
|
37.33
|
329.33
|
|
بائیں بازو کی انتہا پسندی کے انتظام کے لیے مرکزی ایجنسیوں کی مدد
|
147.80
|
100.00
|
100.00
|
100.00
|
142.30
|
590.10
|
|
شہری ایکشن پلان
|
19.00
|
19.00
|
18.99
|
19.00
|
14.88
|
90.87
|
|
میڈیا پلان
|
7.13
|
7.13
|
7.67
|
8.00
|
9.41
|
39.34
|
|
کل
|
1000.60
|
833.08
|
746.19
|
731.46
|
1118.90
|
4430.23
|
ضمیمہ III
پچھلے پانچ سالوں کے ایل ڈبلیو ای سے متاثرہ اضلاع کے تقابلی اعداد و شمار
|
ریاست
|
2021
|
2024
|
2025
|
2026
|
|
آندھرا پردیش
|
1. مشرقی گوداوری
2. سریکاکولم
3. وشاکھاپٹنم
4. وزیاناگرام
5. مغربی گوداوری
|
1. الوری سیتارام راجو
|
کچھ نہیں
|
صفر
|
|
بہار
|
1. اورنگ آباد
2. بنکا
3. گیا
4. جموئی
5. کیمور
6. لکھیسرائے
7. مونگیر
8. نوادہ
9. روہتاس
10. مغربی چمپارن
|
کچھ نہیں
|
کچھ نہیں
|
|
چھتیس گڑھ
|
1. بلرام پور
2. بستر
3. بیجاپور
4. دنتے واڑہ
5. دھمتری
6. گڑیا بند
7. کانکر
8. کونڈاگاؤں
9. مہاسمند
10. نارائن پور
11. راجناندگاؤں
12. سکما
13. کبیردھام
14. منگیلی
|
1. بستر
2. بیجاپور
3. دنتے واڑہ
4. دھمتری
5. گڑیا بند
6. کانکر
7. کونڈاگاؤں
8. مہاسمند
9. نارائن پور
10. راج ناندگاؤں
11. محلہ-مان پور-امبا گڑھ چوکی
12. خیرگڑھ-چھوئی کھڈان-گندائی
13. سکما
14. کبیردھام
15. منگیلی
|
1. بیجاپور
2. دنتے واڑہ
3. گڑیا بند
4. کانکر
5. نارائن پور
6. سکما
|
ضمیمہ III
|
جھارکھنڈ
|
1. بوکارو
2. چترا
3. دھنباد
4. دمکا
5. مشرقی سنگھ بھوم
6. گڑھوا
7. گریڈیہہ
8. گملا
9. ہزاری باغ
10. کھونٹی
11. لاتیہار
12. لوہردگا
13. پلامو
14. رانچی
15. سرائےکیلا- کھرسوان
16. مغربی سنگھ بھوم
|
1. گریڈیہہ
2. گملا
3. لاتیہار
4. لوہردگا
5. مغربی سنگھ بھوم
|
1. مغربی سنگھ بھوم
|
|
|
کیرالہ
|
1. ملاپورم
2. پالاککڑ
3. وایناڈ
|
1. وایناڈ
2. کننور
|
کچھ نہیں
|
|
مدھیہ پردیش
|
1. بالاگھاٹ
2. منڈلا
3. ڈنڈوری
|
1. بالاگھاٹ
2. منڈلا
3. ڈنڈوری
|
کچھ نہیں
|
|
مہاراشٹر
|
1. گڑھ چرولی
2. گونڈیا
|
1. گڑھ چرولی
2. گونڈیا
|
کچھ نہیں
|
|
اوڈیشہ
|
1. بارگڑھ
2. بولانگیر
3. کالاہندی
4. کندھمال
5. کوراپٹ
6. ملکانگیری۔
7. نبرنگ پور
8. نواپڈا
9. رائے گڑھ
10. سندر گڑھ
|
1. کالاہندی
2. کندھمال
3. بولانگیر
4. ملکانگیری۔
5. نبرنگ پور
6. نواپڈا
7. رائاگڈا
|
1. کندھمال
|
|
تلنگانہ
|
1. عادل آباد
2. بھدرادری- کوٹھاگوڈیم
3. جے شنکر-بھوپال پلی
4. کومارم بھیم
5. منچریال
6. ملوگو
|
1. بھدرادری- کوٹھا گوڈیم
2. ملوگو
|
کچھ نہیں
|
|
مغربی بنگال
|
1. جھرگرام
|
1. جھرگرام
|
کچھ نہیں
|
|
مجموعی
|
70
|
38
|
08
|
*****
ش ح۔ م ح۔ش ت
U.No.3421
(ریلیز آئی ڈی: 2310162)
وزیٹر کاؤنٹر : 3